SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہgettyimages
ایک گھنٹہ قبل
مطالعے کا وقت: 5 منٹ
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے ایک سرکاری ہسپتال کے گائنی آپریشن تھیٹر میں دو مریضوں کی سی سیکشن کی ویڈیو بنانے کے الزام میں چار ڈاکٹروں کو معطل کیا ہے۔
یہ واقعہ لیڈی ویلینگڈن ہسپتال کا ہے جہاں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دو خواتین کے سی سیکشن ہوتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ ویڈیو کب بنائی گئی تھی تاہم یہ گذشتہ روز سے ایکس سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی گئی ہے جس پر صارفین نے سخت ردعمل دیا ہے۔
ایک اعلامیے کے مطابق حکومت پنجاب نے ہسپتال میں گائنی ڈپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر عظمیٰ حسین سے تین روز میں وضاحت طلب کی ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ کچھ ڈاکٹرز مبینہ طور پر مریضوں پر کیے جانے والے سی سیکشن پروسیجرز پر ’شرط‘ لگا رہے تھے جو کہ نہ صرف طبی ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ مریض کے وقار اور پیشہ ورانہ معیار کے بھی منافی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سنگین غفلت کے اس واقعے نے ’طبی شعبے پر اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے۔‘
جبکہ اس ویڈیو نے سوشل میڈیا پر پاکستان میں طبی قوائد و ضوابط اور مریضوں کے تحفظ سے متعلق بحث چھیڑ دی ہے۔
خیال رہے کہ جنوری کے دوران پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی کے شعبے میں کام کرنے والے عملے اور ڈاکٹروں کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس ویڈیو میں کیا تھا؟
ویڈیو کی شروعات آپریشن تھیٹر میں ہوتی ہیں جہاں دو بیڈز پر دو الگ مریض موجود ہیں اور ان کے گرد ڈاکٹروں کی ٹیمیں موجود ہیں۔
بظاہر موبائل سے ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں ڈاکٹروں نے سرجری ماسک پہن رکھے ہیں اور مریضوں کے چہرے پردوں سے ڈھکے ہوئے ہیں۔
ساتھ یہ سنائی دیتا ہے کہ ’یہاں پر فُل مقابلہ چل رہا ہے کہ کون پہلے سیکشن کرتا ہے، ڈاکٹر عائشہ اور ڈاکٹر طیبہ (کے درمیان)۔‘
پھر ویڈیو میں ایک دوسری آواز سنائی دیتی ہے کہ ’ڈاکٹر عیسیٰ جج ہوں گے۔‘ اس پر قہقے بھی لگتے ہیں۔
اس کے بعد ویڈیو بنانے والی دو ڈاکٹرز کیمرا اپنی طرف کرتی ہیں اور خود کو اس ’مقابلے‘ میں شامل ڈاکٹروں کی سپورٹرز بناتی ہیں۔
ویڈیو کے اواخر میں یہ آواز سنائی دیتی ہے کہ ’عائشہ جلدی کر۔‘
اور پھر کیمرے کو مریضوں کے قریب لے جایا جاتا ہے اور آپریشن کرتے ڈاکٹروں کو دکھایا جاتا ہے۔ اس دوران بظاہر نومولود بچوں کے چیخنے کی آوازیں بھی سنی جا سکتی ہیں۔
،تصویر کا ذریعہReuters
چار ڈاکٹروں کی معطلی اور سوشل پر بحث

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
صحافی احتشام شامی کے مطابق حکومت پنجاب نے مبینہ طور پر اس واقعے میں ملوث چار ڈاکٹروں کو معطل کیا ہے جبکہ ہسپتال کی ایم ایس ڈاکٹر فرح انعام اور ہیڈ آف گائنی ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ حسین سے تین روز میں جواب طلب کیا گیا ہے۔
ایک نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ معطل کی جانے والی ڈاکٹروں نے طبی قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ ایسے واقعے ’طبی اخلاقیات کی خلاف ورزی، مریض کے وقار کی توہین اور پیشہ ورانہ مہارت کی خلاف ورزی کی نمائندگی کرتے ہیں جو کہ حکومتی قواعد اور ہسپتال کے ایس او پیز کے تحت سختی سے ممنوع ہیں۔‘
ایک سرکاری اعلامیے میں اس واقعے کو ’سرکاری ذمہ داریوں کی ادائیگی میں غفلت کی ایک سنگین مثال‘ قرار دیا گیا ہے۔
اس کے مطابق یہ ’سنگین بدنظمی اور انتظامی خامیوں کی عکاسی کرتی ہے۔‘
سیکریٹری صحت پنجاب عظمت محمود کا کہنا ہے کہ مقررہ وقت میں تسلی بخش جواب جمع نہ کروانے کی صورت میں ہسپتال کے اعلیٰ حکام کے خلاف بھی تادیبی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔
اس ویڈیو نے پاکستانی سوشل میڈیا پر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا ملک کے ڈاکٹروں کو مریضوں کے تحفظ اور طبی شعبے کے ضابطہ اخلاق کے حوالے سے تربیت دی جاتی ہے۔
ایکس پر ڈاکٹر ماہرہ نامی صارف نے تبصرہ کیا کہ ملک میں ڈاکٹروں کو اس کی تربیت نہیں دی جاتی۔ وہ دعویٰ کرتی ہیں کہ ’ہم غیر ملکی مصنفین کی کتابوں میں طبی ضابطہ اخلاق کے کئی باب نہیں پڑھتے کیونکہ وہ ہمارے امتحان میں نہیں آنے ہوتے۔‘
وہ کہتی ہیں کئی ڈاکٹر خود اپنے مطالعے سے طبی ضابطہ اخلاق پڑھتے ہیں اور انھیں پریکٹس کرتے ہیں۔
ایک صارف نے مثال دی کہ ’دنیا میں آپ مریض کی زبانی معلومات بھی اس کی مرضی کے بغیر شیئر نہیں کر سکتے۔‘
SOURCE : BBC



