Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں دبئی میں سیاحت کی صنعت پر جنگ کے اثرات اور ملازمت پیشہ...

دبئی میں سیاحت کی صنعت پر جنگ کے اثرات اور ملازمت پیشہ تارکینِ وطن کی مشکلات

6
0

SOURCE :- BBC NEWS

دبئی

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

ایک گھنٹہ قبل

مطالعے کا وقت: 10 منٹ

گذشتہ سال قریباً دو کروڑ بین الاقوامی سیاحوں نے دبئی کا دورہ کیا جس کی وجہ سے یہ دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے شہروں میں شامل رہا، لیکن امریکہ اسرائیل اور ایران کی جنگ نے سیاحوں کی آمد پر تباہ کن اثرات ڈالے ہیں اور مقامی کاروبار شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

عام طور پر شام کے وقت دبئی کے ریستوران لوگوں سے بھرے ہوتے تھے، مسافروں اور یہاں قیام کرنے والے افراد کی گہما گہمی، ہر طرف بھری میزیں۔ مگر پچھلے ایک ماہ میں، ان میں سے اکثر میزیں خالی رہی ہیں۔

نتاشا سِدیرس کے لیے یہ تبدیلی اچانک اور بہت نمایاں رہی ہے۔

انھوں نے 2014 میں دبئی میں اپنا پہلا ریستوران کھولا تھا۔ گذشتہ دہائی میں ان کے ’ٹاشاز‘ ہاسپٹیلٹی گروپ نے ترقی کر کے ملک بھر میں 14 شاخیں قائم کیں، جو 1,000 سے زیادہ افراد کو روزگار دیتے ہیں۔ لیکن امریکہ اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ اب ان کے کاروبار پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔

سِدیرس کہتی ہیں کہ ان کے کئی ریستوران جو مقامی رہائشیوں اور غیرملکیوں دونوں میں مقبول ہیں وہاں آمدنی 50 فیصد سے بھی زیادہ کم ہو گئی ہے۔ جبکہ وہ شاخیں جو زیادہ تر سیاحوں پر انحصار کرتی ہیں، آمدن میں 70 فیصد سے 80 فیصد تک کی کمی کا سامنا کر رہی ہیں۔

بحران نے انھیں مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے تمام ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فیصد کٹوتی کریں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’موجودہ صورتحال انتہائی سخت ہے۔ میرے پاس دو راستے تھے یا تو میں اپنے 30 فیصد ملازمین کو نکال دیتی، یا پھر نوکریاں بچانے کے لیے تنخواہوں میں کمی کرتی۔ فی الحال میں نے دوسرا راستہ چُنا۔‘

سِدیرس مزید کہتی ہیں کہ اگر ان کے زیادہ تر ریستوران کمیونٹی مالز اور رہائشی علاقوں کے قریب نہ ہوتے جہاں اب بھی مقامی گاہکوں پر کچھ حد تک انحصار ممکن ہے تو حالات مزید بُرے ہو سکتے تھے۔

نتاشا

،تصویر کا ذریعہTashas Group

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہی صورتحال دبئی کے ریستوران سیکٹر کے بیشتر حصوں میں نظر آ رہی ہے۔

ایک ریسٹورانٹ چین کے ایک سینئر ایگزیکٹو، جنھوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے بتایا کہ ان کے گاہکوں کی تعداد صرف 15 سے 20 فیصد تک رہ گئی ہے، جس کی وجہ سے انھیں اپنے نصف سے زیادہ عملے کو بلا تنخواہ چھٹی پر بھیجنا پڑا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ ہم پہلے ہی کچھ آؤٹ لیٹس عارضی طور پر بند کر چکے ہیں، اور باقی کم سے کم عملے کے ساتھ چل رہے ہیں۔‘

یہ اثرات صرف ریستورانوں تک محدود نہیں۔ پورا سیاحت کا شعبہ ہوٹلوں اور ٹریول ایجنسیز سے لے کر ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور ایئر لائنز تک دباؤ میں ہے۔

گذشتہ دو دہائیوں میں دبئی نے خود کو دنیا کے سب سے بڑے سیاحتی مراکز میں تبدیل کیا ہے۔ گذشتہ سال امارات میں قریباً دو کروڑ بین الاقوامی سیاحوں کی آمد ہوئی لیکن جنگ کے آغاز کے بعد یہ رفتار شدید طور پر متاثر ہوئی ہے۔

پورا متحدہ عرب امارات بار بار حملوں کی زد میں رہا ہے، دبئی شہر بھی ایران کے فوجی ردعمل کا اہم ہدف رہا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سامنے آیا۔

حکام کے مطابق اب تک 2,400 سے زائد میزائل اور ڈرونز یو اے ای کی جانب داغے جا چکے ہیں، جن کا ہدف ایئرپورٹس، بندرگاہیں اور شہری علاقے تھے، جن میں ہوٹل اور رہائشی عمارتیں بھی شامل ہیں۔

حکام کے مطابق ان میں سے 90 فیصد سے زیادہ میزائل اور ڈرونز کو راستے میں ہی تباہ کر دیا گیا۔

تاہم کچھ ملبہ دبئی کے مختلف علاقوں میں گرا ہے، جن میں بڑے رہائشی علاقے، ہوٹل اور حتیٰ کہ ایئرپورٹ بھی شامل ہیں۔

پالم جزیرے کے لگژری فئیرمونٹ ہوٹل پر گرنے والے ملبے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر گردش کرتی رہیں۔

حکام کے مطابق، اب تک پورے یو اے ای میں 11 افراد ہلاک اور 185 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

AFP via Getty Images

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

یہ تنازع جو 28 فروری کو شروع ہوا اس نے پورے خطّے میں فضائی سفر کو شدید متاثر کیا ہے۔ ابتدائی ہفتوں میں ہزاروں سیاح پھنس گئے تھے جنھیں بعد میں خصوصی پروازوں کے ذریعے نکالا گیا۔

جنگ کے آغاز سے اب تک ہزاروں باقاعدہ شیڈول پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں، جس کے باعث خطّے کے سب سے مصروف فضائی مراکز میں سے ایک کئی بار بالکل رُک سا گیا تھا۔

دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ جو بین الاقوامی مسافروں کے لحاظ سے دنیا کا سب سے مصروف ہوائی اڈہ ہے یہاں گذشتہ سال نو کروڑ 52 لاکھ مسافروں آئے۔

اب کچھ آپریشنز دوبارہ شروع ہو گئے ہیں اور قومی ایئرلائن ایمریٹس کی کچھ پروازیں چل رہی ہے جبکہ مکمل نیٹ ورک بحال کرنے کی کوشش جاری ہے۔

لیکن چونکہ سیاح یہاں سے جا رہے ہیں اور نئے آنے والوں کی تعداد تیزی سے گر رہی ہے، اس لیے دبئی میں ہوٹل بکنگ میں شدید کمی ہوئی ہے۔

ویگو (Wego) ٹریول بکنگ فرم کے چیف بزنس آفیسر مامون حمیدان کے مطابق جنگ کے بعد کے ہفتوں میں دبئی کے ہوٹلوں میں مہمانوں کی اوسط تعداد صرف 15فیصد سے 20 فیصد تک رہ گئی۔

ہوٹلوں نے رہائشیوں کو متوجہ کرنے کی کوشش میں بڑے ڈسکاؤنٹس دیے ہیں، خاص طور پر عید کے دوران۔

پالم جمیرا کے کچھ لگژری ہوٹلزجو شہر کے اہم سیاحتی مراکز میں شامل ہیں انھوں نے اپنی قیمتوں میں 50 فیصد تک کمی کی ہے۔

حمیدان کہتے ہیں کہ ’غیر یقینی صورتحال اس وقت ہر کسی کو متاثر کر رہی ہے۔‘

AFP via Getty Images

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

کچھ ہاسپٹیلٹی چینز نے عارضی طور پر اپنی کچھ املاک بند کر دی ہیں یا کچھ حصوں کو بند کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہاں پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق مرمت یا تزئین و آرائش ہو رہی ہے۔ ایسا عام طور پر نسبتاً کم سیاحوں کے اوقات یعنی موسم گرما میں دیکھا جاتا ہے۔

ایک بین الاقوامی ہاسپٹیلٹی گروپ کے ایک سینئر ایگزیکٹو نے بتایا کہ کچھ املاک میں مہمانوں کی تعداد 10 سے بھی کم تک گر گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’چند ہفتوں کے لیے آپریشنز بند کر دینا اور بعد میں صورتحال کا جائزہ لینا، آپریشنل اخراجات کم کرنے کے لیے بہتر تھا۔‘

کاروباری ہوٹل بھی دباؤ میں ہیں۔ دبئی، جو کانفرنسز اور بڑے ایونٹس کا اہم مرکز ہے، یہاں آئندہ مہینوں کے بڑے اجتماعات کو منسوخ یا ملتوی کیا جا رہا ہے۔

مجیسٹک ہوٹلز جو تین املاک میں تقریباً 450 کمروں کا انتظام کرتی ہے، اس کا کہنا ہے کہ مہمانوں کی تعداد ریکارڈ حد تک کم ہو گئی ہے۔

سیلز اور مارکیٹنگ کے کلسٹر ڈائریکٹر ورون راج کہتے ہیں، ’ہمیں اپریل کے بعد تک کی بکنگز منسوخ ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ بہت سے ایونٹس منسوخ ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے مسافروں کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کرنا مشکل ہو گیا ہے۔‘

یہ سست روی کئی سال کی تیز ترقی کے بعد سامنے آئی ہے۔ کووِڈ-19 کی وبا کے دوران دبئی ان اولین مقامات میں شامل تھا جنھوں نے بین الاقوامی سیاحوں کے لیے دوبارہ کھلنے کا فیصلہ کیا، جس کی وجہ سے اس کا سیاحتی شعبہ دنیا کے کئی دیگر مقامات کے مقابلے میں جلد بحال ہو گیا۔

اس کے بعد سے دبئی ایک وسیع اور زیادہ متنوع مارکیٹ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اس نے اپنی پوزیشن کو ایک لگژری منزل کے طور پر مضبوط کیا ہے، ساتھ ہی جنوبی ایشیا، یورپ اور سابق سوویت ریاستوں جیسے علاقوں سے درمیانی اور کم بجٹ والے مسافروں کی بڑی تعداد کو بھی متوجہ کیا ہے۔

اس بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ سپلائی میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ کئی سالوں کی ترقی کے نتیجے میں نہ صرف ہوٹلوں کی گنجائش بڑھی ہے بلکہ شہر بھر میں قلیل المدتی اپارٹمنٹ کرایوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اب یہ اضافی سپلائی دباؤ میں ہے۔

ڈیٹا فرم ایئر ڈی این اے کے مطابق 28 فروری سے 29 مارچ کے دوران یعنی جنگ کے آغاز کے پہلے مہینے میں پورے یو اے ای میں تقریباً 226,500 قلیل المدتی بُکنگز منسوخ ہوئیں۔

یہ مندی دبئی کی ہاسپٹیلٹی انڈسٹری کی اس تارکین وطن ورک فورس کو بھی متاثر کر رہی ہے جو اس شعبے کی ریڑھ کی ہڈی ہے جن میں ریسٹورانٹ عملے سے لے کر ہوٹل ورکرز تک سب شامل ہیں۔

جیسے جیسے طلب کم ہو رہی ہے، بہت سے کارکنوں کے کام کے گھنٹے کم کر دیے گئے ہیں یا انھیں بغیر تنخواہ چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔

اگرچہ یو اے ای کا لیبر سسٹم کمپنیوں کو بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق فوری طور پر ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن یہ لچک کارکنوں کو اچانک آمدنی میں کمی کے خطرے سے دوچار کر دیتی ہے۔

دبئی

،تصویر کا ذریعہTashas Group

’ایسا لگتا ہے جیسے ہم دوبارہ کووِڈ-19 کے دور میں واپس آگئے ہوں‘۔

یہ کہنا تھا ایک جنوبی ایشیائی ویٹر کا جو ایک اعلیٰ درجے کے ریستوران میں کام کرتے ہیں ۔

وہ کہتے ہیں ’یہ خدشہ ہے کہ ہم پھر اپنی نوکریاں کھو دیں گے اور واپس گھر جانے پر مجبور ہو جائیں گے۔‘

وہ اور ان کے کئی ساتھیوں کو بغیر تنخواہ چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے اور انھیں اس بات کی کوئی وضاحت نہیں دی گئی کہ وہ کب دوبارہ کام پر واپس آئیں گے یا آئیں گے بھی یا نہیں۔

کچھ ہوٹل جن میں فائیو سٹار املاک بھی شامل ہیں، انھوں نے ملازمین کو نکالنا شروع کر دیا ہے۔

حقوقِ انسان کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یو اے ای میں بہت سے تارکین وطن کارکن پہلے ہی مالی طور پر کمزور ہیں، اور کچھ پر وہاں آنے پر اٹھنے والے اخراجات کا قرض بھی ہے۔

جنگ کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

آکسفورڈ اکنامکس کے ’ٹورازم اکنامکس‘ کی تحقیق کے مطابق، اس سال خطے میں 2 کروڑ 30 لاکھ سے 3 کروڑ 80 لاکھ تک کم لوگ سفر کر سکتے ہیں، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ جنگ کتنی دیر تک جاری رہتی ہے۔

اس سے مسافروں کے اخراجات میں 34 ارب سے 56 ارب ڈالر تک کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔

’اگر جنگ جلد ختم ہو جائے تو تیزی سے بحالی ممکن ہے‘۔

حمیدان کہتے ہیں ’لیکن اگر یہ لمبی کھنچتی ہے تو ہمیں پورے موسمِ گرما پر سوال اٹھانا پڑے گا۔‘

اسی ہفتے دبئی نے آئندہ تین سے چھ مہینوں کے لیے کاروبار، جن میں سیاحت کا شعبہ بھی شامل ہے، کے لیے 272.26 ملین ڈالر کی مدد کا اعلان کیا ہے۔

ہوٹلوں کو اجازت دی جائے گی کہ وہ فروخت سے متعلق فیسیں اور ’ٹورزم درہم‘ چارجز جو شہر میں ٹھہرنے والے مہمانوں پر لاگو ہوتے ہیں مؤخر کر سکیں۔

دبئی کے حکام بھی اس بات پر کام کر رہے ہیں کہ جیسے ہی تنازع کم ہو، سیاحت کو دوبارہ کیسے فعال کیا جائے، جس کے لیے نئی مہمات اور پروموشنل آفرز تیار کی جا رہی ہیں۔

ایک اہلکار کہتے ہیں، ’جنگ ہمارے کنٹرول سے باہر ہے، لیکن ہم اس وقت کے لیے تیاری کر رہے ہیں جب یہ ختم ہوگی۔‘

سِدیرس کو امید ہے کہ مکان مالکان مقامی کاروباروں کی مدد کے لیے کچھ عرصے تک کرائے کی ادائیگی میں چھوٹ یا مؤخر ادائیگی کی سہولت فراہم کریں گے۔

سِدیرس کے لیے مستقبل اب بھی غیر یقینی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر جنگ جلد ختم ہو جائے تو اکتوبر سے بحالی ممکن ہے۔ لیکن اگر تنازع جاری رہتا ہے تو یہ وقت اگلے سال تک جا سکتا ہے، جس سے ملازمین کی برطرفیوں اور آؤٹ لیٹس کی بندش کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہمارے پاس ایک یا دو مہینے۔۔۔زیادہ سے زیادہ تین مہینے چلنے کے لیے کافی رقم ہے اور اس کے بعد پھر ہم کیا کریں گے؟ اس کے بعد ہمیں سخت فیصلے کرنے پڑیں گے۔ امید ہے ایسا نہ ہو۔ اور یہ پاگل پن جلد ختم ہو جائے۔‘

SOURCE : BBC