Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں خام تیل کی بڑھتی قیمت اور پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں بے چینی:...

خام تیل کی بڑھتی قیمت اور پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں بے چینی: ’سرمایہ کار نہ مارکیٹ سے نکل سکتا ہے اور نہ مزید سرمایہ لگا سکتا ہے‘

6
0

SOURCE :- BBC NEWS

پاکستان، سٹاک مارکیٹ

،تصویر کا ذریعہEPA

35 سالہ ملازمت پیشہ شخص زاہد محمود نے ڈیڑھ سال قبل زندگی میں پہلی بار ٹریڈنگ اکاؤنٹ کھلوا کر 25 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی تھی۔

پہلے ایک سال کے دوران انھوں نے منافع بھی کمایا مگر اب وہ اپنے پورٹ فولیو کی مالیت روز بروز نیچے آتی دیکھ رہے ہیں۔ گذشتہ ڈیڑھ مہینے سے سٹاک مارکیٹ میں مندی کی وجہ سے آج ان کا پورٹ فولیو منفی 21 فیصد ہو چکا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے مارکیٹ میں شدید مندی کے بعد وہ فکر مند ہیں۔ وہ دراصل اس کشمکش کا شکار ہیں کہ نقصان کر کے سٹاک مارکیٹ سے نکلا جائے یا پھر عالمی اور ملکی حالات کے بہتر ہونے کا انتظار کریں۔ کچھ تجزیہ کار ایسے بھی ہیں جو مندی کے اس رجحان کو سرمایہ کاروں کے لیے اچھا موقع سمجھتے ہیں۔

پاکستان سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے جس میں وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق جون 2022 کے بعد سے دو لاکھ سے زیادہ نئے سرمایہ کاروں کا اضافہ ہوا ہے۔

زاہد محمود بھی ان نوجوان ’ریٹیل انویسٹرز‘ یعنی انفرادی طور پر سرمایہ کاری کرنے والوں میں سے ایک ہیں۔ ان سمیت کئی نئے آنے والے فکر مند ہیں کیونکہ ان کی سرمایہ کاری منافع کی بجائے نقصان کا شکار ہے۔

ان کے لیے حیرت کی بات یہ ہے کہ کے ایس ای 100 انڈیکس جنوری کے آخر میں ایک لاکھ 90 ہزار پوائنٹس کی تاریخی بلندی پر پہنچا تھا مگر اب یہ ایک لاکھ 44 ہزار کی سطح تک گِر چکا ہے۔ یعنی انڈیکس میں صرف ڈیڑھ مہینے میں 46000 پوائنٹس (20 فیصد سے زیادہ) کی کمی آ چکی ہے۔

تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کار مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے ساتھ ساتھ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں بڑے اضافے کی وجہ سے تشویش میں مبتلا ہیں۔ ایشیا کی دیگر منڈیوں جیسے جاپان، انڈیا، جنوبی کوریا اور دیگر ملکوں میں بھی سٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھی گئی ہے۔

ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونے والے بڑے اضافے سے پاکستان کیسے متاثر ہو سکتا ہے اور ایسے میں سرمایہ کاروں کو کیا کرنا چاہیے؟

تیل، خام تیل

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

مشرق وسطی کا بحران یا کچھ اور، پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مندی کیوں؟

28 فروری 2026 کو امریکہ و اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں ایک نئی جنگ کا آغاز ہوا۔ تب سے اب تک سٹاک مارکیٹ میں 20000 پوائنٹس تک کمی ہو چکی ہے۔

اگرچہ اس مندی سے سرمایہ کاروں کے سرمایے کی قدر روز بروز گِر رہی ہے، تاہم اس جنگ سے پہلے بھی سٹاک مارکیٹ میں صورتحال زیادہ حوصلہ افزا نہیں تھی۔ اُس وقت بھی سٹاک مارکیٹ مندی کا شکار تھی۔

جنوری کے آخر میں 190000 پوائنٹس کی بلند سطح سے مارکیٹ مشرق وسطیٰ کی جنگ سے پہلے 165000 پوائنٹس تک گر چکی تھی۔

سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار فرحان محمود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے مارکیٹ میں بہت زیادہ کمی ہوئی تاہم اس سے پہلے بھی مارکیٹ دباؤ کا شکار تھی جس کی مختلف وجوہات تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ فروری کے مہینے میں مارکیٹ میں لسٹڈ کمپنیوں کی جانب سے مالیاتی نتائج کے سیزن میں کمپنیوں کی جانب سے توقعات سے کم آمدن اور منافع رہا۔ ان کے مطابق کمپنیوں کی جانب سے کم منافع کی تقسیم سے بھی مارکیٹ میں منفی اثر پیدا ہوا تھا۔

فرحان نے بتایا کہ اسی دوران بلوچستان میں ریکوڈک منصوبے میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنی کی جانب سے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر سرمایہ کاری کے معاملے پر محتاط نظر ثانی کا بیان آیا، جس نے تیل و گیس شعبے کی کمپنیوں پر منفی اثر ڈالا۔

انھوں نے کہا کہ ان کمپنیوں کا 100 انڈیکس میں بہت زیادہ وزن ہے اور ان کے حصص کی قیمتوں میں کمی سے انڈیکس میں مزید کمی ہوئی۔

فرحان کے مطابق ایسی صورتحال میں لیوریج یعنی ادھار پر کام کرنے والے سرمایہ کاروں نے گھبراہٹ میں حصص فروخت کیے جس کی وجہ سے مارکیٹ مزید دباؤ کا شکار رہی۔

تجزیہ کار کے مطابق دباؤ کی شکار مارکیٹ پر مشرق وسطیٰ کی جنگ سے مزید بوجھ آیا، جس کی وجہ سے انڈیکس بہت تیزی سے نیچے گیا۔

عارف حبیب لمیٹڈ میں ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق نے اس بارے میں کہا کہ ادھار پر کام کرنے والوں نے گھبراہٹ میں جو فروخت کی تو مجموعی طور پر ادھار پر کام سو ارب روپے سے 60 ارب تک آ گیا۔

خام تیل کی قیمت بڑھنے سے پاکستان کے کون سے شعبے متاثر ہوں گے؟

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے تیل کی عالمی سطح پر قیمت سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔

پاکستان نے گذشتہ ہفتے ملک میں ڈیزل و پیٹرول کی قیمتوں میں 55، 55 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا ہے۔

تجزیہ کار فرحان نے بتایا کہ تیل کی زیادہ قیمت کی وجہ سے پاکستان کا امپورٹ بل بڑھ جائے گا کیونکہ ملکی ضروریات کا اسی فیصد تیل باہر سے منگوایا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مہنگی امپورٹ سے ایکسچینج ریٹ کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے ڈالر کی قیمت بڑھ سکتی ہے اور ملکی صنعت کے لیے خام مال مہنگا ہو جائے گا جس سے خاص کر ادویات اور گاڑیاں بنانے کی صنعتیں زیادہ متاثر ہوں گی۔ یہ اس لیے ہے کیونکہ وہ زیادہ تر خام مال باہر سے منگواتی ہیں۔

انھوں نےکہا کہ اسی طرح مقامی سطح پر تیل مہنگا ہونے سے مہنگائی بڑھے گی اور سٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی میں سختی کے طور پر شرح سود بڑھا کر مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرے گا، جس سے مقامی صنعت کے لیے فنانسنگ کی لاگت بڑھ جائے گی۔

اس کے ساتھ تیل مہنگا ہونے کی وجہ سے صنعتوں کی انرجی اور ٹرانسپورٹ لاگت بڑھ جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ اس کا سارا اثر ’ایک عام صارف پر پڑے گا جس کی لیے ضروریات زندگی کی چیز مہنگی ہو سکتی ہے۔‘

پاکستان، سٹاک مارکیٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گرتی ہوئی سٹاک مارکیٹ تنبیہ یا بہترین موقع

پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کی وجہ سے سرمایہ کاری میں بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔

مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کا فی الحال امکان نظر نہیں آ رہا۔ ایسی صورتحال میں خاص طور پر نئے سرمایہ کاروں کو مارکیٹ سے نقصان میں مال بیچ کر نکل جانا چاہیے یا پھرلانگ ٹرم پالیسی اپنانی چاہیے؟

اس بارے میں سٹاک مارکیٹ بروکر ظفر موتی والا کا کہنا ہے کہ اب صورتحال ایسی ہے کہ ’سرمایہ کار نہ تو مارکیٹ سے نکل سکتا ہے اور نہ اس وقت نیا سرمایہ لگا سکتا ہے کیونکہ فی الحال تو جنگ کے خاتمے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔‘

ثنا توفیق کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کو ’فنڈامینٹلز دیکھ کر سرمایہ کاری کی حکمت عملی بنانی چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ مجموعی طور پر ’وہ لوگ نقصان میں ہیں جو شارٹ ٹرم گین کے چکر میں رہتے ہیں جیسے کہ موجودہ مندی میں قیاس آرائیوں اور ادھار پر کام کرنے والوں نے نقصان اٹھایا ہے۔‘

تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں مندی کی وجہ سے ’تمام سرمایہ کار نقصان میں ہیں۔ (مگر) نئے سرمایہ کاروں کو گھبراہٹ میں مال بیچ کر نقصان کرنے کی بجائے لانگ ٹرم انویسٹمنٹ کی حکمت عملی اپنانی چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ انہیں اپنی سرمایہ کاری کو از سر نو ترتیب دینا چاہیے۔ ’وہ اِن سٹاکس کی طرف جائیں جن میں ڈیویڈنڈ (یعنی کمپنیوں کی جانب سے منافع) ملتا ہے۔‘

ثنا نے بتایا کہ سٹاک مارکیٹ کا اصول ہے کہ ’جتنی گرتی ہے، اس سے زیادہ رفتار سے اس میں ریکوری ہوتی ہے۔‘

فرحان محمود نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ میں مندی کے باوجود ابھی بھی یہ سرمایہ کاری کے لیے پرکشش ایونیو ہے کیونکہ ملک میں رئیل اسٹیٹ کے حالات حوصلہ افزا نہیں۔

اسی طرح مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں ایک یا دو فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے مگر فکسڈ انکم کے لیے یہ ریٹ آف ریٹرن زیادہ نہیں ہے۔

انھیں امید ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد ’سٹاک مارکیٹ میں دوبارہ ریکوری ہو گی، اس لیے سرمایہ کاروں کو گھبراہٹ میں حصص فروخت کر کے نقصان اٹھانے کی بجائے ایک طویل مدتی سرمایہ کاری کی طرف بڑھنا چاہیے۔‘

SOURCE : BBC