Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں حزب اللہ کے تیار کردہ ڈرونز جن کا سراغ لگانا اسرائیل کے...

حزب اللہ کے تیار کردہ ڈرونز جن کا سراغ لگانا اسرائیل کے لیے ’بہت مشکل‘ ثابت ہو رہا ہے

11
0

SOURCE :- BBC NEWS

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

حزب اللہ نے اسرائیل پر حملوں کے لیے چھوٹے ’فرسٹ پرسن ویو‘ (ایف پی وی) ڈرونز کا استعمال بڑھا دیا ہے۔ ان میں ایسے ڈرونز بھی شامل ہیں جو فائبر آپٹک کیبل کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں تاکہ جدید دفاعی نظاموں سے بچ سکیں۔

بی بی سی ویریفائی نے 26 مارچ کے بعد لبنانی مسلح گروہ کی جانب سے شیئر کی گئی 35 ویڈیوز کی جیو لوکیشن (جغرافیائی مقام) کے ذریعے نشاندہی کی ہے۔ ان ویڈیوز میں جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل میں اسرائیلی فوجیوں، بکتر بند گاڑیوں اور فضائی دفاعی نظاموں پر حزب اللہ کے حملے دکھائے گئے ہیں۔

ماہرین نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) ان ڈرونز کے خلاف اب تک ’کوئی مؤثر جوابی تدبیر تیار کرنے میں ناکام رہی ہیں‘، کیونکہ یہ چھوٹے ڈرونز شناخت کے لیے بنائے گئے نظام سے آسانی سے بچ نکلتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ ڈرون تجارتی طور پر دستیاب تھری ڈی پرنٹڈ اجزا سے بھی تیار کیے جا سکتے ہیں اور یہ جن اہداف کو تباہ کر سکتے ہیں، ان کے مقابلے میں یہ ڈرونز کہیں زیادہ سستے ہیں۔

جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل کا نقشہ، جس میں وہ 35 مقامات دکھائے گئے ہیں جہاں ایف پی وی ڈرون حملوں کی تصدیق کی جا سکی۔

سستے ایف پی وی ڈرونز کا استعمال روس، یوکرین جنگ کے دوران عام ہوا اور اس نے جدید جنگ کی نوعیت بدل دی ہے۔

اگرچہ اسرائیلی فوج نے ہلاکتوں کی تمام تفصیلات شائع نہیں کیں، تاہم اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف پی وی حملوں میں آئی ڈی ایف کے چار فوجی اور ایک شہری ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

آئی ڈی ایف نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ وہ ڈرونز سے لاحق خطرے کو تسلیم کرتی ہے اور دفاع کو بہتر بنانے سمیت فوجیوں کی تربیت کے لیے بھی ’اہم وسائل‘ میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔

انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی سٹڈیز کے مطابق آئی ڈی ایف کئی برسوں سے ایف پی وی ڈرونز استعمال کر رہی ہے اور اس وقت جنوبی لبنان اور غزہ میں حماس کے خلاف ان کا استعمال جاری ہے۔

فوجی تجزیہ کار اور سابق لبنانی جنرل ہشام جابر نے بی بی سی عربی کو بتایا کہ ایف پی وی ڈرونز ریڈار سے شناخت نہیں کیے جا سکتے اور حزب اللہ اپنے پاس موجود ’سینکڑوں‘ ڈرونز کو ٹینکوں سمیت دیگر بکتر بند گاڑیوں کو ناکارہ بنانے کے لیے استعمال کر چکی ہے۔

جابر نے مزید کہا کہ حزب اللہ کئی برسوں سے شمالی اسرائیل میں اہداف پر بڑے ڈرونز سے حملے کرتی رہی ہے لیکن ایف پی وی ڈرونز کا استعمال ایک مختلف جہت ہے۔

بی بی سی ویریفائی کو حزب اللہ کے ٹیلیگرام چینل پر 26 مارچ کے بعد ممکنہ طور پر ایف پی وی ڈرونز کے ذریعے کیے گئے 100 کے قریب حملوں کی ویڈیوز ملی ہیں، جن میں سے 35 کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ ایسا معلوم نہیں ہوتا کہ حزب اللہ نے دو مارچ سے شروع ہونے والے تنازع کے آغاز میں اس نوعیت کے حملوں کی کوئی ویڈیوز شیئر کی تھیں۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جمعرات کو شیئر کی گئی ایک تصدیق شدہ ویڈیو میں کم از کم چار ایف پی وی ڈرونز کو کریات شمونہ کے قریب ایک اسرائیلی سرحدی چوکی پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جہاں فوجی گاڑیوں کو یکے بعد دیگرے نشانہ بنایا گیا۔ ویڈیو کلپس میں کم از کم دو گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچتے یا تباہ ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

بی بی سی ویریفائی نے جنوبی لبنان میں بھی اسی طرح کے ڈرون حملوں کا سراغ لگایا ہے، ان میں سے کم از کم دو حملے 26 اپریل کو طیبہ کے قصبے میں کیے گئے۔

ویڈیوز میں فوجیوں کو نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے اور پھر زخمیوں کو نکالنے کے لیے آئی ڈی ایف کا ہیلی کاپٹر آیا تو اسے بھی حملے کے نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس حملے میں ایک فوجی ہلاک اور چھ زخمی ہوئے۔

حملہ کرنے والے بہت سے ڈرونز ریڈیو یا دیگر وائرلیس سگنلز کے بجائے فائبر آپٹک کیبل سے منسلک کر کے چلائے جاتے ہیں، اسی وجہ سے اسرائیل کے لیے انھیں روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔

کنگز کالج لندن سے منسلک سکیورٹی ماہر ڈاکٹر اینڈریاس کریگ نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ ڈرونز کو شناخت کر کے انھیں جام کرنے اور روکنے کی اسرائیل کی صلاحیت فائبر آپٹکس کی وجہ سے ’بڑی حد تک غیر مؤثر‘ ہو جاتی ہے اور آپریٹر کا سراغ لگانا بھی کہیں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

ان کے مطابق اس کا اثر یہ پڑا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کو زیادہ محتاط رہنا پڑتا ہے، حفاظتی تدابیر اختیار کرنا پڑتی ہیں اور اپنے دفاع پر زیادہ توجہ دینی پڑتی ہے۔

کریگ کے مطابق غالب امکان یہ ہے کہ حزب اللہ یہ ڈرونز مقامی طور پر چین جیسے مقامات سے حاصل کیے گئے ان اجزا سے تیار کر رہی ہے جو تجارتی طور پر عام دستیاب ہوتے ہیں۔ ایک ڈرون کی لاگت تقریباً 300 سے 500 ڈالرز کے درمیان ہے۔

ایک گرافک جس میں فائبر آپٹک ایف پی وی ڈرونز کے کام کرنے کا طریقہ دکھایا گیا ہے

سینٹر فار انفارمیشن ریزیلیئنس کے سینیئر تحقیق کار اور ہتھیاروں کے ماہر لیون ہداوی نے کہا کہ ان تجارتی اجزا کے ساتھ تھری ڈی پرنٹرز کے ذریعے تیار کیے گئے حصے بھی شامل کیے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اجزا بہت آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں اور غیر عسکری نوعیت کے ہوتے ہیں، اس وجہ سے ان کا سراغ لگانا بہت مشکل ثابت ہوا ہے۔ یہ ایف پی وی ڈرونز زیادہ تر گرینیڈ سے لیس ہوتے ہیں اور جنوبی لبنان میں گرینیڈز کی کوئی کمی نہیں۔‘

ہداوی نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ ایف پی وی ڈرونز کے بڑھتے حملوں سے اسرائیلی فوجیوں پر ’نفسیاتی اثرات‘ بھی بڑھتے جا رہے ہیں، کیونکہ یہ انتہائی محفوظ بکتر بند گاڑیوں کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

ایک گرافک جس میں ایک شخص ہیڈ سیٹ پہن کر کنٹرولر کے ذریعے ایف پی وی ڈرون چلا رہا ہے۔

جب 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی اور رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کیا، تو اس کے دو دن بعد دو مارچ کو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کا آغاز ہوا۔

خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ داغے اور اسرائیل نے لبنان میں وسیع پیمانے پر فضائی حملوں اور ملک کے جنوبی حصے میں زمینی کارروائی کے ذریعے جواب دیا۔

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق اس کے بعد سے کم از کم 2896 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں وہ 400 سے زیادہ افراد بھی شامل ہیں جو اپریل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ہلاک کیے گئے۔ وزارت صحت کے اعداد و شمار میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہلاک کیے گئے افراد میں کتنے جنگجو ہیں اور کتنے عام شہری۔

تنازع کے آغاز سے اب تک لبنان میں 10 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کے مطابق اس تنازع میں اس کے چار فوجی اور 18 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

اضافی رپورٹنگ: لامیس الطالیبی، تھامس سپینسر، ڈینا عیسیٰ، شیری رائیڈر اور پال براؤن

گرافکس: ٹام شیل

مختصر ویڈیوز

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

  • سمندر

  • کراچی کی یونیورسٹی روڈ آخر کب بنے گی؟

  • فریڈم فلوٹیلا

  • حجاب

  • ڈومینک ہیوز

  • رس گلا

  • تائیوان

  • یمال

  • جینی

  • سری لنکا ریس

  • انڈین شہری

  • Balochistan

  • عدیل برکی

  • اریجیت سنگھ

SOURCE : BBC