SOURCE :- BBC NEWS

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ خیبر پختونخوا میں امن کی بحالی اور افغانستان سے متعلق کچھ امور پر اتفاق ہوا ہے۔
اسلام آباد میں بی بی سی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے واضح کیا کہ تیراہ سے زبردستی لوگوں کو نکالا گیا ہے اور اب میں نے یہ ہدایات دی ہیں کہ ان لوگوں کو معاوضہ دیا جائے تاکہ وہ اپنا عزت سے گزر بسر کر سکیں۔
صوبے میں فوجی آپریشنز سے متعلق انھوں نے کہا کہ ’میری پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ صوبے میں امن و امن کی بحالی اور افغانستان سے متعلق کچھ امور پر اتفاق ہوا ہے جن کے بارے میں ابھی تفصیلات سامنے نہ لانے پر اتفاق ہوا ہے۔‘
وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ حکومت اور عسکری حکام سے ہونے والی ملاقاتوں میں صوبائی امور پر بات چیت ہوئی ہے اور انھوں نے پارٹی امور اور عمران خان سے متعلق بات نہیں کی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ سے ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے انھیں یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ این ایف سی سمیت خیبر پختونخوا کا حق اسے دیا جائے گا تاہم حکومت نے اس مجبوری کا بھی ذکر کیا ہے کہ خزانے میں اتنے وسائل نہیں ہیں کہ فوری ادائیگیاں ہو سکیں۔
آٹھ فروری کے احتجاج سے متعلق سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی میں پہلے احتجاج سے متعلق کنفیوژن تھی مگر بعد میں یہ اتفاق ہو گیا تھا کہ تحریک تحفظ آئین احتجاج کی کال دینے کی مجاز ہو گی۔
ایک سوال پر سہیل آفریدی نے کہا کہ میں بطور وزیر اعلیٰ اپنے صوبے میں احتجاج اور پہیہ جام ہڑتال کی کال نہیں دے سکتا اس وجہ سے کسی بھی ریلی یا مظاہرے سے میں نے خطاب بھی نہیں کیا۔
’عمران خان کو کسی ہسپتال میں داخل کیا جائے‘
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ جو سرکاری میڈیکل رپورٹ سامنے آئی ہے اس میں خود تسلیم کیا گیا ہے کہ عمران خان کی بینائی 10 سے 15 فیصد تک رہ گئی ہے، تاہم اس رپورٹ پر بھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ تاحال ان کے ذاتی ڈاکٹروں کو مکمل معائنہ کی اجازت نہیں دی گئی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرتے وقت نہ ان کے اہلخانہ کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی ان کے ذاتی معالج کو بلایا گیا، جو بدنیتی اور خوف کی عکاسی کرتا ہے۔
SOURCE : BBC



