Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں بلیک آؤٹ، گولہ باری کا خوف اور سرنگ میں پناہ: بی بی...

بلیک آؤٹ، گولہ باری کا خوف اور سرنگ میں پناہ: بی بی سی نے جنگ سے متاثرہ لنڈی کوتل کے سرحدی گاؤں میں کیا دیکھا؟

13
0

SOURCE :- BBC NEWS

تصویر

’وہ بہت مشکل وقت تھا، کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، بس سب لوگ سرنگ کی جانب بھاگ رہے تھے۔ والدین نے دو دو، تین تین بچوں کو گود میں اٹھایا ہوا تھا۔ دھماکوں اور فائرنگ کے بیچ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے ابھی کوئی گولہ گرے گا اور ہم مر جائیں گے۔‘

یہ کہنا ہے پاکستان کے سرحدی ضلع لنڈی کوتل کے گاؤں باچا مینہ سے تعلق رکھنے ولے شاہ ولی اللہ کا۔ افغانستان کے ساتھ موجود پاکستان کے سرحدی علاقوں پر واقع آبادیوں میں رہنے والے لگ بھگ گذشتہ دو ہفتوں سے جنگ، گولہ باری اور شدید فائرنگ کے مہیب سائے تلے زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان 26 اور 27 فروری کی درمیانی شب شروع ہونے والی شدید چھڑپوں نے اِن سرحدی علاقوں کے مکینوں کی زندگیاں مشکل بنا رکھی ہیں۔

بی بی سی اُردو کی ٹیم نے گذشتہ دنوں سرحدی ضلع لنڈی کوتل کا دورہ کیا تاکہ یہ جانا جا سکے کہ پاکستان اور افغانستان کے بیچ جاری کشیدگی یہاں کے رہائشیوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے۔

دیگر سرحدی اضلاع کی طرح لنڈی کوتل میں بھی تعلیمی ادارے تاحکم ثانی بند ہیں، کاروبار شدید متاثر ہے جبکہ رات کے اوقات میں یہاں بلیک آؤٹ کی سی صورتحال ہوتی ہے۔

جب سنیچر کی صبح بی بی سی کی ٹیم لنڈی کوتل پہنچی تو یہاں وہ چہل پہل نہیں تھی جو عام دنوں میں نظر آتی ہے، لوگوں کے چہرے بجھے بجھے تھے جبکہ تاجر، جو عموماً ماہ رمضان اور عید سے قبل کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کی توقع رکھتے ہیں یہ گلہ کرتے نظر آئے کہ آج کل عموماً دو، دو دن مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند رہتے ہیں۔

افغانستان کی سرحد سے متصل لنڈی کوتل کا گاؤں باچا مینہ اس صورتحال سے شدید متاثر نظر آیا جہاں کے رہائشی اب اکثر راتیں نزدیک واقع ریلوے کے ایک ٹنل میں گزارتے ہیں تاکہ ممکنہ گولہ باری سے محفوظ رہ سکیں۔

اس ٹنل میں مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت گزارا کرتے ہیں، کسی نے پک اپ گاڑیوں میں اپنے اہلخانہ کو بٹھا رکھا تھا جبکہ کسی نے چٹائیوں اور چادروں کی مدد سے پردے کا بندوبست کر کے وہاں خواتین کو بٹھایا ہوا تھا۔

تصویر

یہاں نہ تو روشنی کا کوئی باقاعدہ انتظام تھا جبکہ واش روم یا رفع حاجت کے لیے کوئی بندوبست موجود نہیں تھا۔ یہاں موجود علاقہ مکینوں نے بتایا کہ کیسے گذشتہ راتوں میں ان کے گاؤں میں موجود گھروں اور مارکیٹوں میں گولے گرے جس سے کافی نقصان ہوا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان شدید سرحدی جھڑپیں 26 فروری اور 27 فروری کی درمیانی شب اچانک اس وقت شروع ہوئی ہے جب افغانستان کی جانب سے پاکستان کے مختلف سرحدی مقامات پر حملہ کیا گیا۔

افغان طالبان حکام کا دعویٰ تھا کہ انھوں نے یہ کارروائی پاکستان کی جانب سے افغانستان میں مختلف شہروں پر کیے گئے فضائی حملوں کے جواب میں کی تھی۔

’معلوم نہیں کب کوئی گولہ ہم پر آ گِرے‘

تصویر
مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سنیچر کی صبح جب بی بی سی کی ٹیم لنڈی کوتل سے آگے طورخم کی جانب روانہ ہوئی تو مچنی چیک پوسٹ کے قریب ریلوے کی ایک سرنگ میں بچے، خواتین اور لوگ موجود تھے۔

یہاں آنے والے چند افراد اپنی گاڑیاں بھی ساتھ لائے تھے تاکہ انھیں نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔ ہم جیسے جیسے سرنگ کے اندر آگے بڑھتے گئے تو اندھیرا بڑھنے لگا۔ موبائل فون کی لائٹ میں ہم نے بہت سے ایسے خاندان دیکھے جو چٹائیوں اور پلاسٹک کی شیٹس سے پردے کا عارضی انتظام کیے ہوئے یہاں موجود تھے۔

سرنگ کے دہانے پر موجود گاڑیوں کو بھی چادروں کی مدد سے چھپایا گیا تھا اور ان میں خواتین اور بچے بیٹھے ہوئے تھے۔ یہاں موجود بیشتر خاندانوں کے پاس کھانے پینے کی اشیا کا ذخیرہ نہیں تھا جبکہ رفع حاجت کے لیے بھی کوئی عارضی بندوبست نہیں تھا۔

سرنگ کے باہر پچھلی جانب پتھریلے ٹیلے اور پہاڑیاں تھیں جبکہ سامنے کارگو ٹرمینل اور افغانستان کی سرحد نظر آ رہی تھی۔ سرحد کی دوسری جانب افغانستان کے علاقے میں دھواں اٹھتا نظر آ رہا تھا جو عام طور پر کسی مارٹر گولے کے گرنے کے بعد اٹھتا ہے۔

ٹنل میں موجود باچا مینہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بتایا کہ گزشتہ رات اُن کے علاقے میں شدید گولہ باری ہوئی تھی جس کے باعث دکانوں میں آگ لگی گئی تھی۔ علاقہ مکینوں کے مطابق یہ ٹائروں کی دکانیں تھیں جس میں آتشزدگی سے مارکیٹ کو نقصان پہنچا۔

شاہ ولی اللہ اس سرنگ میں اپنے بھائیوں اور اہلخانہ کے ساتھ موجود تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کل رات اتنی شدید گولہ باری تھی کہ ہم سو نہیں سکے۔ یہ گولہ باری سحری کے وقت تک جاری رہی اور اسی دوران ہم نے افطاری کے وقت کا بچا کھچا کھانا کھا کر روزہ رکھا۔’

انھوں نے بتایا کہ وہ لوگ افغانستان کی جانب سے 26، 27 فروری کی درمیانی شب سے شروع ہونے والے گولہ باری کے بعد ہی ضروری سامان اور بچوں اور اہلخانہ کو ساتھ یہاں آ گئے تھے۔

اس سرنگ میں موجود محمد جعفر اپنی پک اپ گاڑی کے ساتھ کھڑے تھے ۔ اُنھوں نے چادروں کی مدد سے گاڑی پر پردے لگائے ہوئے تھے تاکہ اندر بیٹھی خواتین کا پردہ رہے ۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ڈرائیور ہیں اور سرحد پر سامان لانے لے جانے کا کام کرتے ہیں۔

جعفر کے مطابق ان کے آٹھ بچے ہیں جن میں سے دو معذور ہیں اور جب سے سرحدی جھڑپوں کا آغاز ہوا ہے تب سے اُن کا کام لگ بھگ بند ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہاں زندگی بہت مشکل ہے، خوف اتنا ہے کہ کہیں آ جا نہیں سکتے۔ جب دن کے وقت گولہ باری رُک جاتی ہے تو ہم چھپتے چھپاتے اپنے گھر چلے جاتے ہیں اور کھانے پینے کا سامان لے کر واپس آ جاتے ہیں۔ جب سے جنگ شروع ہوئی ہے تب سے زندگی ایسے ہی گزر رہی ہے۔‘

اس سرنگ میں بڑی تعداد میں بچے بھی موجود تھے۔ یہاں موجود افراد نے بتایا کہ ان کے گاؤں باچا مینہ گاؤں کی آبادی لگ بھگ 12 ہزار افراد پر مشتمل ہیں۔

جعفر کے مطابق باچا مینہ سے تعلق رکھنے والے چند خاندان تو دیگر قریبی شہروں میں مقیم اپنے رشتہ داروں کے پاس چلے گئے جبکہ وہ خاندان جن کے پاس کچھ وسائل تھے انھوں نے پشاور یا جمرود میں کرائے کے مکان لے لیے ہیں اور جو خاندان زیادہ غریب ہیں انھوں نے یہاں سرنگوں میں پناہ لے لی ہے۔

یہاں موجود شاہ ولی اللہ نے بتایا کہ جب سے باقاعدہ جھڑپوں کا آغاز ہوا ہے وہ تب سے یہاں رہ رہے ہیں۔ ’ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ سلسلہ اتنے عرصے چلے گا۔‘

یہاں موجود افراد نے یہ گلہ بھی کیا کہ اب تک اس علاقے سے منتخب کوئی رکن پارلیمان انھیں تسلی دلاسہ دینے بھی یہاں نہیں پہنچا۔

تصویر

’رات کو یہاں بلیک آؤٹ ہوتا ہے‘

لنڈی کوتل طورخم سرحد سے تقریباً چھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ افغانستان، پاکستان تنازع کی ابتدا کے بعد سے لنڈی کوتل کے مختلف مقامات پر گولے گرے ہیں اور نقصان ہوا ہے۔

مقامی صحافی ہجرت علی نے بتایا ہے کہ ’کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ گولے کہاں گر رہے ہیں، ساتھ واقع ایک گاؤں میں آبادی کے نزدیک دو مرتبہ گولے گرے ہیں جس سے کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔‘

شہری احمد نبی شنواری نے بتایا کہ اس علاقے میں رہنے والے رات کو اپنے گھروں میں روشنیاں نہیں جلاتے کیونکہ ایسا کرنے سے نشانہ بننے کا اندیشہ رہتا ہے۔ ’رات کو یہاں بلیک آؤٹ ہوتا ہے بس موبائل فون کی روشنی میں گھر کے کام ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب سب سے زیادہ گولہ باری ہوئی تھی جس کے باعث ان کے گھر میں کوئی بھی نہیں سو سکا۔ ’جب گولہ باری ہو رہی ہوتی ہے تو اتنا خوف ہوتا ہے کہ سمجھ نہیں آتی کہ کمرے کے اندر رہیں تو محفوظ ہوں گے یا کمرے سے باہر نکل کر برآمدے یا صحن میں بیٹھ جائیں۔ کبھی بچوں کو ایک طرف بٹھا دیتے ہیں اور کبھی برآمدے میں لے آتے ہیں۔‘

اس کشیدہ صورتحال کے باعث لنڈی کوتل میں سکول اور تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔ جب ہم لنڈی کوتل میں سرکاری مڈل سکول میں گئے تو ویرانی تھی اور صرف ایک چوکیدار حفاظت کی غرض سے وہاں موجود تھا۔ سکول کے گیٹ اور کلاس رومز کو تالے لگے ہوئے تھے۔

تصویر

مقامی سکول ٹیچر مصطفی شنواری نے بتایا کہ ’بچوں کی تعلیم کا حرج تو ہو رہی رہا ہے کیونکہ یہ سال کا وہ وقت ہے جب پیپرز کے بعد نیا تعلیمی سیشن شروع ہوتا ہے۔ یہاں دسمبر میں امتحان لیے جاتے ہیں جس کے بعد چھٹیاں ہو جاتی ہیں اور فروری میں سکول کھلتے ہیں لیکن اس مرتبہ سکول بند ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ان دھماکوں اور فائرنگ سے ’بچوں پر نفسیاتی اثرات زیادہ ہوتے ہیں، اُن میں خوف پیدا ہو جاتا ہے جس وجہ سے وہ گھر رہتے ہوئے بھی تعلیم پر توجہ نہیں دے پاتے۔‘

’کاروبار 40 فیصد رہ گیا ہے‘

تصویر

لنڈی کوتل ضلع خیبر کا اہم علاقہ ہے اور یہاں افغانستان کی سرحد کے قریب ہونے کی وجہ سے افغانستان سے تجارت بھی ماضی میں کافی اچھی ہوتی تھی۔

عام دنوں میں یہاں بازاروں میں چہل پہل ہوتی ہے جبکہ پشاور اور دیگر علاقوں سے لوگ یہاں خاص طور پر دنبے کے گوشت کے تکے کھانے بھی آتے ہیں اور جب سرحد کھلی ہوتی ہے تو لوگوں کی آمدو رفت بھی کافی زیادہ ہوتی ہے۔

مگر اب جب سے جھڑپیں شروع ہوئی ہیں تو کاروبار اور روزمرہ کی زندگی بھی شدید متاثر ہے۔ جھڑپوں کی ابتدا کے دنوں میں تو انتظامیہ کی جانب سے تمام بازار اور مارکیٹیں بند کروا دی گئی تھیں۔

مقامی تاجر عبدالرحمان نے بتایا کہ ’چند دن دکانیں بند رہنے کے بعد اب اگرچہ کوئی ایسی پابندی تو نہیں ہے، لیکن اب کبھی بازار بند اور کبھی کھلا ہوتا ہے اور اس کا دارومدار گولہ باری اور فائرنگ کی شدت پر ہوتا ہے۔‘

عبدالرحمان کے مطابق ان کا کاروبار اس صورتحال کے باعث شدید متاثر ہوا ہے۔ ’اگر پہلے دن میں ایک لاکھ کا کاروبار ہوتا تھا تو اب صرف 40 ہزار روپے کی سیل ہوتی ہے۔‘

مقامی لوگوں نے بتایا کہ لنڈی کوتل اور طورخم کے ساتھ واقع دیہاتوں میں زیادہ لوگ محنت مزدوری کرتے ہیں اور ان کی بقا کا دارومدار سامان تجارت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے پر ہوتا ہے۔ یہ افراد زیادہ تر گاڑیوں اور ریڑھیوں کا استعمال کرتے ہیں۔

اُن کے مطابق افغانستان جانے والے یا افغانستان سے پاکستان آنے والے لوگوں کو زیرو پوائنٹ سے کافی پیدل چلنا پڑتا ہے اس لیے انھیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو یا تو خواتین اور بزرگوں کو ریڑھیوں میں بٹھا کر گاڑیوں تک لے جائیں یا ان کا سامان منزل تک پہنچا دیں ۔

اب سرحد چونکہ گذشتہ سال اکتوبر سے بند ہے تو یہ لوگ بھی بیروزگار ہیں۔ لنڈی کوتل بازار میں درجنوں نوجوان لڑکے اور بچے ایسی ہتھ ریڑھیاں اٹھائے مزدوری ملنے کے انتظار میں نظر آئے۔

سرحدی علاقوں میں صورتحال ایک سی ہے

تصویر

یہ حال صرف ایک سرحدی شہر یعنی لنڈی کوتل کا نہیں ہے۔ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ لگ بھگ 2640 کلومیٹر طویل سرحد ہے جو خیبر پختونخوا سے لے کر بلوچستان کے آخری کونے تک جاتی ہے۔

پاکستان کی جانب اس سرحد کے ساتھ ساتھ لگ بھگ 800 سے 1000 تک چھوٹے شہر، گاؤں، قصبے اور آبادیاں واقعہ ہیں اور سرکاری اندازوں کے مطابق یہاں آبادی 70 لاکھ سے 80 لاکھ کے درمیان ہے۔ اسی طرح افغانستان کی جانب بھی 600 سے زیادہ دیہات اور قصبے واقع ہیں جن کی آبادی لاکھوں میں ہے۔

حالیہ جھڑپوں کے باعث سرحد کے دونوں اطراف موجود آبادیوں میں ایک سی صورتحال ہے اور لوگ خوف کا شکار ہیں جبکہ ان کے معمولات زندگی متاثر ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں چترال کے علاقے ارندو سے بھی مقامی آبادی کی نقل مکانی ہوئی ہے۔

ان جھڑپوں کے دوران دونوں ممالک کی جانب سے نقصانات کی تفصیل اور شہری آبادیوں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے گئے ہیں۔

یہ جھڑپیں کب تک جاری رہیں گی تاحال کچھ معلوم نہیں ہے مگر سرحدی علاقوں میں رہنے والوں کی زندگیوں پر اس کے وسیع اثرات واضح نظر آ رہے ہیں۔

SOURCE : BBC