Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں بلھا، آگ لگے بستی میں اور دہلی گیٹ: عید پر ریلیز ہونے...

بلھا، آگ لگے بستی میں اور دہلی گیٹ: عید پر ریلیز ہونے والی تین پاکستانی فلمیں کیا سینما گھروں کی رونق واپس لا پائیں گی؟

15
0

SOURCE :- BBC NEWS

بلھا، آگ لگے بستی میں، دہلی گیٹ

،تصویر کا ذریعہSkyfall Films/ARY FILMS/GEO FILMS

گذشتہ چند ماہ سے خاموش پاکستانی فلم انڈسٹری اس عیدالفطر پر ایک نئے امتحان سے گزرنے جا رہی ہے، کیوںکہ اس بار عید پر ایک، دو نہیں بلکہ تین پاکستانی فلمیں (آگ لگے بستی میں، بُلھا اور دہلی گیٹ) سینما گھروں کی زینت بنیں گی۔

سوال یہ ہے کہ معاشی مشکلات، گرتی ہوئی آڈینس کی تعداد اور محدود ریلیزز جیسے مسائل کا سامنا کرنے والی انڈسٹری کو ان فلموں سے جو امیدیں ہیں، کیا وہ اُن پر پورا اتریں گی؟

یا پھر پاکستانی سینما کی کھوئی ہوئی رونقیں واپس لانے کے بجائے باکس آفس پر ایک دوسرے کا مقابلہ کر کے اگلی عید سے پہلے ہی ماضی کا حصہ بن جائیں گی؟

اس بار عیدالفطر پر ریلیز ہونے والی تین فلمیں ’آگ لگے بستی میں‘، ’بلھا‘ اور ’دہلی گیٹ‘ ہیں۔

’آگ لگے بستی میں‘ کی کاسٹ میں فہد مصطفیٰ اور ماہرہ خان کے ساتھ ساتھ تابش ہاشمی بھی اداکاری کر رہے ہیں۔ اس فلم کے ہدایتکار بلال عاطف خان ہیں جبکہ فہد مصطفیٰ اور ڈاکٹر علی کاظمی اس کے پروڈیوسرز میں شامل ہیں۔

اے آر وائی فلمز کے بینر تلے پیش کی جانے والی اس فلم کی کہانی ایک ایسے غریب جوڑے کے گرد گھومتی ہے جس میں شوہر ایماندار اور بیوی بے ایمان ہوتی ہے، جو لوگوں کے گھروں میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں سے پیسے بھی چوری کرتی ہے۔

بیوی کی جانب سے کی گئی اسی نوعیت کے ایک واردات اِن دونوں کی زندگیاں کیسے متاثر کرتی ہے، یہ اس فلم کی کہانی ہے۔

بلھا

،تصویر کا ذریعہGEO FILMS

دوسری فلم ہدایتکار شعیب خان کی پنجابی ایکشن فلم ’بلھا‘ ہے جس میں شان شاہد کافی عرصے کے بعد صرف بطور اداکار نظر آئیں گے۔ فلم کی کہانی ہالی وڈ فلم ’جان وک‘ سے ملتی جلتی ہے جبکہ اس میں سلیم شیخ، نعیمہ بٹ اور سارہ لورین بھی اداکاری کے جوہر دکھائیں گے۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ہدایتکار ندیم چیمہ کی ’دہلی گیٹ‘ ویسے تو نوے کی دہائی کی رومانوی ایکشن فلموں سے الگ نہیں لگ رہی لیکن اس میں ایک نیا جوڑا، سوزین فاطمہ اور یاسر خان، متعارف کیا جا رہا ہے۔ جبکہ شمعون عباسی، جاوید شیخ، روما مائیکل اور شفقت چیمہ کے ساتھ ساتھ حال ہی میں وفات پا جانے والے اداکار خالد بٹ اور قوی خان بھی اس کا حصہ ہیں۔

’آگ لگے بستی میں‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ماہرہ خان کا کہنا تھا کہ یہ ایک دلچسپ کہانی ہے، جس میں ان کے لیے جو کردار لکھا گیا ہے، اسے ادا کرتے ہوئے انھیں بہت مزہ آیا۔

پروڈیوسر اور اداکار فہد مصطفیٰ نے ساتھی اداکار تابش ہاشمی کو اس فلم کا ’سرپرائز پیکج‘ قرار دیا اور کہا کہ ڈیبیو کرنے کے باوجود وہ غیر معمولی تیاری کے ساتھ سیٹ پر آتے تھے۔

اُدھر دہلی گیٹ کے ڈائریکٹر ندیم چیمہ نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس فلم میں کلاسک لالی وڈ کے انداز کو جدید طرز کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

’ہم چاہتے ہیں کہ یہ فلم دو طرح کی آڈینس کو اپیل کرے، ایک وہ لوگ جو پرانی پاکستانی فلموں کا انداز پسند کرتے ہیں اور دوسری نئی نسل جو اپنی ثقافت کو بڑے پردے پر دیکھنا چاہتی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اندرون لاہور کا ماحول، موسیقی، خاندانی جذبات اور ایکشن ایسے عناصر ہیں جو مختلف عمر کے ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔

آگ لگے بستی میں

،تصویر کا ذریعہARY FILMS

ایک عید پر تین فلموں کی ریلیز: باکس آفس کے لیے اچھا یا بُرا؟

پاکستان کے فلمی حلقوں میں اکثر یہ بحث ہوتی ہے کہ ایک ہی موقع پر کئی فلموں کی ریلیز سے کاروبار تقسیم ہو جاتا ہے۔

ماضی میں بھی دیکھا گیا ہے کہ عید کے موقع پر جتنی زیادہ فلمیں ریلیز ہوئی ہیں، اتنا کم بزنس ہوا۔ اس کی بڑی وجہ تو سینما سکرینوں کی کمی اور دوسری فلم دیکھنے والوں کی عدم دلچسپی ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے معروف ڈسٹری بیوٹر اور مانڈوی والا انٹرٹینمنٹ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ندیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ ایک عید پر دو فلموں سے زیادہ ریلیز نہیں ہونی چاہیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سینما مارکیٹ اس وقت اتنی بڑی نہیں کہ ایک ہی وقت میں تین بڑی فلموں کو مکمل طور پر سپورٹ کر سکے۔

’گذشتہ سال عیدالاضحٰی پر ریلیز ہونے والی فلمیں ’لوو گرو‘ اور ’دیمک‘ اس لیے کامیاب ہوئی تھیں کیونکہ اچھی فلمیں ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے سامنے کوئی تیسری فلم نہیں تھی۔ اگر تمام فلمیں اچھی ہوں تو عموماً دو فلمیں مناسب بزنس کر سکتی ہوں تو تیسری فلم کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

تاہم فلمی حلقوں میں اس رائے سے مکمل اتفاق نہیں کیا جاتا۔ ہدایتکار ندیم چیمہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عید کے موقع پر مختلف موضوعات کی فلمیں آڈینس کو زیادہ آپشن فراہم کرتی ہیں۔

’حقیقت یہ ہے کہ جب ایک بڑے موقع پر ایک سے زیادہ فلمیں ریلیز ہوتی ہیں تو سینما ہالز میں سرگرمی بڑھتی ہے اور ناظرین کی دلچسپی بھی زیادہ ہوتی ہے۔ عید کے موقع پر فیملیز تفریح کے لیے باہر نکلتی ہیں، اس لیے مختلف موضوعات کی فلمیں ہونا دراصل آڈینس کو زیادہ آپشن دیتا ہے۔ اگر ہر فلم کا اپنا منفرد انداز اور کہانی ہو تو مقابلے کے بجائے یہ پورے سینما ماحول کو فائدہ دیتا ہے اور مارکیٹ کو زندہ رکھتا ہے۔‘

دہلی گیٹ

،تصویر کا ذریعہSkyfall Films

عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ: فلمی بزنس میں فرق کیوں؟

اگر پاکستان کی باکس آفس تاریخ دیکھی جائے تو ٹاپ ٹین کامیاب فلموں میں سے زیادہ تر عیدالاضحٰی پر ریلیز ہوئی ہیں — ’جوانی پھر نہیں آنی‘ ہو یا ’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ اور اس کا سیکویل، تمام فلمیں عیدالاضحٰی پر ریلیز ہوئیں۔

اس فہرست میں ’طیفا اِن ٹربل‘ اور ’ڈونکی کنگ‘ ایسی دو فلمیں ہیں جو کسی بھی عید پر ریلیز نہیں ہوئیں، جبکہ عیدالفطر پر ریلیز ہونے والی ایک بھی فلم اس فہرست کا حصہ نہیں۔

فلمی نقاد کامران جاوید سمجھتے ہیں کہ عید الفطر پر فلموں کے کم بزنس کی ایک بڑی وجہ مناسب تشہیر کا فقدان ہے۔

بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان فلموں کی پروموشن رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں شروع ہوتی ہے، جس کی وجہ سے فلموں کو مکمل توجہ نہیں مل پاتی۔

ان کے مطابق مسئلہ صرف رمضان تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں مجموعی طور پر فلموں کی مارکیٹنگ پر کم سرمایہ خرچ کیا جاتا ہے۔

’اگر فلم کی تشہیر مؤثر طریقے سے کی جائے اور فلم کا معیار بھی بہتر ہو تو عیدالفطر پر بھی فلمیں اچھا بزنس کر سکتی ہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ آج کل کے زمانے میں ٹی وی پارٹنر کا نہ ہونا اور سوشل میڈیا کو پروموشن کے لیے استعمال نہ کرنے سے فلم کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تینوں فلموں کا موازنہ کرتے ہوئے کامران جاوید کا کہنا تھا کہ ’آگ لگے بستی میں‘ کی تشہیری مہم زیادہ منظم لگ رہی ہے، جس سے اسے باکس آفس پر برتری مل سکتی ہے۔

ادھر ندیم مانڈوی والا کے خیال میں پاکستانی فلمی صنعت میں عیدالاضحٰی کو عموماً بڑی فلموں کے لیے زیادہ موزوں سمجھا جاتا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ موسم اور تعطیلات ہیں۔

’ماضی میں عیدالفطر اکثر گرمیوں کے موسم میں آتی تھی، جب سکولوں کی چھٹیاں ہوتی تھیں اور سینما گھروں میں رش زیادہ ہوتا تھا۔ اس کے برعکس اب عیدالفطر اکثر موسمِ بہار یا موسمِ سرما کے قریب آ جاتی ہے جبکہ عیدالاضحٰی زیادہ تر گرمیوں کے دوران آتی ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گرمیوں میں سکولوں کی طویل تعطیلات اور تفریح کے محدود مواقع کی وجہ سے سینما گھروں کا کاروبار بڑھ جاتا ہے، جس کا فائدہ فلموں کو بھی ہوتا ہے۔

پاکستانی سینما کو کس قسم کی فلموں کی ضرورت ہے؟

پاکستانی اور انٹرنیشنل فلموں پر گہری نظر رکھنے والے کامران جاوید کے مطابق پاکستانی سینما کی بحالی کے لیے صرف بڑی عیدوں پر فلمیں ریلیز کرنا کافی نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سینما گھروں کو زندہ رکھنے کے لیے سال بھر مختلف موضوعات اور بجٹ کی فلموں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ آڈینس کو باقاعدگی سے نئی فلمیں دیکھنے کو ملیں۔

ایک مثال دیتے ہوئے فلمی حلقوں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی فلمیں، حتیٰ کہ جاپانی اینی میشن فلمیں بھی پاکستان میں اچھی آڈینس حاصل کر لیتی ہیں، کیونکہ وہ فل انٹرٹینمنٹ ویلیو دیتی ہیں۔

ان کے مطابق اگر پاکستانی فلمیں بھی مضبوط کہانی، بہتر پروڈکشن اور واضح مارکیٹنگ کے ساتھ پیش کی جائیں تو آڈینس ضرور سینما گھروں کا رخ کرے گی۔

دہلی گیٹ

،تصویر کا ذریعہSkyfall Films

کیا عیدالفطر فلمی صنعت کے لیے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو سکتی ہے؟

اس سوال کا جواب شاید آنے والے چند ہفتوں میں باکس آفس کے اعداد و شمار دے دیں گے۔

تاہم ایک بات واضح ہے کہ اگر یہ فلمیں آڈینس کو سینما گھروں تک لانے میں کامیاب ہو گئیں تو یہ نہ صرف ان فلموں بلکہ پوری پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے ایک مثبت اشارہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ندیم چیمہ کے مطابق پاکستانی سینیما کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے چند بنیادی اقدامات ضروری ہیں۔

’سب سے پہلے مقامی فلم سازوں کو مالی اور تکنیکی سہولتیں دی جائیں تاکہ وہ بہتر معیار کی فلمیں بنا سکیں۔ دوسرا، زیادہ سینما ہالز بنائے جائیں تاکہ فلموں کو مناسب نمائش مل سکے۔ تیسرا، نوجوان فلم میکرز کو ٹریننگ اور پلیٹ فارم فراہم کیا جائے تاکہ نئے آئیڈیاز سامنے آئیں۔‘

آخر میں ان کا کہنا تھا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مقامی فلموں کو ترجیح دی جائے اور انہیں مناسب سکرین ٹائم دیا جائے۔ جب اچھی کہانیاں، جدید پروڈکشن اور مضبوط ڈسٹری بیوشن ایک ساتھ آئیں گے تو پاکستانی سینما خود بخود مضبوط ہونا شروع ہو جائے گا۔

SOURCE : BBC