Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں بلن شاہ کی حلف برداری: مقبول ریپر سے نیپال کی وزارتِ اعظمی...

بلن شاہ کی حلف برداری: مقبول ریپر سے نیپال کی وزارتِ اعظمی تک کا سفر

9
0

SOURCE :- BBC NEWS

بلن شاہ

،تصویر کا ذریعہ@ShahBalen

11 ستمبر 2025

اپ ڈیٹ کی گئی 8 گھنٹے قبل

مطالعے کا وقت: 7 منٹ

بالندر شاہ جب چند برس قبل نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے میئر بنے تو یہ سب کے لیے حیران کُن تھا اور ایک گلوکار سے سیاستدان بننے والے بلیندر المعروف بلن شاہ نے اب ملک کے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

انھیں یہ منصب گزشتہ سال نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں کے بعد ہونے والے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد ملا ہے۔

35 سالہ بالندر کا عروج نیپالی سیاست میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کا تبدیلی کا وعدہ ایسے ووٹرز کے دل کی آواز ثابت ہوا جو بدعنوانی، اقربا پروری اور اشرافیہ کی حکمرانی سے ناراض تھے۔

جمعہ کو عہدہ سنبھالنے سے پہلے بلن شاہ نے نیپال کے مستقبل کے بارے میں ایک امیدافزا گانا بھی جاری کیا۔ ’غیرمنقسم نیپال، اس بار تاریخ بن رہی ہے‘ نامی اس گانے کو ریلیز کے چند گھنٹوں میں 20 لاکھ سے زیادہ ویوز مل گئے۔

یہ گانا ان کی انڈرگراؤنڈ ریپ سین کی جڑوں کی یاد دلاتا ہے، جہاں انہوں نے موسیقی کے ذریعے نیپال میں بدعنوانی اور دیگر سماجی مسائل کو بے نقاب کیا۔

صرف تین سال دارالحکومت کٹھمنڈو کے میئر رہنے کے بعد، شاہ نے راشتریہ سوتانترا پارٹی (آر ایس پی) کے ساتھ وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر اتحاد کیا اور اس ماہ کے عام انتخابات میں فیصلہ کن فتح حاصل کی۔

ان کے حامی انہیں تبدیلی کی علامت اور نیپال کے پرانے سیاستدانوں کی ناکامیوں سے علیحدہ سمجھتے ہیں لیکن کچھ لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا چار سالہ آر ایس پی اپنے جرات مندانہ وعدے پورے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

بلن شاہ کون ہیں؟

نیپال

،تصویر کا ذریعہSocial Media

بلن شاہ سنہ 1990 میں کھٹمنڈو میں پیدا ہوئے اور وہ اپنے والدین کی آخری اولاد ہیں۔ بلن کے والد رام نارائن شاہ حکیم ہیں اور ان کی والدہ کا نام دھرو دیوی شاہ ہے جو خاتونِ خانہ ہیں۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بلن خود بھی شادی شدہ ہیں اور اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ رہتے ہیں۔

بلن شاہ نے وائٹ ہاؤس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (کھٹمنڈو) سے سول انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور پھر انڈین ریاست کرناٹک کے وسوسورایا نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے سٹرکچرل انجینیئرنگ میں ماسٹرز کیا۔

تاہم وہ ایک سٹرکچرل انجینیئر سے زیادہ ایک ریپر، اداکار، میوزک پروڈیوسر، نغمہ نگار اور شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

2013 میں، انہوں نے نیپال میں ایک مقبول ریپ مقابلہ جیت کر شہرت حاصل کی۔ شاہ نےاپنے کریئر میں کئی مقبول گانے گائے جن میں ملک میں بدعنوانی اور سماجی عدم مساوات پر تنقید کی گئی۔ اپنی میوزک ویڈیوز میں وہ اپنے مخصوص سیاہ چشمے، سیاہ کوٹ اور پتلون کے ساتھ ایک منفرد شخصیت دکھائی دیتے رہے۔

ان کے سب سے معروف ہٹس میں سے ایک، بلیدان، نے یوٹیوب پر ایک کروڑ 40 لاکھ ویوز حاصل کیے ہیں۔

اس گانے کے عنوان کا مطلب قربانی ہے، اور اس کے بول کچھ یوں ہیں: ’جب ہم اپنی شناخت بیرون ملک بیچتے ہیں تو سرکاری ملازمین کو 30 ہزار تنخواہ ملتی ہے اور ان کے پاس 30 مختلف جگہوں پر جائیدادیں ہیں۔ سات سمندر دور کام کرنے والے لوگوں کا قرض کون ادا کرے گا؟‘

بلن کالج میں دوران تعلیم بھی طلبہ سیاست میں سرگرم رہے لیکن انھوں نے انتخابی سیاست کا آغاز 2022 میں نیپال کے بلدیاتی انتخابات سے کیا تھا۔

2022 میں، اس سیاسی نووارد نے کٹھمنڈو کے میئر کے انتخاب میں آزاد امیدوار کے طور پر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی، اور ان جماعتوں پر غالب آ گئے جو دہائیوں سے برسرِاقتدار رہی تھیں۔

میئر کے طور پر ان کا دور شہر کی صفائی، مقامی ورثے کو محفوظ رکھنے، اور بدعنوانی کے خلاف کریک ڈاؤن کی کوششوں سے خاص طور پر نمایاں رہا۔

انھوں نے غیر قانونی عمارتوں کو بلڈوز کرنے کی متنازعہ مہم بھی شروع کی جس سے ٹریفک کے لیے آسانی تو ہوئی لیکن اس پر انھیں چھابڑیاں لگانے والے غریب دکاندار اور کچی بستیوں میں رہنے والے رہائشیوں کی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

بلن کا سفرِ اقتدار

بلن شاہ کا پیغام گزشتہ برس ستمبر کے اس احتجاج کے دوران ملک کے نوجوانوں میں گونجتا رہا، جن میں 77 افراد ہلاک ہوئے اور جن میں سے کئی پولیس کے ہاتھوں مارے گئے مظاہرین تھے۔ یہ بے چینی سوشل میڈیا پر پابندی کی وجہ سے شروع ہوئی لیکن اس میں تیزی بدعنوانی، بے روزگاری اور معاشی جمود کے خلاف غصے کی وجہ سے پیدا ہوئی۔

مظاہرین نے ان کے گانے ’نیپال ہاسیکو‘ کو، جس کا مطلب ’مسکراتا ہوا نیپال‘ ہے، اپنے ترانے کے طور پر اپنایا۔

’میں نیپال کو مسکراتے دیکھنا چاہتا ہوں، میں نیپالیوں کے دل ناچتے دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں نیپال کو مسکراتے دیکھنا چاہتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ نیپالی خوش رہیں‘۔ یہ بول ہفتوں تک ملک کی سڑکوں اور گھروں میں چھائے رہے۔

بلن شاہ نے اس سال نیپال کی وزارتِ عظمیٰ کے لیے اپنی مہم میں اپنا غیر روایتی انداز شامل کیا اور میڈیا انٹرویوز سے گریز کیا۔

ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی نے انہیں اپنے اعمال کی عوامی جانچ پڑتال سے بچنے کا موقع دیا۔

شاہ نے اپنی مہم میں ووٹرز سے سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے بات کرنے کا انتخاب کیا، جن میں انہوں نے وسیع پیمانے پر بدعنوانی کے خلاف ایجنڈا، عدلیہ میں اصلاحات، اور 12 لاکھ نئی ملازمتیں دینے کا وعدہ کیا۔

یہ داؤ کامیاب رہا اور آر ایس پی نے پانچ مارچ کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور ملک کے سیاسی طاقت کے موجودہ ڈھانچے کو توڑ دیا۔ شاہ نے اس الیکشن میں سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی کو اس حلقے سے شکست دی جو طویل عرصے سے ان کا مضبوط گڑھ رہا تھا۔

نیپال میں پرتشدد احتجاج کے بعد وزیر اعظم مستعفی ہو گئے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تنازعات اور مشکلات

تاہم، بالندر شاہ کے لیے یہ مکمل طور پر’کلین شیٹ‘ نہیں ہے۔

میئر کے طور پر انھیں حقوقِ انسانی کی تنظیموں کی جانب سے پولیس کو چھابڑی لگانے والوں کے خلاف سختی سے استعمال کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا، کیونکہ وہ دارالحکومت میں سڑکیں صاف رکھنے اور غیر لائسنس یافتہ کاروباروں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے کام کر رہے تھے۔ شاہ کی مہم نے بی بی سی کی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

ہیومن رائٹس واچ ان گروپوں میں سے ایک ہے جنھوں نے یہ خدشات اٹھائے اور بی بی سی کو بتایا کہ یہ وہ رویہ ہے جو وہ اکثر نئے رہنماؤں میں دیکھتے ہیں جو جلد نتائج دکھانا چاہتے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کی ڈپٹی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ بطور وزیراعظم زیادہ قواعد پر مبنی نظام پر توجہ دی جائے گی۔‘

شاہ سوشل میڈیا پر بھی متنازع رہے ہیں۔ گزشتہ نومبر میں، انہوں نے فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ میں غیرمہذب زبان استعمال کی جس میں امریکہ، انڈیا، چین اور کئی نیپالی سیاسی جماعتوں کا نام لیا گیا، جن میں آر ایس پی بھی شامل ہے، جس میں وہ بالآخر جنوری میں خود شامل ہوئے۔

ان تنازعات سے آگے اب بلن شاہ اور ان کی پارٹی کے رہنماؤں کو تبدیلی کے خواہشمند ووٹرز کی بڑی توقعات اور کئی چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا۔

ان میں مشرق وسطیٰ کی جنگ شامل ہے، جہاں لاکھوں نیپالی روزگار کی تلاش میں مقیم ہیں۔ اس کے علاوہ بےروزگاری، نیپال کی سست رو معیشت اور آر ایس پی کی حکومت چلانے کے معاملے میں تجربے کی کمی ان کے لیے چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔

ادھر یہ عوامی دباؤ بھی ہے کہ گزشتہ حکومت کے خاتمے کی وجہ بننے والی 2025 کی بغاوت کی تحقیقات کے نتائج جاری کیے جائیں۔ نیپال کی عبوری انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ نتائج کا خلاصہ عوام کے لیے جاری کرے گی لیکن کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کا فیصلہ نئی منتخب حکومت پر ہو گا۔

SOURCE : BBC