Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ایف 16 طیارے، فلیمنگو میزائل اور ایس یو 57 لڑاکا جہاز: روس...

ایف 16 طیارے، فلیمنگو میزائل اور ایس یو 57 لڑاکا جہاز: روس اور یوکرین کے زیرِ استعمال وہ ہتھیار جو جنگ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں

9
0

SOURCE :- BBC NEWS

یوکرین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

رواں مہینے کی 24 تاریخ کو روس کے یوکرین پر حملے کو چار سال مکمل ہو جائیں گے۔ چار سال سے یہ جنگ بغیر کسی وقفے کے جاری ہے اور اس کے ختم ہونے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔

امریکہ کی ثالثی میں روس یوکرین مذاکرات ابوظہبی میں ہو رہے ہیں۔ جمعرات کے روز ان مذاکرات کا ایک اور دور بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گیا۔

جب سفارت کاری سے نتائج نہیں مل رہے تو کیا دونوں ممالک کے پاس ایسے جدید ہتھیار موجود ہیں جو ممکنہ طور پر جنگ کا پلڑا کسی ایک جانب جھکا سکیں؟

نئے میزائل: فلیمنگو بمقابلہ اوریشنک

اے ٹی اے سی ایم ایس میزائل کو ہدف کی طرف بھیجا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

روس اور یوکرین کی فوجیں کروز اور بیلسٹک میزائل استعمال کرتی ہیں، ان میں سے کچھ نئے ہیں اور ان کا استعمال تجرباتی بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔

بیلسٹک میزائلز کا نشانہ درست ہوتا ہے لیکن وہ راڈار کی نظر میں آ جاتے ہیں، جبکہ کروز میزائل زمین کے قریب رہتے ہوئے کم بلندی پر پرواز کرتے ہیں اور ان کا پتا لگانا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

یوکرین کا زیادہ انحصار ان میزائلوں پر ہے جو مغربی اتحادی اسے فراہم کرتے ہیں۔ اس نے امریکی ساختہ اے ٹی اے سی ایم ایس (آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹمز) میزائلوں کے ساتھ ساتھ برطانیہ اور فرانس کے مشترکہ طور پر تیار کردہ سٹارم شیڈو/سکیلپ میزائل روسی علاقوں پر داغے ہیں۔

انفوگرافک میں آرٹلری اور میزائل کی پہنچ کا موازنہ کیا گیا ہے

لیکن یوکرین اپنی مقامی اسلحہ سازی کی صنعت کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے۔

بی بی سی کے دفاعی نامہ نگار جوناتھن بیل کہتے ہیں کسی ملک کی حدود میں اندر تک جا کر حملہ کرنا جنگ کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے اور اس مقصد کے لیے یوکرین زیادہ تر طویل فاصلے تک پہنچنے والے ڈرون استعال کرتا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق یوکرین اب تک روس کے مقابلے پر پسپا ہو رہا ہے، ایک ایسے محاذ پر جس کی طوالت ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ تو یوکرین اب روس کی جنگی معیشت کو ہدف بنانے کی رفتار بڑھا رہا ہے تاکہ روس کی پیش قدمی کو سست کر سکے۔

دو افراد نیا فلیمنگو میزائل تیار کر رہے ہیں جو یوکرین کا طویل فاصلے تک مار کرنے والا کروز میزائل ہے اور روس کے اندر طویل فاصلے تک حملوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہMoose Campbell/BBC

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یوکرین میں مقامی طور پر تیار کردہ اسلحہ کی پیداوار میں فلیمنگو کروز میزائل کو بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ یہ میزائل یوکرینی دفاعی کمپنی فائر پوائنٹ نے بنایا ہے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق یہ دور تک مار کرنے والا ایک ایسا ہتھیار ہے، جسے مغربی ملک یوکرین کو فراہم کرنے میں ہچکچاتے رہے ہیں۔

یہ میزائل تین ہزار کلومیٹر دور تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ 900 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتا ہے اور ایک ہزار 150 کلو گرام وزنی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یعنی یہ روس کے ان سٹریٹیجک اہداف کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے جو ڈرونز یا نیپچون میزائل جیسے کم فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی پہنچ سے باہر ہیں۔

اس کی پہنچ امریکی ساختہ ٹوماہاک میزائل کے برابر ہے۔ یہ وہ جدید اور مہنگا ہتھیار ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو دینے سے انکار کر دیا تھا۔

چونکہ یہ میزائل یوکرین خود تیار کرتا ہے اس لیے وہ فلیمنگو کو کسی بھی ہدف پر داغ سکتا ہے۔ مغربی اتحادی روس کی جارح افواج سے لڑنے کے لیے یوکرین کی مدد تو کر رہے ہیں لیکن ساتھ ہی کچھ پابندیاں بھی لگا رکھی ہیں۔ تاہم فلیمنگو میزائل کے استعمال میں یوکرین کسی بھی قسم کی پابندی سے آزاد ہے۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے فلیمنگو کو اپنے ملک کے سب سے کامیاب میزائلوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ اگرچہ جنگ میں اس کے استعمال کی کم ہی تفصیلات عوام کے سامنے لائی گئی ہیں۔

یہ تصویر روس کے اوریشنِک میزائل نظام کے طریقہ کار کو دکھا رہی ہے۔

اسی دوران روس نے پانچ ہزار 500 کلومیٹر دور تک مار کرنے والا نیا میزائل ’اوریشنک‘ تیار کیا ہے۔

اپنی رفتار کی وجہ سے یہ دیگر بیلسٹک میزائلوں سے الگ ہے۔ سنہ 2024 میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ یہ میزائل ایک سیکنڈ میں ڈھائی سے تین کلو میٹر تک سفر کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے یوکرین کے لیے اوریشنک کو روکنا بہت زیادہ مشکل ہو گا۔

جنگ کے دوران روس اب تک دو بار یہ میزائل استعمال کر چکا ہے۔ پہلی بار نومبر 2024 میں وسطی شہر دنیپرو میں یہ میزائل استعمال کیا گیا اور دوسری بار جنوری 2026 میں مغربی شہر لویو میں۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اوریشنک کا وار ہیڈ جب ہدف کو نشانہ بنانے کے قریب ہوتا ہے تو کئی حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ہر حصہ الگ الگ ہدف کی طرف جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں چند لمحوں کے وقفوں سے مسلسل دھماکے سنائی دیتے ہیں۔

جنگی طیارے: ایف 16 بمقابلہ سخوئی

اندازوں کے مطابق بیلجیئم، ڈنمارک، نیدرلینڈز اور ناروے سمیت دیگر نیٹو ممالک نے جن 90 ایف 16 طیاروں کا وعدہ کیا تھا، ان میں سے آدھے یوکرین کو مل چکے ہیں۔

سمجھا جاتا ہے کہ یہ طیارے ہمہ جہت ہیں، ان کی دیکھ بھال آسان ہے اور وہ امریکہ اور نیٹو کے معیار سے بنائے گئے تقریباً ہر قسم کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایف 16 کو سنہ 1978 میں امریکی فضائیہ میں شامل کیا گیا تھا۔ بہت سی مغربی فوجیں اب مرحلہ وار ان پرانے لڑاکا طیاروں کو ریٹائر کر رہی ہیں۔ ان کی جگہ امریکی ساختہ ایف 35 طیارے لے رے ہیں، جو سنہ 2015 میں متعارف کرائے گئے تھے۔

اس کے باوجود ایف 16 یوکرین جیسے ملک کی چھوٹی فضائیہ کے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔ کیوں کہ یوکرین کی فضائیہ اب تک مگ 29 طیاروں کو اپنے بنیادی جنگی طیاروں میں سے ایک کے طور پر استعمال کر رہی تھی۔ یہ سوویت لڑاکا طیارے سنہ 1970 کی دہائی کے ہیں۔

ایف 16 کے بارے میں انفوگرافک

جب ایف 16 متعارف کروائے گئے تو ایک یوکرینی پائلٹ نے قومی ٹیلی وژن پر اس کی یوں تعرف کی: ’جس طرح کے جہاز ہم ابھی تک اڑا رہے تھے، ان کے مقابلے پر ایف 16 ایسے ہیں جیسے سمارٹ فون کے سامنے بٹن والے پرانے فون۔‘

ایف 16 بنیادی طور پر فضائی دفاع کو مضبوط بنانے اور زمینی اہداف پر درست نشانے لگانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

یوکرینی پائلٹ گواہی دیتے ہیں کہ ایف 16 کا استعمال بہت کامیاب رہا ہے۔ یوکرینی فضائیہ نے ایک مثال یہ دی کہ دسمبر 2024 کی ایک جنگی لڑائی میں یوکرینی پائلٹ نے چھ روسی کروز میزائل مار گرائے۔

آج بھی یوکرین میں فضا کے دفاعی مشنز کا کلیدی کردار ایف 16 کے ہی پاس ہے۔

روسی مگ 29 لڑاکا طیارے سات مئی 2022 کو ماسکو میں وِکٹری ڈے پریڈ کی مرکزی ریہرسل کے دوران ریڈ سکوائر کے اوپر پرواز کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جدید روسی فضائیہ کی اصل طاقت سخوئی طیارے ہیں۔ ان میں ایس یو 30، ایس یو 34 اور 35 شامل ہیں۔ اور تو اور پانچویں نسل کا سخوئی ایس یو 57 لڑاکا طیارہ بھی۔ تاہم بی بی سی نیوز رشین کے مطابق ابھی اس کی پیداوار بڑے پیمانے پر نہیں کی جا رہی۔

روسی سخوئی طیاروں میں جدید ریڈار ہیں اور فضا سے فضا میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی۔ مثال کے طور پر آر 37 کی دعویٰ کردہ پہنچ 200 کلومیٹر سے زیادہ ہے، یہ بھاری میزائل اور بم لے کر جا سکتا ہے اور مگ 39 اور ایف 16 کے مقابلے میں خاصے زیادہ فاصلے تک پرواز کر سکتا ہے۔

ورلڈ ڈائریکٹری آف ماڈرن ملٹری ایئرکرافٹ کے مطابق طاقت کے اعتبار سے امریکہ کے بعد روسی فضائیہ دنیا میں دوسرے نمبر ہے اور لڑاکا طیاروں کی مجموعی تعداد کے حساب سے روس کو یوکرین پر بہت زیادہ برتری حاصل ہے۔

روسی طیارے یوکرین کی حدود میں دور تک اگر جائیں بھی تو بہت ہی کم جاتے ہیں، اس خوف سے کہ مغرب کے فراہم کردہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے نظام، جیسے کہ پیٹریاٹ، انھیں مار گرائیں گے۔

بی بی سی نیوز کے ایلیا ابیشیف کے مطابق موجودہ تنازع میں کلاسیکی فضائی لڑائیاں کم ہی ہوتی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ عام طور پر دونوں فریق ایک دوسرے کی فضائی حدود میں داخل ہوئے بغیر لڑاکا طیاروں کے ذریعے میزائلوں سے زمینی اہداف پر حملے کرتے ہیں یا دور سے بم برساتے ہیں۔

اور ڈرونز؟

نگرانی کرنی ہو، اہداف کو نشانہ بنانا ہو، میزائل داغنے ہوں یا ہدف تک پہنچ کر پھٹ جانا ہو؛ ایسے کاموں کے لیے جنگ کے دوران ڈرونز کا استعمال بھی وسیع پیمانے پر کیا گیا۔

بی بی سی کے دفاعی نامہ نگار کے مطابق یوکرین اب روبوٹس اور ڈرونز جیسے نظام تیار کرنے میں دنیا کے اکثر ممالک سے آگے ہے۔ بلومبرگ نے نومبر 2025 میں رپورٹ کیا کہ یوکرین ایک سال میں تقریباً 40 لاکھ ڈرونز بناتا ہے۔

گذشتہ سال کا ’آپریشن سپائیڈر ویب‘ یوکرین کی کامیاب ڈرون حکمت عملی کا ثبوت تھا۔ اس آپریشن میں 110 یوکرینی ڈرون روس سمگل کیے گئے اور 40 سے زیادہ بمبار طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔

یوکرین کا ڈرون آپریٹر ایف پی وی ڈرون اڑا رہا ہے

یوکرین محاذ جنگ پر لڑاکا ڈرونز اور سمندر میں بحری ڈرونز بھی استعمال کرتا ہے، جنھوں نے متعدد روسی جنگی جہازوں کو ڈبونے میں مدد کی ہے۔

ایف پی ون اور ٹو جیسے یوکرینی ساختہ ڈرونز سستے بھی ہیں اور بہت جلد تیار کیے جا سکتے ہیں۔ ایف پی ون تو روس کے اندر ماسکو تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جنگ کے آغاز پر یوکرین نے ترکی کے فراہم کردہ بیرکتار ٹی بی 2 ڈرونز، امریکہ کے فراہم کردہ سوئچ بلیڈ کامیکازی ڈرونز (ایسے ڈرونز جو ہدف سے ٹکرا کر پھٹ جائیں) اور نگرانی کے لیے عام طور پر دستیاب ڈرونز، جیسے کہ چینی ساختہ ڈی جے آئی میوک تھری استعمال کیے۔

بی بی سی نیوز روس کی رپورٹ کے مطابق کریملن پیداوار بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ہر سال دسیوں ہزاروں سستے حملہ آور ڈرونز تیار کر سکے۔

روسی نیوز ایجنسی تاس کے مطابق روس نے نومبر میں روبوٹ نظام چلانے والی فورس بنانے کا اعلان کیا جو اس کے ڈرون پروگرام کو سنبھالے گی۔

بی بی سی روس کے نمائندے کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے ڈرون کی تیاری اب روس کی دفاعی حکمت عملی میں ترجیح بن چکی ہے۔

یوکرین کے شہر خارکیف میں 25 جنوری 2025 کو ایک روسی مولنیا طرز کے ڈرون حملے کے بعد پولیس جائے وقوعہ پر موجود ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

روسی میڈیا کی سنہ 2025 کی رپورٹس میں ذکر تھا کہ آرٹیمس 10، ٹووک، سیریئس اور دیگر کئی ناموں والے ڈرونز بنائے جا رہے ہیں۔ کہا گیا تھا کہ یہ ڈرون جدید ترین ہیں اور بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے تیار بھی۔

تاہم ایسی کوئی رپورٹ نہیں آئی کہ انھیں جنگ کے دوران استعمال کیا گیا ہو۔ بی بی سی نیوز رشین کے مطابق زیادہ امکان یہی ہے کہ روسی فوج کے پاس نئی اقسام کے ان ڈرونز کی تعداد زیادہ نہ ہو۔

سنہ 2025 کے دوران روس نے پہلے سے موجود ڈرونز کو جدید بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ جیسے کہ ٹیکٹیکل مولنیا ٹو جو کامیکازی ڈرون کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

اس سے پہلے روس نے ایران سے شاہد ڈرون درآمد کیے تھے لیکن اب وہ انھی ڈرونز کی روسی ساخت استعمال کرتا ہے جس کا نام گیران ٹو ہے۔ شاہد کی طرح یہ بھی پروں والے ڈرون ہیں جو اکثر کامیکازی حملوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

گیران ڈرونز عام طور پر یوکرین کے شہروں، ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس اور شہری و فوجی انفراسٹرکچر پر طویل فاصلوں کے حملوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

روس اب بھی اس قسم کے تین ہزار ڈرونز ہر ماہ تیار کر رہا ہے۔ واشنگٹن میں موجود انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی کے تجزیے کے مطابق سنہ 2025 کی گرمیوں اور خزاں کے دوران روس نے ہر روز شاہد کی طرز کے 175 ڈرونز اہداف کی طرف بھیجے۔

فوجی لباس پہنے پولیس افسر ایک ڈرون کے ملبے کا معائنہ کر رہا ہے جس کے بارے میں خیال ہے روسی شاہد طرز کے ڈرون کا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

ڈرونز کا آپریٹر سے رابطہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو دونوں فریقوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ کچھ ڈرونز راستہ تلاش کرنے کے لیے سیٹلائٹ لنکس پر انحصار کرتے ہیں۔

ایلون مسک نے حال ہی میں کوششیں کی ہیں کہ ڈرون حملوں کے لیے روس ان کے سٹار لنک سیٹلائٹ استعمال نہ کر سکے۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ ایلون مسک کے اس قدم سے ‘حقیقی نتائج’ حاصل ہوئے۔

بی بی سی روس کے ایلیا ابیشیف کے مطابق روس کا اپنا سیٹلائٹ نظام گیزپروم سپس سسٹمز اسٹار لنک کے مقابلے میں بہت محدود ہے۔ یعنی جنگی حالات میں اس کی دستیابی ہمیشہ یقینی نہیں ہوتی۔

ایلیا ابیشیف مزید بتاتے ہیں کہ دیگر متبادل، جیسے کہ فائبر آپٹک کیبلز سے منسلک ڈرونز یا ریڈیو ٹرانسمیشن استعمال کرنے والے ڈرونز کم فاصلے تک کام کرتے ہیں اور اتنے موثر، قابل اعتماد یا سستے نہیں ہوتے۔

مستقبل میں اور کون سے جدید ہتھیار فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں؟

یوکرین اور روس کے درمیان ٹیکنالوجی کی جنگ میں مصنوعی ذہانت ایک نیاز محاذ بن چکی ہے۔ بی بی نیوز یوکرین سے اولے چیرنش کے مطابق مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والے نئے ہتھیار میدان جنگ کی صورتحال بدل سکتے ہیں۔

یوکرین کے وزیر دفاع میخائلو فیودوروف کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی پر کام پہلے ہی جاری ہے لیکن ابھی تک ایسا کوئی تیار شدہ ہتھیار دستیاب نہیں جو موثر طریقے سے مصنوعی ذہانت استعمال کرتا ہو۔

ہمارے نمائندے کے مطابق اگر یہ کوششیں کامیاب ہو گئیں تو چھوٹے ڈرونز کی کارکردگی بھی خاصی بڑھ جائے گی۔

بی بی سی روس کے مطابق کریملن بھی ایسے ڈرون تیار کر رہا ہے جو مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہوئے ہدف کو خود کار طریقے سے نشانہ بنا سکیں۔

ڈومینک اوکیفی کی اضافی رپورٹنگ

SOURCE : BBC