Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ایران اور اسرائیل کی تکرار، روسی قرارداد اور پاکستان کی حمایت: اقوام...

ایران اور اسرائیل کی تکرار، روسی قرارداد اور پاکستان کی حمایت: اقوام متحدہ سلامتی کونسل اجلاس میں کیا ہوا؟

11
0

SOURCE :- BBC NEWS

اسرائیل، ایران، سلامتی کونسل

،تصویر کا ذریعہUN

57 منٹ قبل

مطالعے کا وقت: 7 منٹ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جہاں مشرق وسطیٰ میں ’تمام فوجی کارروائیاں روکنے‘ سے متعلق روسی قرارداد منظور نہ کی تو وہیں ایک ایسی قرارداد منظور کی گئی ہے جس میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔ پاکستان نے دونوں ہی قراردادوں کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔

بدھ کے اجلاس کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اِن قراردادوں کے مسودے پیش کرنے پر بحرین اور روس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اسلام آباد اس تنازع کے فوری حل کا مطالبہ کرتا ہے۔

اس اجلاس کے دوران ماسکو کے نمائندے نے خلیجی ممالک کی قرارداد پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’تعصب پر مبنی اور جانبدار ہے جسے سیاق و سباق کے بغیر پڑھنے سے یوں لگے گا جیسے تہران نے خطے بھر میں اہداف پر بلاجواز حملہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔‘

اجلاس میں دو الگ قراردادیں کیوں پیش ہوئیں؟

خلیجی ممالک کے مسودے میں ایران کے پڑوسیوں پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور اس قرارداد کو منظور کیا گیا ہے۔ 135 ملکوں نے اس مسودے کی حمایت کی تھی جو کہ تاریخی اعتبار سے کسی قرارداد کے لیے کوسپانسرز کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

مسودہ پیش کرتے ہوئے بحرین نے کہا تھا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی امن و توانائی کے استحکام میں خلیج کا کردار کتنا اہم ہے اور یہ کہ یہ محض کوئی علاقائی معاملہ نہیں ہے۔

اس موقع پر امریکہ کا کہنا تھا کہ ایران کی اشتعال انگیزی اور پڑوسیوں کو یرغمال بنانے کی حکمت عملی الٹی پڑ چکی ہے۔

تاہم روس اور چین نے اس قرارداد کے حق یا مخالفت میں ووٹ دینے سے اجتناب کیا کیونکہ ان کے بقول اس سے تنازع کی بنیادی وجوہات کی عکاسی نہیں ہوتی اور اسے متوازن انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔

اس قرارداد میں ایران پر اسرائیلی و امریکی حملوں بمباری کا حوالہ نہیں۔ خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی ان کارروائیوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

ادھر روس نے خلیجی قرارداد پر یہ شکوک و شبہات ظاہر کیے کہ ان کی سرزمین ایران پر بمباری کے لیے استعمال نہیں ہو رہی۔

بحرین نے روس کے اس دعوے پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک کو کبھی بھی کہیں حملے کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔

دریں اثنا ماسکو کی قرارداد میں تمام فریقین سے لڑائی روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا مگر یہ اتنے ووٹ حاصل نہیں کر سکا کہ یہ منظور ہو سکے۔ روسی قرارداد کے حق میں روس کے علاوہ پاکستان، چین اور صومالیہ نے ووٹ دیے تھے جبکہ امریکہ نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ برطانیہ، فرانس، بحرین، کولمبیا، کانگو، ڈنمارک، یونان سمیت دیگر نے قرارداد کے حق یا مخالفت میں ووٹ دینے سے اجتناب کیا۔

سلامتی کونسل

،تصویر کا ذریعہReuters

ایران کے موقف پر اسرائیل کا سخت جواب

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اجلاس کے دوران ایران نے دعویٰ کیا کہ خلیجی ممالک کے مسودے کی حمایت کرنے والے ملکوں نے دراصل اقوام متحدہ کے چارٹر کی بجائے اپنے سیاسی ایجنڈے کو ترجیح دی ہے جو کہ کونسل کے ریکارڈ پر ایک ’دھبہ‘ ہے۔

اجلاس کے دوران تہران نے روسی موقف کی تائید کی۔ ایرانی نمائندے امیرسعید ایروانی نے اسرائیل اور امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ حملہ آوروں کو متاثرہ فریق ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’یاد رکھیں آج ایران ہے، کل کوئی اور خودمختار ملک ہو سکتا ہے۔‘

انھوں نے اسرائیل اور امریکہ پر جنگی جرائم کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اس کی ذمہ داری خود ٹرمپ اور نیتن یاہو تسلیم کر چکے ہیں جبکہ ایران پر حملوں کے دوران ’1300 سے زیادہ شہری افراد ہلاک ہوئے ہیں۔‘

تہران کے نمائندے نے کہا کہ آج اس قرارداد کی منظوری ’کونسل کی ساکھ کے لیے ایک سنگین دھچکا اور اس کے ریکارڈ پر ایک مستقل دھبہ ہے۔‘

اس دوران اسرائیلی نمائندے نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ’کونسل کا پیغام واضح ہے کہ شہریوں کو نشانہ بنانا غلط ہے، شہروں کو نشانہ بنانا غلط ہے۔ ایران کو یہ کارروائیاں روکنی ہوں گی۔‘

انھوں نے ایرانی نمائندے ایروانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں سچ بولنا ضروری ہوتا ہے۔ ’ایران نے سفارت کاری کو ایک پردے کے طور پر استعمال تاکہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو مضبوط کرتا رہے۔‘

اسرائیلی نمائندے کا کہنا تھا کہ اس مشترکہ کارروائی سے قبل ایران بیلسٹک میزائل تیار کر رہا تھا جو مشرق وسطیٰ اور یورپ تک پہنچ سکتے ہیں۔ ’انھوں نے مذاکرات کے دوران تسلیم کیا کہ وہ 11 ایٹمی بم تیار کر سکتے ہیں، کوئی بھی سویلین ایٹمی پروگرام یورینیئم کی 60 فیصد افزودگی کا تقاضہ نہیں کرتا۔ پُرامن ایٹمی پروگرام میں پہاڑوں کی گہرائی میں تنصیبات نہیں بنائی جاتیں۔‘

انھوں نے ایرانی نمائندے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ہم سب سے جھوٹ بول رہے ہیں۔ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہم احمق نہیں۔‘

’آپ کے میزائلوں نے اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنایا۔۔۔ خلیجی ملکوں میں شہریوں، ایئرپورٹس اور ہوٹلوں کو نشانہ بنایا۔‘

انھوں نے کہا ایرانی نمائندے نے سکیورٹی کونسل کو 15 خط لکھے ہیں جن میں ’ہمیں دہشتگرد بھی کہا گیا ہے۔ مسٹر ایروانی، ایسے الزامات لگانے سے پہلے آپ آئینہ دیکھیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ایرانی نمائندے کو ’اب صرف ایرانی عوام کے نام معافی کا خط لکھنا چاہیے اور پھر سیاسی پناہ کی درخواست کرنی چاہیے۔‘

پاکستان، عاصم افتخار

،تصویر کا ذریعہX/@PakistanUN_NY

پاکستان نے دونوں قراردادوں کی حمایت کیوں کی؟

بحرین کی جانب سے قرارداد پیش کیے جانے کے بعد اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ ’اس لڑائی سے ہر کوئی متاثر ہو رہا ہے اور اس کی شروعات ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’موجودہ حالات میں ہمارے سامنے پیش کی گئی دو قراردادوں کے مسودے تھے۔ میں بحرین اور روس کے نمائندوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ پاکستان دونوں کی حمایت کرتا ہے۔‘

ان کے بقول پہلی قرارداد کی حمایت کا مقصد بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن سے یکجہتی ظاہر کرنا تھا جہاں ’بلاجواز حملے ہوئے۔‘

عاصم افتخار نے خلیجی ممالک پر حملوں روکنے اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے مطالبے کیے۔

اسی دوران پاکستان نے روسی قرارداد کے مسودے کی حمایت کا بھی اظہار کیا۔ عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ فریقین سے فوجی کارروائیاں روکنے، تناؤ میں کمی اور مذاکرات کا مطالبہ کرنے والی یہ قرارداد بھی ’پاکستان کی پوزیشن سے مطابقت رکھتی ہے۔‘

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے امریکہ کا نام لیے بغیر کہا کہ 28 فروری کو ایران پر حملہ اور اس کے بعد ہونے والے واقعات نے عالمی امن و استحکام کو نقصان پہنچایا ہے۔

پاکستان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے پڑوسی ملک ایران کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی حمایت کرتا ہے۔ اس موقع پر پاکستان نے ایران میں میناب کے ایک سکول پر حملے کی بھی مذمت کی جس میں ایرانی حکام کے مطابق 110 بچوں سمیت 168 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

عاصم افتخار نے اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے ایک ملک کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ دیگر ملکوں کو جنگ میں دھکیل دے۔

SOURCE : BBC