Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں انڈین شہری نے امریکہ میں مقیم سکھ علیحدگی پسند رہنما کے قتل...

انڈین شہری نے امریکہ میں مقیم سکھ علیحدگی پسند رہنما کے قتل کی سازش کا اعتراف کر لیا

15
0

SOURCE :- BBC NEWS

لمبی سفید داڑھی اور چشمہ لگائے ایک شخص، جو ٹائی اور بٹن والی قمیض پہنے ہوئے ہے، ایک ایسے جھنڈے کے سامنے کھڑا ہے جس پر ’خالصتان‘ لکھا ہے

،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

نیو یارک میں سکھ علیحدگی پسند رہنما کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں گرفتار انڈین شہری نے امریکہ کی وفاقی عدالت میں تین جرائم کا اعتراف کر لیا ہے۔

54 سالہ نکھل گپتا نے قتل کرنے کے لیے رقم لینے، اجرت کے عوض قتل اور منی لانڈرنگ کی سازش کرنے کے جرائم قبول کیے۔ انھیں 40 برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

قتل کی اس مبینہ سازش کا ہدف امریکی شہری گرپتونت سنگھ پنّوں تھے، جو خالصتان کے حامی ہیں۔ خالصتان تحریک انڈیا میں سکھوں کے لیے ایک آزاد وطن کا مطالبہ کرتی ہے۔

استغاثہ کا الزام ہے کہ نکھل گپتا کو قتل کرنے کے احکامات انڈین حکومت کے اہلکار نے دیے تھے۔ انڈیا پنّوں کو قتل کرنے کی مبینہ سازش میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے۔

امریکی وکیل جے کلیٹن نے کہا: ’نکھل گپتا نے نیویارک میں ایک امریکی شہری کو قتل کرنے کی سازش کی، صرف اس لیے کہ وہ امریکی شہری آزادی اظہار رائے کا حق استعمال کر رہے تھے جو یہ ملک انھیں دیتا ہے۔‘

’نکھل گپتا کا خیال تھا کہ انھیں کسی قسم کے نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا لیکن وہ غلط فہمی کا شکار تھے، انھیں اب انصاف کا سامنا کرنا ہو گا۔‘

بی بی سی نے تبصرے کے لیے گپتا کے وکیل سے رابطہ کیا ہے۔

نیویارک کی عدالت میں بنایا گیا نکھل گپتا کا خاکہ۔ تاریخ 17 جون 2024

،تصویر کا ذریعہReuters

پنّوں نے بی بی سی کو اپنے بیان میں کہا: ’نکھل گپتا کے اعترافِ جرم نے عدالتی طور پر اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ انڈیا کی مودی حکومت نے امریکی سرزمین پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قتل کی سازش تیار کی تھی۔‘

انڈیا نے پنّوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے، تاہم اس کی تردید کرتے ہوئے پنّوں کہتے ہیں کہ وہ تو صرف ایک کارکن ہیں۔

سکھ انڈیا میں ایک مذہبی اقلیت ہیں جو ملک کی آبادی کا تقریباً دو فیصد ہیں۔ کچھ گروہ طویل عرصے سے سکھوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

یہ تحریک اس وقت انڈیا میں نمایاں نہیں، تمام سیاسی جماعتیں اس کی مخالفت کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ پنجاب کی سیاسی جماعتیں بھی، جہاں سکھوں کی اکثریت ہے۔ تاہم سکھ برادری کے بیرون ملک مقیم حامی خالصتان کے لیے آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

استغاثہ کا الزام ہے کہ گرپتونت سنگھ پنّوں کو قتل کرنے کے لیے مئی 2023 میں انڈین حکومت کے ایک ملازم نے گپتا کو ذمہ داری سونپی۔ ممکنہ قتل پر بات چیت کے لیے دونوں نے دہلی میں ملاقات کی۔

فرم جرم کے مطابق وکاش یادو نامی یہ افسر انڈین حکومت کے کابینہ سیکریٹیریٹ میں کام کرتا تھا۔ انڈیا کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا دفتر بھی وہیں پر ہے۔

ان الزامات کے سلسلے میں یادو کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ یادو کے حکم پر گپتا نے ایک شخص سے رابطہ کیا تاکہ نیو یارک میں قتل کے لیے کسی کو اجرت دی جا سکے۔

یہ شخص اصل میں امریکی حکومت کا مخبر تھا۔ اس نے گپتا کو ایک دوسرے شخص سے ملوایا جو خود کو قاتل ظاہر کر رہا تھا لیکن حقیقت میں وہ امریکہ کے ادارہ برائے انسدادِ منشیات کا خفیہ افسر تھا۔

استغاثہ کا الزام ہے کہ یادو نے گپتا کو قتل کے ہدف کے بارے میں معلومات دیں، جن میں نیو یارک میں ان کے گھر کا پتہ اور فون نمبر شامل تھے۔ پھر گپتا نے یہ معلومات ’اُجرتی قاتل‘ (خفیہ افسر) کو دیں۔

یہ ہدف ہردیپ سنگھ نجر کے ساتھی تھے۔ ہردیپ سکھ علیحدگی پسند تحریک میں سرگرم تھے اور جون میں کینیڈا میں ایک نقاب پوش حملہ آور کے ہاتھوں قتل کر دیے گئے تھے۔

استغاثہ کے مطابق نجر کے قتل کے کچھ ہی عرصہ بعد مبینہ طور پر گپتا نے ’اُجرتی قاتل‘ کو بتایا کہ ’ہمارے پاس بہت سے اہداف‘ ہیں اور نجر ’بھی ایک ہدف‘ تھے۔

اس کے بعد کینیڈا نے انڈیا پر الزام لگایا کہ وہ نجر کے قتل کے ساتھ ساتھ پنّوں کے قتل کی سازش میں بھی ملوث ہے۔ انڈیا نے دونوں معاملات میں کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی تھی۔

India, Khalistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گرو پتونت پنو کون ہیں؟

پیشے کے اعتبار سے وکیل گرو پتونت سنگھ کا خاندان پہلے انڈیا کے گاؤں ناتھوچک میں رہتا تھا جو بعد میں انڈین پنجاب میں امرتسر کے قریب واقع ایک گاؤں خان کوٹ چلے گئے۔

پنو کے والد مہندر سنگھ پنجاب مارکیٹنگ بورڈ کے سیکرٹری تھے۔

1990 کی دہائی میں، انھوں نے پنجاب یونیورسٹی، چندی گڑھ سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ کالج کے زمانے سے ہی وہ ایک طالب علم کارکن بن گئے اور طلبہ سیاست میں سرگرم ہو گئے۔

نوے کی دہائی میں پنوں کے خلاف امرتسر، لدھیانہ، پٹیالہ اور چندی گڑھ کے شہروں میں واقع تھانوں میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق گرو پتونت کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں۔ پنو کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرائے ہیں۔

اس کے بعد پنوں 1991-92 میں امریکہ چلے گئے جہاں انھوں نے کنیٹیکٹ یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور فنانس میں ایم بی اے اور نیویارک یونیورسٹی سے قانون میں ماسٹرز کیا۔

امریکہ میں اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد، پنو نے 2014 تک نیویارک میں وال سٹریٹ میں سسٹم اینالسٹ کے طور پر کام کیا۔

انھوں نے 2007 میں سکھس فار جسٹس نامی تنظیم کی بنیاد رکھی۔ پنو اکثر عوامی طور پر ایک علیحدہ خالصتان کے قیام کی اپیل کرتے ہیں۔

SOURCE : BBC