Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں امریکہ کا ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی کا عندیہ: انڈیا...

امریکہ کا ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی کا عندیہ: انڈیا اس صورتحال سے کیسے فائدہ اُٹھا سکتا ہے؟

21
0

SOURCE :- BBC NEWS

Indian Oil

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکہ بین الاقوامی مارکیٹ پر دباؤ کم کرنے کے لیے سمندر میں پھنسے ایرانی تیل کی خرید و فروخت پر پابندی ہٹانے پر غور کر رہا اور واشنگٹن کی نئی ممکنہ حکمت عملی انڈیا کے لیے بہت فائدے مند ثابت ہو سکتی ہے۔

امریکی سیکریٹری خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ سمندر میں پہلے سے موجود ایرانی تیل کی فروخت پرعائد پابندیوں میں نرمی کرنے پر غور کر رہی ہے۔

یہ متوقع امریکی اقدام جنگ کے سبب دباؤ کا شکار جہاز رانی کے شعبے اور تیل کی پیداوار میں حائل رکاوٹوں کا ازالہ کر کے کروڑوں بیرل تیل بین الاقوامی منڈی میں شامل کرسکتا ہے۔

انڈیا اپنی تیل کی ضروریات کا 90 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے اور اسے رعایتی نرخوں پر تیل خریدنے میں ہمیشہ سے دلچسپی رہی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے پابندیوں میں نرمی انڈیا کے لیے فائدے کا باعث بنے گی۔

امریکی سیکریٹری خزانہ نے یہ تجویز جنگ کے باعث شپنگ اور تیل کی پیداوار میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے دوران عالمی سپلائی میں بڑھتی ہوئی تنگی کو کم کرنے کے لیے پیش کی ہے۔

اگر اس پر عمل کیا گیا تو یہ امریکہ کی طویل عرصے سے جاری پالیسی میں ایک نمایاں اور غیر یقینی نوعیت کی تبدیلی ہوگی۔

A crew man walks along the deck of oil tanker 'Devon' as it prepares to transport crude oil from Kharg Island to India in Bandar Abbas, Iran, on Friday, March 23, 2018. Geopolitical risk is creeping back into the crude oil market. Photographer: Ali Mohammadi/Bloomberg via Getty Images

،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

بیسنٹ کے مطابق اس وقت سمندر میں موجود ایرانی کارگوز میں 14 کروڑ بیرل تیل موجود ہے۔ امریکہ کو امید ہے کہ اس تیل کو خریداروں تک پہنچنے کی اجازت دینے سے 10 سے 14 دن تک عالمی مارکیٹ پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔

فی الحال چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ یہ واضح نہیں کہ سمندر میں موجود تیل کس طرح فروخت کیا جائے گا، لیکن امریکی سیکریٹری خزانہ کے مطابق ایشیائی صارفین، جن میں انڈیا، جاپان اور ملائیشیا شامل ہیں، اس متوقع فیصلے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

انڈیا اس موقع سے سب سے زیادہ فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔

انڈیا میں استعمال ہونے والا 60 فیصد خام تیل خلیجی ممالک خصوصاً عراق، سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات سے آتا ہے۔ ان درآمدات کا نصف حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، جو ایک تنگ گزرگاہ ہے اور اب تنازع کے باعث بند ہو چکی ہے۔

میری ٹائم انٹیلیجنس کمپنی کپلر میں آئل مارکیٹ کے تجزیہ کار سمت رتولیا کہتے ہیں کہ ’چین میں سرکاری کمپنیوں، نجی ریفائنریوں اور دیگر ایشیائی ممالک کے بعد انڈیا ایک ایسا ملک ہے، جسے تیل کی طلب کے نئے مرکز کے طور پر اُبھرتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔‘

ایرانی لائٹ اور ہیوی گریڈ کا خام تیل انڈین ریفائنریوں کے لیے نہایت موزوں تھا اور اکثر رعایتی قیمتوں اور ادائیگی کی آسان شرائط کے ساتھ دستیاب ہوتا تھا۔

تیل کی یہ سپلائی 2019 میں رک گئی تھی، جس کی جگہ مشرقِ وسطیٰ اور امریکی خام تیل نے لے لی تھی۔ بعد ازاں یوکرین جنگ کے بعد عالمی منڈی میں تبدیلی کے نتیجے میں رعایتی نرخوں پر موجود روسی تیل نے اس کی جگہ لے لی۔

The Liberia-flagged Suezmax tanker Shenlong, carrying crude oil, among the first ships to reach India amid the Middle East crises, is seen at Mumbai Port

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جب روسی تیل رعایت پر دستیاب ہوا تو انڈین ریفائنریاں فوراً سرگرم ہو گئیں اور کسی رکاوٹ کے بغیر درآمدات میں تیزی سے اضافہ کر دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایرانی تیل دوبارہ مارکیٹ میں داخل ہوتا ہے تو اسی طرح کی صورتِ حال دوبارہ جنم لے سکتی ہے۔

کپلر کا اندازہ ہے کہ اس وقت 17 کروڑ بیرل ایرانی کروڈ آئل سمندر میں موجود ہے۔ یہ وہ تیل ہے جو جہازوں پر چڑھا دیا گیا ہے یا سمندر میں موجود ہے۔

اس میں دو اقسام شامل ہیں: وہ تیل جو خریداروں کی جانب سفر میں ہے اور وہ تیل جو بطور فلوٹنگ سٹوریج رکھا گیا ہے۔

کپلر سے منسلک تجزیہ کار ینگ کونگ لوہ کہتے ہیں کہ ’فلوٹنگ سٹوریج سے مراد وہ تیل ہے جو جہازوں پر تو رکھا جاتا ہے لیکن وہ جہاز اپنی جگہ رُکے رہتے ہیں۔‘

’یہ وہ بحری جہاز ہوتے ہیں جو تیل لے کر جا رہے ہوتے ہیں، لیکن بہت آہستہ رفتار سے حرکت کرتے ہیں یا بالکل نہیں کرتے اور کئی دنوں تک ایک ہی علاقے میں ٹھہرے رہتے ہیں۔ عموماً ان کی کم رفتار اور حالیہ ٹریکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی فعال ترسیلی راستے پر نہیں ہیں۔‘

سمت رتولیا کے مطابق ایسا ضروری نہیں کہ یہ سارا تیل ہی فروخت کے لیے دستیاب ہو بلکہ اس کا کچھ حصہ پہلے سے ہی فروخت ہو چکا ہوتا ہے۔

دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجیے کہ ایرانی تیل کی بڑی مقدار پہلے ہی سمندر میں موجود ہے، یا تو جہازوں میں بیرل رکھ کر انھیں کہیں منتقل کیا جا رہا ہے یا پھر وہ فلوٹنگ سٹوریج میں موجود ہیں۔

اس تمام تیل کے لیے ابھی تک خریدار موجود نہیں ہیں۔ اس میں کچھ تیل پہلے ہی فروخت ہو چکا ہے، لیکن ایک بڑا حصہ اب بھی غیر فروخت شدہ ہے۔

سمت رتولیا بتاتے ہیں کہ: ’انڈین ریفائنریاں کم سے کم عملی تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ ان بیرلز کو اپنے نظام میں شامل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، کیونکہ انھیں پہلے سے اس تیل کی پروسیسنگ کا تجربہ ہے۔‘

انڈیا کے پاس دنیا کی چوتھی بڑی تیل کی ریفائنریاں ہیں اور اسے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد شدید مشکلات کا سامنا ہے، لیکن چین کے برعکس اس نے ریفائنڈ ایندھن کی برآمدات کو محدود کرنے کی طرف کوئی قدم نہیں بڑھایا۔

ماہرین کے مطابق ایرانی تیل کی مستقل واپسی کا انحصار ریفائننگ کی صلاحیت سے زیادہ تجارت اور جیو پولیٹکس پر ہے۔

A general view of the Mathura Oil Refinery

،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

پابندیاں صرف تیل کی فروخت کو ہی محدود نہیں کرتیں بلکہ وہ شپنگ، انشورنس اور ادائیگیوں کے معاملات کو بھی پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔

سمت رتولیا کے مطابق ’اہم عوامل میں پابندیوں میں نرمی کی نوعیت اور اس کی پائیداری (خصوصاً شپنگ سے متعلق)، قیمتوں کا تعین، انشورنس اور لاجسٹکس کے دستیاب طریقۂ کار شامل ہیں۔‘

جب تک ان طریقۂ کار کو واضح یا نرم نہیں کیا جاتا رقم کا لین دین خطرات کا شکار ہی رہتا ہے۔

امریکی سیکریٹری خارجہ نے اس بارے میں بہت کم تفصیل فراہم کی ہے کہ اس طرح کی چھوٹ کا ڈھانچہ کیسے ہوگا اور اس کی ادائیگی کی رقم کو تہران تک واپس جانے سے کیسے روکا جائے گا۔ محکمۂ خزانہ نے اس پر مزید وضاحت سے گریز کیا ہے۔

جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس تجویز کی حمایت کریں گے تو انھوں نے غیر واضح جواب دیا اور صرف اتنا کہا کہ ’ہم قیمت کو برقرار رکھنے کے لیے جو کچھ ضروری ہوگا کریں گے۔‘

یہ بھی واضح نہیں کہ بیسنٹ کی تجویز کو واشنگٹن میں کتنی پذیرائی ملے گی، جہاں ایوانِ نمائندگان نے ابھی حال ہی میں ایران کے تیل کے شعبے پر پابندیاں سخت کرنے کا بل منظور کیا ہے۔

SOURCE : BBC