SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہgettyimages
بنگلہ دیش کے عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی کامیابی کے بعد جہاں ممکنہ وزیر اعظم طارق رحمان عالمی رہنماؤں کی مبارکبادیں سمیٹ رہے ہیں تو وہیں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی بنگلہ دیش کی نئی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ تاریخی برادرانہ اور کثیر جہتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے بنگلہ دیش کی نئی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔
بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی قیادت میں عوامی لیگ کی حکومت کو پاکستان مخالف اور انڈیا نواز سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اگست 2024 میں عوامی بغاوت کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی انڈیا روانگی کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی تھی۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے پاکستان کے ساتھ اپنے روابط کو آگے بڑھایا تھا۔ دونوں ممالک کے مابین تجارتی روابط کو فروغ دیا گیا جبکہ دونوں ممالک نے ویزے کے اجرا کو آسان کرنے کے ساتھ ساتھ فلائٹ آپریشن بھی بحال کیا ہے۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس مختلف عالمی فورمز پر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں بھی کرتے رہے ہیں۔
اب بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی کامیابی کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں مزید بہتری کی اُمید ظاہر کی جا رہی ہے۔
بنگلہ دیش کے انتخابات کے نتائج پاکستان کے لیے کیا اہمیت رکھتے ہیں؟ بی این پی کی نئی حکومت پاکستان کے ساتھ اپنے روابط کو کتنا آگے بڑھائے گی؟ کیا خطے میں نئی صف بندی ہو گی اور انڈیا اس ساری صورتحال میں کہاں کھڑا ہو گا۔
ان تمام معاملات پر بی بی سی نے بنگلہ دیش کی سیاست کو قریب سے دیکھنے والے تجزیہ کاروں سے بات کی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
’پاکستان کو اس وقت کی فکر کرنی چاہیے جب وہ (بنگلہ دیش) اینٹی انڈیا نہ رہے‘

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بعض ماہرین کہتے ہیں کہ بی این پی کی کامیابی پاکستان کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔ لیکن بعض مبصرین کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے لیے انڈیا کے ساتھ تعلقات بگاڑ کر آگے بڑھنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔
عالمی اُمور کے تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ شیخ حسینہ کی حکومت میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات نہ ہونے کے برابر تھے۔ لیکن اب بنگلہ دیش میں ایک ایسی حکومت آ رہی ہے، جو پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا چاہتی ہے۔
’ماضی میں بھی جب بی این پی اقتدار میں آتی رہی ہے تو خالدہ ضیا کی حکومت کے پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے اور اب دوبارہ وہ سلسلہ بحال ہونے والا ہے اور دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔‘
ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش اور پاکستان مل کر جنوبی ایشیا میں استحکام اور تعاون کو فروغ دیں گے۔
دفاعی اُمور کے تجزیہ کار اکرام سہگل کہتے ہیں کہ بی این پی اور جماعت اسلامی، دونوں کو انڈیا مخالف جماعتیں سمجھا جاتا ہے۔ لہذا بنگلہ دیش میں جو بھی انڈیا مخالف جماعت ہے، وہ ظاہر ہے پاکستان کے قریب ہو گی۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اکرام سہگل کا کہنا تھا کہ پاکستان کو شکر ادا کرنا چاہیے کہ انڈیا پاکستان کے خلاف سفارتی محاذ پر جو کچھ بھی کرتا ہے، اسے اس کا نقصان ہوتا ہے۔
اکرام سہگل کا کہنا تھا کہ اس وقت بنگلہ دیش میں انڈیا مخالف جذبات پائے جاتے ہیں۔ لیکن پاکستان کو یہ بھی فکر کرنی چاہیے کہ کہیں نئی آنے والی حکومت انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات زیادہ استوار نہ کر لے۔
’ابھی تو وہ اینٹی انڈیا ہیں، لیکن پاکستان کو اس وقت کی فکر کرنی چاہیے جب وہ (بنگلہ دیش) اینٹی انڈیا نہ رہے تو۔‘
خیال رہے کہ سنہ 2021 میں افغانستان میں طالبان حکومت آنے کے بعد اسے پاکستان کے لیے خوش آئند قرار دیا جا رہا تھا۔ پاکستان میں بھی بعض سیاسی رہنماؤں نے طالبان حکومت کا خیر مقدم کیا تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات میں سرد مہری آ گئی ہے اور افغان طالبان نے انڈیا کے ساتھ قریبی روابط قائم کر لیے ہیں۔
ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی کوئی بھی حکومت انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو خراب نہیں کرے گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کا انڈیا کے ساتھ طویل بارڈر ہے اور خلیج بنگال میں بھی انڈیا اپنا اثرو رسوخ رکھتا ہے۔ لہذا بنگلہ دیش کی نئی حکومت ایک حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی اپنائے گی اور انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو نارمل رکھے گی۔
’بنگلہ دیش کی کوئی حکومت انڈیا کو ناراض کرنے یا اس سے جھگڑا کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی، کیونکہ کچھ جغرافیائی حقیقتیں ہیں جسے بنگلہ دیش نظرانداز نہیں کر سکتا۔‘
لیکن اُن کے بقول یہ تعلقات اتنے زیادہ گرمجوشی والے یا اُس نوعیت کے نہیں ہوں گے جس طرح شیخ حسینہ حکومت اور انڈیا کے تھے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ہو سکتا ہے کہ دونوں ممالک دفاعی معاہدہ کر لیں‘
اکرام سہگل کہتے ہیں کہ اگر پاکستان اور بنگلہ دیش نے اپنے تعلقات کو آگے بڑھانا ہے تو ویزا اور ٹیرف فری پالیسی کو اپنانا ہو گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں ممالک ایسا دفاعی معاہدہ بھی کر لیں جس میں ایک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور کیا جائے۔
اکرام سہگل کے بقول یہ اسی نوعیت کا معاہدہ ہو سکتا ہے جیسا سعودی عرب اور پاکستان کے مابین ہوا تھا۔
خیال رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے گذشتہ برس ’باہمی دفاع کا سٹریٹیجک معاہدہ‘ کیا تھا جس کے تحت ’کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔‘
اکرام سہگل کہتے ہیں کہ انڈیا کی پالیسیاں ایسی ہیں جس کی وجہ سے اس کے تمام ہمسایوں کو اس سے شکایات ہیں۔ لہذا یہی وہ وجہ ہے جس نے پاکستان اور بنگلہ دیش کو حالیہ عرصے میں ایک دوسرے کے قریب کیا۔
اُن کے بقول بنگلہ دیش کے انتخابی نتائج کے بعد اُنھیں خطے میں ایک نئی صف بندی ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس میں پاکستان، بنگلہ دیش اور چین ہمیں خطے کے معاملے پر ایک ساتھ دکھائی دیں گے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
’یہ پاکستان کے لیے اچھی خبر ہے‘
جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سینٹر فار انٹرنیشنل سٹیڈیز کے پروفیسر سنجے بھردواج کہتے ہیں کہ بی این پی کی حکومتوں کے دوران پاکستان کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات اچھے رہے ہیں۔
اُنھوں نے بی بی سی ہندی کے دیپک منڈل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’جب بی این پی 1991 سے 1996 کے درمیان اور پھر 2001 سے 2006 کے درمیان بنگلہ دیش میں برسراقتدار تھی، اس کے پاکستان کے ساتھ اچھے روابط تھے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اسلامی نظریے کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا جاتا ہے جبکہ بی این پی بھی اس حوالے سے معتدل پالیسی رکھتی ہے۔ لہذا اگر بی این پی اور جماعت اسلامی کی مخلوط حکومت بن جاتی تو اسلامی بنیاد پرستی کو فروغ مل سکتا ہے، لیکن بظاہر فی الحال اس کا کوئی امکان نہیں، لیکن پھر بھی یہ پاکستان کے لیے اچھی خبر ہے۔
خالدہ ضیا کے پاکستان کے حوالے سے ہمدردانہ رویے کو انڈیا میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا تو اگر اب ایسا ہوتا ہے تو انڈیا پر کیا اثر پڑے گا؟
اس پر سنجے بھردواج نے کہا کہ 2001 سے 2006 کے دوران طارق رحمان بی این پی کے تمام آپریشنز کی نگرانی کرتے تھے۔ اس دور میں بھی طارق رحمان کی پالیسی پاکستان کے حوالے سے نرم تھی جب کہ انڈیا کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ تھا، اس عرصے میں بنگلہ دیش اور انڈیا کے درمیان اچھی ہم آہنگی نہیں تھی۔
سنجے بھردواج کا کہنا ہے کہ انڈیا ایک جامع معاشرے اور جمہوریت کی وکالت کرتا ہے لیکن بی این پی کی پالیسیوں میں فوج کا اہم کردار ہے اور اسلام اس کے نظریے کا مرکز ہے۔
اُن کے بقول انڈیا ایک جمہوری، سیکولر اور قوم پرست بنگلہ دیشی حکومت کا خواہشمند رہا ہے۔ تاہم اب اس بات کا امکان نہیں کہ یہ سب بنگلہ دیش میں نظر آئے گا۔
،تصویر کا ذریعہX/Shehbaz Sharif
’انڈیا کے لیے چیلنجز بڑھ سکتے ہیں‘
انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی نے طارق رحمان کو ٹیلی فون کر کے اُنھیں انتخابات میں کامیاب پر مبارکباد دی ہے۔
ٹیلی فونک رابطے کے بعد اپنے بیان میں انڈین وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ‘میں نے طارق رحمان کو فون کیا اور اُنھیں بنگلہ دیش کے انتخابات میں شاندار کامیابی پر مبارکباد دی۔’
وزیر اعظم مودی کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے ٹیلی فونک گفتگو میں بنگلہ دیش اور انڈیا میں رہنے والوں کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کے عزم کا اعادہ کیا۔
طارق رحمان کا بھی کہنا تھا کہ اُنھیں نریندر مودی سے بات کر کے بہت خوشی ہوئی۔
نریندر مودی اور طارق رحمان کے مابین ’خوشگوار جملوں‘ کے تبادلے کے بعد بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا نے حال ہی میں بی این پی کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی جو پہل کی ہے، اس کے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
رواں برس جب خالد ضیا کی وفات ہوئی تو انڈین وزیر خارجہ ڈھاکہ آئے تھے۔
اس وقت، بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا خیال تھا کہ انڈین وزیرِ خارجہ اور انڈین حکومت کا بی این پی چیئرپرسن کو خراج تحسین پیش کرنے کا تعزیتی پیغام مستقبل کے تعلقات کو آگے لے جانے کے بارے میں انڈیا کے موقف کا واضح اشارہ ہے۔
شیخ حسینہ کے بیٹے سجیب واجد نے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی پاکستان کے ساتھ بڑھتی قربتوں پر اخبار انڈین ایکسپریس کو بتایا تھا کہ یہ انڈیا کے لیے تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔ ’عوامی لیگ کی حکومت نے انڈیا کی مشرقی سرحد کو دہشت گردی سے محفوظ رکھا۔ کیونکہ اس سے پہلے بنگلہ دیش انڈیا میں شورش کے اڈے کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔‘
شیو نادر یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر اور انڈیا کے عالمی میگزین کے ایڈیٹر ہیپیمون جیکب نے ہندوستان ٹائمز میں لکھا کہ انڈیا کے بنگلہ دیش کے ساتھ تیزی سے بگڑتے تعلقات مختلف چیلنجز پیش کر رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی چار ہزار کلو میٹر طویل سرحد کے ساتھ دراندازی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
اُن کے بقول پاکستان اور چین، انڈیا اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں کشیدگی کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں اور بنگلہ دیش میں پاکستان کی سرگرمیاں بڑھی ہیں۔

’انڈیا اپنے قومی مفادات دیکھے گا‘
بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ یہ توقع کرنا واقعی بہت زیادہ ہے کہ بنگلہ دیش میں کسی ایک سیاسی جماعت کے ساتھ انڈیا کا مستقل تعلق ہو گا۔
سابق انڈین سفارت کار سومین رائے نے بی بی سی کو بتایا کہ بین الاقوامی تعلقات میں مستقل دوست نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، اسی طرح مستقل دُشمن بھی نہیں ہوتا۔
اُن کے بقول عوامی لیگ کی صورت میں انڈیا کے لیے بنگلہ دیش میں ایک دوست حکومت تھی، لیکن اب ایک نئی حکومت آ رہی ہے۔ لیکن قومی مفاد سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، انڈیا سب سے پہلے اپنے قومی مفاد کو دیکھے گا۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر انڈیا عوامی لیگ پر ہی انحصار کرے گا تو پھر ہمارا اس کے علاوہ کسی سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ ایسا کرنا درست نہیں ہو گا اور انڈین حکومت بھی ایسا نہیں کرے گی۔
سومین رائے کہتے ہیں کہ انڈیا کی خارجہ پالیسی کی سمت کا تعین ’سٹریٹجک مفادات‘ سے ہوتا ہے اور مستقبل میں بنگلہ دیش پر بھی یہی لاگو ہو گا۔
اُن کے بقول سادہ سی بات ہے کہ انڈیا دیکھے گا کہ اگر عوامی لیگ کے علاوہ کسی بھی جماعت کے ساتھ دوستی کر کے اس کے قومی مفادات کا تحفظ ہوتا ہے تو اس راستے پر چلنے سے انڈیا نہیں ہچکچائے گا۔
SOURCE : BBC



