Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا آغاز: ’اگر...

اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا آغاز: ’اگر امریکہ ایران معاہدے پر دستخط ہوئے تو شاید میں پاکستان جاؤں‘، ٹرمپ

18
0

SOURCE :- BBC NEWS

تصویر

،تصویر کا ذریعہPress TV

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے دورے کے دوسرے روز ایرانی صدر اور پاسدارانِ انقلاب کے رہنماؤں سمیت دیگر حکام سےملاقاتیں کی ہیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ بدھ کو تہران پہنچے تھے، جہاں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اُن کا استقبال کیا تھا۔ تہران آمد کے پہلے روز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے عباس عراقچی سے ملاقات کی تھی۔

تہران میں قیام کے دوسرے روز جمعرات کو فیلڈ مارشل نے مصروف دن گزارا اور ایرانی صدر، سپیکر پارلیمنٹ اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGovernment of Iran

فیلڈ مارشل نے جمعرات کو ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے ملاقات کی۔

اس ملاقات کے حوالے سے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے تاحال تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم ایرانی حکومت اور اس سے منسلک خبر رساں اداروں کی جانب سے ان ملاقاتوں کی تصاویر اور تفصیلات شیئر کی جا رہی ہیں۔

ایرانی حکومت سے منسلک ایکس اکاؤنٹ سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے صدر مسعود پیزشکیان سے ملاقات میں کہا کہ ’اگرچہ یہ جنگ ختم ہو جائے گی لیکن خطہ اپنے سابقہ ​​حالات پر واپس نہیں آئے گا۔ تمام ممالک کو تعمیرِ نو، استحکام اور دیرپا امن کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔‘

ایرانی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق آرمی چیف نے مزید کہا کہ ’سعودی عرب، مصر اور ترکی نے اس بحران کے دوران سفارتی کوششوں کی حمایت کی۔ ایران اور پاکستان کے درمیان گہرے مذہبی، تاریخی اور ثقافتی رشتے ہیں۔ جلد ہی معاہدہ ہو سکتا ہے۔ یہ جنگ تباہی اور نقصان کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘

بیان کے مطابق صدر پیزشکیان نے کہا کہ جنگ بندی کی طرف بڑھنے میں پاکستان کا ذمہ دارانہ کردار قابلِ ذکر ہے۔ ایران خطے میں امن، استحکام اور برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ کا اتحاد اسرائیلی حکومت کے مقاصد کو ناکام بنا دے گا۔

صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی عوام وعدوں کی بار بار خلاف ورزیوں کی وجہ سے امریکہ پر اعتماد نہیں کرتے۔ ایران بین الاقوامی قانون کے اندر اپنے حقوق کے تحفظ پر اصرار کرتا ہے اور ثالثی، جنگ بندی کے عمل اور اسلام آباد میں ایرانی وفد کی میزبانی میں پاکستان کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGovernment of Iran

سپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف

جمعرات کو ہی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات کی۔ محمد باقر قالیباف نے امریکہ کے ساتھ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت کی تھی۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق ملاقات کے دوران محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکی وعدوں کی خلاف ورزی خطے میں امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہIRNA

قالیباف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ جامع تعلقات استوار کرنا اسلامی جمہوریہ کی ایک مستحکم اور فیصلہ کن پالیسی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ وہ لوگ جنھوں نے جنگ شروع کی اور اب اسے روکنے کی شدت سے کوشش کر رہے ہیں، وہ ماضی میں عدم اعتماد پیدا کرنے والے رویوں کو ترک کریں گے۔‘

پاسدارانِ انقلاب کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ

جمعرات کو ہی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انھوں نے کمانڈر سے ملاقات کی ہے۔

ملاقات کے دوران انھوں نے آئی جی آر سی کے کمانڈر کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے فریم ورک کے تحت کیے گئے اقدامات اور تہران میں ہونے والی اپنی حالیہ بات چیت سے متعلق گفتگو کی۔

فریقین کے درمیان خطے کی صورتحال اور امن و استحکام کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہPress TV

پریس ٹی وی ایران کے مطابق اعلیٰ ایرانی کمانڈر نے ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بتایا کہ ’ہم نے اس جنگ میں جو بھی ہتھیار استعمال کیے وہ مقامی طور پر ایرانی نوجوانوں نے تیار کیے تھے۔ آج کسی کو شک نہیں کہ دشمن کی جانب سے کسی بھی برے اقدام کی صورت میں مسلح افواج ہر طرح کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔‘

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر زور دیا کہ جنگ کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے جاری کوششوں کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

SOURCE : BBC