Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں آیت اللہ خامنہ ای: ایران کے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کا مسلم...

آیت اللہ خامنہ ای: ایران کے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کا مسلم دنیا پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

15
0

SOURCE :- BBC NEWS

ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ کی ہلاکت کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک پیغام میں کہا گیا کہ ’اس عظیم جرم کا جواب دیا جائے گا‘ اور ’ہم اپنی پوری طاقت اور عزم کے ساتھ، ملت اسلامیہ اور دنیا کے آزاد عوام کی حمایت سے، اس عظیم جرم کے مرتکب افراد کو پچھتاوے پر مجبور کر دیں گے۔‘

پزشکیان نے کہا کہ علی خامنہ ای نے 37 سال کے دوران ’حکمت اور بصیرت کے ساتھ اسلام کے محاذ کی قیادت کی اور ان کی ہلاکت کے بعد ایران ایک مشکل دور سے گزرے گا۔‘

کہنے کو 86 سالہ خامنہ ای ایران کے رہبرِ اعلیٰ تھے لیکن پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں اہل تشیع مکتبہ فکر میں ان کے پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

عراق، پاکستان، شام اور دنیا کے دیگر مسلم ممالک میں جلسوں کے دوران ایل تشیع مسلمان خامنہ ای کی تصاویر اپنے ہاتھوں میں اٹھائے نظر آتے ہیں۔

اتوار کو پاکستان میں کراچی کے امریکی قونصلیٹ کے باہر اس وقت فائرنگ ہوئی جب مظاہرین نے بیرونی سیکیورٹی حصار کو عبور کرتے ہوئے اندر داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی اور اس دوران نو افراد کی ہلاکتیں بھی سامنے آئیں۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں پُرتشدد مظاہروں کے دوران اقوامِ متحدہ کے دفاتر اور دیگر املاک نظر آتش کیے گئے۔

ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں خامنہ ای کی موت کے دنیا پر کیا اثرات پڑیں گے؟

ایک شخص نے ہاتھ میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصویر اٹھا رکھی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ماضی میں ایران اور اسرائیل کشیدگی کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں حزب اللہ، حوثی باغیوں اور ان جیسے دیگر گروہوں نے تہران کی حمایت کی تھی، لیکن گذشتہ دو برسوں میں ان گروہوں کو امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں شدید نقصان ہوا ہے۔

امریکہ کے نیو لائنز انسٹیٹیوٹ کے سینیئر ڈائریکٹر اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ڈاکٹر کامران بخاری سمجھتے ہیں کہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خطرات ضرور لاحق ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ پاسدارانِ انقلاب اور اس کی القدس فورس کی صلاحیتیں اب کیا ہیں اور دیگر ممالک میں ان کی پراکسیز کتنا دم خم رکھتی ہیں۔‘

’حالیہ مہینوں میں ہم نے دیکھا کہ اسرائیل نے حزب اللہ کی پوری مرکزی قیادت ختم کر دی، شام میں بشار الاسد کی حکومت گِر گئی، لیکن ایران ان کی مدد کے لیے کچھ نہ کر سکا۔‘

وہ سمجھتے ہیں کہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کا دنیا بھر کے اہل تشیع مسلمانوں کو دُکھ ضرور ہو گا لیکن عراق، لبنان اور شام جیسے ممالک میں ایرانی رہبرِ اعلی کے مقابلے میں آیت اللہ سیستانی کے پیروکاروں کی تعداد زیادہ ہے ’اور وہ علما کے سیاست میں آنے کو پسند نہیں کرتے۔‘

مشرقِ وسطیٰ پر گہری نظر رکھنے والے دیگر تجزیہ کار بھی ڈاکٹر بخاری جیسے ہی خیالات رکھتے ہیں۔

ہیبریو یونیورسٹی میں جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں اسلام کے ایسوسی ایٹ پروفیسر سیمون وولف گانگ فوکث کہتے ہیں کہ ’یہ امکان موجود ہے کہ حزب اللہ اس صورتحال میں خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنا بند کر دے یا پھر عراقی مسلح گروہ عراق یا اس سے باہر امریکی فوج پر حملے شروع کر دیں۔‘

تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ اکتوبر 2023 کے بعد سے حزب اللہ سمیت دیگر گروہ کمزور ہو گئے ہیں اور وہ اب طاقت کے توازن کو بگاڑ نہیں سکتے۔

ان کے مطابق: ’مسلم دنیا کے کچھ طبقے خامنہ ای کے سامراج دشمن مؤقف کی حمایت ضرور کرتے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ خامنہ ای کی موت پر آنسو بہائیں گے۔ خاص طور پر وہ جنھیں شام، لبنان اور خلیجی ممالک میں ایرانی مداخلت کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔‘

خامنہ ای کی موت کا ایرانی حکومت پر کیا اثر پڑے گا اور کیا اس کے اثرات ملک سے باہر بھی پڑیں گے؟

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

مبصرین کا خیال ہے کہ خامنہ ای کی موت سے ایران کی موجودہ حکومت کا نظام بالکل زمین بوس تو نہیں ہو گا لیکن ’یہ دوبارہ کبھی پہلے جیسا بھی نہیں ہو پائے گا۔‘

ڈاکٹر کامران بخاری کہتے ہیں کہ ’رہبرِ اعلیٰ اس نظام کے مرکزی پُرزے تھے، تاہم وہ کئی برسوں سے بیمار تھے اور ریاست کے امور چلانے کے لیے ان کا انحصار مکمل طور پر پاسدارانِ انقلاب یا ایرانی فوج پر تھا۔‘

ڈاکٹر بخاری سمجھتے ہیں کہ پاسدارانِ انقلاب اب ماضی کے مقابلے میں کم طاقتور ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’خامنہ ای کی موت ایک عہد کا اختتام ہے۔ اس کے بعد موجودہ نظام فی الحال مکمل طور پر مسمار تو نہیں ہو گا لیکن اس میں تبدیلیاں بہرحال آئیں گی۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ وہ ایران میں کیسا نظام دیکھنا چاہتے ہیں۔

ایرانی رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ’ہمیں سننے کو مل رہا ہے کہ پاسداران انقلاب کے بہت سے اہلکار اور دیگر سکیورٹی و پولیس فورسز اب لڑنا نہیں چاہتے اور ہم سے معافی چاہتے ہیں۔‘

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ امید بھی ظاہر کی تھی کہ ایرانی سکیورٹی فورسز ’محبِ وطن عوام‘ کے ساتھ مل کر ملک کو دوبارہ عظمت کی طرف لے جائیں گی۔

خامنہ ای نے اپنی زندگی میں ہمیشہ مغرب اور خصوصاً امریکہ کو بد اعتمادی کی نگاہ سے دیکھا اور محققین کو لگتا ہے کہ ان کے بعد تبدیلی کا آنا لازمی ہے۔

سیمون وولف گانگ فوکث کہتے ہیں کہ ’خامنہ ای کی موجودگی میں ایران میں معنی خیز اصلاحات یا امریکہ سے تعلقات کی بہتری کا کوئی امکان نہیں تھا۔ لیکن مستقبل میں ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ کو ایران کی راہ تبدیل کرنے کی آزادی حاصل ہو گی۔‘

Khamenei

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایران کے نظامِ حکومت میں کیا تبدیلی آئے گی یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن خامنہ ای کی موت دیگر ممالک کے لیے پریشانی کا باعث ضرور بن سکتی ہے۔

دنیا بھر میں ایران کے حامی گروہوں پر تحقیق کرنے والے فلیپ سمتھ کہتے ہیں کہ ’جب آپ اسلامی انقلاب کے سخت نظریات سے نبرد آزما ہوتے ہیں تو آپ ولایتِ فقیہہ کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ یہ نظریات پھر مذہبی بھی ہیں، سیاسی بھی ہیں اور سماجی بھی۔‘

’پاسدارانِ انقلاب کو معلوم ہے کہ ان نظریات کے ذریعے لوگوں کو فرقہ وارانہ سمیت متعدد محاذوں پر متحرک کیا جا سکتا ہے۔‘

فلیپ کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ خامنہ ای پوری مسلم امت کے رہنما بننا چاہتے تھے لیکن وہ ’صحیح معنوں میں ایک آیت اللہ نہیں تھے اور وہ آیت اللہ سیستانی کے مقابلے میں کم حیثیت رکھتے تھے۔‘

اسی لیے خمینی کی موت کے بعد ایرانی آئین میں ترمیم کے ذریعے رہبر کے لیے مرجع ہونے کی شرط ختم کر دی گئی۔

یہاں ولایتِ فقیہہ کو سمجھنا ضروری ہے۔

خامنہ ای آیت اللہ روح اللہ خمینی کے پیروکار تھے، جس کے تحت علما کو نائبینِ امام زمانہ اور اسلامی فقہ و علوم کے ماہر ہونے کے ناطے سیاسی طاقت کا منبع سمجھا جاتا ہے۔

عام طور پر شیعہ مذہبی اور سیاسی فکر میں ’امامِ زمانہ‘ کے عرصۂ غیابت میں قائم کردہ ریاستی طاقت کو غاصبانہ سمجھا جاتا تھا لیکن آیت اللہ خمینی نے اس کے برعکس یہ اصرار کیا کہ ظہورِ امامِ زمانہ تک حکومت یا سیاسی طاقت سے دوری اختیار نہیں کی جا سکتی۔ لہٰذا، بقول ان کے، ضرورت اس بات کی تھی کہ علما اور مجتہدین آگے بڑھیں اور اقتدار ہاتھ میں لے کر معاشرے کی اصلاح کریں۔

فلیپ کہتے ہیں کہ ایران نے ولایتِ فقیہہ کو لوگوں کو متحرک کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور اپنی سرحدی حدود سے باہر اس کو سیاست کے لیے استعمال کیا۔

فلیپ نے کہا کہ ’اسی کا استعمال کر کے انھوں نے لبنان میں حزب اللہ بنائی، اسی کی تحت عراق میں کاتب سید الشہدا جیسے گروہ ہیں اور اسی طرح پاکستان میں لشکرِ زینبیون ہے۔‘

شاید خامنہ ای دنیا کے تمام شیعوں کے روحانی پیشوا نہ ہوں لیکن یہ بات رد نہیں کی جا سکتی کہ ان کے پیروکاروں کی زندگیوں پر ان کی موت کے اثرات ضرور پڑیں گے۔

پروفیسر سیمون وولف گانگ فوکث کہتے ہیں کہ ’پاکستان، انڈیا، عراق اور لبنان میں بھلے ہی لوگ اپنی زندگیوں میں ان کے مذہبی احکامات پر عمل در آمد نہ کرتے ہوں لیکن وہ یہاں اپنے پیروکاروں میں ایک فخر اور طاقت کے نشان کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔‘

SOURCE : BBC