Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں آبنائے ہرمز کی بندش اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کے خدشات: خوراک...

آبنائے ہرمز کی بندش اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کے خدشات: خوراک اور ادویات کے ساتھ ہر وہ چیز مہنگی ہو جائے گی جس میں بیٹری استعمال ہوتی ہے

38
0

SOURCE :- BBC NEWS

تصویر کے ایک طرف فصل کی کٹائی ہو رہی ہے، دوسری جانب ایک ہاتھ میں دو کیپسول دکھائے گئے ہیں

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی فراہمی میں رکاوٹ آئی ہے اور عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔

پیٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا اور گھریلو اخراجات میں بھی اضافہ یقینی ہے۔

تاہم اس تنازعے سے ایندھن کے ساتھ ساتھ اہم کیمیکلز، گیسز اور وہ دیگر مصنوعات بھی متاثر ہوئی ہیں جن کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کو غذائی بحران کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔

بی بی سی ویریفائی کو معلوم ہوا ہے کہ خوراک سے لے کر سمارٹ فونز اور ادویات تک، مختلف اشیا کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں، کیونکہ جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز سے تقریباً 100 بحری جہاز گزرا کرتے تھے اور اب صرف چند جہاز ہی یہاں سے گزر پا رہے ہیں۔

آئیے جانتے ہیں کہ کون کون سی چیزوں کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

کھاد (خوراک)

پیٹروکیمیکلز تیل اور گیس سے حاصل کیے جاتے ہیں اور خلیجی ممالک انھیں بڑی مقدار میں تیار کرکے برآمد کرتے ہیں۔

ان میں سب سے اہم کھاد ہے، جو عالمی زرعی پیداوار کے لیے نہایت ضروری ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کی تقریباً ایک تہائی کھادیں، جیسے کہ یوریا، پوٹاش، امونیا اور فاسفیٹس، عام طور پر آبنائے ہرمز سے ہی گزرتی ہیں۔

ایک شخص فصل کو کھاد دے رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عالمی تجارتی تنظیم (ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن) کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب سے تنازع شروع ہوا ہے، اس آبی گزر گاہ کے ذریعے کھاد سے متعلقہ مصنوعات کی ترسیل ختم ہو کر رہ گئی ہے۔

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ان کھادوں کی کمی زرعی پیداوار کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

کیل انسٹی ٹیوٹ کے محققین کے مطابق ’کھاد کی مختصر دورانیے کی بندش بھی فصل کو متاثر کر سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز کھل جانے کے باوجود اس کے اثرات برقرار رہیں گے۔‘

انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی مکمل بندش سے گندم کی عالمی قیمتیں 4.2 فیصد اور پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں 5.2 فیصد بڑھ سکتی ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ کے اندازے کے مطابق خوراک کی قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں زیمبیا (31 فیصد)، سری لنکا (15 فیصد)، تائیوان (12 فیصد) اور پاکستان (11 فیصد) شامل ہوں گے۔

روس عام طور پر عالمی کھاد کی برآمدات کا تقریباً پانچواں حصہ فراہم کرتا ہے اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے روس اپنی پیداوار میں اضافہ کر سکتا ہے۔

ولادیمیر پوتن کے خصوصی ایلچی، کیریل دمتریف نے کہا ہے کہ کھاد جیسی اشیا بنانے والا ملک روس ’بہت اچھے مقام پر ہے۔‘

ہیلیم (مائیکرو چپس)

ہیلیم گیس کی عالمی ترسیل کا ایک تہائی حصہ عام طور پر قطر سے آتا ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔

ہیلیم گیس قدرتی گیس کی پیداوار کے نتیجے میں (ضمنی پیداوار یا بائی پراڈکٹ کے طور پر) حاصل ہوتی ہے اور سیمی کنڈکٹر ویفرز کی تیاری میں استعمال کی جاتی ہے۔ انھی سیمی کنڈکٹر ویفرز کو پھر کمپیوٹرز، گاڑیوں اور گھریلو آلات میں استعمال ہونے والے مائیکرو چپس میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

ہیلیم گیس ہسپتالوں میں استعمال ہونے والے میگنیٹک ریزونینس امیجنگ (ایم آر آئی) سکینرز میں مقناطیس کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔

A patient in an MRI machine

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہ گیس پیدا کرنے والے قطر کے راس لافان پلانٹ نے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد پیداوار بند کر دی ہے۔

اور قطر حکومت نے خبردار کیا ہے کہ نقصان کی مرمت میں تین سے پانچ سال لگیں گے۔ اس سے سپلائی کے بارے میں خدشات پیدا ہو چکے ہیں۔

امریکی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری ایسوسی ایشن نے سنہ 2023 میں خبردار کیا تھا کہ اگر ہیلیم کی عالمی فراہمی میں خلل آیا تو ’قیمتوں میں اضافہ‘ ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے سمارٹ فونز سے لے کر ڈیٹا سینٹرز تک جدید ترین ٹیکنالوجیز کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

کونسل آن فارن ریلیشنز میں عالمی صحت کے سینئر فیلو پرشانت یادو نے خبردار کیا ہے کہ طویل عرصے تک ہیلیم کی کمی کی وجہ سے ایم آر آئی کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔

’ایم آر آئی مشینوں کے مقناطیس کو ٹھنڈا کرنے کے لیے تقریباً 1500 سے 2000 لیٹر ہیلیم درکار ہوتی ہے۔ ہر بار جب آپ سکین کرتے ہیں تو اس کا تھوڑا سا حصہ ابل کر یا بخارات بن کر اڑ جاتا ہے۔‘

انھوں نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ ’لوگوں کے خیال میں ہیلیم کا سب سے زیادہ استعمال ڈیٹا سینٹرز، سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا کی صنعت کو ٹھنڈا رکھنے میں ہوتا ہے لیکن ہم یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہیلیم ایم آر آئی اور دیگر طبی مقاصد کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔‘

پیٹروکیمیکل کی ذیلی مصنوعات (ادویات)

میتھانول اور ایتھلین پیٹرو کیمیکلز سے حاصل ہونے والے وہ ذیلی اجزا ہیں جو درد کش ادویات، اینٹی بائیوٹکس اور ویکسینز میں استعمال ہوتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق پیٹروکیمیکل کی عالمی پیداوار کا چھ فیصد خلیجی تعاون کونسل کے ممالک سے آتا ہے جن میں سعودی عرب، قطر، عمان، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین شامل ہیں۔

ان ممالک سے پیٹروکیمیکل کی پیداوار بھی آبنائے ہرمز کے راستے ہی جاتی ہے اور پیداوار کا تقریباً نصف ایشیا کو ملتا ہے۔

انڈیا دنیا کی عمومی (نان برانڈڈ) فارماسیوٹیکل برآمدات کرتا ہے، جن میں سے بہت سی امریکہ اور یورپ کو بھیجی جاتی ہیں۔

ان میں سے کئی فارماسیوٹیکل مصنوعات عام طور پر خلیج کے مرکزی ہوائی اڈوں، خاص طور پر دبئی کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔ اس تنازعے کی وجہ سے یہ ہوائی اڈے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔

کچھ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں خلل کے نتیجے میں ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

سلفر (دھاتیں یا بیٹریاں)

گندھک بھی خام تیل اور قدرتی گیس کی پروسیسنگ سے حاصل ہونے والی ذیلی پیداوار ہے اور اس کی بڑی مقدار خلیجی ممالک میں تیار ہوتی ہے۔

گندھک کی عالمی تجارت کا تقریباً نصف حصہ عام طور پر آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔

اس کا بنیادی استعمال زرعی کھاد کے طور پر ہے لیکن یہ دھات کی پروسیسنگ کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔

گندھک سلفیورک ایسڈ بنانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، جس کی مدد سے تانبے، کوبالٹ اور نکل کی پروسیسنگ کی جاتی ہے اور لیتھیم نکالا جاتا ہے۔

یہ تمام دھاتیں بیٹریوں کی تیاری کے لیے درکار ہوتی ہیں۔

گھریلو آلات سے لے کر الیکٹرک گاڑیوں اور فوجی ساز و سامان (جیسے کہ ڈرونز) تک، ہر چیز میں بیٹریاں استعمال ہوتی ہیں۔

تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ اگر سلفر کی فراہمی میں رکاوٹ برقرار رہی تو اس کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ ان تمام مصنوعات کی قیمتیں بڑھ جائیں گی جن میں بیٹریاں استعمال ہوتی ہیں۔

SOURCE : BBC