Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں بنگلہ دیش کے خلاف پاکستانی ٹیم 232 رنز پر آل آؤٹ: ’خراب...

بنگلہ دیش کے خلاف پاکستانی ٹیم 232 رنز پر آل آؤٹ: ’خراب تکنیک‘ پر بلّے باز ہدفِ تنقید اور کپتان کو ’گھر جانے‘ کے مشورے

13
0

SOURCE :- BBC NEWS

Babar Azam

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت 17 مئ 2026، 15:13 PKT

اپ ڈیٹ کی گئی ایک گھنٹہ قبل

مطالعے کا وقت: 5 منٹ

سلہٹ میں کھیلے جا رہے دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن کے اختتام تک بنگلہ دیش نے دوسری اننگز میں تین وکٹوں کے نقصان پر 110 رنز بنالیے ہیں۔

بنگلہ دیش کو اب تک پاکستان پر 156 رنز کی برتری حاصل ہو چکی ہے۔ اتوار کو دوسرے دن کا کھیل اس وقت ختم ہوا جب 27 اوور میں مومن الحق 30 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ اس وقت نجم الحسن شانتو 13 رنز بنا کر کریز پر موجود ہیں۔

اس سے قبل بنگلہ دیش کے خلاف پہلی اننگز میں پاکستان کی پوری ٹیم 232 رنز پر آل آؤٹ ہو گئی تھی۔

اپنی پہلی اننگز میں بنگلہ دیش کی ٹیم نے 278 رنز بنائے تھے اور اپنی دوسری اننگز کی شروعات سے قبل اسے پاکستان پر 46 رنز کی برتری حاصل تھی۔

پاکستان کی پہلی اننگز میں سب سے زیادہ 68 رنز بابر اعظم نے بنائے، جبکہ سپنر ساجد خان 38 رنز بنا کر دوسرے ٹاپ سکورر رہے۔

ان دونوں بلے بازوں کے علاوہ کوئی بھی کھلاڑی نمایاں کارکردگی نہیں دکھا سکا۔

پاکستان کی جانب سے اذان اویس نے 13، عبداللہ فضل نے نو، کپتان شان مسعود نے 21، سعود شکیل نے آٹھ سلمان آغا نے 21، محمد رضوان نے 13، حسن علی نے 18 اور خرم شہزاد نے 10 رنز بنائے۔

بنگلہ دیش کی طرف سے ناہید رانا اور تیج الاسلام نے تین، تین جبکہ مہد جس میراج اور تسکین احمد نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

Sajid Khan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس سے قبل بنگلہ دیش کی پہلی اننگز میں لٹن داس نے 126 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی اور اپنی ٹیم کو مشکلات سے نکالا تھا۔ ان کے علاوہ بنگلہ دیشی ٹیم کا کوئی بھی کھلاڑی 30 کے ہندسے میں بھی داخل نہیں ہو سکا تھا۔

پاکستان کی طرف سے خرم شہزاد نے چار، محمد عباس نے تین، حسن علی نے دو اور ساجد خان نے ایک وکٹ حاصل کی تھی۔

سوشل میڈیا پر بلے باز تنقید کی زد میں

سوشل میڈیا پر صارفین پاکستانی بلے بازوں سے ناخوش نظر آتے ہیں اور ٹیم پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔

کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ اگر اننگز کے آخر میں ساجد خان نے چار چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے 28 گیندوں پر 38 رنز نہ بنائے ہوتے تو بنگلہ دیش کو پاکستان پر مزید رنز کی برتری حاصل ہو سکتی تھی۔

احمد نامی صارف نے ساجد خان کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ سپنر کی بیٹنگ نے پاکستان کو کسی حد تک ریسکیو کیا۔

’تاہم باقی تمام بلے بازوں نے اوسط درجے کی کرکٹ کھیلی، غلط شاٹس کا انتخاب کیا۔ سوچیے اگر بابر اعظم صفر پر آؤٹ ہو جاتے تو پاکستان 150 رنز تک بھی نہیں پہنچتا۔‘

سابق ٹیسٹ کرکٹ فیصل اقبال نے پاکستان کھلاڑیوں پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’سینیئرز اتنی زیادہ کرکٹ کھیل چکے ہیں اور پھر بھی دباؤ کی صوتحال میں ناکارہ ہو جاتے ہیں اور اپنی وکٹس گنوا دیتے ہیں۔‘

Azeem

،تصویر کا ذریعہX

ایک صارف نے لکھا کہ بابر اعظم نے دیگر سینیئر کھلاڑیوں کے مقابلے میں اچھی اننگز کھیلی۔ مرزا وقار نے مزید لکھا کہ ’اس ٹیسٹ میچ کے بعد شان مسعود کو ریٹائرمنٹ پر غور کرنا چاہیے، سلمان علی آغا کی تکنیک ٹھیک نہیں ہے اور وہ 20، 30 رنز کو 50، 60 رنز میں تبدیل نہیں کر پا رہے۔‘

سوشل میڈیا صارفین نے آؤٹ آف فارم سعود شکیل اور محمد رضوان پر بھی تنقید کی ہے۔

Ahmed

،تصویر کا ذریعہX

طالب نامی صارف نے لکھا کہ ’دونوں بلے باز دونوں ٹیسٹ میچز میں اپنی خراب تکنیک کی وجہ سے آؤٹ ہوئے ہیں اور ان کی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی۔‘

دوسری جانب کرکٹ تجزیہ کار عظیم صدیقی نے شان مسعود پر تنقید کرتے ہوئے لکھا: ’آپ ایسی پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان ہے جس کی کرکٹ تاریخ شاندار رہی ہے، آپ یکے بعد دیگر بنگلہ دیش کے خلاف شکست کھا رہے ہیں تو آپ کے کپتان رہنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔ آپ گھر چلے جائیں۔‘

بنگلہ دیش کو اس ٹیسٹ سیریز میں ایک، صفر کی برتری حاصل ہے۔

SOURCE : BBC