Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں پی ایس ایل چھوڑ کر آئی پی ایل میں شامل ہونے والے...

پی ایس ایل چھوڑ کر آئی پی ایل میں شامل ہونے والے سری لنکن کھلاڑی کی ’معذرت‘ اور ایک سال کی پابندی

22
0

SOURCE :- BBC NEWS

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

21 اپريل 2026، 12:08 PKT

مطالعے کا وقت: 5 منٹ

پی سی بی (پاکستان کرکٹ بورڈ) نے سری لنکن آل راؤنڈر داسن شناکا پر ایک سیزن کے لیے پی ایس ایل کھیلنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

بورڈ کے مطابق شناکا نے لاہور قلندرز کے ساتھ اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ یاد رہے انھوں نے پی ایس ایل سے دستبردار ہو کر آئی پی ایل کی فرنچائز راجستھان رائلز کو جوائن کر لیا ہے۔

پی سی بی کے بیان کے مطابق یہ فیصلہ ایک تفصیلی جائزے کے بعد لیا گیا۔ جائزے میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ 21 مارچ 2026 کو کھلاڑی کا یکطرفہ طور پر ٹورنامنٹ سے دستبردار ہونا پلیئر رجسٹریشن کی شرائط اور ٹرائی پارٹی معاہدے کی واضح خلاف ورزی تھا۔

اگرچہ بورڈ نے رسمی سماعت کے دوران کھلاڑی کی جانب سے اظہارِ افسوس اور پاکستان میں کھیلنے کے جذبے کا نوٹس لیا ہے، تاہم معاہدے کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث لیگ کی ساکھ اور اس کی انفرادیت کو برقرار رکھنے کے لیے ریگولیٹری کارروائی ناگزیر قرار دی گئی۔

لہذا اب وہ پی ایس ایل 2027 میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہوں گے۔

thePSLt20

،تصویر کا ذریعہthePSLt20

شناکا پی ایس ایل سے معطل کیے جانے والے تیسرے کھلاڑی بن گئے ہیں۔

یاد رہے اس سے قبل بورڈ نے زمبابوے کے فاسٹ بولر بلیسنگ مزاربانی پر بھی دو سیزنز کی پابندی عائد کی تھی۔ مزا ربانی نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے ساتھ اپنا معاہدہ چھوڑ کر آئی پی ایل میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو جوائن کیا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ مزاربانی کو دی جانی والی سزا سب سے کڑی تھی۔

مزاربانی کے علاوہ جنوبی افریقہ کے آل راؤنڈر کوربن بوش پر بھی پابندی لگائی گئی تھی، جنھیں گذشتہ سال آئی پی ایل جوائن کرنے کے بعد موجودہ سیزن سے باہر کر دیا گیا تھا۔

شناکا کو لاہور قلندرز نے کھلاڑیوں کی نیلامی میں تقریباً 27 ہزار امریکی ڈالر میں خریدا تھا، تاہم انھوں نے سیزن شروع ہونے سے قبل ہی ٹیم چھوڑ دی اور بعد میں انگلینڈ کے سیم کرن کی جگہ راجستھان رائلز میں تقریباً دو لاکھ 14 ہزار ڈالر کے معاہدے پر آئی پی ایل کا حصہ بن گئے۔

یہ ان کی تین سال بعد آئی پی ایل میں واپسی تھی، تاہم وہ ابھی تک کوئی میچ نہیں کھیل سکے ہیں۔

پی سی بی کے بیان میں شناکا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے: ’میں پی ایس ایل سے دستبردار ہونے کے اپنے فیصلے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتا ہوں اور پاکستان کے عوام، پی ایس ایل کے مداحوں اور وسیع تر کرکٹ برادری سے معذرت خواہ ہوں۔‘

’پی ایس ایل ایک باوقار ٹورنامنٹ ہے اور میں اپنے عمل سے ہونے والی مایوسی کو مکمل طور پر سمجھتا ہوں۔ لاہور قلندرز کے وفادار مداحوں سے میں واقعی معذرت خواہ ہوں کہ میں انھیں مایوس کر گیا۔‘

انھوں نے مزید کہا ’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جب میں نے پی ایس ایل چھوڑا تو میرا کسی اور ٹورنامنٹ میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میں پاکستانی شائقین کی بہت عزت کرتا ہوں اور ہمیشہ پاکستان میں اپنے وقت سے لطف اندوز ہوا ہوں۔ میں امید کرتا ہوں کہ مستقبل میں بہتر تیاری اور مداحوں کے اعتماد کے ساتھ پی ایس ایل میں واپس آؤں گا۔‘

پی سی بی نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ وہ کھلاڑیوں کے معاہدوں کے پیشہ ورانہ معیار اور ان کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ پی ایس ایل برانڈ کی ساکھ اور کامیابی کو برقرار رکھا جا سکے۔

getty

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’مزاربانی پر دو سال کی پابندی تو شناکا پر بھی وہی قانون کیوں لاگو نہیں ہوتا؟‘

پی سی بی کے فیصلے پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماریہ راجپوت نے اسے ایک بہترین فیصلہ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ’ان کے ٹیم سے دستبردار ہونے سے ہماری مڈل آرڈر کمبینیشن مکمل طور پر متاثر ہوا ہے اور اب ہم باہر ہونے کے دہانے پر ہیں۔‘

سوشل میڈیا پر کئی صارفین یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ مزاربانی پر دو سال کی پابندی لگائی گئی تھی تو شناکا پر بھی وہی قانون کیوں لاگو نہیں ہوتا؟

ثاقب شاہ کا کہنا ہے کہ ان پر بھی دو سال کی پابندی لگنی چاہیے تھی۔۔۔ تاہم انھوں نے اسے ایک بہتر فیصلہ قرار دیا۔

سعد کا ماننا ہے کہ کم از کم انھیں تین سال کے لیے بین ہونا چاہیے۔ ’وہ اس وقت وہاں بینچ پر بیٹھے ہیں، اور اگلے سال اور اس کے بعد بھی شاید کوئی انھیں نہیں خریدے گا۔‘

غفار بٹ کہتے ہیں کہ ’پی ایس ایل کے لیے ایسے کھلاڑیوں کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے جو اپنے کیریئر کے زوال کے مرحلے میں ہوں۔‘

SOURCE : BBC