Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں بااثر نجومی کی درجنوں سیکس ویڈیوز وائرل، ریپ کے آٹھ مقدمات درج:...

بااثر نجومی کی درجنوں سیکس ویڈیوز وائرل، ریپ کے آٹھ مقدمات درج: ’خود کو بھگوان کا روپ کہتے، خواتین کو دھمکاتے کہ اگر سیکس نہیں کیا تو شادی ٹوٹ جائے گی‘

12
0

SOURCE :- BBC NEWS

اشوک کمار کھرات (درمیان) کے خلاف اب تک دس کیسز درج کیے جا چکے ہیں جن میں سے آٹھ مقدمات ریپ کے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPraveen Thackrey

انڈیا کی ریاست مہاراشٹر کے شہر ناسک کے ایک متمول علاقے میں ایک کونے پر اوکس پراپرٹیز اور ڈیولپرز کا ایک بورڈ لگا ہوا ہے۔ اس بورڈ کو دیکھ کر کوئی بھی شخص یہی سمجھے گا کہ یہ جائیداد کی خرید وفروخت کا دفتر ہے۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔

یہ یہاں کے ایک جانے مانے اور با اثر نجومی بابا اشوک کمار کھرات کا دفتر ہے۔

لوگ اپنے مسائل کے حل اور مستقبل کا حال جاننے کے لیے یہاں آتے۔ رفتہ رفتہ ان کی شہرت اتنی بڑھ گئی کہ اس چھوٹے سے آفس میں متوسط طبقے کے لوگوں کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے کاروباری اور اعلیٰ سرکاری افسروں کی بھیڑ لگی رہتی۔ بابا سے ملنے جلنے والوں میں بعض سیاسی رہنما بھی شامل تھے۔

ریاستی حکومت کی خواتین کےسرکاری کمیشن کی سربراہ روپالی چکانکر بھی بابا سے بہت قریب سمجھی جاتی تھیں۔ گذشتہ ماہ کی 18 تاریخ کو پولیس نے بابا کو ریپ کے الزام گرفتار کر لیا ہے۔ ان کے خلاف اب تک دس کیسز درج کیے جا چکے ہیں جن میں سے آٹھ مقدمات ریپ کے ہیں۔

پولیس کو ایک ’پین ڈرائیو‘ ملی ہے جس میں 58 سے زیادہ خواتین کے ساتھ بابا کے سیکس کی ویڈیوز ہیں۔

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیوندر فڈنویس نے 24 مارچ کو ریاستی اسمبلی میں بتایا کہ اُس دن تک کھرات کے خلاف ممجوعی طور پر آٹھ کیس درج کیے جا چکے تھے۔ بعد میں ان کے خلاف کئی اور کیسز درج کیے گئے۔

وزیر اعلیٰ ‌دیوندر فڈنویس نے اسمبلی میں ایک بیان دیتے ہوئے کہا ’کھرات خود کو ایک خود ساختہ گاڈمین یا بابا کی طرح پیش کرتا اور خواتین کے ساتھ ریپ اور فحش حرکتوں کا ارتکاب کرتا۔ ایک گواہ جس نے ان کے خلاف ثبوت پیش کرنے کی کوشش کی تھی انھیں کھرات کی طرف سے جان کا خطرہ تھا۔‘

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ’تین خواتین ان کے خلاف شکایت درج کرانے کے لیے تیار ہو گئی ہیں۔ 24 مارچ تک کھرات کے خلاف ریپ اور استحصال کے چھہ معاملے درج کیے جا چکے تھے۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انھوں نے دعویٰ کیا کہ سبھی فوٹو اور ویڈیوز سوشل میڈیا سے ہٹا دی گئی ہیں اور سبھی چینلوں سے کہا گیا ہے کہ وہ متاثرہ خواتین کی شناخت ظاہر نہ کریں۔

دیوندر فڈنویس نے مزید بتایا کہ پولیس کی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ ’کھرات نے فروری 2020 سے 18 مارچ 2025 تک ایک خاتون کو بار بار اپنے دفتر بلاتا، انھیں نشہ آور پانی پلاتا اور پھر مذہبی عمل کے نام پر ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرتا۔ وہ خاتون حاملہ ہو گئیں۔ کھرات نے انھیں حمل ضائع کرنے کی دوا دی اور انھیں دھمکی دی کہ وہ یہ بات کسی کو نہ بتائیں۔‘

نجومی اشوک کھرات اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں۔ عدالت نے انھیں آٹھ اپریل تک پولیس کی ریمانڈ میں دے دیا ہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے بابا پوچھ گچھ میں تعاون نہیں کر رہے جبکہ اس معاملے میں کئی اہم لوگوں کے نام آنے اور سیکس ویڈیوز کے سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر وائرل ہونے کے باعث یہ معاملہ بہت حساس رخ اختیار کر چکا ہے۔

مہاراشٹر کی حکومت نے اس سیکس سکینڈل کی تفتیش کے لیے اعلیٰ پولیس افسر تیجسونی ست پوتے کی سربراہی میں ایک سپیشل انوسٹیگیشن ٹیم تشکیل دی ہے۔

پولیس نے اشوک کھرات کی گرفتاری کے وقت ابتدائی طور پر کچھ بیانات دیے تھے لیکن اس کے بعد تفتیش کاروں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

بابا کے ساتھ خواتین کی کمیشن کی سربراہ روپالی کی کئی تصویریں سامنے آئی ہیں جس میں وہ عقیدت سے بابا کا پیر دھوتی ہوئی اور ان کے اوپر چھتری سے سایہ کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہیں۔ اشوک کھرات پر ریپ کے الزامات کے بعد روپالی وزیراعلیٰ دیوندر فڈنویس کی ہدایت پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئی ہیں۔

یہ معاملہ کیسے سامنے آیا؟

پولیس نے بتایا کہ 18 مارچ کو اشوک کھرات کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب ایک 35 سالہ شادی شدہ خاتون نے ان پر الزام لگایا کہ انھوں نے 2022 سے 2025 تک ان پر دباؤ ڈال کر ان کا جنسی استحصال کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ نجومی اشوک کھرات نے مذہبی رسومات، جادو ٹونے اور یہ کہہ کر کہ وہ کرشماتی روحانی قوتوں کے مالک ہیں اس خاتون کا اعتماد حاصل کیا۔ وہ مبینہ طور پر خاتون کے کھانے اور پانی میں کوئی نشہ آور چیز ملا کر ان کے ساتھ کئی برس تک ان کا ریپ کرتے رہے۔

متاثرہ خاتون کو پولیس میں شکایت درج کرنے کی ہمت تب ملی جب انھیں معلوم ہوا کہ نجومی کے ایک آفس اسسٹٹنٹ نے ان کے خلاف خواتین کے جنسی استحصال کا معاملہ درج کروایا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ ملزم نے شکایت کنندہ خاتون کو یہ دھمکی بھی دے رکھی تھی کہ اگر انھوں نے اس بارے میں منھ کھولا تو وہ انھیں اور ان کے شوہر کو اپنی روحانی طاقت سے برباد کر دیں گے۔

پولیس نے بتایا ہے کہ اس کیس کے بعد کئی اور خواتین سامنے آئی ہیں۔ اب تک ریپ کے الگ الگ معاملات درج کیے جا چکے ہیں۔

پولیس کی جانب سے متاثرہ خواتین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بے خوف ہو کر اپنی شکایات درج کروائیں، ان کی شناخت ظاہر نہیں کی جائے گی۔ پولیس نے بتایا ہے کہ لوگوں نے فون پر مختلف نوعیت کی شکایات درج کروائی ہیں۔

ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ جب بھی کوئی شادی شدہ جوڑا بابا سے ملنے آتا تو وہ کچھ دیر بات کرنے کے بعد شوہر کو چیمبر سے باہر بھیج دیتے تاکہ خاتون سے اکیلے میں بات کر سکیں۔ اطلاعات کے مطابق اشوک کھرات کا چیمبر ساؤنڈ پروف تھا۔

مقامی خبروں کے مطابق اشوک کھرات کے آفس اسسٹنٹ کی اہلیہ حاملہ تھیں جب وہ بابا کا آشیرواد لینے کے لیے ان کے دفتر آئیں۔

آفس اسسٹنٹ کی اہلیہ نے اپنے شوہر کو بتایا کہ بابا ڈھونگی ہیں اور انھوں نے انھیں نازیبا انداز میں ہاتھ لگانے کی کوشش کی تھی۔

خبروں کے مطابق بابا کے مرتبے اور ان کی مذہبی حیثیت کے پیش نظر پہلے تو آفس اسسٹنٹ نے بیوی کی باتوں کا یقین نہیں کیا لیکن جب بیوی نے حمل میں اپنے بچے کی قسم کھائی تو اسے پورا یقین ہو گیا۔ اس نے بابا کے طریقہ کار اور ان کی حرکتوں پر نظر رکھنی شروع کی۔

کچھ ہی دنوں میں اس کی سمجھ میں آ گیا کہ بابا مذہب اور نجوم کی آڑ میں خواتین کا جنسی استحصال کر رہے ہیں۔ اس نے بابا کے چیمبر میں ایک خفیہ کیمرہ نصب کر دیا۔

آفس اسسٹنٹ نے وسل بلور کا کام کیا۔ اس نے 48 سے زیادہ خواتین کے سا تھ بابا کے سیکس ویڈیوز پولیس کے حوالے کی ہیں۔

جنسی استحصال

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’اشوک متاثرہ خواتین کو ڈراتے کہ اگر سیکس نہیں کیا تو ان کی شادی ٹوٹ جائے گی‘

جہاں اشوک کھرات کے اسسٹنٹ کی جانب سے ریکارڈ کی گئی ویڈیوز ان کی گرفتاری کا سبب بنی ہیں وہیں دوسری جانب یہ ویڈیوز سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپوں پر وائرل ہو گئی ہیں۔

اب پولیس انھیں ایک پلیٹ فارم سے ہٹاتی ہے وہ دوسری جگہ پوسٹ کر دی جاتی ہیں اور اس کے وجہ سے دیگر مسائل جنم لے رہے ہیں۔

دلی میں مقیم وکیل اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ریسرچ سکالر چترانگدا شرما نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ’ان ویڈیوز کو لوگ جنسی مزے لینے کے لیے دیکھتے ہیں لیکن یہ متاثرہ خواتین کے لیے مستقل ذلت کا سبب بنی رہیں گی۔ ان ویڈیوز کے وائرل ہونے کا متاثرین پر بہت شدید اثر پڑا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ تنہائی میں چلی گئی ہیں اور خاموش رہنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ بہت سی خواتین اس ڈر سے کہ سماج اور اپنی فیملی میں ان کی شناخت ظاہر ہو جائے گی جنسی زیادتیوں کی شکایت درج نہیں کرواتی ہیں۔‘

دوسری جانب پولیس نے بھی لوگوں سے اپیل کی ہے وہ ان ویڈیوز کو شئیر اور پوسٹ نہ کریں۔

ان ویڈیوز میں اشوک کھرات کو متاثرہ خواتین کے ساتھ ان کے چھوٹے سے ساؤنڈ پروف چیمبر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیوز کے دوران وہ متاثرہ خواتین کے ساتھ ایک مختصر سی مذہبی رسم کرتے ہوئے یا کچھ منتر وغیرہ پڑھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور پھر ان کے ساتھ جنسی عمل شروع کرتے ہیں۔

ناسک کے سرکردہ مراٹھی روزنامہ ’دویہ مراٹھی‘ کی ایڈیٹر دیپتی راوت نے اس متعلق بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’جن متاثرہ خواتین نے ایف آئی آر درج کروائی ہے انھوں نے اپنی شکایات میں بتایا ہے کہ نجومی اشوک کھرات خود کو بگھوان کا روپ کہتے تھے۔ وہ پچھلے جنم میں کرشن ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔‘

’وہ ان خواتین کو دھمکاتے تھے کہ اگر انھوں نے ان کے ساتھ سیکس نہیں کیا تو ان کی شادی ٹوٹ جائے گی، کسی سے وہ کہتے کہ اگر ایسا نہ کیا تو شادی کے بعد ان کا شوہر مر جائے گا۔‘

دیپتی راوت کہتی ہیں کہ ’اشوک اس جنسی عمل کو ایک مذہبی عمل قرار دیتے اور کہتے کہ اس کے ذریعے وہ پوجا کرتے ہیں جس سے خاتون اور ان کا شوہر یا گھر پر آئی مصیبت یا یبماری وغیرہ ٹل جائے گی۔’

اشوک کھرات کے خلاف درج ایف آئی آر میں خواتین نے الزام لگایا ہے کہ اشوک انھیں پانی یا کھانے میں کوئی نشہ آور چیز ملا کر دیتے تھے جس سے وہ شل ہو جاتی تھیں۔

خواتین کا مزید کہنا ہے کہ بابا اتنے بااثر تھے کہ وہ ان کے خلاف کچھ بھی کہنے سے ڈرتی تھیں اور ان کی ہر بات ماننے پر مجبور ہو جاتی تھیں۔

اشوک کھرات کے آفس جانے والے بتاتے ہیں کہ اشوک کھرات کی شخصیت بہت رعب دار تھی، وہ بہت ٹھہر ٹھہر کر اور بہت سوچ سمجھ کر بات کرتے۔ ان کے مطابق اشوک کئی زبانیں جانتے تھے اور اکثر زبان بدل کر بات کرتے۔ ان سب باتوں سے وہ ایک سحر انگیز ماحول بنانے میں کامیاب ہو جاتے اور ملنے آنے والے بنا کسی سے صلاح مشورہ کیے ان سے مرغوب ہو جاتے۔

اشوک کھرات کا دفتر

،تصویر کا ذریعہPraveen Thackrey

اشوک کھرات کون ہے؟

پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق اشوک کھرات ناسک کے ایک گاؤں کھنڈال واڈی کے ایک کسان خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے کئی بھائی بہن تھے۔ والد سے کسی بات پر جھگڑا ہونے کے بعد وہ گھر چھوڑ کر چلے گئے۔ اطلاعات کے مطابق وہ دسویں کا امتحان بھی پاس نہیں کر سکے تھے۔

1990 کے عشرے میں اچانک وہ اپنے گاؤں واپس آگئے لیکن اب کی بار وہ کافی پیسے کما کر آئے تھے۔

ان کے متعلق یہ خبر پھیل گئی تھی کہ انھوں نے مرچنٹ نیوی جوائن کر لی تھی۔ لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ انھوں نے ناسک میک میں ایک مندر تعمیر کیا اور وہ اس کے ٹرسٹ کے سربراہ بن گئے۔ وہ وہاں آنے والوں کے ہاتھ دیکھ کر یا ایسے ہی ان کی قسمت کا حال اور مستقبل وغیرہ بتاتے تھے۔

یہیں سے ان کا عروج شروع ہوا۔ آہستہ آہستہ ان کی شہرت بڑھتی گئی اور وہ ایک نجومی کے طور پر اتنے مقبول ہو گئے کہ ان کے یہاں لوگوں کی بھیڑ لگی رہتی۔ اشوک کھرات کے ماننے والوں میں متوسط طبقے کے لوگ، پڑھے لکھے اعلی افسران اور سیاسی رہنما تک شامل تھے۔

اشوک کھرات عرف نجومی بابا اب پولیس کی حراست میں ہیں۔ پولیس کی ایک خصوصی ٹیم اب تک سامنے آنے والی تمام ویڈیوز کی جانچ کر رہی ہے۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ خصوی تفتیشی ٹیم اس سنگین معاملے کی پوری گہرائی سے جانچ کرے گی اور اس سکینڈل میں جو بھی ملوث پایا گیا اسے بخشا نہیں جائے گا۔

SOURCE : BBC