SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہRachel Grady
وہ چیزیں خریدنے اور جوئے کی لت میں مبتلا تھیں۔ چار سال تک ریچل گریڈی نے یہ بات چھپائے رکھی، اپنے شوہر اور دو بچوں سے بھی۔ لیکن پھر ایک روز ان کی بس ہو گئی۔
ریچل کے مطابق 2024 میں ان کا حوصلہ بالکل ہی جواب دے گیا اور انھوں نے اپنے قریبی لوگوں کے سامنے اعتراف کیا کہ ان کے پاس ’کچھ بھی نہیں بچا‘ اور وہ 40 ہزار پاؤنڈز (پاکستانی تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے) کی مقروض ہو چکی ہیں۔
41 سالہ ریچل بتاتی ہیں کہ ’بطور انسان میں مکمل طور پر ٹوٹ چکی تھی۔ میں نے کئی کریڈٹ کارڈ ان کی آخری حد تک استعمال کر لیے تھے اور صرف اتنی تنخواہ کما رہی تھی جو کریڈٹ کارڈز کی کم از کم قسطوں کو پورا کرتی تھی۔‘
لیکن اس اعتراف نے انھیں ایک نیا راستہ دکھایا۔۔۔ کپڑے آن لائن بیچنے کا راستہ۔
ایک سال سے کچھ ہی اوپر وقت میں ان کا قرض ختم ہو چکا تھا اور زندگی مکمل طور پر بدل چکی تھی۔
وہ اپنی کامیابیوں پر فخر کرتی ہیں لیکن پھر بھی کبھی کبھی ریچل کو لگتا ہے کہ یہ سب ایک خواب ہے۔
ریچل نے سنہ 2020 سے لے کر اگست 2024 تک اپنی دوستوں کو خاندان والوں کو اپنی لت کے بارے میں نہ بتایا۔
ان کی دوست انھیں بتا رہی تھیں کہ وہ اپنے گھر میں منتقل ہونے جا رہی ہیں اور یہ کہ ان کی زندگی ’بہت اچھی چل رہی ہے۔‘
ریچل کو اپنی دوست پر فخر تھا لیکن ساتھ ہی انھیں یہ احساس بھی ہوا کہ ان کی اور ان کی دوست میں زندگیاں کس قدر مختلف ہیں۔
ریچل بتاتی ہیں: ’میں بس یہی سوچ رہی تھی کہ میں خوش نہیں ہوں۔ میں اس وقت واقعی بری حالت میں ہوں۔ میرے پاس کچھ بھی کرنے کے لیے رقم نہیں تھی اور میں بالکل کنگلی ہو چکی تھی۔‘
یہ وہ لمحہ تھا جب انھوں نے اپنے گھر والوں کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ مشکل میں ہیں۔
ریچل بتاتی ہیں کہ ’میرے بچوں نے میری بات سن کر کہا: ماں! آپ یہ کر سکتی ہیں۔‘
ریچل کے مطابق بچوں کا یہ حوصلہ افزا جملہ ہی وہ چنگاری تھا جس نے انھیں دوبارہ کھڑا ہونے کا حوصلہ دیا، جیسے ان کے اندر نئی جان آ گئی ہو۔
،تصویر کا ذریعہRachel Grady

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ریچل نے تقریباً 24 سال فوج میں گزارے تھے۔ اپنے کیریئر کو وہ اپنی زندگی کا ’سب سے بہترین حصہ‘ قرار دیتی ہیں لیکن ساتھ ہی یہ تسلیم بھی کرتی ہیں کہ اس کیریئر نے ان کی ذہنی صحت پر اثر ڈالا۔
وہ بتاتی ہیں: ’آپ بس دکھاوا کرتے ہیں کہ کچھ غلط نہیں، لیکن اندر بہت کچھ چل رہا ہوتا ہے۔‘
ریچل کا کہنا ہے کہ ان کی ذہنی صحت مسلسل زوال پذیر تھی اور انھیں فوج کی طرف سے تھیراپی اور ادویات کا سہارا لینا پڑا۔
وزارت دفاع کے مطابق وہ جوئے کے مسئلے کو بہت سنجیدگی سے لیتی ہے اور تسلیم کرتی ہے کہ اس لت سے فوجی اہلکاروں کی صحت پر ’نمایاں اثرات‘ ہوتے ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اس لت سے نمٹنے کے لیے ایک جامع طبی نظام موجود ہے؛ جس میں معائنہ، مدد، نیشنل ہیلتھ سروس کی خصوصی خدمات کی فراہمی سے لے کر فلاحی اور اخلاقی معاونت تک شامل ہے۔
ریچل بتاتی ہیں کہ اس کے باوجود کووڈ کے دوران وہ جوئے والی ویب سائٹس اور متعلقہ مشاغل کی جانب مائل ہو گئیں کیوں کہ وہ ’بالکل بھی خوش نہیں تھیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ وہ آئن لائن ایپس کے ذریعے جوا کھیلتی تھیں اور دوسروں کو بھنک تک نہ پڑنے دی کہ وہ اس لت میں مبتلا ہو چکی ہیں۔
ریچل کے مطابق ’ہم ہمیشہ ہی اپنے فونز میں مشغول ہوتے ہیں۔‘
اگر کبھی پوچھ بھی لیا جاتا کہ آپ کیا کر رہی ہیں تو ریچل بتاتیں کہ وہ کسی کو موبائل فون پر پیغام بھیج رہی ہیں۔ جب کہ اصل میں وہ ’بنگو سائیٹس میں پیسے ڈال رہی ہوتی تھیں۔‘
’میں نے یقینی بنایا کہ کسی کو اس بات کا علم نہ ہونے دوں۔ اسی لیے مجھے معلوم ہوا کہ جو کچھ میں کر رہی ہوں وہ غلط ہے، کیوں کہ میں اسے چھپا رہی ہوں۔‘
جوئے کی لت کو پورا کرنے کے لیے پیسوں کی ضرورت پڑتی تو ریچل ونٹڈ اور ای بے پر اپنے کپڑے بیچ دیتیں۔
لیکن یہاں ایک اور مسئلہ بھی تھا۔
انھیں مزید کپڑے خریدنے کی بھی لت پڑ چکی تھی، اس کی خاطر انھوں نے تین کریڈٹ کارڈز اپنی آخری حدوں تک استعمال کر لیے تھے۔
ریچل بتاتی ہیں کہ ’میں صرف کپڑے خرید کر الماری میں رکھتی جا رہی تھی، مجھے اسی میں لطف ملتا تھا۔‘
’میں کہیں جاتی نہیں تھی تو کپڑے بیچ کر مجھے اچھی رقم مل جاتی تھی۔ وہ پیسے میں پھر جوئے میں لگا دیتی تھی اور اس کے بعد مزید کپڑے خرید لیتی تھی۔‘
’یہ بالکل ایک شیطانی چکر کی طرح تھا۔‘
،تصویر کا ذریعہRachel Grady
ریچل کے مطابق انھوں نے خود کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ ’میرے ساتھ کچھ غلط نہیں ہے۔‘
وہ جوئے اور خریداری کو لت کو ’یہ تو بالکل عام سی بات ہے‘ کہہ کر جواز پیش کر دیتیں۔
ریچل بتاتی ہیں کہ ’میں جانتی تھی یہ عام سی بات نہیں ہے لیکن میں خود کو کہتی تھی کہ یہ ہے۔ پھر میں سب کچھ چھپا لیتی۔‘
انھوں نے کہا: ’جب تک آپ عادی نہ ہو جائیں اس وقت تک آپ کو احساس نہیں ہوتا۔ اور عادی ہو جانے کے بعد آپ خود کو سمجھاتے ہیں کہ آپ عادی نہیں ہوئے۔ لیکن یہ جھوٹ ہوتا ہے۔ آپ کو لت پڑ چکی ہوتی ہے اور آپ اس کے آگے ہارتے چلے جاتے ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہRachel Grady
اپنی اس لت سے چھٹکارا پانے کے لیے ریچل نے کپڑے بیچنے کی اپنی مہارت کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے ٹک ٹاک پر ایسے لوگ تلاش کیے جو زیادہ مقدار میں کپڑے خرید کر انھیں منافع پر بیچتے تھے۔
ریچل نے 30 پاؤنڈز میں کپڑوں کا بنڈل خریدا اور 500 پاؤنڈز میں بیچا۔
اس موقع پر انھیں لگا کہ ’میں یہ کر سکتی ہوں۔ اور پھر جلد ہی صرف ونٹڈ پر وہ 2000 پاؤنڈز ماہانہ کما رہی تھیں۔‘
اکتوبر 2025 میں ریچل نے ٹک ٹاک پر اپنا اکاؤنٹ بنایا تاکہ اپنے (کپڑے بیچنے کے) سفر کو دستاویزی شکل دے سکیں اور خود بھی ’سیدھے راستے پر چلتی رہیں۔‘
اور پھر بڑھتے بڑھتے ان کے 20 ہزار فالوورز ہو گئے۔
انھیں فکر تھی کہ شاید ان کے دو بچے ٹک ٹاک پر منفی رد عمل دیں گے، لیکن بچوں نے اس پر فخر کا اظہار کیا۔ بچوں کے دوست بھی ریچل کی کہانی سے متاثر ہوئے۔
’میں بہت خوش ہوں کہ اس منفی صورت حال سے ایک مثبت نتیجہ نکلا۔ خاص طور پر میرے بچوں کے لیے بھی۔‘
ٹک ٹاک سے ریچل نے ایسی سائٹس دریافت کیں جہاں براہ راست نیلامی ہوتی تھی۔ یوں انھوں نے اپنی کمپنی بنائی اور اب وہ ماہانہ 10 سے 15 ہزار پاؤنڈز کماتی ہیں۔
ان کے مطابق: ’میں ابھی تک نہیں کہہ سکتی کہ مکمل طور پر صحت یاب ہو چکی ہوں، کیوں کہ میں نہیں ہوئی۔ تاہم میں خود کو یاد دلاتی ہوں کہ کیا کچھ کرنے میں کامیاب ہوئی۔‘
،تصویر کا ذریعہRachel Grady
اگرچہ ریچل نے جوئے والی ویب سائٹس پر جانا بہت کم کر دیا ہے لیکن کبھی کبھی انھیں سلاٹ مشین تک جانے کی بہت ’طلب‘ ہوتی ہے اور پھر ساتھ ہی انھیں یاد آ جاتا ہے کہ وہ اس سب سے کتنی دور آ چکی ہیں۔
’جو کچھ میں نے حاصل کیا ہے، اسے یاد کرنے کا احساس ہمیشہ جوا کھیلنے پر غالب آ جاتا ہے۔ اب میں (جوا کھیلنے کے بجائے) کپڑے بیچ کر لطف لیتی ہوں۔ یہ پیسہ لٹانے سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔‘
اپنی ذہنی صحت کے لیے ادویات لینے کے علاوہ ریچل ورک شاپس بھی منعقد کرتی ہیں تاکہ جو کچھ انھوں نے سیکھا ہے وہ دوسروں کو سکھا سکیں اور دوسرے لوگ بھی اپنی لت پر قابو پا سکیں۔
ریچل کے مطابق ایک خاتون نے وہی کیا جو انھوں نے سکھایا تھا اور اب وہ اپنا گھر خریدنے والی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’لوگوں کو شرمندہ نہیں ہونا چاہیے اور (مشکل صورت حال سے نکلنے کا) ہمیشہ کوئی نہ کوئی راستہ موجود ہوتا ہے۔ لوگ کبھی کبھار خوش گوار انجام سے دوچار ہو ہی جاتے ہیں۔ میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے اپنا انجام ملا۔‘
SOURCE : BBC



