Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں سوشل میڈیا ایپس کے خلاف ’گیم چینجر‘ فیصلہ: ’بچوں کے معاملے میں...

سوشل میڈیا ایپس کے خلاف ’گیم چینجر‘ فیصلہ: ’بچوں کے معاملے میں کوئی بھی کمپنی احتساب سے بالاتر نہیں‘

6
0

SOURCE :- BBC NEWS

Meta's boss Mark Zuckerberg appeared in court in February to defend the company, but it could now face further challenges over how it runs its platforms

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لاس اینجلس کی ایک جیوری نے دنیا کے دو سب سے مقبول ڈیجیٹل پلیٹ فارمز انسٹاگرام اور یوٹیوب کے خلاف ایک سخت فیصلہ سنایا ہے جسے دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے ’گیم چینجر‘ تصور کیا جا رہا ہے۔

جیوری نے قرار دیا کہ ان ایپس کی لت لگ سکتی ہے اور جان بوجھ کر اسی طرح تیار کی گئی تھیں۔

جیوری کے مطابق ایپس کے مالکان نے ان کا استعمال کرنے والے بچوں کی حفاظت کے معاملے میں غفلت برتی ہے۔

یہ سیلیکون ویلی کے لیے ایک سنجیدہ لمحہ ہے اور اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔

اس کیس میں شامل ٹیک کمپنیوں میٹا اور گوگل کو اب کیلی نامی نوجوان خاتون کو 60 لاکھ ڈالرز ہرجانے کی رقم ادا کرنا ہوگی۔ کیلی اس کیس کا مرکزی کردار ہیں۔

ان کا دعویٰ تھا کہ ان پلیٹ فارمز نے انھیں باڈی ڈسمورفیا، ڈپریشن اور خودکشی کے خیالات میں مبتلا کر دیا۔

دونوں کمپنیاں اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

میٹا کا کہنا ہے کہ کوئی ایک ایپ اکیلے نوعمر افراد کے ذہنی صحت کے بحران کی ذمہ دار نہیں ہوسکتی۔ دوسری جانب گوگل کا موقف ہے کہ یوٹیوب ایک سوشل نیٹ ورک ہے ہی نہیں۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی قانون کی پروفیسر ڈاکٹر میری فرینکس کے مطابق فی الحال اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ ’بے لگام آزادی کا دور ختم ہو گیا ہے۔‘

کیا یہ تمباکو کی کمپنیوں کے خلاف تاریخی اقدام جیسا ہے؟

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

شاید منفی خبروں سے مایوس دنیا بھر میں لوگوں کے لیے یہ فیصلہ زیادہ حیران نہ ہو لیکن میرا خیال ہے کہ ٹیک کمپنیاں ضرور ہکا بکا رہ گئی ہیں۔

میٹا اور گوگل نے اس کیس کا دفاع کرتے ہوئے دل دہلا دینے والی قانونی فیسیں ادا کیں۔ یہ کیس اور اس جیسے دیگر مقدمات ان کے لیے واضح طور پر انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔

مقدمے میں شامل باقی دو کمپنیاں ٹک ٹاک اور سنیپ چیٹ عدالت میں جانے سے پہلے ہی سمجھوتہ کر چکی تھیں۔ ٹیک حلقوں میں چہ مگوئیاں تھیں کہ وہ اس لڑائی کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتیں۔

مجھے چمک دمک سے بھرپور بریفنگز میں مدعو کیا گیا تھا جن میں بتایا جاتا تھا کہ سوشل نیٹ ورکس بچوں کی حفاظت کے لیے (خاص طور پر والدین کے لیے) کون کون سے ٹولز فراہم کرتے ہیں۔

مگر آخرکار عدالت نے قرار دیا کہ ان اقدامات میں سختی نہیں تھی۔

آرٹورو بجار انسٹاگرام میں کام کر چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے کئی سال پہلے مارک زکربرگ کو خبردار کیا تھا کہ یہ پلیٹ فارم بچوں کے لیے خطرات پیدا کرتا ہے۔

انھوں نے جمعرات کو بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ’ٹوڈے‘ میں بتایا کہ ’یہ ایک ایسی پروڈکٹ بن گئی ہے جسے آپ استعمال نہیں کرتے، بلکہ وہ آپ کو استعمال کرتی ہے۔‘

میٹا نے ان کے دعوؤں کی تردید کی ہے۔

کچھ ماہرین نے اس فیصلے کو بڑی ٹیک کمپنیوں کے لیے ’بگ ٹوبیکو لمحہ‘ قرار دیا ہے، یعنی جیسا تمباکو کی کمپنیوں کے ساتھ ہوا تھا۔ اگرچہ لوگوں نے سگریٹ نوشی مکمل طور پر بند نہیں کی تاہم ہمیں معلوم ہے کہ اس کا انجام کیا ہوا۔

کیا اب سکرین پر صحت سے متعلق وارننگز لگیں گی اور اشتہارات اور سپانسرشپ کے مواقع محدود ہو جائیں گے؟

امریکہ میں ٹیک کمپنیاں فی الحال سیکشن 230 نامی شق کے تحت قانونی تحفظ رکھتی ہیں جو انھیں شائع ہونے والے مواد کی ذمہ داری سے بچاتی ہے۔ دیگر قسم کی میڈیا کمپنیاں یہ فائدہ نہیں اٹھا سکتیں۔

اکثر کہا جاتا ہے کہ ٹیک انڈسٹری اس تحفظ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔

مگر اس حفاظتی ڈھال کے بارے میں شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں۔ بدھ کو سینیٹ کامرس کمیٹی نے اس پر بحث کے لیے ایک سماعت منعقد کی۔

ٹیک رہنما کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ عام طور پر خوشگوار تعلقات رہے ہیں جنھوں نے اس شعبے کی بھرپور حمایت کی ہے۔

لیکن وہ ابھی تک اس معاملے میں ان کی حمایت میں سامنے نہیں آئے۔

A plaintiffs' attorney for the Social Media Victims Law Center embracing family members of victims on the steps outside the Los Angeles Superior Court on Wednesday.

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

ایک اور امکان یہ ہے کہ پلیٹ فارمز کو مجبور کیا جائے کہ وہ ایسے تمام فیچرز نکال دیں جو صارفین کو ایپ پر زیادہ دیر تک رکھنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔

لیکن ’انگیجمنٹ‘ بڑی ٹیک کمپنیوں کے لیے لائف لائن کی مانند ہے۔ اس کے کئی فیچرز اِن ایپس میں موجود ہوتے ہیں جیسے نہ ختم ہونے والی سکرولنگ، الگورتھمک ریکمینڈیشنز اور آٹو پلے۔

اگر آپ یہ تمام تکنیکیں ختم کر دیں تو آپ کے پاس ایک بالکل مختلف اور بظاہر محدود سوشل میڈیا تجربہ رہ جاتا ہے۔

بڑے پلیٹ فارمز کی کامیابی ان کی ٹریفک میں ہے، یعنی زیادہ سے زیادہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ وقت تک آن لائن رکھنا اور انھیں بار بار واپس آنے پر مجبور کرنا۔ تاکہ انھیں جتنے زیادہ سے زیادہ اشتہارات دکھائے جا سکیں۔ کمپنیوں کی آمدن کا یہی ماڈل ہے۔

برطانیہ سمیت کئی خطوں میں بچے اس اشتہاری مشین کا حصہ نہیں بنتے لیکن یہ صرف اس وقت سے ممکن ہوا ہے جب ریگولیٹرز نے مداخلت کی۔

تاہم آج کے بچے کل کے بالغ ہیں اور ٹیک کمپنیوں کے لیے بہترین صورتحال یہ ہے کہ کوئی نوجوان 18 سال کا ہو اور پہلے سے ہی ایک سرگرم صارف ہو۔

فیس بک کو اکثر مذاق میں ’بومر پلیٹ فارم‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن 2025 کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس کے دنیا بھر کے تقریباً نصف صارفین کی عمریں 18 سے 35 سال کے درمیان ہیں۔

سوشل میڈیا کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں

کیلی کی عدالت میں جیت اب بڑی ٹیک کمپنیوں کی دوسری شکست ہے۔ ایسے کئی ملتے جلتے مقدمات اس سال امریکہ میں سماعت کے لیے مقرر ہیں۔

یونیورسٹی آف سڈنی کے ڈاکٹر روب نکولز نے کہا کہ ’یہ تاریخی فیصلہ اور سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف دیگر متعدد اسی نوعیت کے مقدمات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اب عدالتیں پلیٹ فارم ڈیزائن کو ایسی انتخابی ترجیحات کے طور پر دیکھ رہی ہیں جن کے حقیقی قانونی اور سماجی نتائج ہو سکتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ ان سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی سسٹمز کے خلاف وسیع پیمانے پر چیلنجز کا دروازہ کھولتا ہے جو صارفین کی بہبود کی قیمت پر انگیجمنٹ کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔‘

اور آسٹریلیا، جہاں ڈاکٹر نکولز رہتے ہیں، پہلے ہی یہی قدم اٹھا چکا ہے۔

دسمبر میں وہاں 16 سال سے کم عمر بچوں پر بڑے سوشل پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی۔

برطانیہ اور دیگر ممالک بھی اسی چیز پر غور کر رہے ہیں اور یہ فیصلہ یقیناً اس دلیل کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

کچھ والدین جو پہلے ہی اس مسئلے سے لڑ چکے ہیں کے لیے ان پلیٹ فارمز کی بچوں تک رسائی ختم کرنا آسان فیصلہ ہے۔

حال ہی میں ایک برطانوی غمزدہ ماں ایلن روم نے کہا کہ ’اب ان پر پابندی لگا ہی دیں۔‘

وہ اپنے 14 سالہ بیٹے جولز سوینی کی موت کے بعد سوشل میڈیا میں تبدیلیوں کی مہم چلا رہی ہیں۔ ان کا یقین ہے کہ 2022 میں ایک ’آن لائن چیلنج‘ غلط ہو جانے سے اس کی جان گئی تھی۔

تاہم برطانوی پارلیمنٹ ابھی بھی اس بارے میں منقسم ہے کہ کیا اقدام کیا جائے۔

ہاؤس آف لارڈز اور کامنز مجوزہ ترمیم پر ایک دوسرے کو بل واپس بھیج رہے ہیں۔ یہ ترمیم بچوں، سکولوں اور بہبود سے متعلق بل میں شامل ہے جو وزیروں کو ایک سال دے گی کہ وہ فیصلہ کریں کہ کن پلیٹ فارمز پر 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے پابندی عائد کرنی چاہیے۔

شاید یہ نیا فیصلہ سیاستدانوں اور ایوان کے ارکان کو اکٹھا کر دے۔ صرف برطانیہ میں ہی نہیں۔

ممکن ہے کہ مستقبل میں ہم اس دور کو دیکھ کر حیران ہوں کہ آخر ہم نے بچوں کو سوشل میڈیا پر اس قدر آزاد کیوں چھوڑ دیا تھا؟

کیلی، مارک زکربرگ

،تصویر کا ذریعہReuters

نوجوان خاتون کیلی کو 60 لاکھ ڈالر ملیں گے

جیوری نے قرار دیا کہ کیلی کو 30 لاکھ ڈالر معاوضے کے طور پر اور 30 لاکھ ڈالر بطور تعزیری ہرجانہ ملنا چاہیے کیونکہ جیوری کے مطابق میٹا اور گوگل نے پلیٹ فارمز کے آپریشن میں ’بدنیتی، جبر یا دھوکے‘ کے ساتھ کام کیا۔

کیلی کو دیے جانے والے کل ہرجانے میں سے میٹا 70 فیصد ادا کرے گا جبکہ گوگل باقی 30 فیصد کا ذمہ دار ہوگا۔

اس مقدمے میں ابتدائی طور پر سنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک بھی نامزد تھے مگر دونوں کمپنیوں نے ٹرائل سے قبل ہی کیلی کے ساتھ نامعلوم شرائط پر تصفیہ کر لیا تھا۔

کیلی کے وکلا کا موقف تھا کہ میٹا اور یوٹیوب نے ’لت پیدا کرنے والی مشینیں‘ تیار کیں اور اس ذمہ داری میں ناکام رہے کہ بچوں کو ان کے پلیٹ فارمز تک رسائی سے روکا جائے۔

کیلی نے بتایا کہ انھوں نے نو سال کی عمر میں انسٹاگرام اور چھ سال کی عمر میں یوٹیوب استعمال کرنا شروع کیا اور انھیں عمر کی وجہ سے کسی قسم کی رکاوٹ یا روک ٹوک کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

اپنی گواہی کے دوران کیلی نے کہا کہ ’میں نے گھر والوں سے میل جول چھوڑ دیا تھا کیونکہ میں اپنا سارا وقت سوشل میڈیا پر گزارتی تھی۔‘

کیلی نے بتایا کہ وہ 10 سال کی تھیں جب انھیں پہلی بار اضطراب اور ڈپریشن جیسی کیفیتیں محسوس ہونا شروع ہوئیں۔ ان بیماریاں کی باضابطہ تشخیص کئی سال بعد ایک تھیراپسٹ نے کی۔

انھوں نے اپنے جسمانی خد و خال کے بارے میں بھی جنون کی حد تک سوچنا شروع کر دیا تھا اور انسٹاگرام کے ایسے فلٹر استعمال کرنے لگ گئی تھیں جو ان کی شکل بدل دیتے تھے، ناک کو چھوٹا اور آنکھوں کو بڑا کر کے۔

بعد ازاں کیلی میں باڈی ڈسمورفیا کی تشخیص ہوئی۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جس میں انسان اپنی ظاہری شکل کے بارے میں حد سے زیادہ فکر مند رہتا ہے اور خود کو ویسا نہیں دیکھ پاتا جیسا دوسروں کو دکھائی دیتا ہے۔

اس کے وکلا نے دلیل دی کہ انسٹاگرام کی کچھ خصوصیات جیسے لامحدود سکرولنگ کو جان بوجھ کر لت پیدا کرنے والے انداز میں ڈیزائن کیا گیا تھا۔

کیلی کے وکلا کے مطابق میٹا کے پیداوار کے اہداف نوجوان صارفین کو پلیٹ فارمز پر لانے کے لیے ترتیب دیے گئے تھے۔

ماہرین اور میٹا کے سابق ایگزیکٹوز کی شہادتوں کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کمپنی نوجوان صارفین چاہتی تھی کیونکہ ان کے زیادہ دیر تک پلیٹ فارمز سے جڑے رہنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

جب کیلی کے وکلا نے انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری کو بتایا کہ کیلی کا انسٹاگرام استعمال کرنے کا سب سے طویل ایک دن کا دورانیہ 16 گھنٹے تھا تو انھوں نے اسے لت کی علامت ماننے سے انکار کر دیا۔

اس کے بجائے انھوں نے کہا کہ ایک کم عمر بچے کا دن کے زیادہ تر گھنٹے انسٹاگرام پر گزارنا ’پریشان کن‘ ضرور ہے مگر یہ لت کی واضح مثال نہیں۔

کیلی کے وکلا نے بدھ کو کہا کہ جیوری کا فیصلہ ’ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ بچوں کے معاملے میں کوئی بھی کمپنی احتساب سے بالاتر نہیں ہے۔‘

SOURCE : BBC