Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں بُلّھا کے ذریعے پنجابی فلم میں شان کی 12 سال بعد واپسی:...

بُلّھا کے ذریعے پنجابی فلم میں شان کی 12 سال بعد واپسی: ’دانشور اور سرحدوں کے محافظ ابھی تک صرف جنگی ساز و سامان پر بھروسہ کرتے ہیں‘

18
0

SOURCE :- BBC NEWS

تصویر

،تصویر کا ذریعہshakefilmsofficial

شان شاہد کو پاکستانی سنیما میں قدم رکھے ہوئے 36 سال سے زیادہ ہو چکے ہیں اور اس دوران انھوں نے رومانوی ہیرو سے ایکشن ہیرو کا سفر کامیابی سے طے کیا ہے، البتہ گذشتہ 12 سال سے وہ پنجابی فلموں سے کچھ دور ہو گئے تھے۔

تاہم اِس عید پر اُن کی پنجابی فلم ’بُلّھا‘ ریلیز ہوئی ہے۔ پنجابی سنیما سے اس طویل غیرحاضری اور موجودہ دور میں پاکستانی فلموں کی مشکلات پر بی بی سی اُردو نے ان سے خصوصی گفتگو کی اور پہلا سوال یہی کیا کہ وہ اتنا عرصہ کہاں غائب رہے؟

اپنی غیر حاضری پر شان شاہد کہتے ہیں کہ ’فلمی صنعت کو اِتنا وقت دے دیا ہے کہ کچھ عرصے کا وقفہ میرا حق ہے۔‘

شان کے مطابق چونکہ وہ دیگر فلمی اداکاروں کی طرح ڈراموں میں کام نہیں کرتے اس لیے وہ کم نظر آتے ہیں۔

اپنی فلم بُلّھا میں گنڈاسے کی عدم موجودگی پر شان کا کہنا ہے کہ ’پنجابی فلم گنڈاسے سے بہت بڑی ہے، پنجابی فلم کی کامیڈی کی صنف بہت بڑی ہے، جبکہ ایکشن کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے، اس لحاظ سے بُلّھا وہ فلم ہے جس میں ایسی تمام چیزیں ہیں جو اسے کامیاب بنا سکتی ہیں۔‘

انھوں نے بُلّھا کو ایک ’نیا فیوژن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ فلم جس رفتار اور جس کمرشل ازم کو ذہن میں رکھ کر ڈیزائن کی گئی ہے، اس کو دیکھتے ہوئے فلم بین اسے بہت پسند کریں گے۔‘

ایک دہائی سے زیادہ عرصے بعد پنجابی فلم میں کام کرنے کا جواز دیتے ہوئے اداکار شان کا کہنا تھا کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پنجاب میں فلمیں بننا ہی بند ہو گئی تھیں۔

ان کے مطابق ’اس کی ایک بڑح وجہ فلمی کلچر تھا جو ختم ہو گیا تھا، اور پھر مصنف، ہدایتکار اور پروڈیوسرز کا فرض ہوتا ہے کہ وہ کسی اداکار کے ساتھ کیسے کام کرتے ہیں۔‘

’میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اداکار کی دلچسپی سکرپٹ میں ہوتی ہے۔ جیسے اگر گھوڑے کو ریس میں دوڑانا ہے تو سوار ماہر ہونا چاہیے۔‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہshakefilmsofficial

’پرانی چیزوں کو آج کے پیمانے پر پرکھنا درست نہیں‘

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بی بی سی نے ازراہِ تفنن اُن سے سوال کیا کہ پرانی فلموں کے سین کی جب میمز بنتی ہیں، جیسے موسٰی خان والے سین کی تو انھیں کیسا محسوس ہوتا ہے؟

اس پر شان کا کہنا تھا کہ ’اگر اس وقت چارلی چپلن کی فلم دیکھیں تو ویسے ہی ہنسی آئے گی کہ کیا بکواس ہے، یہ فریم ٹھیک نہیں ہے۔ ہر دور کا ایک پہناوا اور چلن ہوتا ہے۔ آپ جب بھی اگر آپ بادشاہ اکبر کو دیکھ لیں، تو آج کے دور میں اگر میں مارکیٹ میں وہ لباس اور فراک پہن کے ہاتھی پر گزروں گا، تو ویسے ہی بیوقوف لگ رہا ہوں گا۔‘

’آپ اپنے شناختی کارڈ پر موجود پرانی تصویر ہی دیکھ لیں اپنی آپ کو لگے گا کہ یہ کسی اور دور کی ہے۔ ہر دور کا اپنا ایک مزاج اور معیار ہوتا ہے، اس لیے پرانی چیزوں کو آج کے پیمانے پر پرکھنا درست نہیں۔‘

’اس زمانے میں جب فلم ’میٹرکس‘ آئی تو پڑھے لکھے طبقے نے اسے بہت پسند کیا کیونکہ وہ جدید ٹیکنالوجی سے بنی ایک عالمی فلم تھی۔ لیکن جب اسی طرح کے کسی آئیڈیا کو دیسی رنگ میں ڈھال کر عوام (پنجابی فلموں کے ناظرین) کے سامنے پیش کیا گیا، تو کچھ لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا اور میمز بنانا شروع کر دیں۔‘

شان کے مطابق ’تنقید اور مذاق صرف ان لوگوں نے کیا جو اس ماحول کا حصہ ہی نہیں تھے۔‘

’دانشور اور سرحدوں کے محافظ ابھی تک صرف جنگی ساز و سامان پر بھروسہ کرتے ہیں‘

پاکستان میں انڈین پنجابی فلموں کی نمائش پر اُن کا مؤقف تھا کہ جتنی جگہ پاکستان میں انڈین فلموں کو مل رہی ہے، اتنی ہی جگہ انڈیا میں بھی پاکستانی فلموں کو ملنی چاہیے، جیسے برابری کی سطح پر تجارت کہا جاتا ہے۔

’جہاں تک اداکاروں کا تعلق ہے، بہت اچھی بات ہے کہ انھیں جہاں کام ملتا ہے ان کو کرنا چاہیے۔ میں نہیں کرتا، تو وہ سمجھتے ہیں شاید میں چاہتا ہوں کہ وہ بھی نہ کریں۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔‘

شان شاہد کے مطابق جنگوں کے زمانے میں پروپیگنڈا ایک ایسا ہتھیار ہے جو انسانی دماغ پر اثر کرتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’بدقسمتی سے، ہمارے دشمن ممالک کو یہ حربہ بہت بہتر طریقے سے استعمال کرنا آتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ سوشل میڈیا اور آن لائن فلمی پورٹلز پر دیکھ لیں، جب بھی ’اُنھیں‘ کسی دشمن کو پیش کرنا ہو، وہ ایک ایسا بیانیہ تیار کرتے ہیں جس سے یہ تاثر ملے کہ جیسے بلوچستان کو آزادی چاہیے یا کوئی اور مخصوص علاقہ بےچین ہے۔ وہ یہ کام آج سے نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے کر رہے ہیں۔‘

شان نے کہا کہ ’افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں جو دانشور اور سرحدوں کے محافظ ہیں، وہ ابھی تک صرف جنگی ساز و سامان پر بھروسہ کرتے ہیں۔ وہ اسی اسلحے اور جنگی طیاروں کو سب کچھ سمجھتے ہیں، جبکہ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ ذہنی جنگ کے موضوع پر بننے والی فلمیں ایک انتہائی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔‘

شان کے مطابق ’یہ فلمیں آپ کے بیانیے کو دنیا کے سامنے پیش کرتی ہیں اور لوگ آپ کی بات اس لیے سمجھ جاتے ہیں کیونکہ وہ تفریح کے لبادے میں لپٹی ہوتی ہے۔‘

ان کے مطابق ’جب دنیا تخلیقی ذرائع استعمال کر رہی ہے تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہمارے دفاعی نظام میں ایک ایسا مکمل شعبہ ہو جو اس نوعیت کا مواد تیار کرے اور دنیا کو ہماری اصل کہانی بتائے۔ ورنہ لوگ تو آپ کے خلاف الزامات کو ہی کہانیاں بنا کر تفریح کے نام پر پیش کرتے رہیں گے۔‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہGeo Films

شان نے کہا کہ ’جیسے اگر آپ دیکھیں گے کہ دھریندر کا بھی جو سیٹ ڈیزائن کیا ہے وہ پاکستانی لوگوں نے کیا ہے، تو اس کے لیے انھوں نے پاکستانی آرٹ ڈائریکٹرز بلوا کر اُن سے سیٹ لگوایا۔ ان سے انھوں نے زبان بھی تبدیل کی ورنہ اس سے پہلے ہر آدمی آتے جاتے آداب کر رہا ہوتا تھا۔‘

انڈین اداکار سنی دیول کے مکالمے’آواز لاہور تک جانی چاہیے‘ پر ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اس پر ٹویٹ کر کے اس کا جواب دیا تھا، جتنا میں دے سکتا تھا۔ مگر جب کوئی سننے کے لیے تیار ہی نہیں ہو تو پھر کیا کیا جائے۔‘

فلموں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیسا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہر نئی ایجاد جدت لے کر آتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کا جتنا بھی استعمال ہو گا اس کے اوپر باقاعدہ پوری پوری فلمیں بننی چاہییں۔‘

تاہم انھوں نے ساتھ ہی کہا کہ ’اس ٹیکنالوجی کے ذریعے یہ ممکن ہے کہ آپ تمام کرداروں، گلوکاروں اور متعلقہ افراد کو قانونی طور پر کاپی رائٹ کے دائرے میں لا کر اس عمل میں شامل کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر مصنوعی ذہانت کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے، تو ایک بالکل نئی دنیا ہمارے سامنے ہو گی۔‘

ان کے مطابق آنے والے برسوں میں یہ ٹیکنالوجی ایک معمول بن جائے گی۔ لہٰذا پہلے اس پر تعلیم ہونی چاہیے، پھر سکرپٹ لکھے جانے چاہییں اور اس کے لیے مخصوص پلیٹ فارم تیار کرنے چاہییں۔

شان مطابق ’بدقسمتی سے حکومت کی پالیسی صرف یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو بند یا مقفل کیسے کیا جائے، جبکہ ترقی کی طرف کوئی توجہ نہیں ہے۔‘

شان کا خیال ہے کہ ’مصنوعی ذہانت سے اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کا کام صرف سوال کا جواب دینا ہے، لیکن سوال سوچنے والا ہمیشہ انسان ہی رہے گا۔ اس پر انحصار ضرور کریں، لیکن اپنی سوچنے کی صلاحیت اور اختراع کو برقرار رکھیں، کیونکہ آپ کی اپنی ذہانت مصنوعی نہیں بلکہ حقیقی ہے۔‘

SOURCE : BBC