Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ایران کے خلاف جنگ پر اختلاف، مستعفی ہونے والے امریکی کاؤنٹر ٹیررازم...

ایران کے خلاف جنگ پر اختلاف، مستعفی ہونے والے امریکی کاؤنٹر ٹیررازم کے سربراہ کا ٹرمپ سے تہران پالیسی تبدیل کرنے کا مطالبہ

9
0

SOURCE :- BBC NEWS

امریکہ، ایران، اسرائیل

،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

امریکہ کے انسداد دہشت گردی سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران کے خلاف حملے پر احتجاجاً مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنے استعفے کے اعلان میں جو کینٹ نے کہا کہ ’اپنے ضمیر کے خلاف جا کر ایران میں جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا۔‘

امریکی سینیٹ نے گذشتہ جولائی میں صدر ٹرمپ کی جانب سے اس عہدے کے لیے جو کینٹ کو نامزد کیے جانے کے بعد ان کی تقرری کی منظوری دی تھی۔

ٹرمپ کے نام اپنے استعفے کے خط میں جو کینٹ نے لکھا کہ ’ایران نے ہمارے ملک کے لیے کوئی فوری خطرہ پیدا نہیں کیا تھا، اور یہ واضح ہے کہ ہم نے یہ جنگ اسرائیل اور اس کے طاقتور امریکی لابی کے دباؤ کے تحت شروع کی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ وہ ان اقدار اور خارجہ پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں جن پر ٹرمپ نے 2016، 2020 اور 2024 کی انتخابی مہم چلائی اور اپنی پہلی مدتِ صدارت میں نافذ کیں۔

کینٹ نے لکھا کہ ’جون 2025 تک آپ سمجھتے تھے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں ایک جال ہیں جو امریکہ کے محبِ وطن جوانوں کی قیمتی جانیں چھینتی ہیں اور ہمارے ملک کی دولت و خوشحالی کو ختم کرتی ہیں۔‘

انھوں نےلکھا کہ ’میں ایک تجربہ کار سپاہی کے طور پر گیارہ بار محاذ جنگ پر گیا اور ایک ’گولڈ سٹار شوہر‘ جس نے اپنی شریک حیات شینن کو اسرائیل کی جھونکی جنگ میں کھو دیا۔‘

انھوں نے لکھا کہ ’میں اس بات کی حمایت نہیں کر سکتا کہ اگلی نسل کو ایسی جنگ میں دھکیلا جائے جس کا امریکی عوام کو کوئی فائدہ نہیں اور جس کی قیمت امریکی جانوں سے ادا کی جائے۔‘

واضح رہے کہ 45 برس کے کینٹ امریکی سپیشل فورسز اور سی آئی اے کے سابق اہلکار ہیں۔ ان کی اہلیہ، نیوی کی کرپٹولوجک ٹیکنیشن شینن کینٹ سنہ 2019 میں شام میں ایک بم دھماکے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔

وائٹ ہاؤس نے اس خط کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کے پاس ’قابلِ اعتماد شواہد‘ تھے کہ ایران پہلے امریکہ پر حملہ کرنے والا تھا۔

Joe Kent

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

منگل کے روز اوول آفس یعنی وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ان کے الزامات کے جواب میں کہا ہے کہ ’میں نے ان کا بیان پڑھا۔ میں ہمیشہ سمجھتا تھا کہ وہ اچھے انسان ہیں لیکن سکیورٹی کے معاملے میں کمزور تھے، بہت کمزور۔‘

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’میں انھیں اچھی طرح نہیں جانتا تھا، لیکن جب میں نے ان کا بیان پڑھا تو مجھے احساس ہوا کہ ان کا جانا بہتر ہے، کیونکہ انھوں نے کہا کہ ایران کوئی خطرہ نہیں تھا۔‘

وہ ایران کے خطرے سے متعلق جو کینٹ کی رائے سے متفق نہیں تھے۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ایران ایک خطرہ تھا، ہر ملک نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ایران کتنا بڑا خطرہ ہے۔‘

جو کینٹ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر سے ایران میں امریکی۔اسرائیلی کارروائی پر اعلانیہ تنقید کرنے والی سب سے نمایاں شخصیت بن گئے ہیں۔

ٹرمپ کے نام لکھے گئے خط میں جو کینٹ نے الزام لگایا کہ ’اعلیٰ سطح کے اسرائیلی حکام‘ اور بااثر امریکی صحافیوں نے ’غلط معلومات‘ پھیلائیں جنھوں نے صدر کو ان کے ’امریکہ فرسٹ‘ پلیٹ فارم کو کمزور کرنے پر مجبور کیا۔

خط میں مزید کہا گیا ’اس ایكو چیمبر کا استعمال آپ کو یہ یقین دلانے کے لیے کیا گیا کہ ایران امریکہ کے لیے فوری خطرہ تھا۔ یہ جھوٹ تھا۔‘

جو کینٹ، جو طویل عرصے سے ٹرمپ کے حامی ہیں اور دو بار کانگریس کے لیے امیدوار رہے مگر کبھی کامیاب نہیں ہوسکے، کو صدر نے اپنی انتظامیہ کے ابتدائی دور میں نامزد کیا تھا اور انھیں معمولی اکثریت سے اس عہدے پر توثیق ملی، حالانکہ کئی ڈیموکریٹس نے ان کے انتہا پسند گروہوں بشمول پراؤڈ بوائز کے ارکان سے روابط پر تنقید کی تھی۔

توثیقی سماعت میں جو کینٹ نے یہ دعوے واپس لینے سے بھی انکار کر دیا کہ وفاقی ایجنٹوں نے امریکی کیپیٹل پر چھ جنوری کے فسادات کو ہوا دی تھی یا یہ کہ ٹرمپ نے 2020 کا انتخاب جیتا تھا۔

نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر میں، وہ ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس ٹلسی گیبرڈ کو رپورٹ کرتے تھے اور دنیا بھر سے ممکنہ دہشت گردی کے خطرات کے تجزیے اور نشاندہی کی نگرانی کرتے تھے۔

اس سے قبل جو کینٹ امریکی فوج کے ساتھ بیرونِ ملک 11 بار تعینات رہے، جن میں عراق میں امریکی آرمی کی سپیشل فورسز کے ساتھ خدمات بھی شامل تھیں۔

بعد ازاں وہ سی آئی اے میں نیم فوجی افسر بنے، لیکن اپنی اہلیہ کی موت کے بعد انھوں نے سرکاری ملازمت چھوڑ دی۔

اپنی فوجی خدمات اور اپنی اہلیہ کی موت کا حوالہ دیتے ہوئے جو کینٹ نے اپنے خط میں کہا کہ وہ ’اگلی نسل کو ایسی جنگ میں لڑنے اور مرنے کے لیے نہیں بھیج سکتے جو امریکی عوام کو کوئی فائدہ نہیں دیتی اور نہ ہی امریکی شہریوں کی جانوں کی قیمت کو جائز ٹھہراتی ہے۔‘

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ جو کینٹ کا یہ اشارہ کہ ’ٹرمپ نے دوسروں، حتیٰ کہ غیر ملکی ممالک کے اثر و رسوخ کی بنیاد پر فیصلہ کیا، توہین آمیز بھی ہے اور مضحکہ خیز بھی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’صدر ٹرمپ نے یہ بات واضح طور پر پہلے ہی کہہ دی ہے کہ ان کے پاس مضبوط اور قابلِ اعتماد شواہد تھے کہ ایران پہلے امریکہ پر حملہ کرنے والا تھا۔‘

نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک مختصر انٹرویو میں قدامت پسند میڈیا تبصرہ نگار ٹکر کارلسن، جن کے جو کینٹ سے قریبی ذاتی تعلقات ہیں، نے جو کینٹ کی تعریف کی۔

ٹکر کارلسن نے کہا کہ ’جو کینٹ وہ بہادر ترین شخص ہیں جسے میں جانتا ہوں، اور انھیں کسی دیوانے کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔ وہ ایسا عہدہ چھوڑ رہا ہے جس نے انھیں اعلیٰ ترین سطح کی متعلقہ انٹیلیجنس تک رسائی دی ہوئی تھی۔ نیوکانز اسے اس بات پر تباہ کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’وہ یہ سمجھتے ہیں، پھر بھی انھوں نے یہ قدم اٹھایا۔‘

ٹرمپ انتظامیہ میں اعلیٰ حکام کے متعدد استعفے سامنے آ چکے ہیں، جن میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی انفورسمنٹ ڈائریکٹر مارگریٹ ریان اور کینیڈی سینٹر کے صدر رک گرینیل شامل ہیں۔

تاہم، صدر ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت میں وائٹ ہاؤس میں 2017 سے 2021 کے درمیان ان کی پہلی مدت کے مقابلے میں کہیں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

SOURCE : BBC