SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو علاج کی غرض سے فوری طور پر اڈیالہ جیل سے نجی ہسپتال منتقل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے بانی تحریک انصاف کی صحت کی جانچ کے لیے چیف کمشنر اسلام آباد کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق چیف کمشنر اسلام آباد کو حکم دیا گیا ہے کہ اس میڈیکل بورڈ میں پمز ہسپتال کے ڈاکٹر عارف اور شفا آئی ہسپتال کے ڈاکٹر ندیم قریشی کو بھی شامل کیا جائے اور اس میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی روشنی میں بانی تحریک انصاف عمران خان کو ہسپتال سے باہر منتقل کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔
جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو پر مشتمل دو رکنی ڈویژن بینچ نے اس کیس کی سماعت کی۔
ڈاکٹر ندیم قریشی شفا آئی ہسپتال کے ریٹینا سپیشلسٹ ہیں اور عمران خان کی صحت کے حوالے سے سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کے بھی رُکن ہیں جبکہ ڈاکٹر عارف اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں شعبہ امراضِ چشم کے سربراہ ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری نے کہا کہ ’ہم اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے تاکہ ڈاکٹر عاصم یوسف کو اس (مجوزہ) میڈیکل بورڈ میں شامل کیا جا سکے۔ کوئی بھی میڈیکل بورڈ جس میں کم از کم ایک ذاتی ڈاکٹر، یعنی ڈاکٹر فیصل یا ڈاکٹر عاصم شامل نہ ہوں، اسے عمران خان کا خاندان اور پی ٹی آئی مسترد کرتے ہیں۔‘
زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عارف اور ڈاکٹر ندیم قریشی پر مشتمل یہ وہی میڈیکل بورڈ ہے جو پہلے بھی (سپریم کورٹ کے حکم پر) تشکیل دیا گیا تھا اور جسے تحریک انصاف ماضی میں بھی مسترد کر چکی ہے۔
یاد رہے کہ دو مارچ کو پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ درخواست دائر کی تھی کہ بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر آنکھوں کے علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
درخواست میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ جیل حکام عمران خان کو لاحق صحت کے سنگین مسائل پر توجہ نہیں دے رہے ہیں اور ان کے طبی معائنے خفیہ انداز میں کیے جا رہے ہیں جبکہ اُن کے ذاتی معالجین اور اہلخانے کو بھی اُن تک مکمل رسائی نہیں دی جا رہی ہے۔
جمعرات کو اس کیس میں ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے حکومت کو حکم دیا کہ جیل رولز کے مطابق فیملی کو عمران خان کی صحت اور ان کے علاج سے متعلق آگاہ رکھا جائے اور لارجر بینچ کے سابقہ فیصلے کے مطابق وکلا اور اہلخانہ کی اُن سے ملاقات کروائی جائے۔
دوران سماعت تحریک انصاف کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دیے کہ سابق وزیر اعظم اکتوبر 2025 سے دائیں آنکھ کی بینائی میں کمی کی شکایت کر رہے تھے مگر اڈیالہ جیل کے ڈاکٹرز نے اس معاملے کو نارمل لیا اور جب اُن کی آنکھ کی بینائی تقریبا مکمل طور پر ختم ہو گئی تو انھیں پمز ہسپتال لایا گیا۔
انھوں نے کہا کہ اس دوران عمران خان کے اہلخانہ اور وکلا کو بھی اس بابت نہیں بتایا گیا۔ سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ حکومت پانچ دن اس معاملے کو چھپاتی رہی اور جب خبر لیک ہوئی تو پانچ دن کے بعد وزیر اطلاعات نے تسلیم کیا کہ عمران خان کو پمز لایا گیا تھا۔
یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو گذشتہ کچھ عرصے میں دو مرتبہ علاج کی غرض سے اسلام آباد کے پمز ہپستال میں لایا جا چکا ہے۔ انھیں آخری مرتبہ 23 اور 24 فروری کی درمیانی شب پمز لایا گیا اور اس کے بعد ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ’عمران خان آنکھوں کے فالو اپ علاج یعنی دوسری خوراک کے لیے پمز لایا گیا۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومت اور عمران خان کے وکلا کے مطابق عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی اس لیے متاثر ہوئی کیونکہ وہ سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن سے متاثرہ ہیں۔
جمعرات کو دوران سماعت لطیف کھوسہ نے عدالت سے استدعا کی کہ ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو عمران خان کے علاج کی اجازت دی جائے کیونکہ یہ دونوں ڈاکٹر اُن کی میڈیکل ہسٹری سے پوری طرح واقف ہیں۔
اس موقع پر لطیف کھوسہ نے عدالت میں جیل رولز بھی پڑھ کر سُنائے۔
اس موقع پر سلمان اکرم راجا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے ذاتی معالجین کو ماضی میں جیل میں رسائی دی جاتی رہی ہے اور اب عدالت اس حوالے سے ہدایات جاری کر سکتی ہے۔
عمران خان کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت نے اس حوالے سے سپریم کورٹ کا آرڈر عدالت کے سامنے پڑھ کر سنایا اور کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کے ذاتی معالجین کی اُن تک رسائی کی درخواست کو اِگنور (نظر انداز) کیا تھا اور عدالت عظمیٰ نے قرار دیا تھا کہ علاج کی غرض سے آنکھ کا سپیشلسٹ ہونا چاہیے جس کے بعد شفا آئی ہسپتال کے ڈاکٹر ندیم قریشی کو ان کے کہنے پر بورڈ میں شامل کیا گیا تھا۔
اس موقع پر جسٹس ارباب طاہر نے ریمارکس دیے کہ ’ہم نے گوگل بھی کیا تھا، ڈاکٹر ندیم قریشی بہترین آئی سپیشلسٹ ہیں۔‘
جسٹس ارباب طاہر نے ایڈوکیٹ جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے مزید ریمارکس دیے آپ اُن کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرکے ضروری ٹیسٹ لے لیں۔ ’ہم یہ نہیں کہیں گے کہ انھیں کتنے دن وہاں رکھا جائے۔ آپ (حکومت) علاج کر رہے ہیں اور یہ تسلیم شدہ بات ہے۔ وہ (تحریک انصاف) کہہ رہے ہیں کہ شفا ہسپتال لے جائیں اور وہاں ٹیسٹ کروائیں۔ ٹیسٹ ایک دو گھنٹے میں بھی ہو سکتے ہیں، تو انھیں وہاں کیوں نہیں لے جاتے؟‘
جسٹس ارباب طاہر نے مزید کہا کہ ’شفا انٹرنیشنل ہسپتال بے شک دو گھنٹے کے لیے شفٹ کر دیں۔ ہم یہ نہیں کہیں گے تین دن یا تین ماہ رکھیں۔ دیکھ لیں (وہاں شفٹ نہ کر کے) یہ ساری ذمہ داری آپ لے رہے ہیں۔ اگر کل کچھ ہو گیا تو کیا آپ ذمہ داری لیں گے؟‘
اس پر ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ’ہم ذمہ داری لیں گے۔ بانی کی صحت کی موجودہ صورتحال تسلی بخش ہے اور اُن کا بہترین علاج ہو رہا ہے۔‘
اس موقع پر عمران خان کی بہن علیمہ خان نے عدالت کو بتایا کہ ’ہماری فیملی میں بھی ڈاکٹرز ہیں۔‘ عدالت نے اس موقع پر استفسار کیا کہ ’کیا آپ کے ذاتی معالجین سے حکومت نے رابطہ کیا۔‘
اس علیمہ خان نے جواب دیا کہ ’حکومت نے پی ٹی آئی سے رابطہ کیا اور اس بارے میں پارٹی نے ہمیں بتایا۔ ہمارے ذاتی معالجین نے ڈاکٹر ندیم قریشی کو تجویز کیا۔ ہمارے ڈاکٹرز کو صحت کے حوالے سے آن لائن بتایا گیا۔ ہمارے ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں جب تک وہ خود نہ دیکھ لیں تب تک وہ (عمران خان کی صحت سے متعلق حکومتی رپورٹ کی) کیسے تصدیق کر سکتے ہیں۔ میرے بھائی کی زندگی خطرے میں ہے، وہ چار ماہ سے قید تنہائی میں ہیں اور کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ ذاتی معالجین کو اب تک میڈیکل رپورٹس نہیں دی گئی ہیں۔‘
اس عدالتی سماعت کے دوران ڈاکٹر بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ جب سابق وزیر اعظم نواز شریف کو میڈیکل ایشو تھا تو اُن کے ذاتی معالج اُن کے ساتھ ہوتے تھے۔ بابر اعوان نے اس موقع پر قیدیوں سے بہترین سلوک کے حوالے سے قرآن کی آیات بھی پڑھ کر سُنائیں۔
سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن کیا ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومت اور عمران خان کے وکلا کے مطابق عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی اس لیے متاثر ہوئی کیونکہ وہ سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن سے متاثرہ ہیں۔
آنکھ کے کالے حصے کے پیچھے واقع پتلی تہہ ریٹینا کہلاتی ہے جو کہ پرانے وقتوں کے کیمروں کی فلم جیسی ہوتی ہے۔ نس میں رکاوٹ پیدا ہونے سے آنکھ سے خون یا دوسرے مائع ریٹینا میں لیک ہوتے ہیں جس سے زخم بنتے ہیں، سوجن ہوتی ہے یا آکسیجن کی قلت بھی ہوتی ہے۔ یوں روشنی جذب کرنے والی خلیات کے کام میں خلل پیدا ہوتی ہے اور بینائی کمزور ہوتی ہے۔
این ایچ ایس کے مطابق یہ حالت 60 سال سے کم عمر افراد میں عام نہیں ہے۔
ریٹینل وین آکلوژن کی دو اقسام ہیں جن میں سے ایک سینٹرل رینیٹل وین آکلوژن کہلاتی ہے جس میں رکاوٹ مرکزی نس میں پیدا ہوتی ہے۔ این ایچ ایس کے مطابق اس حالت میں بینائی زیادہ بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔
این ایچ ایس کی ویب سائٹ کے مطابق اس حالت کی وجوہات میں ہائی بلڈ پریشر، ہائی کالیسٹرول، گلاکوما، ذیابیطس، سگریٹ نوشی اور خون کی نایاب بیماریاں شامل ہیں۔
ماہرین کی رائے ہے کہ اس حالت کی جلد تشخیص ضروری ہے تاکہ اس کا علاج ممکن ہو سکے۔
SOURCE : BBC



