Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں باغی ایرانی کرد خواتین جنگجوؤں کے خفیہ دستے سے ملاقات: ’ہمیں اس...

باغی ایرانی کرد خواتین جنگجوؤں کے خفیہ دستے سے ملاقات: ’ہمیں اس جنگ کا انتظار تھا‘

5
0

SOURCE :- BBC NEWS

A group of PJAK fighters on a hilltop in Kurdistan region, northern Iraq, near the Iranian borde

،تصویر کا ذریعہValentina Sinis

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کے بیچ یہ افواہیں گرم ہیں کہ عراق میں موجود مسلح کرد گروہ سرحد پار کر کے اس جنگ کا حصہ بن سکتے ہیں۔ ایران پہلے ہی متعدد کرد گروہوں کے خلاف کارروائی شروع کر چکا ہے جن میں سے ایک بیلسٹک میزائل حملے میں ایک جنگجو ہلاک ہوا۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سات مارچ کو کہا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کرد ایران میں لڑیں۔

بی بی سی کو کرد جنگجوؤں کے ایک گروہ تک رسائی حاصل ہوئی اور یہ ایک ایسا دستہ ہے جس کی تمام اراکین خواتین ہیں۔ تاہم یہ کئی دن کے انتظار اور مزاکرات کے بعد ممکن ہوا جس کے بعد شمالی عراق میں اس اڈے تک پہنچنے میں کامیابی ملی جہاں یہ جنگجو گہرے غاروں اور زیرزمین سرنگوں میں رہتے ہیں۔

یہ گروہ شمالی عراق میں کردستان کے نیم خودمختار علاقے میں موجود ہے جہاں وہ خفیہ طریقے سے رابطے میں رہتے ہیں۔ اس جگہ صرف ایک خاتون فوٹوگرافر کو جانے کی اجازت ملی جنھوں نے دس دن گزارے۔

حالیہ دہائیوں میں متعدد باغی کرد گروہ ایران سے عراق منتقل ہوئے ہیں۔ یہ ایرانی خفیہ ایجنسیوں اور عراق میں موجود ایرانی حمایت یافتہ گروہوں سمیت ترک فوج سے بھی چھپ کر رہتے ہیں۔

حال ہی میں شمالی عراق میں چند اہم ایرانی کرد گروہوں نے ایک اتحاد قائم کیا تھا اور اس طرح کی خبریں گردش کرتی رہی ہیں کہ صدر ٹرمپ نے ان سے رابطہ کیا اور ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کے لیے کہا۔

پانچ مارچ کو خبر رساں ادارے رائٹرز کو فون پر دیے جانے والے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران پر کرد حملے کی حمایت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’اگر وہ ایسا کرنا چاہیں تو بہت اچھا ہو گا۔‘ لیکن ہفتے کے دن ٹرمپ نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کرد ایران کے خلاف زمینی جنگ لڑیں۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’ہم اس جنگ کو مذید پیچیدہ نہیں بنانا چاہتے۔‘

لیکن امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کے دوران ہی ایران نے کرد گروہوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔ ان میں سے ایک منظم گروہ ’فری لائف پارٹی آف کردستان‘ ہے جن کا کہنا ہے کہ وہ کئی سال سے ایران کی زمین پر واپس جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

21 سالہ آرین کا کہنا ہے کہ ’میں اپنے خاندان اور کرد لوگوں کے لیے لڑ رہی ہوں۔‘ وہ اس گروہ کی خواتین دفاعی فورسز کا حصہ ہیں۔

آرین کا کہنا ہے کہ بطور کرد انھیں ایران میں ’ناانصافی اور امتیازی سلوک کا سامنا تھا‘ اور ان کے پاس ہتھیار اٹھانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ وہ دو سال قبل اس گروہ میں شامل ہوئی تھیں۔

خفیہ اڈے میں

21 سالہ آرین دو سال قبل اس گروہ میں شامل ہوئی تھیں

،تصویر کا ذریعہValentina Sinis

سرنگوں میں خوراک، کیش اور اسلحہ ڈپو تک موجود ہے۔ یہ گروہ اپنے اراکین کی مجموعی تعداد خفیہ رکھتی ہے لیکن جس اڈے تک بی بی سی کو رسائی ملی وہاں پر تقریبا 60 خواتین ایران پر امریکہ اور اسرائیل سے پہلے سے ہی تربیت حاصل کر رہی ہیں۔

یہ جنگجو عسکری مشقوں کے علاوہ نظریاتی گفتگو بھی کرتی ہیں۔ عسکری تربیت میں سنائپر یعنی دور سے نشانہ بازی اور ڈرون حکمت عملی کی مہارت شامل ہیں۔ ان خواتین کا طبی معائنہ بھی کیا جاتا ہے جو تیاری کا حصہ ہے۔

40 سالہ گیلاوج ایرن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں اس جنگ کا انتظار تھا۔‘ وہ 20 سال کی عمر میں تعلیم ادھوری چھوڑ کر اس گروہ میں شامل ہو گئی تھیں اور بعد میں اس کی ترجمان بنیں۔

ایک خفیہ غار میں بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ وہ اپنی نصف زندگی ان پہاڑوں میں گزار چکی ہیں اور گھر چھوڑنے کے بعد انھوں نے اپنے اہلخانہ کو نہیں دیکھا۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای اب ہلاک ہوئے ہیں، خواتین کی قیادت میں 2022 میں ہونے والے مظاہروں نے ایران کی موجودہ ریاست کو کمزور کر دیا تھا۔

واحد راستہ

18 سالہ بگن نے مسلح کرد بغاوت میں شمولیت سے قبل ایران میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت کی تھی اور سول نافرمانی کے تحت سکول میں حجاب اوڑھنے سے انکار کر دیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ مظاہرے مہسا امینی نامی خاتون کی ہلاکت سے شروع ہوئے تھے جن کو کرد بتایا جاتا ہے۔

بگن نے اپنی ساتھی جنگجو کے بال بناتے ہوئے کہا کہ ’خواتین کے پاس زیادہ راستے نہیں ہیں۔ یا تو ہم گھریلو تشدد سہیں، سماجی پابندیاں قبول کریں یا انقلاب کے ذریعے خود کو محفوظ بنائیں۔‘

کرد باغی گروہوں پر اکثر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ نوعمر بچوں کو شامل کرتے ہیں۔ بگن بھی اس وقت سکول کی طالبہ تھیں جب تین سال قبل وہ اس گروہ میں شامل ہوئیں۔ تاہم یہاں موجود بہت سی جنگجو خواتین کا کہنا ہے کہ مسلح مزاحمت ہی ان کے پاس نکلنے کا واحد راستہ تھا۔

کرد

،تصویر کا ذریعہValentina Sinis

دلال ڈینٹسٹ ہیں اور 23 سال کی عمر میں گوریلا جنگجو بنی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میری لڑائی کردوں کی اگلی نسل کے محفوظ مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔ 200 سال سے کرد لوگ ظلم اور تشدد سہہ رہے ہیں۔‘

فری لائف پارٹی آف کردستان کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کا احترام کرتی ہے لیکن ایرانی کرد اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مسلح مزاحمت جاری رکھیں گے۔ ترکی اور ایران دونوں ہی اس گروہ کو ’دہشت گرد تنظیم‘ کا درجہ دیتے ہیں۔

ترک وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ وہ اس ’دہشت گرد گروہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے‘ جس پر انقرہ الزام لگاتا ہے کہ یہ ’نسلی علیحدگی پسندی کو بھڑکانے اور خطے میں امن اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے میں ملوث ہے۔‘

کرد

،تصویر کا ذریعہValentina Sinis

خانہ جنگی کا خطرہ

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کرد جنگجوؤں کو اندازہ ہے کہ ان کو کن مشکلات کا سامنا ہے۔ شاید انھیں براہ راست ایران کی فوج سے لڑنا پڑے۔

ایرن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ ہمیں خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑے۔ ہمیں وہ سب کرنا چاہیے جس سے موجودہ ایرانی حکومت کا خاتمہ ہو تاکہ ہمیں مستقبل میں ایک دوسرے سے نہ لڑنا پڑے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’مشرق وسطیٰ بدل رہا ہے اور ایران کی عوام کو چاہیے کہ مل کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔‘

کرد ایران کی نو کروڑ آبادی کا 10 فیصد ہیں لیکن دہائیوں سے انھیں ایرانی جمہوریہ سے شکایات رہی ہیں۔

بی بی سی نے کرد اتحاد کے سربراہان سے بات کی اور ان سے ٹرمپ سے ہونے والی مبینہ فون کال کے بارے میں سوال کیے لیکن انھوں نے اس معاملے پر رائے دینے سے انکار کیا۔ تاہم انھوں نے ان خبروں کی تردید کی کہ ان کے لوگ ایران میں داخل ہو چکے ہیں۔

تاہم فری لائف پارٹی آف کردستان کا دعویٰ ہے کہ ’ایک بڑی تعداد میں مسلح جنگجو ایران میں موجود ہیں جو صحیح وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔‘ ایک سربراہ نے ہمیں بتایا کہ ’ہماری عسکری شمولیت کا انحصار آنے والے دنوں میں پیش رفت پر ہو گا۔‘

دیگر کرد اپوزیشن گروہوں کا کہنا ہے کہ وہ صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ چند کرد جنگجوؤں نے ایران سے جنگ کی صورت میں امریکی حمایت پر بھروسہ کرنے پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔

کرد جنگجوؤں کے بارے میں معلومات رکھنے والے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اپوزیشن گروہ اس وقت تک زمینی جنگ میں شامل نہیں ہوں گے جب انھیں اس بات کی یقین دہانی نہ ہو کہ امریکی فضائیہ ان کا ساتھ دے گی۔‘

کرد

،تصویر کا ذریعہValentina Sinis

ان کا کہنا تھا کہ ’ایرانی فوج اب بھی مضبوط ہے اور اگر کرد جنگجو زمینی کارروائی کرتے ہیں تو انھیں کڑا جواب مل سکتا ہے۔‘

دلال اب تربیتی کیمپ چھوڑ چکی ہیں اور سرحد کے قریب تعینات ہیں۔ اگر کرد گروہوں نے ایران کی موجودہ حکومت کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو کوئی نہیں جانتا کہ یہ کتنی طویل ہو گی اور اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔

ولینٹینا سائنس کی اضافی رپورٹنگ کے ساتھ

(کرد خواتین جنگجو اپنا اصلی نام نہیں ظاہر کرتی ہیں، اسی لیے ان کے عسکری نام استعمال کیے گئے تاکہ ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے)

SOURCE : BBC