Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں پاکستان اور افغانستان کے مابین جھڑپیں: فریقین کے ایک دوسرے کو بھاری...

پاکستان اور افغانستان کے مابین جھڑپیں: فریقین کے ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کے دعوے، کابل میں پاکستان کے خلاف احتجاج

14
0

SOURCE :- BBC NEWS

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

2 گھنٹے قبل

مطالعے کا وقت: 8 منٹ

پاکستان اور افغانستان کے مابین 26 فروری کو شروع ہونے والی جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور فریقین ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کے دعوے کر رہے ہیں۔

جمعے کو کابل میں سینکڑوں افراد نے پاکستان کے خلاف مظاہرہ کیا اور افغانستان پر پاکستانی فوج کے حملوں کی مذمت کی جبکہ افغان فورسز کی حمایت کا اظہار کیا۔

یہ احتجاج افغانستان کے دارالحکومت کابل کی عید گاہ مسجد میں ہوا، جہاں شرکا نے سرحد پار سے حالیہ حملوں کی مذمت کی۔

افغان فورسز نے پاکستانی فوجی تنصیبات پر حملوں میں بھاری جانی نقصان کے دعوے کیے ہیں جبکہ جمعے کو پاکستان کے سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ’افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف افواج پاکستان کی زمینی اور فضائی موثرکارروائیاں ہیں۔

سکیورٹی ذرائع نے یہ دعوی بھی کیا کہ پاک افغان سرحد پر ژوب سیکٹر اور قلعہ سیف اللہ سیکٹر سے ملحقہ دہشتگرد ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’آپریشن غضب للحق اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا‘

پاکستان سکیورٹی ذرائع کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاک افغان بارڈر پر کرم سیکٹر میں پاک فوج کی افغان طالبان کے خلاف کامیاب کارروائی میں متعدد پوسٹیں تباہ کردی گئی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی فوج کی جانب سے آپریشن ’غضب للحق‘ تاحال جاری ہے اور اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا۔

وزیرِ اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ ان آپریشنز کے دوران اب تک 237 چیک پوسٹس تباہ جبکہ 38 چوکیاں تحویل میں لی گئی ہیں جبکہ 205 ٹینکس، گاڑیاں اور آرٹلری گنز تباہ کی گئی ہیں۔

عطا تارڑ کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان میں 61 مقامات پر فضائی کارروائی کی گئی۔

واضح رہے کہ بی بی سی ان دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

’جوابی کارروائی میں پاکستانی فوج کو بھاری نقصان پہنچایا‘: افغان وزارتِ دفاع

افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے جمعرات کی شب جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغان فورسز کی جوابی کارروائی میں پاکستان کی فوج کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قندھار، ننگرہار، کنڑ، نورستان، خوست، پکتیا اور پکتیکا میں ڈیورنڈ لائن کے اطراف پاکستان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

افغان وزارتِ دفاع نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس کی فضائیہ نے جمعرات کی صبح پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے کچلاک کے علاقے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے کمانڈ ہیڈ کوارٹر میں بمباری کی جس کے نتیجے میں کئی پاکستانی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔

بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان کے خلاف کی جانے والی جوابی کارروائیوں میں 41 فوجی ہلاک جبکہ 12 چوکیاں تباہ کی گئیں۔

واضح رہے کہ بی بی سی افغان وزارتِ دفاع کے ان دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

حالیہ کشیدگی میں 56 افغان شہری ہلاک ہوئے: اقوامِ متحدہ

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن کے مطابق 26 فروری سے پانچ مارچ تک پاکستان اور افغانستان کے مابین جاری لڑائی میں 56 افغان شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

یوناما (افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن) نے تصدیق کی کہ افغانستان میں 26 فروری کی شام سے لے کر پانچ مارچ 2026 تک بالواسطہ گولہ باری اور فضائی حملوں کے باعث کل 185 شہری متاثر ہوئے جن میں 56 شہری ہلاک جبکہ 129 زخمی ہوئے۔

ادارے کے مطابق اس مدت کے دوران متاثر ہونے والے افغان شہریوں میں سے اکثریت یعنی 55 فیصد خواتین اور بچے تھے۔

یوناما کی جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 27 فروری کو صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل نامی علاقے میں فضائی حملوں کے نتیجے میں 14 شہری ہلاک ہوئے، جن میں چار خواتین، دو بچیاں، پانچ بچے اور تین مرد شامل تھے جبکہ چھ افراد زخمی ہوئے جن میں دو خواتین، ایک بچی، دو بچے اور ایک مرد شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ سرحد پار مسلح جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد اس سے زیادہ ہے جتنی 10 سے 17 اکتوبر 2025 کے دوران افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں یوناما نے ریکارڈ کی تھی، جب 47 شہری ہلاک اور 456 زخمی ہوئے تھے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سنہ 2025 کے آخری تین ماہ میں یوناما نے افغانستان میں کم از کم 70 شہریوں کی ہلاکت اور 478 کے زخمی ہونے کی رپورٹ پیش کی تھی۔ اس کے علاوہ یکم جنوری سے 22 فروری 2026 کے درمیان صوبہ ننگرہار میں فضائی حملوں اور سرحد پار گولہ باری کے نتیجے میں 13 شہری ہلاک اور 12 دیگر زخمی ہوئے۔

افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن نے فریقن سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ وہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کو روکنے کے لیے اقدامات کریں اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

فوجی اہداف پر حملے کب تک جاری رہیں گے؟

چند روز قبل پاکستانی وزیر اعظم کے ترجمان مشرف زیدی نے کہا تھا کہ افغانستان میں کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک طالبان شدت پسند گروہوں کے ساتھ تعلق ختم نہیں کرتے اور ان کے خلاف اقدامات نہیں کرتے۔

دوسری جانب وزیر اعظم پاکستان کے مشیر رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان سے متعلق پاکستان کی مسلح افواج نے 95 فیصد مقاصد حاصل کر لیے ہیں اور جو باقی رہ گئے ہیں وہ بھی جلد حاصل کر لیے جائیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر ہماری عسکری قیادت چاہتی تو پاکستان کی فورسز کابل تک بھی پہنچ سکتی تھیں۔

دوسری جانب کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طالبان وزارت دفاع کے ترجمان عنائت اللہ خوارزمی نے کہا کہ افغانستان کے پاس اتنی قوت اور صلاحیت ہے کہ وہ پاکستانی فوج کے خلاف ’جنگ جاری رکھ سکیں۔‘

خوارزمی کا کہنا تھا کہ افغانستان اپنی خودمختاری کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور کسی بھی مزید کارروائی کی صورت میں ’سخت ردِعمل‘ دیا جائے گا۔

پریس کانفرنس میں افغان حکام نے ایک جانب جوابی کارروائیوں کا ذکر کیا تو دوسری جانب یہ بھی کہا کہ اگر کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ سفارتی کوشش کی جائے تو ’بات چیت کے دروازے بند نہیں۔‘

پاکستان نے حالیہ تاریخ میں پہلی بار براہ راست افغانستان کے اندر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گذشتہ سال اکتوبر میں جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئی تھیں تو اس وقت قطر، ترکی اور سعودی عرب نے دونوں ملکوں کو فائر بندی پر آمادہ کیا تھا۔

حالیہ کشیدگی کے دوران جب خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے جاری ہیں اور اسی طرح ایران کی جانب سے جوابی کارروائیاں ہو رہی ہیں ایسے میں پاکستان افغانستان جھڑپیں عالمی منظر نامے میں کم ہی نظر آ رہی ہیں۔

تجزیہ کار اور محقق عبدالسید کا کہنا ہے کہ افغان طالبان ایک ’گوریلا قوت رہی ہے جو پاکستان کے فضائی حملوں کے لیے درکار ملٹری قوت نہ ہونے کی وجہ سے گوریلا حملوں کے ذریعے جوابی کارروائیاں کر رہی ہے تاکہ پاکستان کے مقابل اپنی عسکری قوت کا مظاہرہ کر سکے۔‘

ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ وہ ’ڈیورنڈ لائن کے قریب پاکستان کی سکیورٹی پوسٹس پر رات کی تاریکی میں حملہ کر کے انھیں تباہ کرنے اور پاکستانی فورسز کو جانی نقصان پہنچانے کی کوششوں میں ہیں، جیسا کہ جنوبی افغانستان کے قندھار اور زابل صوبوں سے حملے کیے گئے۔‘

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سمیع یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پاکستان نے اپنے اہداف طے کیے ہوئے ہیں اور وہ انھیں حاصل کرے گا۔

وہ اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ اس بار ٹی ٹی پی کی بجائے افغان طالبان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جیسے کہا جاتا رہا ہے کہ افغانستان میں امریکی اسلحہ موجود ہے جو بڑا خطرہ ہے۔ ’اب ایسا لگتا ہے کہ وہ اسلحہ ختم کرنا ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس میں امریکہ کی رضا مندی شامل ہو کیونکہ یہ اسلحہ ایسے ختم نہیں ہو سکتا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کو سفارتی سطح پر ٹی ٹی پی کے بارے میں اپنا واضح موقف بیان کرنا چاہیے۔

’ماضی میں وہ ایک گروہ تھے لیکن اب وہ حکومت میں ہیں۔ انھیں چاہیے تھا کہ جب ثالثی کے لیے کوششیں کی جا رہی تھیں اس وقت بہتر انداز میں ان معاملات کو طے کر سکتے تھے لیکن شاید انھیں اس کا ادراک نہیں تھا کہ صورتحال اس حد تک پہنچ جائے گی۔‘

SOURCE : BBC