Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں آیت اللہ خامنہ ای کے طویل اقتدار کی آہنی گرفت کا خاتمہ:...

آیت اللہ خامنہ ای کے طویل اقتدار کی آہنی گرفت کا خاتمہ: ’ان کی طاقت سخت گیر علما اور پاسدارانِ انقلاب تھے‘

11
0

SOURCE :- BBC NEWS

آیت اللہ علی خامنہ ای، 2024

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بڑے پیمانے پر کیے گئے فضائی حملوں کے پہلے ہی روز ہلاک ہو گئے تھے، بعد میں اتوار کی صبح ایران کے سرکاری ٹی وی نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی۔

86 سالہ ایرانی رہنما تین دہائیوں سے اقتدار میں تھے۔ یہ عرصہ دنیا میں حکمرانی کے طویل ترین ادوار میں سے ایک ہے۔

سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران میں صرف دو ہی رہبرِ اعلیٰ رہے ہیں: آیت اللہ روح اللہ خمینی اور آیت اللہ علی خامنہ ای۔

ایران میں یہ عہدہ تمام تر اختیارات کا حامل ہوتا ہے، رہبرِ اعلیٰ ہی ریاست کا سربراہ بھی ہوتا ہے اور پاسداران انقلاب سمیت سبھی مسلح افواج کا کمانڈر بھی۔

خامنہ ای مکمل طور پر آمر نہیں تھے۔ وہ ایران میں طاقت کے مراکز کے درمیان ایسے مقام پر فائز تھے جہاں وہ سرکاری پالیسیوں کو ویٹو کر سکتے تھے اور سرکاری عہدوں کے امیدواروں کا انتخاب بھی خود کر سکتے تھے۔

ایران کی نوجوان نسل نے ہمیشہ انھیں ہی سربراہ کے طور پر دیکھا۔

ایران کا سرکاری میڈیا خامنہ ای کی ہر سرگرمی کو نشر کرتا ہے۔ عوامی مقامات پر ان کی تصویر بل بورڈز پر دکھائی دیتی ہے جبکہ دکانوں میں بھی ان کی تصاویر لگی ہوتی ہیں۔

ایرانی صدور بیرون ممالک اکثر سرخیوں میں رہے لیکن ایران میں تمام معاملات کی باگ دوڑ درحقیقت خامنہ ای کے ہاتھ میں رہی ہے۔

ان کی موت، وہ بھی ایسے پُر تشدد حالات میں، ایران اور پورے خطے کے لیے ایک نئے اور غیر یقینی دور کا آغاز ہے۔

ایک خاتون نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصویر والا پوسٹر اٹھا رکھا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آیت اللہ علی خامنہ ای سنہ 1939 میں ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد کے ایک مذہبی خاندان میں ہیدا ہوئے۔ وہ اپنے بھائی بہنوں میں دوسرے نمبر پر ہیں اور ان کے والد ایک متوسط رتبے کے شیعہ عالم تھے۔

خامنہ ای ’غربت کے باوجود دینداری‘ سے گزارے گئے اپنے بچپن کو رومانوی انداز میں بیان کرتے تھے۔ وہ بتایا کرتے تھے کہ اکثر اوقات انھیں صرف سوکھی روٹی پر گزارا کرنا پڑتا۔

ان کی تعلیم کا زیادہ تر حصہ قرآن کے مطالعے پر مشتمل تھا، اور وہ صرف 11 سال کی عمر میں عالمِ دین کے طور پر اہل قرار پائے۔ لیکن اس دور کے بہت سے دیگر مذہبی رہنماؤں کی طرح، ان کی سرگرمیاں بھی جتنی روحانی نوعیت کی تھیں اتنی ہی سیاسی نوعیت کی بھی تھیں۔

خامنہ ای ایک پُر اثر خطیب تھے اور شاہِ ایران کے ناقدین میں شامل ہو گئے۔ آخر اسلامی انقلاب کے نتیجے میں شاہ ایران کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔

علی خامنہ ای کئی برسوں تک خفیہ زندگی گزارتے رہے یا قید و بند کی صعوبتیں سہتے رہے۔ شاہ کی خفیہ پولیس نے انھیں چھ بار گرفتار کیا۔ اس دوران انھوں نے تشدد بھی برداشت کیا اور انھیں نقل مکانی بھی کرنی پڑی۔

سنہ 1979 میں ایرانی انقلاب کے بعد خامنہ ای تہران میں نماز پڑھ رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGamma-Rapho via Getty Images

سنہ 1979 کے انقلاب کے ایک سال بعد، آیت اللہ روح اللہ خمینی نے انھیں تہران میں جمعے کی نماز کا امام مقرر کر دیا۔

ہر ہفتے ان کے سیاسی خطبات پورے ملک میں نشر کیے جاتے تھے۔ یوں مستقبل کی قیادت کے طور پر خمینی کا مقام مستحکم ہوتا گیا۔

انقلاب کے ابتدائی ہنگامہ خیز مہینوں میں ایک واقعہ پیش آیا۔ یونیورسٹی میں پڑھنے والے خمینی کے وفادار جنگجو طلبہ نے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر لیا۔ درجنوں سفارت کار اور عملہ یرغمال بنا لیا گیا۔

یہ طلبہ معزول شاہ کو پناہ دینے کے امریکہ کے فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ خامنہ ای سمیت ایران کی انقلابی قیادت نے ان طلبہ کی حمایت کی۔

امریکی سفارت کار اور عملہ 444 دن تک یرغمال رہا۔

اس واقعے نے امریکہ میں کارٹر انتظامیہ کو شدید نقصان پہنچایا اور ایران بھی امریکہ مخالف اور مغرب مخالف راستے پر چل پڑا۔

اسی واقعے نے ایران کے لیے بین الاقوامی تنہائی کی بنیاد رکھی جو کئی دہائیوں تک جاری رہنی تھی۔

ایرانی شدت پسندوں کی جانب سے امریکی سفارتخانے پر قبضے کے بعد یرغمالیوں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر انھیں عوام کے سامنے لایا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہBettmann via Getty Images

اس کے کچھ ہی عرصے بعد خامنہ ای پر ایک قاتلانہ حملہ کیا گیا جس میں وہ بال بال بچ گئے۔

جون 1981 میں ایک مخالف گروہ نے ٹیپ ریکارڈر کے اندر بم چھپایا جو خامنہ ای کے خطاب کے دوران دھماکے سے پھٹ گیا۔ اس حملے سے وہ شدید زخمی ہو گئے، ان کے پھیپھڑوں کو مکمل صحت یاب ہونے میں مہینوں لگ گئے اور ان کا دایاں بازو ہمیشہ کے لیے ناکارہ ہو گیا۔

اسی سال کے آخر میں ایران کے صدر محمد علی رجائی ایک قاتلانہ حملے میں مار دیے گئے۔ ایران میں صدر کا منصب زیادہ تر اعزازی نوعیت کا ہی ہوتا ہے، لیکن علی رجائی کی جگہ پُر کرنے کے لیے ہونے والے انتخاب میں علی خامنہ ای نے بھی حصہ لیا۔

امیدوار کون بن سکتا ہے، یہ طے کرنا خمینی کے ہاتھ میں تھا، اس لیے نتیجہ پہلے ہی واضح تھا۔ خامنہ ای 97 فیصد ووٹوں کے ساتھ کامیاب ہوئے۔

پہلے ہی خطبے میں لبرل ازم اور امریکہ سے متاثر بائیں بازو کی مذمت کر کے خامنہ ای نے واضح کر دیا کہ مدت صدارت میں ان کی پالیسی کیا رہے گی۔

سنہ 1981 میں ایک قاتلانہ حملے کے بعد خامنہ ای کا دایاں بازو ہمیشہ کے لیے ناکارہ ہو گیا تھا

،تصویر کا ذریعہAyatollah Khamenei

صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد خامنہ ای کو ایک جنگ کا سامنا تھا۔

چند ماہ پہلے ہمسایہ ملک عراق حملہ کر چکا تھا۔ عراق کے صدر صدام حسین کو خدشہ تھا کہ خمینی کا اسلامی انقلاب بیرون ملک پھیل کر ان کی حکومت کو کمزور کر سکتا ہے۔

یہ ظالمانہ اور خونریز جنگ آٹھ سال تک جاری رہی، اس میں دونوں جانب لاکھوں افراد مارے گئے۔

خامنہ ای کئی کئی ماہ تک محاذ جنگ پر موجود رہتے تھے۔ اس دوران بہت سے ایسے ساتھی، کمانڈر اور سپاہی ہلاک ہوئے، جن سے خامنہ ای محاذ جنگ پر ملتے تھے اور انھیں جانتے تھے۔

سنہ 1980، عراقی توپخانہ ایرانی علاقوں پر بمباری کر رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

عراقی فوج نے ایران کی سرحدی بستیوں پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے اور دارالحکومت تہران سمیت دور دراز شہروں پر میزائل برسائے۔

دوسری جانب عراقی صفوں کو توڑنے کے لیے ایران نے مذہبی رجحان رکھنے والے ایسے نوجوانوں کو استعمال کیا، جن میں سے بعض تو لڑنے کی عمر کو بھی بمشکل پہنچے تھے۔ بہت زیادہ جانی نقصان ہوا۔

یہ جنگ امریکہ اور مغرب کے لیے خامنہ ای کے عدم اعتماد کو مزید گہرا کر گئی، کیوں کہ امریکہ اور مغرب صدام حسین کی جارحیت کی پشت پناہی کر رہے تھے۔

سنہ 1989 میں 86 سال کی عمر کو پہنچ کر خمینی وفات پا گئے۔ اس کے بعد ایران کے علمائے دین پر مشتمل کونسل، مجلس رہبری نے، خامنہ ای کو خمینی کا جانشین مقرر کیا۔

خامنہ ای کا بطور رہبرِ اعلیٰ انتخاب اس بات کے باوجود ہوا کہ مذہبی علوم میں ان کی دسترس کمزور سمجھی جاتی تھی۔

اپنی پہلی تقریر میں انھوں نے خود بھی اس بات کا اعتراف کیا: ’میں ایک ایسا فرد ہوں جس میں بہت سی کمزوریاں اور خامیاں ہیں اور میں واقعی ایک معمولی سا طالب علم ہوں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’تاہم میرے کندھوں پر ایک ذمہ داری رکھ دی گئی ہے اور میں اس بھاری ذمہ داری کو نبھانے کے لیے اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے اپنی تمام تر صلاحیتیں استعمال کروں گا۔‘

سنہ 1989 میں آیت اللہ خمینی کی وفات کے بعد خامنہ ای رہبرِ اعلیٰ بنے

،تصویر کا ذریعہHulton Archive via Getty Images

خامنہ ای کو خمینی جیسی مقبولیت حاصل تھی اور نہ ہی علما کی حمایت۔ اس لیے انھوں نے اپنی طاقت بڑھانے کے لیے انتہائی محتاط قدم اٹھائے۔

اگلے 30 برسوں میں پارلیمان، عدلیہ، پولیس، میڈیا اور مذہبی اشرافیہ سمیت ایرانی ریاست کے ہر اہم ادارے میں خامنہ ای کے وفاداروں کا مضبوط نیٹ ورک قائم ہو چکا تھا۔

واشنگٹن میں قائم کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس سے وابستہ تجزیہ کار کریم سدجادپور کہتے ہیں کہ رہبر اعلیٰ کی طاقت ’سخت گیر علما اور مالدار بن جانے والے پاسدارانِ انقلاب‘ پر انحصار کرتی رہی۔

خامنہ ای نے عوامی وفاداری یقینی بنانے کے لیے خود سے منسوب شخصی عقیدت کا ماحول بھی پروان چڑھایا۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی جبر اور مخالفین کی من مانی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا گیا۔

وہ بہت کم ملک سے باہر گئے اور اطلاعات کے مطابق، مرکزی تہران کے ایک کمپاؤنڈ میں اپنی بیوی، چھ بچوں اور ان کے بچوں کے ساتھ نہایت سادہ زندگی گزارتے تھے۔

آیت اللہ خامنہ ای کی تصویر والا پوسٹر

،تصویر کا ذریعہHulton Archive via Getty Images

ملک کے اندر انھوں نے ہر قسم کی مخالفت کو کچل کر رکھ دیا۔

سنہ 1999 کا طلبہ احتجاج ایک خطرہ بن سکتا تھا لیکن ختم کر دیا گیا۔

ایک دہائی بعد صدارتی انتخاب میں مبینہ دھاندلی کے خلاف بغاوت ہوئی تو مظاہرین پر مرچوں کا سپرے کیا گیا، انھیں مارا پیٹا گیا اور گولیاں چلائی گئیں۔

سنہ 2019 میں جب پٹرولیم قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے سڑکوں پر احتجاج شروع ہوا تو خامنہ ای نے مظاہروں کو روکنے کے لیے کئی دن تک انٹرنیٹ بند رکھا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا الزام ہے کہ پولیس نے مشین گنز سے گولیاں چلا کر مظاہرین کو قتل کیا۔

ان کے پیش رو نے خواتین کی تعلیم پر جو پابندیاں عائد کر رکھی تھیں، خامنہ ای نے انھیں ہٹایا ضرور لیکن صنفی مساوات کے وہ ہرگز حامی نہ تھے۔

ان کے دور میں حجاب کے خلاف مہم چلانے والی خواتین کو گرفتار کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور قید تنہائی میں رکھا گیا۔ ان کی حمایت کرنے والوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک وکیل کو 38 سال قید اور 148 کوڑوں کی سزا سنائی گئی۔

سنہ 2022 کا ایک واقعہ اسلامی انقلاب کے لیے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ثابت ہوا۔ یہ واقعہ تھا مبینہ طور پر حجاب ٹھیک سے نہ لینے پر گرفتار کی گئی مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد کے مطابق، اس ہلاکت کے بعد جو احتجاج ہوئے ان میں سکیورٹی فورسز نے 550 افراد کو قتل اور 20 ہزار کے قریب مظاہرین کو گرفتار کیا۔

سنہ 2024، آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصویر

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

ایران سے باہر خامنہ ای پر یہ الزام لگایا جاتا رہا کہ وہ اپنے ملک کو الگ تھلگ کر رہے ہیں۔ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے عراق اور شمالی کوریا کے ساتھ ایران کو بھی ’برائی کا محور‘ کہا۔

ایران نے لبنان میں موجود مسلح شیعہ تنظیم حزب اللہ کو اسرائیل کے خلاف تنازعے میں ایک پراکسی کے طور پر استعمال کیا۔

اگرچہ اپنے لوگوں کو انھوں نے ’امریکہ مردہ باد‘ جیسے نعروں کے زیر اثر رکھا، تاہم ان کی خارجہ پالیسی اس طرح ترتیب دی گئی تھی کہ امریکہ سے سمجھوتہ ہو اور نہ براہ راست تصادم۔

سب سے زیادہ کشیدگی کا باعث جوہری ہتھیاروں کا معاملہ تھا۔

20 سال قبل خامنہ ای نے اعلان کیا تھا کہ جوہری ہتھیار غیر اسلامی ہیں اور ان کی تیاری پر پابندی عائد کرنے کا فتویٰ جاری کیا تھا۔

تاہم، ان کی حکومت کے دوران اسرائیل اور مغربی ممالک قائل ہوتے گئے کہ ایران خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس کو بنیاد بنا کر عالمی طاقتوں نے سخت پابندیاں عائد کیں۔ کبھی ایران سب سے بڑے تیل برآمد کنندگان میں شمار ہوتا تھا، لیکن پابندیوں کی وجہ سے معاشی طور پر کمزور ہوتا گیا۔ نتیجتاً، بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور عوامی عدم اطمینان بھی بڑھا۔

سنہ 2015 میں ایک معاہدے کے تحت ایران کی جوہری سرگرمیوں پر پابندیاں لگائی گئیں اور بدلے میں اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی گئی۔ خامنہ ای نے اس معاہدے کی مخالفت تو نہ کی تاہم اس شک کا اظہار ضرور کیا کہ امریکہ طویل مدت تک اس معاہدے پر قائم نہیں رہے گا۔

سنہ 2026، ایرانی حکومت کے حامی امریکی صدر ٹرمپ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

سنہ 2018 میں امریکی صدر ٹرمپ نے جوہری معاہدے کو ترک کر دیا اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں تاکہ اسے ایک نئے معاہدے کے لیے مجبور کیا جا سکے۔

دو سال بعد امریکی صدر نے عراق میں ایک حملے کا حکم دیا جس میں قاسم سلیمانی کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا۔ قاسم سلیمانی ایران کی پاسداران انقلاب کے اعلیٰ ترین جرنیلوں میں سے ایک تھے اور رہبرِ اعلیٰ کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ خامنہ ای نے بدلہ لینے کی قسم کھائی اور روس اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کیا۔

جون 2025 میں جب اسرائیلی فورسز نے ایران پر حملہ کیا، اس کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے اور اعلیٰ فوجی کمانڈرز کو نشانہ بنایا، تو ایران نے اسرائیلی شہروں کی جانب میزائلوں کی بوچھاڑ کر دی۔

جب امریکہ بھی جنگ میں شامل ہو گیا اور ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات پر حملے کیے تو خامنہ ای نے عہد کیا کہ وہ کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ مگر کئی سال میں پہلی بار وہ کمزور دکھائی دیے۔

جنوری 2026 میں ایران کی خراب ہوتی معاشی صورتحال کے باعث خامنہ ای حکومت کو وسیع پیمانے پر احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ ریاست نے اس کا جواب ایک سخت کریک ڈاؤن سے دیا، جس میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق کم از کم 6488 مظاہرین ہلاک اور 53 ہزار 700 گرفتار کیے گئے۔

اگلے چند ہفتوں میں ٹرمپ نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے کا حکم دیا اور دھمکی دی کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام پر نئے معاہدے پر راضی نہ ہوا اور ٹرمپ جنھیں ایران کے ‘خطرناک جوہری عزائم’ کہتے ہیں، ان سے دستبردار نہ ہوا تو امریکہ حملہ کر دے گا۔

لیکن خامنہ ای نے یورینیم کی افزودگی روکنے سے صاف انکار کر دیا۔

جنوری 2026 کے آخر میں انھوں نے خبردار کیا: ’امریکیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر وہ جنگ شروع کرتے ہیں تو اس بار وہ پورے خطے میں پھیلے گی۔‘

خامنہ ای نے ایران میں طاقت کے تمام مراکز پر اپنی گرفت ہمیشہ مضبوط رکھی اور اس کے لیے کئی بار بے رحمی کا مظاہرہ بھی کیا۔

بعض اوقات سپریم لیڈر نے خود کو سیاست سے بالاتر ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ یوں ظاہر کیا کہ ایران کے اصلاح پسندوں اور قدامت پسندوں کے درمیان جھگڑوں سے ان کا کوئی لینا دینا نہ ہو۔ لیکن عملی طور پر خامنہ ای نے کبھی اختلاف رائے کو زیادہ بڑھنے نہیں دیا اور نہ ہی ایسی پالیسیوں کو پنپنے دیا جن سے وہ متفق نہ ہوں۔

ایران میں زندگی آج بھی انھی قوانین کے تحت چل رہی ہے جو انھوں نے وضع کیے تھے۔ بہت کم لوگ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ان کے بعد کون آئے گا، اس وجہ سے یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ مستقبل میں کیا تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔

SOURCE : BBC