Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں امریکی اڈوں پر ایران کے جوابی حملوں کے بعد امریکہ کے فضائی...

امریکی اڈوں پر ایران کے جوابی حملوں کے بعد امریکہ کے فضائی دفاعی نظام پر اٹھنے والے سوالات

17
0

SOURCE :- BBC NEWS

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سنیچر کو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے جانے والے حملوں کے بعد ایران نے بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے اڈے کو نشانہ بنایا گیا، جس سے خطے میں فضائی دفاعی نظام کی کمزوریاں سامنے آئی ہیں۔ ایران کے ان حملوں نے واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق سامنے آنے والی ویڈیوز میں میزائل اور ڈرونز کو امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر کے قریب گرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

تاہم، اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کو حملے کی پیشگی اطلاع ملنے کے باعث اہلکاروں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہوگا۔

سابق برطانوی بحریہ کمانڈر ٹام شارپ کے مطابق ایران نے بحرین کو ایک نمایاں ہدف سمجھا کیونکہ یہاں ماضی میں فضائی دفاعی نظام محدود رہا ہے۔

ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ ایرانی ’شاہد‘ ڈرون نسبتاً سست رفتاری کے باوجود دفاعی حصار کو عبور کرنے میں کامیاب رہا۔ یوکرین میں ایسے ڈرونز کو عام مشین گن سے بھی مار گرایا جاتا ہے۔

گزشتہ ہفتوں میں امریکہ نے خطے میں اضافی فضائی دفاعی نظام تعینات کیے ہیں، جن میں جدید پیٹریاٹ اور تھاڈ سسٹمز شامل ہیں۔ یہ میزائل شکن نظام مہنگے اور تعداد میں محدود ہیں۔ مثال کے طور پر، یوکرین کے پاس دس سے کم پیٹریاٹ سسٹم ہیں اور وہ اب بھی دارالحکومت کیف کا مکمل دفاع نہیں کر پاتا۔

امریکی بحریہ نے خلیج اور مشرقی بحیرہ روم میں تقریباً ایک درجن ارلی برک کلاس ڈسٹرائرز تعینات کیے ہیں، جو ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ جہاز یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔ سنہ 2024 سے سنہ 2026 کے دوران امریکہ نے تقریباً 400 ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے میں کامیابی حاصل کی۔

BBC

خطے میں موجود امریکی لڑاکا طیارے بھی ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس وقت امریکہ کے پاس خطے میں 100 سے زائد جنگی طیارے موجود ہیں۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس کے باوجود، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے وسیع ہتھیاروں کے ذخائر کے باعث تمام اہداف کو محفوظ رکھنا ممکن نہیں۔ اندازہ ہے کہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے قبل ایران کے پاس تقریباً 2000 مختصر فاصلے تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے والے بیلسٹک میزائل موجود تھے جبکہ اس کے پاس ہزاروں ایک طرفہ حملہ آور ڈرونز بھی ہیں۔

ایرانی ’شاہد‘ ڈرون روس کو بھی فراہم کیا گیا ہے، جو یوکرین میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے۔ روس اب ہر ماہ ہزاروں ایسے ڈرون تیار کر رہا ہے اور امکان ہے کہ اس نے ایران کو تکنیکی مدد بھی فراہم کی ہے۔

سابق برطانوی بحریہ کمانڈر ٹام شارپ نے انکشاف کیا ہے کہ اپنی سروس کے دوران انھوں نے مشقیں کیں جن میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے منظرنامے شامل تھے۔ ان مشقوں میں یہ واضح ہوا کہ محدود فضائی دفاعی نظام کے باوجود کچھ میزائل اور ڈرونز ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

شارپ کا کہنا ہے کہ ’اگر ایران اپنی پوری صلاحیت استعمال کرے اور حملوں میں تیزی لائے تو بالآخر امریکہ کے پاس موجود تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائل شکن نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایران کے میزائل اور ڈرونز کی صلاحیتیں ایسی ہیں کہ جن سے ان کا مقابلہ مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب امریکی تحقیقی ادارے فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے سینیئر فیلو ایڈمنڈ فٹن براون کا کہنا ہے کہ ’شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایران جوابی کارروائی پر آمادہ ضرور ہے لیکن وہ اس تنازع کو وسیع جنگ میں تبدیل نہیں کرنا چاہتا۔‘

ان کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں کہ گذشتہ سال کے امریکی اور اسرائیلی حملوں نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کس حد تک نقصان پہنچایا۔

فٹن براون نے کہا کہ ’ابتدائی اشارے یہی ہیں کہ ایرانی جوابی کارروائی کا دائرہ کار نسبتاً محدود ہے۔‘

یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ یمن میں حوثیوں کو نشانہ بنانے کے ایک سال بعد بھی امریکہ ان کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکا تھا بلکہ صرف نقصان پہنچایا تھا۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف فضائی جنگیں شاذ و نادر ہی فیصلہ کن فتح یا حکومت کی تبدیلی کا باعث بنتی ہیں۔ سنہ 2011 میں لیبیا پر نیٹو کی بمباری اس کی ایک مثال ہے تاہم اس کے بعد ملک شدید انتشار کا شکار ہو گیا تھا۔

ایران کے پاس امریکی بحریہ کو نشانہ بنانے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے بشرطیکہ وہ ان کی حد میں ہوں۔ اس کے پاس بڑی تعداد میں اینٹی شپ میزائلز اور چھوٹے، تیز رفتار، بغیر پائلٹ حملہ آور کشتیاں موجود ہیں۔ اس کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ آیا چین نے حالیہ مہینوں میں ایران کو فوجی مدد فراہم کی ہے یا نہیں۔

واشنگٹن کے سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز سے وابستہ ڈینیئل بائمن کے مطابق ابتدائی حملے ایران کی قیادت اور فوجی اثاثوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں لیکن امریکہ کو طویل آپریشن جاری رکھنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں جبکہ ایران کی بقا کا بنیادی راستہ صرف ’برداشت‘ ہے۔

یوکرین اس بات کی کی ایک مثال ہے کہ فضائی دفاع کس قدر اہم ہے۔ صدر ولادیمیر زیلینسکی کی جانب سے اتحادیوں سے سب سے بڑی درخواست فضائی دفاعی نظام ہی رہی ہے۔ یوکرین یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ سینکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں پر مشتمل پیچیدہ حملوں کے خلاف دفاع کرنا کس قدر مشکل ہے۔

امریکہ کے پاس زیادہ وسائل ہیں اور اسرائیل کے ساتھ مل کر وہ ایران کے ڈرون اور میزائل بنانے والے کارخانوں اور لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنا رہا ہے۔ تاہم اس خطرے کو مکمل طور پر رد کرنا آسان نہیں ہوگا۔ ایک طویل جنگ نہ صرف ایران کے لیے چیلنج ہوگی بلکہ امریکہ کے ہتھیاروں کے ذخائر اور سپلائی کے لیے بھی، خاص طور پر ایسی جنگ جو گھر سے ہزاروں میل دور لڑی جا رہی ہو۔

SOURCE : BBC