Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں پاکستان کا افغانستان میں ’37 مقامات پر‘ فضائی حملوں کا دعویٰ: افغان...

پاکستان کا افغانستان میں ’37 مقامات پر‘ فضائی حملوں کا دعویٰ: افغان طالبان کے 331 اہلکار ہلاک اور 104 چیک پوسٹیں تباہ کر دی گئیں

4
0

SOURCE :- BBC NEWS

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں اور تصادم کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے مابین گذشتہ برس بھی کئی روز تک لڑائی رہی تھی جسے دوست ممالک کی مداخلت کے بعد روک دیا گیا تھا۔

گذشتہ برس اکتوبر میں دونوں ممالک نے جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ لیکن اس کے باوجود حالیہ عرصے میں پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں پر اسلام آباد نے اس کے تانے بانے افغانستان سے ملنے کا الزام عائد کیا تھا۔

جمعرات کی شب شروع ہونے والے نئے تنازع کے دوران فریقین نے ایک دوسرے کو بھاری جانی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اب افغان طالبان حکومت کے خلاف ’کھلی جنگ‘ ہو گی۔

دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کی تاریخی جڑیں کیا ہیں اور نئے سرے سے لڑائی کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں؟

ایک پیچیدہ تاریخ

سنہ 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا سے کابل میں سابق حکومت تواتر کے ساتھ پاکستان پر یہ الزام عائد کرتی تھی کہ وہ افغان فورسز کے خلاف کارروائیوں کے لیے افغان طالبان کی مدد کرتا ہے۔

پاکستان نے اُس وقت افغان طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق کو مضحکہ خیز قرار دیا تھا۔

پاکستان نے 2020 میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان طے پانے والے دوحہ معاہدے میں بھی سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا۔ اس کے بعد افغانستان سے امریکہ کے انخلا کی راہ ہموار ہوئی تھی۔

پاکستان اُن چند ممالک میں سے بھی ایک تھا، جنھوں نے 1996 اور 2001 کے درمیان افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے دوران اس حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔

لیکن دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی نے یہ طاہر کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی نازک ہیں۔

پاکستان کا الزام ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر حملے کرتی ہے اور افغان طالبان اُنھیں روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہے۔

سابق پاکستانی سفارت کار مسعود خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کو اُمید تھی کہ ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کو ماضی کی طرح افغان طالبان کی حمایت حاصل نہیں ہو گی اور سرحد پر حالات بہتر ہوں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔‘

صحافی اور تجزیہ کار سمیع یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ افغان طالبان روایتی حکومت نہیں ہے۔ وہ ایک ایسے گروہ کے طور پر اقتدار میں آئے ہیں جو تاریخی طور پر ٹی ٹی پی سے جڑے ہوئے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے یہ توقع کرنا کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو افغانستان سے ختم کر دیں گے یا نکال دیں گے، تو یہ ایک غیر حقیقی توقع ہے۔

گذشتہ سال اکتوبر میں افغان وزیر خارجہ امیر متقی نے نئی دہلی کا دورہ کرتے ہوئے پاکستان کے حریف انڈیا کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کیے تھے۔

گذشتہ سال اکتوبر میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے جیو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے افغانستان پر ’دہلی کے لیے پراکسی جنگ لڑنے‘ کا الزام لگایا تھا۔

انڈیا نے افغانستان کے اندر کسی بھی پاکستان مخالف عناصر کی حمایت سے مسلسل انکار کیا ہے۔ لیکن سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ انڈیا اور افغانستان کے مابین گرمجوشی ایک طرح سے پاکستان کی ’علامتی شکست‘ تھی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ انڈیا خطے میں سرمایہ کاری کے لیے کوشاں ہے جبکہ طالبان خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرکے اپنی تنہائی ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستان کی افغانستان کے ساتھ 2600 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ اسے ڈیورنڈ لائن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور اس کا تعین 1893 میں برٹش راج کے دوران کیا گیا تھا۔

افغانستان اور سرحد کے دونوں اطراف بسنے والے لاکھوں پشتون ڈیورنڈ لائن کو متنازع سمجھے جاتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا اس سے بھی تعلق ہے۔

پاکستان ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد قرار دیتا ہے جبکہ افغان طالبان پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کچھ علاقوں کو افغانستان میں ضم کرنے کی بات کرتے ہیں۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی ایک وجہ ڈیورنڈ لائن سے جڑا تنازع بھی ہے۔

SOURCE : BBC