Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’مجاہدینِ خلق‘: ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے گھر پر حملے کا دعویٰ...

’مجاہدینِ خلق‘: ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے گھر پر حملے کا دعویٰ کرنے والی تنظیم کیا ہے؟

6
0

SOURCE :- BBC NEWS

HAMSHAHRI

،تصویر کا ذریعہHAMSHAHRI

ایران میں مجاہدینِ خلق نامی تنظیم (ایم ای کے) کا دعویٰ ہے کہ اس کے تقریباً ’250 اہلکاروں‘ نے تہران کے وسط میں اسلامی جمہوریہ کے رہبرِ اعلیٰ سید علی خامنہ ای کے دفتر اور رہائش گاہ پر حملہ کیا ہے تاہم ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا نے اس واقعے کی تردید کی ہے۔

اس مبینہ حملے کے کوئی شواہد یا تصاویر سامنے نہیں آئیں جبکہ پاستور کے علاقہ جہاں رہبر کی رہائش گاہ، صدارتی عمارت، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، عدلیہ سیکریٹریٹ، گارڈین کونسل اور مجلسِ خبرگان کے دفاتر واقع ہیں، میں سخت سکیورٹی انتظامات برقرار ہیں۔

ایم ای کے نے گذشتہ شب جاری بیان میں کہا کہ اس کے اہلکاروں نے پیر کی صبح اس مقام پر حملہ کیا اور کچھ نقصان پہنچایا، تاہم ان کے’100‘ اہلکار ہلاک یا گرفتار ہو گئے۔

ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے اس دعوے کو ’ایک مزاحیہ اور ڈرامائی ردِعمل‘ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ایم ای کے کے چار افراد نے ’پلاسٹک کے پائپ سے بچوں کے کھلونے جیسی چیز بنا کر‘ وسطی تہران میں آواز پیدا کرنے کی کوشش کی، لیکن انھیں گشت کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔

ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن احمد بخشایش اردستانی نے منگل کو خبر رساں ادارے اِلنا سے گفتگو میں کہا: ’میرا خیال ہے کہ ان کے لیے ایسی کارروائی کرنا بعید از قیاس ہے، تاہم میں اس خبر کی تفصیلات سے آگاہ نہیں اور نہ ہی مجھے معلوم ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے۔‘

اسلامی اور مارکسی نظریے کے حامل شدت پسندوں کے گروہ مجاہدینِ خلق (ایم ای کے) کے ارکان نے 1979 میں انقلاب ایران کی حمایت کی تھی جس کے نتیجے میں شاہ ایران کی بادشاہت ختم ہوئی تھی لیکن آیت اللہ خمینی سے بھی ان کے تعلقات جلد ہی خراب ہو گئے۔

ایران میں مجاہدینِ خلق (ایم ای کے) پر پابندی عائد ہے۔ ایرانی حکومت اسے دہشت گرد گروہ قرار دیتی ہے اور اس پر ریاست کے خلاف سازشوں اور کارروائیوں کا الزام عائد کرتی ہے۔ ایم ای کے متعدد اراکین کو اس کی رکنیت کے جرم میں قید اور پھانسیاں بھی دی گئی ہیں۔

مجاہدینِ خلق نے کیا دعویٰ کیا اور ایرانی حکام و میڈیا کیا کہہ رہے ہیں؟

getty

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مجاہدینِ خلق نامی تنظیم (ایم ای کے) کا دعویٰ ہے کہ اس کی کارروائی پیر کو صبح کی اذان کے وقت شروع ہوئی اور 25 فروری کی دوپہر تک جاری رہی۔ بیان کے مطابق حملہ رہبرِ اعلیٰ کی رہائش گاہ کے اندر واقع ’مطہری کمپلیکس‘ پر کیا گیا اور ’250 میں سے 150‘ اہلکار بحفاظت اپنے ٹھکانوں پر واپس پہنچ گئے۔‘

تنظیم کا مزید دعویٰ ہے کہ اس کے اہلکاروں نے کمپلیکس کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں کو ’بھاری جانی نقصان‘ پہنچایا۔ پاستور سٹریٹ اور اس کے اطراف رہبر کی رہائش گاہ، صدارتی عمارت، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، عدلیہ سیکریٹریٹ، گارڈین کونسل اور مجلسِ خبرگان کے دفاتر واقع ہیں۔

اگرچہ احمد بخشایش نے حملے کے ماخذ سے لاعلمی ظاہر کی، تاہم انھوں نے اِلنا سے کہا: ’ان کا اندازہ یہ ہے کہ ملک کمزور ہو چکا ہے اور سکیورٹی اور انٹیلی جنس ادارے دیگر امور میں مصروف ہیں، اس لیے وہ دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے ملک کو کمزور ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔‘

پاسدارانِ انقلاب سے قریبی سمجھی جانے والی ویب سائٹ ’بولتن نیوز‘ نے لکھا کہ ’گذشتہ شب پاستور سٹریٹ کے علاقے، جو دارالحکومت کا سب سے محفوظ علاقہ سمجھا جاتا ہے، میں پے در پے دھماکوں کی آوازوں نے حکام اور حامیوں کے لیے سنجیدہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ دشمن نے تہران کے قلب تک رسائی کی جرات کی؟‘

گذشتہ روز ایران میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کچھ دیر کے لیے ’پاستور‘ ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتا رہا، تاہم دھماکوں اور فائرنگ کی اطلاعات کے علاوہ تاحال کوئی تصاویر یا ٹھوس شواہد سامنے نہیں آئے۔

ایرانی خبر رساں اداروں نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے۔

روزنامہ ہمشہری کے مطابق پاستور سٹریٹ، جنوبی فلسطین سٹریٹ، آذربائیجان، کشور دوست سٹریٹ اور امام خمینی سٹریٹ کے اطراف سخت سکیورٹی انتظامات نافذ ہیں۔ اس علاقے میں داخلے کے لیے کارڈ لازمی ہے جبکہ صرف سکیورٹی یونٹس اور مسلح افواج کی سبز نمبر پلیٹ والی گاڑیوں یا مجاز حکام اور سفارت کاروں کی خصوصی اجازت یافتہ گاڑیوں کو ہی اندر جانے کی اجازت ہے۔

ایران مخالف گروہ مجاہدین خلق (ایم ای کے)

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

مجاہدین خلق ایک جلاوطن مخالف گروہ ہے جو اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کی حمایت کرتا ہے۔ مجاہدین خلق (ایم ای کے) کو پیپلز مجاہدین آرگنائزیشن آف ایران (پی ایم او آئی) بھی کہا جاتا ہے۔

1965 میں ایک بائیں بازو کے طور پر قائم ہونے والی اس شدت پسند تنظیم نے ایران کے شاہ کی سخت مخالفت کی اور ان مظاہروں میں حصہ لیا جن کے نتیجے میں ان کا اقتدار ختم ہوا اور 1979 میں اسلامی جمہوریہ قائم ہوا۔

ابتدائی طور پر اس گروہ نے جمہوریہ کے بانی، آیت اللہ خمینی، کی حمایت کی لیکن جب اس کے رہنما مسعود رجوی کو پہلے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تو مجاہدین خلق نے حکومت مخالف رویہ اختیار کر لیا۔

اس نے اسلامی جمہوریہ کو گرانے کے لیے مسلح جدوجہد شروع کر دی اور کئی اہم شخصیات کے قتل کی ذمہ داری قبول کی۔

حکام نے مجاہدین خلق کے حامیوں، جو ایران کے عوامی مجاہدین تنظیم (پی ایم او آئی) کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تو مسعود رجوی پیرس فرار ہو گئے۔

بعد میں وہ اپنے زیادہ تر پیروکاروں کے ساتھ ایرانی سرحد کے قریب صدام حسین کے عراق میں کیمپ اشرف منتقل ہو گئے۔ وہاں اس تحریک نے بتدریج ایک فرقے کی خصوصیات اختیار کر لیں، جس میں مسعود رجوی اور ان کی اہلیہ مریم کی پرستش شامل تھی۔

مریم رجوی نے 1970 کی دہائی کے اوائل میں بطور طالبہ تہران میں مزاحمتی تحریک میں شمولیت اختیار کی اور 1985 میں اپنے شوہر کی ہدایت پر گروپ کی مشترکہ قیادت سنبھالی۔

1980 کی دہائی میں ایران-عراق جنگ کے دوران، ایم ای کے نے صدام کی فوج کے تعاون سے ایران میں کئی مسلح حملے کیے، جس کے نتیجے میں اسے ملکی سطح پر اپنی حمایت کا بڑا حصہ کھونا پڑا۔

مجاہدین خلق کے تعلقات مغرب کے ساتھ پیچیدہ رہے ہیں۔ ایران کے اصلاح پسند صدر محمد خاتمی کے دور میں امریکہ اور یورپی یونین نے اس گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا، لیکن ان کے سخت گیر جانشین محمود احمدی نژاد کے دور میں یہ فیصلہ واپس لیا گیا۔

ایم ای کے نے 2002 میں ایک پروپیگنڈا کامیابی حاصل کی جب اس نے ایران کی اہم جوہری تنصیبات کے وجود کا انکشاف کیا۔ اس سے اسلامی جمہوریہ اور مغرب کے درمیان طویل تناؤ پیدا ہوا۔

صدام کے بعد کے عراق میں اس گروہ نے ہتھیار ڈال دیے اور آخرکار بغداد کے قریب ایک سابق امریکی فوجی اڈے، کیمپ لبرٹی، منتقل ہو گئے، بعد میں ایم ای کے نے اپنے ارکان کو البانیہ منتقل کر دیا جہاں وہ آج بھی کیمپ اشرف تھری میں رہائش پذیر ہیں۔

آج کل اس تنظیم کا ہیڈ کوارٹر البانیہ میں ہی ہے۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیمپ اشرف تھری البانیہ کے ضلع دریس کے قریب منیز میں واقع ہے، یہ تقریباً دو سے تین ہزار ارکان کے لیے پیپلز مجاہدین آرگنائزیشن آف ایران (ایم ای کے) کے مرکزی ہیڈکوارٹر کے طور پر کام کرتا ہے۔ عراق سے منتقلی کے بعد، یہ جلاوطن ایرانی اپوزیشن گروہ ایک محفوظ کمپاؤنڈ میں مقیم ہے اور اس کی توجہ ایران کی حکومت کو ختم کرنے والی سرگرمیوں پر مرکوز ہے۔

ایم ای کے کے رہنما فرانس میں مقیم ہیں اور انھوں نے 1993 میں مریم رجوی کو ایران کی ’مستقبل کی صدر‘ کے طور پر منتخب کیا۔ گروہ کے ارکان مریم کو ’جلاوطن ایرانی صدر‘ بھی پکارتے ہیں۔

کونسل آن فارن افئیرز نے اس گروہ پر ایک مضمون میں لکھا ہے کہ تجزیہ کار اس شدت پسند گروہ کو ایک کلٹ (فرقہ) قرار دیتے ہیں، جس کی وجہ گروہ کی رجوی خاندان کے ساتھ مکمل وفاداری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 1980 کی دہائی کے آخر میں اس گروہ کی ’بوڑھی خواتین کو اپنے شوہروں سے طلاق لینے پر مجبور کیا جاتا تھا‘، اور نوجوان لڑکیوں کو شادی کرنے یا بچے پیدا کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

مضمون میں مسعود رجوری کے متعلق یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2003 میں امریکہ کے عراق پر حملے کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں اور ان کی موجودہ صورتحال اور مقام کا کسی کو علم نہیں ہے۔

کچھ تجزیہ کار انھیں مردہ قرار دیتے ہیں۔ ایران کے ماہر کریم سجدہ پور نے کونسل آن فارن افئیرز کو دیے ایک انٹرویو میں کہا: ’کلٹ (فرقہ) کے رہنما عام طور پر ریٹائر نہیں ہوتے۔ وہ یا تو مر جاتے ہیں یا جیل چلے جاتے ہیں۔ اگر مسعود رجوی زندہ ہیں تو مجھے حیرت ہوگی۔‘

SOURCE : BBC