SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہReuters
افغانستان کے ساتھ کشیدہ حالات کے بعد پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں حملوں میں اضافہ تو دیکھا ہی گیا تاہم ایک عرصے بعد صوبہ پنجاب میں بھی خود کش حملہ ہوا۔ اس سے پہلے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی حالیہ عرصے میں دو بڑے حملے ہو چکے ہیں۔
صوبہ پنجاب کے شہر بھکر میں منگل کی شام ایک چیک پوسٹ پر خود کش حملہ بظاہر خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں ہونے والے حالیہ حملوں کا تسلسل ہے۔ گذشتہ روز خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ اور بھکر کے حملوں میں ایک ڈی ایس پی سمیت 9 پولیس اہلکار اور ایک راہگیر ہلاک ہوئے ہیں۔
ان حالیہ حملوں میں شدت پسندوں کی جانب سے زیادہ جانی نقصان کے لیے مختلف منصوبہ بندی نظر آئی، جس میں ایک دھماکے کے بعد ایمبولینس اور زخمیوں کو لے جانے والی گاڑیوں پر حملے کیے گئے۔
اگر ہم خیبر پختونخوا میں گذشتہ چند روز یعنی 16 فروری سے 24 فروری تک ہونے والے حملوں کو دیکھیں تو یہ تواتر سے کیے جا رہے ہیں۔ باجوڑ میں ملنگی چیک پوسٹ پر حملہ، اس کے بعد بنوں میں لیفٹیننٹ کرنل کے قافلے پر حملہ، کرک میں کواڈ کاپٹر سے فیڈرل کانسٹبلیری کے قلعے پر حملہ، کوہاٹ میں تحصیل لاچی کے علاقے شکر درہ میں پولیس پر حملہ اور بھکر میں داجل چیک پوسٹ پر حملہ شامل ہیں۔
سکیورٹی فورسز پر حملوں میں جوابی کارروائیاں بھی کی گئی ہیں، جیسے حکام کے مطابق باجوڑ حملے کے دوران جھڑپ میں 12 شدت پسند ہلاک ہوئے اور اسی طرح بنوں میں لیفٹیننٹ کرنل کے قافلے پر حملے کے بعد جوابی کارروائی میں پانچ شدت پسند ہلاک ہوئے۔
بھکر میں کیے گئے حملے سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟
خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں تو ایک عرصے سے مسلسل حملے ہو رہے ہیں اور اس کے جواب میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کی جانب سے جوابی کارروائیاں بھی کی گئی ہیں۔
چند ماہ پہلے خیبر پختونخوا کے ساتھ واقع علاقے میانوالی اور ادھر ڈیرہ غازی خان کی طرف پنجاب میں انسداد دہشت گردی کے محکمے کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کی گئی تھیں جن میں یہ کہا گیا تھا کہ شدت پسندوں کا جانی نقصان ہوا۔
اب داجل چیک پوسٹ پر خود کش حملے کے بعد پاکستان میں تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔
بھکر کے پولیس افسر شہزاد رفیق کے مطابق ایک خود کش حملہ آور نے اپنے آپ کو داجل چیک پوسٹ پر دھماکے سے اڑایا تھا۔
داجل چیک پوسٹ خیبر پختونخوا کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان اور صوبہ پنجاب کے شہر بھکر کے درمیان واقع ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے یہ چیک پوسٹ کوئی چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس پر تو متعدد حملے ہو چکے ہیں لیکن یہاں پنجاب کی طرف حالیہ تاریخ میں کوئی ایسا حملہ نہیں ہوا۔ اس حملے کے بعد علاقے میں داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی بڑھا دی گئی۔
،تصویر کا ذریعہReuters

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس بارے میں سینیئر صحافی اور تجزیہ کار احسان اللہ ٹیپو محسود سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس موجود معلومات کے مطابق کالعدم تنظیموں کے پاس اتنی انفرادی قوت اور وسائل موجود ہیں کہ وہ جہاں بھی چاہیں یہ کارروائیاں کر سکتے ہیں۔
’طالبان کے لیے پنجاب میں حملہ کرنا کوئی بڑی بات نہیں لیکن فی الحال ان تنظیموں کی منصوبہ بندی میں پنجاب شامل نہیں تاہم اگر افغانستان میں پاکستان کی جانب سے مزید کارروائیاں کی جاتی ہیں تو اس سے شدت پسندی کی کارروائیاں دیگر علاقوں تک پھیلنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔‘
سینیئر صحافی اور محقق عبدالسید کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلق کا اثر عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں نظر آ رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اب یہ دھڑے ایک بار پھر دارالحکومت اسلام آباد اور صوبہ پنجاب کو خودکش حملوں کا نشانہ بنانے کی کوششوں میں ہیں، جس سے داخلی اور عالمی سطح پر یہ پیغام دینا مقصود ہے کہ ’ریاست کے مقابل عسکریت پسندوں کا خطرہ پھر بڑھ رہا ہے۔‘
تجزیہ کار بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمود شاہ کے مطابق خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع اور شمال میں باجوڑ میں دہشت گرد ٹھہرے ہوئے ہیں۔
انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’افغانستان سے جو دہشتگرد آتے ہیں، انھیں جنوبی اضلاع کرک، وزیرستان اور ڈی آئی خان نزدیک پڑتے ہیں۔‘
’سوات ان کے لیے دور ہے، بیج میں انھیں دیر سے گزرنا پڑتا ہے، تو وہاں پر حملے نہیں ہو رہے۔ یہ وہاں (افغانستان) سے آ جاتے ہیں اور یہاں ان کی پناہ گاہیں ہیں جہاں یہ چھپے ہوتے ہیں اور حملے کرتے ہیں۔‘
’ایک کے بعد دوسرا حملہ‘
حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا میں جو حملے ہوئے، ان میں نیا طریقہ دیکھا گیا کہ ایک حملے کے بعد دوسرا حملہ کیا جاتا ہے۔
باجوڑ میں ملنگی چیک پوسٹ پر باردو سے بھری گاڑی سے حملہ کیا گیا تو اس میں زخمیوں کو جب گاڑیوں اور ایمبولینسز میں ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تو مسلح شدت پسندوں نے امدادی کارروائیوں کے لیے آنے والے لوگوں پر بھی فائرنگ کی تھی۔ اس میں ایک بچی کے جان جانے کی اطلاع بھی موصول ہوئی تھی۔
اسی طرح اس کے بعد کرک میں جب فیڈرل کانسٹبلیری کے قلعے پر کواڈ کاپٹر سے حملہ کیا گیا تو زخمیوں کو ایمبولینس میں ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ اس وقت بھی علاقے میں تاک میں بیٹھے مسلح شدت پسندوں نے ایمبولینسز پر فائرنگ شروع کر دی تھی اور گاڑیوں کو آگ لگا لگا دی تھی۔
اس حملے میں تین زخمی اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ ریسکیو اہلکار شدید زخمی ہوئے تھے۔
شدت پسندوں نے اس کی ویڈیو بھی جاری کی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بڑی تعداد میں مسلح افراد پہاڑ کے اوپر کھڑے ہو کر نیچے سڑک پر جانے والی ایمبولینسز پر فائرنگ کر رہے ہیں ۔
اس بارے میں سینیئر صحافی اور شدت پسندی کے واقعات پر نظر رکھے ہوئے صحافی دلاور خان وزیر سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ مسلح شدت پسند زیادہ جانی نقصان کے لیے اس طرح کی کارروائیاں پہلے بھی کرتے رہے ہیں۔
تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح ایمبولینسز پر حملے پہلے کم ہی دیکھے گئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دلاور خان وزیر کا کہنا ہے کہ سنہ 2004 میں سکیورٹی فورسز نے کمانڈر نیک محمد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی اور جب مزید فورس ٹانک سے وانا کی طرف آ رہی تھی تو راستے میں ان پر حملہ کیا گیا۔
’اس حملے کے نتیجے میں دو درجن سے زیادہ ہلاکتوں کے علاوہ قافلے میں شامل گاڑیوں کو جلا دیا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں بڑھتے واقعات کے بارے میں شدت پسندوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ان کی موجودگی صرف قبائلی اضلاع میں نہیں بلکہ صوبے کے شہری علاقوں میں بھی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے بعض اضلاع میں شدت پسند موجود ہیں اور کالعدم تنظیم کی حالیہ تشکیلات میں پنجاب کے ان علاقوں کا ذکر بھی ہے لیکن ان علاقوں میں کارروائیاں نہیں کی جا رہی تھیں اور اب ایسا لگ رہا ہے کہ شاید انھیں کوئی نیا ٹاسک دے دیا گیا۔
حملوں میں اضافہ
اگر ہم 2024 اور پھر 2025 کے دوران تشدد کے واقعات پر نظر ڈالیں تو سنہ 2025 میں دہشت گردی کے حملوں میں 56 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
یہ اعداد وشمار خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی کے محکمے کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔ سی ٹی ڈی کے مطابق ان حملوں کے جواب میں پولیس کی کاررائیوں میں 102 فیصد اضافہ ہوا۔
اس کے برعکس اگر ہم اس سال کا جائزہ لیں تو دو ماہ میں تشدد کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا۔
سینیئر صحافی اور محقق عبدالسید کا بھی یہی کہنا ہے کہ رواں سال حملوں میں خاصا اضافہ دیکھا گیا اور ان حملوں کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔
’کابل اور اسلام آباد کے درمیان عسکریت پسندی کے حوالے سے مذاکرات کے خاتمے کے بعد جنگی کشیدگی کا جو ماحول بنا ہے، اس کی وجہ سے بھی پاکستان میں حملوں میں واضح اضافہ نظر آیا۔‘
عبدالسید کا مزید کہنا تھا کہ اپریل 2025 میں پاکستانی طالبان کے نئے دھڑے ’اتحاد المجاہدین پاکستان‘ کا قیام اور جماعت الاحرار کا دوبارہ منظر عام پر آنا بھی وجوہات میں شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ان مختلف دھڑوں کی رقابت میں تیزی آئی، جو ایک دوسرے کے مقابل زیادہ شدت سے حملوں کی کوشش میں ہیں۔
عبدالسید نے مزید کہا کہ یہی وجہ ہے کہ حملوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ کواڈ کاپٹر ڈرون حملے، خودکش حملے اور میزائل حملوں سمیت نئے مہلک حربوں کا استعمال بڑھ رہا ہے۔
احسان اللہ ٹیپو محسود کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق افغانستان کی جانب سے دو طرح کا رد عمل آ سکتا ہے۔
ان میں سے ایک تو افغانستان سے پاکستان کے سرحدی علاقوں پر حملے ہو سکتے ہیں کیونکہ افغانستان کے پاس کوئی بڑی جوابی کارروائی کی صلاحیت نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ انتقامی کارروائی کے لیے پاکستان میں موجود ایسے عناصر کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جو پنجاب یا دیگر علاقوں میں کارروائیاں کر سکتے ہیں۔
ان کے بقول ان میں طالبان اور بلوچستان میں کچھ تنظیمیں یا عناصر بھی ہو سکتے ہیں۔
SOURCE : BBC



