Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’غیرملکی سرمایہ کاروں کا انخلا‘: ریکارڈ اضافے کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج...

’غیرملکی سرمایہ کاروں کا انخلا‘: ریکارڈ اضافے کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج میں اچانک 11 فیصد تنزلی کی وجہ کیا ہے؟

8
0

SOURCE :- BBC NEWS

پاکستان سٹاک ایکسچینج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایک گھنٹہ قبل

مطالعے کا وقت: 6 منٹ

کیا پاکستان سٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس میں قلیل مدت کے دوران 11 فیصد کی تنزلی، محض مارکیٹ کی ’کرکشن‘ (یعنی تصحیح) ہے یا آنے والے مارکیٹ کریش کا اشارہ؟ اس وقت یہی سوال بہت سے سرمایہ کاروں کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے۔

صرف ایک ماہ قبل پاکستان سٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس نے تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار پوائنٹس کے ساتھ اپنی سب سے بلند سطح دیکھی تھی اور گذشتہ سال پاکستان میں سٹاکس کے سرمایہ کاروں نے 50 فیصد تک کا منافع بھی کمایا۔

پی ایس ایکس میں جولائی 2023 سے شروع ہونے والی بُل مارکیٹ نے تاریخی اعتبار سے کئی ریکارڈ توڑے ہیں۔ اس وقت مارکیٹ 50 ہزار پوائنٹس کے قریب کھڑی تھی جو کہ تین سال سے بھی کم عرصے میں 4.7 گنا ہو گئی۔ اس دوران ہزاروں نئے سرمایہ کاروں نے سٹاکس کا رُخ کیا۔

اب جبکہ کچھ ہی دنوں میں 100 انڈیکس نے اپنی انتہائی بلندی سے 11 فیصد کی تنزلی ریکارڈ کی ہے تو ایسے میں جہاں بعض تجزیہ کار مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا حوالہ دیتے نظر آ رہے ہیں تو کچھ نے اس جانب اشارہ کیا ہے کہ نئے سرمایہ کاروں کو یہ چیز یاد رکھنی چاہیے کہ ’مارکیٹ صرف اوپر نہیں جاتی۔‘

11 فیصد تنزلی نے کن شعبوں کو متاثر کیا؟

مارکیٹ کیپ کے اعتبار سے 100 انڈیکس کی تمام بڑی کمپنیاں حالیہ تنزلی سے متاثر ہوئی ہیں جن میں فوجی فرٹیلائزر، یو بی ایل، اینگرو ہولڈنگز، میزان بینک، ہبکو، ایچ بی ایل، او جی ڈی سی، لکی سیمنٹ، ایم سی بی اور ماری انرجیز شامل ہیں۔

فرٹیلائزر، سیمنٹ، تیل اور گیس، آئی ٹی اور کم و بیش تمام دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کی قدر میں کمی آنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک شعبے کا نہیں۔ مثلاً مارکیٹ کیپ کے اعتبار سے سب سے بڑی کمپنی فوجی فرٹیلائزر کی قدر میں 30 روز کے دوران 15 فیصد کی کمی آئی ہے۔

23 فروری کی مارکیٹ سمری میں ٹاپ لائن سکیورٹیز نے تجزیہ کیا کہ انڈیکس کی بڑی کمپنیاں جیسے فوجی فرٹیلائزر، لکی سیمنٹ، اینگرو ہولڈنگز، نیشنل بینک اور حبیب بینک کی قدروں میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی ہے۔

سکیورٹیز کمپنی عارف حبیب لمیٹڈ نے 23 فروری کو مارکیٹ تجزیے میں کہا ہے کہ ممکن ہے رواں ہفتے کے ایس ای 100 انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار کی سطح تک رہے مگر مارچ میں جاتے ہوئے تنزلی کا دباؤ برقرار ہے۔

پاکستان کی افغانستان کے خلاف فضائی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس کا کہنا ہے کہ ’علاقائی کشیدگی نے انڈیکس کو متاثر کیا ہے جو کہ اگلے ہفتے بھی جاری رہ سکتی ہیں۔‘

پاکستان سٹاک ایکسچینج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیا پاکستان سٹاک ایکسچینج میں فروخت کا رجحان جاری رہے گا؟

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تنزلی کی وجہ علاقائی صورتحال کے علاوہ لسٹڈ کمپنیوں کی جانب سے مالیاتی نتائج میں توقع سے کم گروتھ اور منافع ہے، جیسے تیل و گیس کے شعبے کی کمپنیوں میں کم منافع نے مارکیٹ پر منفی اثر ڈالا ہے۔

سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار شہریار بٹ نے پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کے رجحان کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس کی سب سے بڑی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں رجحان گذشتہ کئی روز سے منفی ہے۔‘

انھوں نے کہا ’کافی دن سے یہ کشیدگی چل رہی ہے جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی ہوئی ہے‘ اور ’غیر ملکی سرمایہ کار نکل رہے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ صرف جمعے کے روز غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ملکی مارکیٹ سے 19 کروڑ ڈالر سے زائد کے حصص فروخت کیے تھے۔

تاہم ٹاپ لائن سکیورٹیز کے سربراہ محمد سہیل کی رائے ہے کہ ’یہ ایک مارکیٹ کرکشن ہے، یعنی مارکیٹ میں بے انتہا اضافے کے بعد یہ حقیقی مالیاتی اندازوں کے قریب ہو رہی ہے۔‘

ان کی رائے میں ’11 فیصد کی کمی محض ایک کرکشن ہے، بیئر مارکیٹ نہیں۔‘

محمد سہیل نے بتایا کہ ’جون 2023 میں انڈیکس 40,000 پر تھی۔ اس وقت پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرض حاصل کیا تھا۔ اس کے بعد مارکیٹ ایک تاریخی تیزی کے ساتھ تقریباً 4.7 گنا بڑھی۔‘

’اس عرصے کے دوران انڈیکس تین مرتبہ یعنی دسمبر 2023، مئی 2025، اور اب 10 فیصد سے زیادہ کی کرکشن سے گزر رہی ہے۔ پہلے دو بار جیسے ہی معاشی اور سیاسی استحکام برقرار رہا تو مارکیٹ نے بحالی دکھائی۔‘

محمد سہیل کا کہنا ہے کہ ’اس بار بھی کوئی بڑا معاشی جھٹکا سامنے نہیں آیا۔ فروخت میں اضافہ زیادہ تر اوسط سے زیادہ غیرملکی سرمایہ کاروں کا انخلا، ریکوڈک سے متعلق خدشات، نسبتاً کمزور کارپوریٹ نتائج اور سٹاک فیوچرز کی وجہ سے دکھائی دیتا ہے۔‘

مگر یہ تنزلی کب تک جاری رہے گی؟

تجزیہ کار شہریار بٹ کا خیال ہے کہ ’جب تک امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کی صورتحال برقرار رہتی ہے تو مارکیٹ دباؤ کا شکار رہے گی۔‘

شہر یار نے کہا ’جیو پولیٹیکل صورتحال کے علاوہ لسٹڈ کمپنیوں کی جانب سے جو مالیاتی نتائج آئے ہیں وہ اتنے اچھے نہیں رہے جس کی وجہ سے بھی مارکیٹ میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔‘

تجزیہ کار کے مطابق سرمایہ کار کسی ایسی پیشرفت کے منتظر ہیں جو مارکیٹ میں دلچسپی بڑھائے۔

ادھر تجزیہ کار احسن محنتی نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک میں شرح سود کے دوبارہ بڑھنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔ محنتی نے کہا کہ سٹیٹ بینک کی جانب سے ایک سال کے بانڈز کے گذشتہ آکشن میں صورتحال شرح سود کے بڑھنے کے امکان کا ظاہر کرتی ہے۔

انھوں نے کہا رمضان کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی کا منظر نامہ متاثر ہو سکتا ہے اور مرکزی بینک شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے جو مارکیٹ پر منفی اثر ڈالے گا۔

معاشی امور کے تجزیہ کار نجم علی کا خیال ہے کہ ’30 ماہ کی مضبوط تیزی کے بعد بہت سے سرمایہ کار، خاص طور پر نئے سرمایہ کار، یہ بھول گئے کہ مارکیٹ صرف ہمیشہ اوپر نہیں جاتی۔‘

’یہ نیچے بھی آ سکتی ہے اور کبھی کبھی بہت تیزی سے گرتی ہے۔ اسی لیے طویل المدتی حکمتِ عملی بے حد ضروری ہے۔ جب تک معیشت تباہ نہیں ہو رہی، ہر کرکشن کو موقع سمجھنا چاہیے، گھبراہٹ کی وجہ نہیں۔‘

SOURCE : BBC