Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’صاحبزادہ فرحان نے پاکستان کا یقین جگا دیا‘

’صاحبزادہ فرحان نے پاکستان کا یقین جگا دیا‘

9
0

SOURCE :- BBC NEWS

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

باریک بینی عموماً ایک خوبی سمجھی جاتی ہے مگر جب اِسی خوبی پر ضرورت سے زیادہ دھیان دیا جائے تو بڑی تصویر ہی نظر سے اوجھل ہونے لگتی ہے۔ کیونکہ جب سارا ارتکاز ایک، ایک گیند کی پلاننگ میں جھونک دیا جاتا ہے تو توجہ پورے میچ کی مکمل تصویر سے ہٹ کر ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ اکثر مائیکرو مینیجمینٹ کے تحت کھیلی جاتی ہے جہاں چھوٹے چھوٹے منظرنامے جُڑ کر ایک سٹریٹیجی کو پورا کرتے ہیں، مثلاً بلے باز اگر دائیں ہاتھ کا ہوا تو ہی لیگ سپنر آئے گا ورنہ احتراز برتا جائے گا یا پچ اگر بیٹنگ فرینڈلی ہو تو فاسٹ بولر کے بجائے میڈیم پیس سے اٹیک بہتر رہے گا وغیرہ وغیر۔

ٹکڑوں میں بٹے اس کھیل میں دقت عموماً تب پیش آتی ہے جب ’زمینی‘ حقائق اس فارمیٹ کی عمومی شناخت یعنی چھکوں چوکوں کی راہ میں حائل ہو جاتے ہیں اور پچ گیند کی رفتار گھٹانے لگتی ہے۔ جہاں ایسی پچز سامنے آ جائیں، وہاں اکثر لگے بندھے فارمولے ناکام ہو جاتے ہیں اور کچھ ہٹ کے سوچنا پڑتا ہے۔

مثلاً پاکستان کے خلاف میدان میں اُترنے سے پہلے انڈین بلے باز بخوبی آگاہ تھے کہ حریف سپنرز اُن کی پسندیدہ بیٹنگ اپروچ کے لیے امتحان ثابت ہوں گے۔ سو، ایشان کشن اس خطرے کے جواب میں اپنی سٹریٹیجی لے کر آئے جہاں انھوں نے آف سٹمپ کے باہر جاتی گیندوں پر ایسے ’اختراعی‘ شاٹس کھیلے کہ پاکستانی سپنرز فوراً انھیں ان کے فیورٹ زون میں گیند ڈالنے پر مجبور ہو گئے۔

ایشان کشن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نہ صرف کشن نے پاکستانی سپنرز کو اپنے اہداف سے بھٹکایا بلکہ اپنی اننگز کو بھی اس طرح سے آگے بڑھایا کہ بالآخر باقی بلے بازوں کی کوتاہیوں کے ازالے کو کافی ہو رہی۔

نمیبیا کا بھلے پاکستان سے کوئی مقابلہ ہی نہ ہو مگر پچھلے تین آئی سی سی ایونٹس میں جو صدمے پاکستانی شائقین جھیل چکے ہیں، اُن کی بدولت یہاں دھڑکنیں صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ امریکی شائقین کی بھی تیز تھیں کہ شاید کوئی اپ سیٹ اُن کی ٹیم کو ایک بار پھر ورلڈ کپ کے سپر ایٹ راؤنڈ تک لے جائے۔

جب میچ ایسی کسی نہج پر کھڑا ہو تو وہاں کھلاڑیوں کو اپنی روٹین سٹریٹیجی سے باہر نکل کر سوچنے کی ضرورت رہتی ہے۔

صاحبزادہ فرحان نے بہت جلد بھانپ لیا کہ یہ پچ انھیں رنز تو دے گی مگر پہلے ہی ہلے میں ایسا نہ ہو پائے گا۔ سنہالیز سپورٹس کلب کولمبو کی یہ پچ اس نوعیت کی تھی جہاں بلے بازوں کو وقت گزارنے کی ضرورت تھی اور گیند کو میرٹ پر کھیلا جاتا تو رنز بھی خاصے موجود تھے۔

صائم ایوب جب گیند کو میرٹ پر کھیلنے کی بجائے اپنے طے شدہ پلان کی بھینٹ چڑھ گئے تو صاحبزادہ فرحان اپنی اننگز میں ٹھہراؤ لے آئے اور سٹرائیک ریٹ سے آگے بڑھ کر اپنی ٹیم کے لیے میچ کو بڑھانے لگے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر اننگز کے آخری اوور تک وہ کریز پر رکنے میں کامیاب رہے تو پاکستان کی سپر ایٹ کوالیفکیشن یقینی ہو سکتی ہے۔

صاحبزادہ فرحان

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

باریک بینی کی بجائے یہاں سلمان آغا نے نہ صرف ٹاس پر درست فیصلہ کیا بلکہ پاور پلے میں بھی صاحبزادہ فرحان کا ہاتھ بٹایا۔ مڈل آرڈر پر لگے دھبوں کو شاداب خان نے دھونے کی کوشش کی۔ بابر اعظم کے بغیر میدان میں اُترنے کا فیصلہ اگرچہ تشنہ ہی رہا مگر اُن کے بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی بہرحال پاکستان کے لیے نفع بخش ٹھہری۔

نہ صرف صاحبزادہ فرحان نے ورلڈ کپ سینچری کا یادگار اعزاز اپنے نام کیا بلکہ اپنی اننگز کی چال سے اپنے ساتھی بلے بازوں کو بھی سمجھا گئے کہ ایسی پچ پر اگر کسی کا بلا چل جائے تو پھر اسے اپنے جذبات کی بجائے ٹیم کے احساسات کا خیال رکھنا چاہیے اور میچ پر اپنی مہر گاڑ کے ہی پویلین لوٹنا چاہیے۔

سلمان مرزا

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

سلمان مرزا کی واپسی سے پاکستان کی وہ قوت بھی لوٹ آئی جو پچھلے دونوں میچز سے یکسر غائب تھی۔ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پیسرز کی کامیابی تبھی ممکن ہے جب وہ ہمہ وقت بلے باز سے ایک قدم آگے سوچنے کے قابل ہوں۔ مرزا کی خاصیت ہے کہ وہ بلے باز کا ذہن پڑھ کر عین آخری لمحے پر بھی اپنی لائن و لینتھ ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انڈیا سے شکست کے بعد سلمان آغا نے کہا تھا کہ اُن کی اگلی منزل صرف سپر ایٹ تک رسائی ہو گی اور جب پاکستان اگلے راؤنڈ میں پہنچ گیا تو یہ ایک ’نئی ٹیم‘ نظر آئے گی جو اپنے گروپ سٹیج ریکارڈ سے قطع نظر ٹرافی جیتنے کو پُرعزم ہو گی۔

پاکستان کے لیے صرف صاحبزادہ فرحان کی بیٹنگ ماسٹر کلاس ہی خوش آئند نہ تھی بلکہ جو مجموعہ ان کی اننگز نے پاکستان کو دیا، وہ بولنگ اٹیک کا بھی اعتماد بحال کر گیا۔

SOURCE : BBC