Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’آسٹریلیا میں برتن دھونے اور صفائی کرنے کے بعد کھلاڑیوں نے کیا...

’آسٹریلیا میں برتن دھونے اور صفائی کرنے کے بعد کھلاڑیوں نے کیا پرفارم کرنا تھا‘: پاکستانی ہاکی ٹیم کے کپتان کا بیان، کوچ کا تحقیقات کا مطالبہ

14
0

SOURCE :- BBC NEWS

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

18 فروری 2026، 12:39 PKT

اپ ڈیٹ کی گئی 6 گھنٹے قبل

مطالعے کا وقت: 8 منٹ

’قومی ٹیم کے کھلاڑیوں سے آسٹریلیا میں کچن، برتن، کپڑے اور باتھ روم صاف کروائے گئے، ہم نے کھانا خود پکایا اور سڑکوں پر رہے۔۔۔ برتن دھونے اور صفائی کے بعد کھلاڑی میچ میں کیا پرفارم کریں گے؟‘

یہ کہنا ہے پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ کا، جو آسٹریلیا سے واپسی پر لاہور ایئرپورٹ پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کر رہے تھے۔

پاکستانی ٹیم ہاکی پرو ہاکی لیگ کے آسٹریلیا میں ہونے والی پے در پے شکستوں کے بعد، بدھ کی صبح وطن واپس پہنچی ہے۔

ایئرپورٹ پر موجود میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کپتان عماد بٹ نے ہاکی فیڈریشن پر سنگین الزامات لگائے ہیں اور کہا ہے کہ وہ موجودہ ٹیم مینجمنٹ کے ساتھ مزید آگے نہیں چل سکتے ہیں۔

دوسری طرف ہاکی ٹیم کے کوچ نے انتظامیہ پر عائد کیے جانے والے الزامات کی تردید کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے سوال کیا کہ ’اچانک ایسا کیا ہوا کہ ٹیم انتظامیہ بری ہو گئی اور ایسی باتیں سامنے آ رہی ہیں کہ اس انتظامیہ کے ساتھ ہم کھیلنا نہیں چاہتے۔‘

یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر گذشتہ چند روز سے آسٹریلیا میں موجود پاکستانی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کی تصاویر اور ویڈیوز زیر گردش ہیں جن میں وہ کہیں اپنا کھانا خود پکاتے اور صفائی کرتے نظر آ رہے ہیں اور کہیں اپنے بیگز کے ہمراہ سڑک کنارے بیٹھے نظر آئے۔

میڈیا رپورٹس میں یہ الزامات سامنے آئے ہیں کہ بدانتظامی اور فنڈز کی مبینہ کمی کے باعث پاکستانی ٹیم کی آسٹریلیا میں رہائش اور کھانے پینے میں مشکلات پیش آئیں۔ یہ تصاویر اور ویڈیوز سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے منگل (17 فروری) کو اس معاملے کی تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے۔

ہاکی ٹیم کے کپتان نے کیا کہا؟

بدھ کی صبح لاہور ایئرپورٹ پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے قومی ٹیم کے کپتان عماد بٹ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اُن کی حالت زار پر مبنی تصاویر اور ویڈیوز درست ہیں۔ تاہم بی بی سی ان تصاویر اور ویڈیوز کی تصدیق نہیں کر سکتا ہے۔

کپتان عماد بٹ نے کا کہنا تھا کہ ‘قومی کھلاڑیوں سے آسٹریلیا میں کچن، برتن، کپڑے، باتھ روم صاف کروائے گئے، ہم نے کھانا خود پکایا اور سڑکوں پر رہے۔’

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ’جب میں نے پاکستان سپورٹس بورڈ سے اس حوالے سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو مطلوبہ فنڈز ٹیم کے آسٹریلیا روانہ ہونے سے قبل ہی فراہم کر دیے تھے، مگر جب میں نے ٹیم مینجمنٹ سے بات کی انھوں نے کہا کہ سپورٹس بورڈ نے مناسب اور مکمل فنڈنگ نہیں کی۔‘

Hockey Pakistan

،تصویر کا ذریعہHockey Pakistan

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کپتان عماد بٹ نے کہا کہ ’میں یہ نہیں جانتا کہ پاکستان سپورٹس بورڈ غلط ہے یا پاکستان ہاکی فیڈریشن کی انتظامیہ، مگر ہمیں اس بات کا علم ہے کہ ہماری ٹیم کی مینجمنٹ نے ہمارے ساتھ بہت جھوٹ بولا ہے۔‘

انھوں نے ٹیم مینجمنٹ پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’مجھے کسی کا کوئی خوف نہیں ہے، ٹیم مینجمنٹ نے کھلاڑیوں سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی اور ایک ایک کھلاڑی سے یہ تک پوچھا کہ کیا آپ کپتان عماد بٹ کے ساتھ ہیں یا پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ساتھ؟‘

پاکستان ہاکی فیڈریشن یا سپورٹس بورڈ نے ان الزامات پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

عماد بٹ کا مزید کہنا تھا کہ ’آسٹریلیا پہنچنے کے بعد کھلاڑی 13 سے 14 گھنٹے تک اوپرا سٹریٹ پر لاوارثوں کی طرح گھومتے رہے، انتظامیہ نے کسی بھی قسم کا کوئی ساتھ نہیں دیا۔ سوشل میڈیا پر ہاکی ٹیم کی سڑکوں پر بیٹھے رہنے کی جو ویڈیوز اور تصاویر سامنے آئی ہیں وہ سب درست ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہمارا پانچ دن کے بعد ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ ہے، جو کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن اور قومی ٹیم دونوں ہی کے لیے ایک اہم ایونٹ ہے۔ اب کیونکہ ہمارے پاس ٹائم بہت کم ہے، اس لیے ہم اس موجودہ ٹیم مینجمنٹ کے ساتھ آگے نہیں چل سکتے۔‘

ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ نے کہا کہ ’میں وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے درخواست کرتا ہوں کہ جلد سے جلد اس بات کا نوٹس لیں کہ کیوں قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا۔‘

یاد رہے کہ منگل کے روز وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس مبینہ بدانتظامی نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا تھا اور کہا کہ جو افراد بھی ذمہ دار پائے گئے اُن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر ایسی بہت سے مزید ویڈیوز بھی وائرل ہیں جن میں قومی ٹیم کے لاہور ایئرپورٹ پہنچنے پر انھیں ویلکم کہنے کے لیے کوئی موجود نہیں تھا اور نہ ہی ٹرانسپورٹ کی سہولت موجود تھی۔

اچانک ایسا کیا ہوا کہ ٹیم انتظامیہ بری ہو گئی؟ ہیڈ کوچ کا ردِعمل

پاکستان ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ طاہر زمان کا کہنا ہے کل تک ٹیم انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہا جا رہا تھا اور ٹیم مسلسل بہتری کی جانب گامزن تھی، تاہم حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی باتوں کے بارے میں انھوں نے بھی میڈیا کے ذریعے ہی سنا۔ انھوں نے سوال کیا کہ اچانک ایسا کیا ہوا کہ ٹیم انتظامیہ بری ہو گئی اور ایسی باتیں سامنے آ رہی ہیں کہ اس انتظامیہ کے ساتھ ہم کھیلنا نہیں چاہتے۔

طاہر زمان نے دیگر کوچز محمد عثمان اور ذیشان اشرف کے ہمراہ ہاکی سٹیڈیم میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ چھپے محرکات ہیں جنھیں سامنے لا کر مسائل کا حل نکالنا اور معاملات کو درست سمت میں ڈالنا ضروری ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان ہاکی آگے بڑھ رہی ہے۔ شکست کھیل کا حصہ ہے، مگر کھلاڑیوں کو جو بین الاقوامی تجربہ حاصل ہو رہا ہے، خصوصاً سیلف کوچنگ اور سیلف لرننگ کا عمل، اس کا کوئی متبادل نہیں۔‘

ان کے مطابق کارکردگی کو جانچنے کے لیے وسیع تناظر میں دیکھنا ہو گا۔ ’ارجنٹینا کے خلاف پہلا میچ 2-3 سے ہارنے کے باوجود مقابلہ انتہائی سنسنی خیز اور قریب سے ہارے اور ٹیم نے معیاری کھیل پیش کیا۔‘

طاہر زمان نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا جیسی مضبوط ٹیم بھی ارجنٹینا کے خلاف اپنے ہوم گراؤنڈ پر 0-8 سے ہار چکی ہے، جبکہ جرمنی جیسی منظم اور سہولیات سے بھرپور ٹیم، جو اولمپکس اور ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹس میں مسلسل شرکت کرتی رہی ہے، وہ بھی ارجنٹینا کے خلاف 0-3 اور 2-3 سے شکست کھا چکی ہے۔

’اسی طرح پاکستان بھی آسٹریلیا کے خلاف ایک میچ 0-3 اور دوسرا 2-3 سے ہارا۔‘

کھلاڑیوں میں مبینہ گروپ بندی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ مشکل حالات میں بعض اوقات کچھ چیزیں خود بخود واضح ہو جاتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ٹیم کی تمام تر توجہ ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ پر مرکوز ہے۔ ان کے بقول، تجربہ یہی تقاضا کرتا ہے کہ ایسے فیصلے کیے جائیں جو پاکستان ہاکی کے تسلسل اور بہتری کو یقینی بنائیں اور ٹیم کو ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں مدد دیں۔

انتظامیہ کے خلاف بیان دینے والے کھلاڑیوں کے خلاف کارروائی سے متعلق سوال پر طاہر زمان نے کہا کہ صورتحال سے متعلق مفصل رپورٹ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو جمع کرا دی گئی ہے اور اب فیصلہ فیڈریشن نے کرنا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ معاملے کی شفاف فیکٹ فائنڈنگ ہونی چاہیے اور مستقبل میں تمام متعلقہ افراد کے لیے میڈیا سے گفتگو کے حوالے سے باقاعدہ ضابطہ اخلاق (کوڈ آف کنڈکٹ) بھی وضع کیا جانا چاہیے۔

Hockey Pakistan

،تصویر کا ذریعہHockey Pakistan

’یہ سب دہائیوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے‘

ایکس پر مختلف صارفین کی جانب سے نیشنل ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کی لاہور کے ہوائی اڈے پر اپنی ذاتی گاڑیوں اور نجی ٹیکسی سروس کی مدد سے گھر جانے کی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں۔

عدنان ذاکر نامی ایکس صارف نے نیشنل ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کی چند ویڈیوز شیئر کیں اور لکھا کہ ’مجھے امید ہے کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اس پر شرمندگی محسوس کریں گے اور پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے خلاف سنجیدہ کارروائی کریں گے۔ اس بار کوئی رعایت نہیں برتی جانی چاہیے۔ یہی سب دہائیوں سے ہوتا آ رہا ہے۔‘

سابق کھلاڑی فیصل اقبال نے بھی پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان کی جانب سے سامنے آنے والے حالیہ بیان اور ہاکی فیڈریشن پر لگائے جانے والے الزامات کے بعد ایکس پر لکھا کہ ’حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے، کیا ہاکی کی ترقی کے لیے!‘

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’پاکستان میں ہاکی کے زوال کی اصلی وجہ کرپشن ہے۔ ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔‘

ایک صارف نے لکھا کہ ’جب پاکستان سپورٹس بورڈ نے ٹیم کے بیرون ملک دورے کے انتظامات کے لیے بھاری رقم دی تھی تو کھلاڑی وہاں انتہائی بُرے حالات میں کیوں رہ رہے ہیں؟ وہ پیسے کہاں گئے؟‘

عُمر فاروق نامی ایک اور ایکس صارف نے پاکستان ہاکی ٹیم سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آسٹریلیا میں پاکستان ہاکی کھلاڑیوں کی صورتحال منظرِ عام پر آنے کے بعد یہ امر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ نظام کس قدر لاپرواہی سے چلائے جا رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’نہ کوئی جوابدہی ہے، نہ کوئی ذمہ داری۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ہماری قومی ہاکی کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ پی ایچ ایف مسلسل ناقص انداز میں کام کر رہا ہے، نااہلی کے بوجھ تلے دب کر اور پھر بھی، کسی کو پرواہ نہیں۔ وجہ کیا ہے؟ کیونکہ اس کھیل کو فضول سمجھا جاتا ہے۔‘

منیب فرخ نے لکھا کہ کہ ’ایک اولمپیئن کو دوسرے سے تبدیل کرنا، پاکستان ہاکی کے مسائل کو حل نہیں کرے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس کھیل کو جو سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ فیڈریشن کی سطح پر قابل اور پیشہ ورانہ قیادت ہے ورنہ بدانتظامی، نااہلی اور شرمندگی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔‘

SOURCE : BBC