Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں پاکستان ٹی 20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے میں داخل، سابق...

پاکستان ٹی 20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے میں داخل، سابق کرکٹرز کی تنقید پر شاداب خان کا جواب

19
0

SOURCE :- BBC NEWS

شاداب خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

18 فروری 2026، 16:51 PKT

اپ ڈیٹ کی گئی 58 منٹ قبل

مطالعے کا وقت: 6 منٹ

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان نے نمیبیا کو 102 رنز سے شکست دے کر سپر ایٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔

200 رنز کے ہدف کے تعاقب میں نمیبیا کی پوری ٹیم 18ویں اوور میں 97 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

اس سے قبل پاکستانی کپتان سلمان آغا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا اور بتایا تھا کہ انڈیا کے خلاف پلیئنگ الیون کے برعکس اس میچ میں شاہین آفریدی اور ابرار احمد کو ڈراپ کیا گیا ہے۔

اس میچ میں صاحبزادہ فرحان نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنی پہلی سنچری سکور کی۔ انھوں نے 58 گیندوں پر 11 چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے 100 رنز بنائے۔

جبکہ عثمان طارق نے چار اور شاداب نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

یہ میچ جیتنے کے بعد پاکستان سپر ایٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کر گیا ہے جہاں پاکستانی ٹیم کا مقابلہ سری لنکا، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ سے ہو گا۔

خیال رہے سپر ایٹ مرحلے میں پہنچنے والی آٹھ ٹیموں میں پاکستان، انڈیا، سری لنکا، زمبابوے، ویسٹ انڈیز، انگلینڈ، جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔

سپر ایٹ مرحلے کے گروپ ون میں انڈیا، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے شامل ہیں، جبکہ گروپ ٹو میں انگلینڈ، نیوزی لینڈ ، سری لنکا اور پاکستان مدِمقابل ہوں گے۔

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

صاحبزادہ فرحان کی 58 گیندوں پر سنچری

پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز صاحبزادہ فرحان اور صائم ایوب نے کیا۔

تاہم 40 رنز کے مجموعی سکور پر صائم ایوب 14 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد کپتان سلمان علی آغا بھی 23 گیندوں پر 38 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں تین وکٹوں کے نقصان پر کل 199 رنز بنائے، صاحبزادہ فرحان 100 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے جبکہ شاداب خان نے 36 رنز اور خواجہ نافع نے پانچ رنز بنائے۔

نمیبیا کی جانب سے جیک بریسل نے دو جبکہ گرہارڈ ارسمس نے ایک وکٹ حاصل کی۔

پاکستان کے 200 رنز کے ہدف کےتعاقب میں نمیبیا کی پوری ٹیم 18ویں اوور میں 97 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔

پاکستانی بالر عثمان طارق نے چار اور شاداب نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ سلمان مرزا اور محمد نواز نے بھی ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

سابق کرکٹرز لیجنڈ ہیں لیکن ورلڈ کپ میں انھوں نے بھی کچھ نہیں کیا: شاداب

میچ کے بعد پریس کانفرنس کے دوران شاداب خان سے سابق پاکستانی کرکٹرز کے تبصروں سے متعلق سوال کیا گیا۔

اس پر شاداب خان کا کہنا تھا کہ ‘ہم تنقید ہونے نہ ہونے کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔ ہر شخص کی ذاتی رائے ہے۔’

‘جب سے میں واپس آیا ہوں میرا (انڈیا کے خلاف) صرف ایک ایسا اوور ہوا ہے جس پر اتنی زیادہ تنقید ہو رہی ہے۔ میں اس کا جواب دینے کی کوشش نہیں کرتا۔’

انھوں نے کہا کہ ‘بُرے دن پر بُرا اوور ہو سکتا ہے، یہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ہے۔۔۔ اس بارے میں اتنا زیادہ نہیں سوچتا۔’

شاداب نے کہا کہ ‘ہمارے سابق کرکٹرز کی اپنی رائے ہے، ظاہر ہے انھوں نے پاکستان کے لیے بہت اچھی چیزیں کی ہوئی ہیں۔ لیکن ورلڈ کپ میں ان سے بھی ایسی چیزیں نہیں ہوئی تھیں، ہم تبھی اس مرحلے پر پہنچے ہیں۔’

انھوں نے کہا کہ ‘ہم ایسی ٹیم ہیں جنھوں نے 2021 میں ورلڈ کپ کے دوران انڈیا کو ہرایا ہوا ہے۔۔۔ وہ (ایکس کرکٹرز) بہت لیجنڈ تھے لیکن اگر ٹیم کی بات کی جائے تو ورلڈ کپ میں انھوں نے بھی کچھ نہیں کیا تھا۔’

سپر ایٹ مرحلے میں پاکستان کو ’چیلنجز درپیش‘

پاکستان میں سوشل میڈیا پر صاحبزادہ فرحان کی اننگز اور عثمان طارق اور شاداب خان کا خاصا چرچا ہے۔

ہوم آف کرکٹ نامی صارف نے لکھا کہ صاحبزادہ فرحان کی شاندار سنچری نے میچ کا رخ متعین کر دیا تھا، جس کے بعد عثمان طارق اور شاداب خان نے بہترین بالنگ کراتے ہوئے میچ سمیٹ دیا۔

انھوں نے لکھا کہ یہ کامیابی نہ صرف حالیہ ناکامیوں کے بعد ٹیم کے اعتماد میں اضافہ کرے گی بلکہ ٹورنامنٹ کے سنسنی خیز مرحلے میں پاکستان کو مقابلے میں برقرار رکھے گی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں

X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

مواد دستیاب نہیں ہے

X مزید دیکھنے کے لیےبی بی سی. بی بی سی بیرونی سائٹس پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے.

کرکٹ تجزیہ کار عاطف نواز نے لکھا پاکستان کرکٹ ٹیم نے نمیبیا کے خلاف 102 رنز کی شاندار اور یکطرفہ فتح حاصل کر کے ٹی ٹوئنٹی کے سپر ایٹ مرحلے میں آخری نشست اپنے نام کر لی ہے۔

انھوں نے مزید لکھا کہ انڈیا کے خلاف مایوس کن کارکردگی کے بعد ٹیم نے آج بھرپور انداز میں کم بیک کیا۔ اب سپر ایٹ مرحلے میں پاکستان کو انگلینڈ، سری لنکا اور نیوزی لینڈ جیسے مضبوط حریفوں کا سامنا کرنا ہو گا۔

سابق آئی پی ایل ابھیشیک جھنجھناوالا نے بی بی سی ریڈیو فائیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کے خلاف کارکردگی کے بعد ٹیم نے حقیقتاً کس حد تک کم بیک کیا ہے، اس کا اندازہ آنے والے میچز میں ہوگا۔ ’تاہم اس فتح سے یقیناً کچھ اعتماد بحال ہوا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کامیابی ٹیم کی مجموعی سوچ کو مکمل طور پر تبدیل نہیں کرے گی کیونکہ پاکستان کو اب بھی انگلینڈ اور نیوزی لینڈ جیسی مضبوط ٹیموں کے خلاف عمدہ کارکردگی دکھانا ہوگی۔‘

ان کے مطابق ٹورنامنٹ میں ابھی پاکستان کو کئی بڑے چیلنجز درپیش ہیں اور اس کارکردگی کے باوجود آگے کا سفر ہرگز آسان نہیں ہوگا۔‘

ShahzadIqbalGEO

،تصویر کا ذریعہShahzadIqbalGEO

’کیا ہمیں واقعی نمیبیا کے خلاف نو بلے بازوں کی ضرورت تھی؟‘

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستان کی طرف سے اس میچ میں اپنی بیٹنگ کو مضبوط کیے جانے پر بھی سوشل میڈیا صارفین اپنی رائے ظاہر کر رہے ہیں۔

مظہر ارشد نے کہا کہ پاکستان نے آج نو بلے باز کھلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

شہزاد اقبال نے لکھا کہ ’کیا ہمیں واقعی نمیبیا کے خلاف نو بلے بازوں کی ضرورت تھی؟‘ انھوں نے حوالہ دیا کہ ’فہیم اشرف بھی تو بلے باز کے طور پر کھیل رہے ہیں۔‘

ان کا اعتراض ہے کہ ’چونکہ ابرار وکٹ لینے والا آپشن تھے اس لیے انھیں ڈراپ کرنے کا جواز نہیں بنتا تھا۔ انڈیا کے خلاف شاداب کو صرف ایک اوور دیا گیا تھا۔‘

ساج صدیق نے لکھا کہ ’لگتا ہے کچھ کھلاڑیوں کو خراب کارکردگی اور فٹنس کے باوجود ڈراپ نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے شکایت کی کہ فخر زمان جیسے بلے بازوں کو ٹورنامنٹ کے دوران صرف ڈرنکس اور تولیے لے جاتے دکھایا گیا ہے۔‘

سابق کپتان رمیز راجہ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ الیون میں ایک اضافی بلّے باز شامل کرتے ہیں تو پھر اس کا کوئی جواز بھی ہونا چاہیے۔ اگر آپ پہلے 11 اوورز میں فی اوور 8.45 رنز بنا رہے ہیں تو یہ ایک اوسط کارکردگی ہے۔‘

’چونکہ اب آپ کے پاس ایک اضافی بلّے باز موجود ہے، لہٰذا آپ مزید رسک لے سکتے ہیں۔‘

SOURCE : BBC