Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ایران کے قریب امریکی جنگی جہازوں اور لڑاکا طیاروں کی بڑھتی موجودگی...

ایران کے قریب امریکی جنگی جہازوں اور لڑاکا طیاروں کی بڑھتی موجودگی کی تصدیق کیا ظاہر کرتی ہے؟

6
0

SOURCE :- BBC NEWS

بحیرہ عرب میں موجود یو ایس ایس ابراہم لنکن اور ایئرکرافٹ کیریئر کی سیٹلائٹ تصویر

بی بی سی ویریفائی نے سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ ایران کے قریب موجود ہے۔ یاد رہے کہ واشنگٹن مذاکرات کے ساتھ ساتھ ایران پر اس کے نیوکلیئر پروگرام اور حالیہ احتجاجی مظاہروں کے خلاف خونریز کریک ڈاؤن کے حوالے سے دباؤ بڑھا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی اور ایرانی حکام منگل (آج) کو سوئٹزر لینڈ میں مذاکرات کے دوسرے دور میں بات چیت کا آغاز کریں گے۔ ایران کا کہنا ہے کہ سوئٹزر لینڈ میں ہونے ہونے اس اجلاس میں ایران کے جوہری پروگرام اور ملک پر عائد امریکی اقتصادی پابندیوں کے ممکنہ خاتمے پر بات ہو گی، جبکہ واشنگٹن نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ان مذاکرات میں دیگر معاملات بھی زیرِ بحث لانا چاہتا ہے۔

ابراہم لنکن، تین گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز، 90 طیاروں بشمول ایف-35 فائٹرز جیٹس اور 5,680 اہلکاروں پر مشتمل ہے۔ اگرچہ یہ جہاز جنوری کے آخر میں خلیجی خطے میں تعینات کیا گیا تھا، تاہم اب تک سامنے آنے والی سیٹلائٹ تصاویر میں یہ نظر نہیں آ رہا تھا۔

تازہ ترین معلومات کے مطابق اب یہ جہاز عمان کے ساحل کے قریب اور ایران سے تقریباً 700 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے دنیا کے سب سے بڑے جنگی جہاز ’یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ‘ کو بھی مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کیا ہے، جو آئندہ تین ہفتوں میں اس خطے میں پہنچ سکتا ہے۔

ابراہم لنکن کی موجودگی اس بات کو مزید واضح کرتی ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں میں امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔ بی بی سی ویریفائی کے مطابق خطے میں امریکی ڈسٹرائرز، جنگی جہازوں اور لڑاکا طیاروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں کون سے فوجی اثاثے منتقل کیے ہیں؟

امریکی بحریہ کا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن، تباہ کن گائیڈڈ میزائل سے لیس یو ایس ایس فرینک ای پیٹرسن جونیئر اور لیوس اینڈ کلارک کلاس ڈرائی کارگو شپ یو ایس این ایس کارل براشیئر چھ فروری 2026 کو مشق کے لیے بحیرہ عرب میں موجود۔

،تصویر کا ذریعہReuters

یورپی سیٹلائٹ ’سینٹینل-2‘ کی عوامی طور پر دستیاب تصاویر میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کو بحیرۂ عرب میں دیکھا گیا ہے، اور یہ فی الحال عمان کے ساحل سے تقریباً 150 میل (240 کلومیٹر) کے فاصلے پر موجود ہے۔

یہ جہاز جنوری میں خطے میں داخل ہونے کے بعد سیٹلائٹ تصاویر میں نظر نہیں آیا تھا کیونکہ یہ کھلے سمندر میں حرکت کر رہا تھا جہاں سیٹلائٹ کوریج محدود ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ سمندروں کے برعکس زمین پر موجود فوجی اثاثے زیادہ واضح ہوتے ہیں اور اکثر سیٹلائٹ تصاویر میں محفوظ کیے جاتے ہیں۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس حالیہ پیش رفت کا مطلب یہ ہے کہ اب تک سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں امریکی بحری جہازوں کی تعداد 12 تک پہنچ گئی ہے جن میں ابراہم لنکن بھی شامل ہے، جو جوہری توانائی سے چلنے والا نیمٹز کلاس کیریئر ہے اور تین ڈسٹرائرز کے ساتھ مل کر ایک کیریئر سٹرائیک گروپ تشکیل دیتا ہے۔

اس کے علاوہ دو ڈسٹرائرز جو طویل فاصلے تک میزائل حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور تین خصوصی جنگی جہاز جو ساحلی علاقوں میں لڑائی کے لیے تیار کیے گئے ہیں، اس وقت بحرین کے بحری اڈے پر موجود ہیں۔

مزید دو ڈسٹرائرز مشرقی بحیرۂ روم میں امریکی بیس ‘سوڈا بے’ کے قریب دیکھے گئے ہیں جبکہ ایک اور جہاز بحیرۂ احمر میں موجود ہے۔

بی بی سی ویریفائی کے مطابق اسی دورانیے میں امریکی فضائی اثاثوں کی نقل و حرکت بھی مشاہدے میں آئی ہے۔ ارُدن کے ‘موافق صلتی’ فوجی اڈے پر ایف-15 اور ای اے-18 لڑاکا طیاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی طرح امریکہ اور یورپ سے مشرقِ وسطیٰ کی جانب کارگو طیاروں، ایندھن فراہم کرنے والے جہازوں اور مواصلاتی طیاروں کی آمد میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ایران کیسے جواب دے رہا ہے؟

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکی سینٹرل کمانڈ نے چھ فروری کو بحیرۂ عرب میں طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن کی تصاویر جاری کیں، جس کے ساتھ ڈسٹرائرز، لڑاکا طیارے، نگرانی کرنے والے جہاز اور کوسٹ گارڈ کے بحری جہاز بھی موجود تھے۔

یہ اقدام بظاہر امریکی فوجی طاقت کے مظاہرے کے طور پر سامنے آیا، جس کا ایران نے اپنے ردعمل میں جواب دیا ہے۔

پیر (16 فروری) کے روز پاسدرانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے آبنائے ہرمز میں بحری مشقوں کا آغاز کیا۔ ان مشقوں کے دوران پاسدرانِ انقلاب کے کمانڈر اِن چیف میجر جنرل محمد پاکپور کو بندرگاہ پر بحری جہازوں کا معائنہ کرتے دیکھا گیا، جس کے بعد ایک جہاز سے میزائل فائر کیے گئے۔ یہ مناظر پاسدرانِ انقلاب سے منسلک ایرانی خبر رساں ادارے ‘تسنیم’ نے رپورٹ کیے۔

آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے اور دنیا میں تیل کی ترسیل کا ایک کلیدی مقام ہے۔ دنیا میں پیدا ہونے والے تیل اور گیس کا پانچواں حصہ اِسی راستے سے گزرتا ہے۔ تسنیم کی رپورٹ میں ایرانی کمانڈر ان چیف کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پرواز کرتے ہوئے اور مشقوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ایک گرافک میں جوہری توانائی سے چلنے والا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن دکھایا گیا ہے۔ اس کی رفتار 34 میل فی گھنٹہ سے زیادہ ہے۔ اس پر موجود عملے کی تعداد: 5680۔ طیارے: 90۔ وزن کی گنجائش 88 ہزار ٹن۔ اور اس کا سائز آئفل ٹاور جتنا ہے۔

امریکی فوجی تیاریوں پر ماہرین کی رائے

فوجی انٹیلیجنس کے ماہر جسٹن کرمپ نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجودہ امریکی فوجی تیاریوں میں ’زیادہ گہرائی‘ دکھائی دیتی ہے، اور یہ جنوری 2026 میں وینیزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی گرفتاری سے قبل کی جانے والی تیاریوں یا گذشتہ سال جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملوں سے قبل کی جانے والے تیاریوں سے مختلف ہے۔

ان تمام امریکی فوجی کارروائیوں میں ایک کیریئر سٹرائیک گروپ اور کئی ڈسٹرائرز شامل تھے، تاہم امریکہ نے وینیزویلا اور ایران میں اپنے فوجی اثاثے انتہائی مختلف حالات میں تعینات کیے۔

امریکہ نے وینیزویلا پر حملوں سے قبل جیرالڈ آر فورڈ کو بحیرہ کیریبین میں تعینات کیا تھا، جہاں اُس وقت آٹھ دیگر جنگی جہاز بھی موجود تھے۔ تاہم امریکہ نے اس موقع پر کم تعداد میں طیارے استعمال کیے کیونکہ وہ ضرورت پڑنے پر باآسانی امریکہ کی سرزمین پر موجود اڈوں یا پورٹو ریکو کے بیس سے لڑاکا طیارے وینزویلا کم وقت میں بھیج سکتا تھا۔

امریکہ نے کیریبین میں ایمفیبیئس اسالٹ جہاز بھی تعینات کیے تھے، جو ہیلی کاپٹر آپریشنز کے لیے لانچ پلیٹ فارم کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، جیسا کہ سابق صدر مادورو کی گرفتاری کے دوران دیکھا گیا۔

لیکن وینیزویلا کی فوج کو عمومی طور پر کمزور سمجھا جاتا ہے اور وہ امریکہ کے خلاف مؤثر دفاع یا جوابی کارروائی کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

گذشتہ سال جب امریکہ نے ایران کے خلاف آپریشن مڈنائٹ ہیمر کیا، جس کا ہدف ایران کی جوہری تنصیبات تھیں، تو وہ ایک ایسے ملک کو نشانہ بنا رہا تھا جس کی فوج وینیزویلا کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور ہے۔

یاد رہے کہ ایران کی فوج مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مڈنائٹ ہیمر کے دوران امریکہ نے خطے میں دو ایئرکرافٹ کیریئر سٹرائیک گروپس، بحیرۂ روم اور بحیرۂ احمر میں پانچ ڈسٹرائرز اور خلیج میں تین جنگی جہاز تعینات کیے تھے۔

اس نے امریکہ سے یورپ تک لڑاکا طیاروں اور ایندھن فراہم کرنے والے جہازوں کے سکواڈرن بھی منتقل کیے تھے، تاہم بی-2 سٹیلتھ بمبار جنھوں نے فردو، اصفہان اور نطنز کی ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، دراصل امریکہ کی ریاست میزوری میں موجود اڈوں سے روانہ ہوئے تھے۔

رسک اور انٹیلیجنس کمپنی سیبلائن کے چیف ایگزیکٹیو جسٹن کرمپ نے کہا کہ امریکی جنگی جہازوں اور طیاروں کی موجودگی، ساتھ ہی خطے میں موجود آٹھ فضائی اڈے، امریکہ کو روزانہ تقریباً 800 مشن چلانے کی صلاحیت دیتے ہیں، جس کا مقصد ایران کی کسی بھی جوابی کارروائی کو ‘غیر مؤثر’ بنانا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ صرف حملے کی تیاری نہیں بلکہ ایک وسیع تر دفاعی تعیناتی ہے، جسے حالات کے مطابق بڑھایا یا کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ وینیزویلا یا گذشتہ سال کے مڈنائٹ ہیمر آپریشن کے مقابلے میں زیادہ گہرائی اور پائیداری رکھتا ہے۔ یہ اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ ایرانی ردعمل کو ناکام بنایا جا سکے اور خطے میں امریکی اثاثوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل کا بھی دفاع کیا جا سکے۔‘

SOURCE : BBC