Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’نیٹ بلنگ کا اطلاق صرف نئے صارفین پر، موجودہ سولر صارفین کے...

’نیٹ بلنگ کا اطلاق صرف نئے صارفین پر، موجودہ سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ برقرار رہے گی‘

8
0

SOURCE :- BBC NEWS

سولر سسٹم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان میں بجلی کے شعبے کے نگران ادارے نینشنل الیکڑک ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کے نظام کے قواعد میں ترمیم کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جو صارفین سابقہ قواعد کے تحت روف ٹاپ سولر سسٹم نصب کر چکے ہیں انھیں موجودہ معاہدوں کی مدت مکمل ہونے تک پرانے طریقۂ کار کے تحت بل بھیجے جائیں گے۔

نیپرا نے ترمیمی قواعد میں کہا ہے کہ موجودہ صارفین پر ان معاہدوں کی مدت کے خاتمے کے بعد نئے قواعد کا اطلاق ہو گا۔

واضح رہے کہ آٹھ فروری کو نیپرا نے پاکستان کے تقریباً ایک دہائی پرانے نیٹ میٹرنگ نظام کو ختم کر کے نیٹ بلنگ کا نظام متعارف کرایا گیا تھا۔ نیٹ میٹرنگ کے تحت سولر صارفین اپنے اضافی یونٹس کو ایک کے بدلے ایک کی بنیاد پر ایڈجسٹ کر سکتے تھے۔

تاہم نیٹ بلنگ کے تحت بجلی کمپنیاں اضافی بجلی کو قومی اوسط قیمت یعنی تقریباً 10 سے 11 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدیں گی، جبکہ گرڈ سے لی جانے والی بجلی پر تقریباً 37 سے 55 روپے فی یونٹ تک کے ریٹیل ٹیرف لاگو ہوں گے۔

نیپرا کی جانب سے نیٹ بلنگ کے نظام کے بعد سولر صارفین اور توانائی ماہرین کی جانب سے سخت ردعمل دیکھا گیا تھا جس کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے اس سلسلے میں نوٹس لیتے ہوئے پاور ڈویژن کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس مسئلے کو دیکھے، جس کے بعد پاور ڈویژن نے نیپرا سے اس پر نظر ثانی کی درخواست کی تھی۔

سوموار کی رات کو نیپرا کی جانب سے ترمیمی قواعد میں اعلان کیا گیا ہے کہ پرانے سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نیپرا کے مطابق مجوزہ ترمیم کو نو فروری 2026 سے مؤثر تصور کیا جائے گا، یعنی اسے ماضی سے لاگو (ریٹروسپیکٹو) سمجھا جائے گا تاکہ موجودہ پروزیومرز (وہ صارفین جو بجلی پیدا بھی کرتے اور استعمال بھی کرتے ہیں) کے بلنگ طریقہ کار میں فوری تبدیلی نہ ہو۔

پاکستان میں نیٹ میٹرنگ کے نظام میں ہونے والی یہ پہلی تبدیلی نہیں ہے۔ گزشتہ سال مارچ میں وفاقی حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے صارفین سے بجلی کی خریداری کی قیمت گیارہ روپے کر دی گئی تھی۔

پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے حالیہ برسوں میں سولر سے بجلی پیدا کرنے کے رجحان کر فروغ ملا ہے جس کی وجہ سولر پینلوں کا سستا ہونا ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں اس وقت سولر سسٹمز سے تقریبا 7000 میگاواٹ کے لگ بھگ بجلی پیدا کی جا رہی ہے جس میں نیٹ میٹرنگ کے علاوہ نان نیٹ میٹرنگ سولر صارفین بھی شامل ہیں۔

سولر صارفین کے لیے ’نیٹ بلنگ‘ کا نظام کیا ہے؟

سولر سسٹم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

نیپرا کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے نیٹ بلنگ نظام کے تحت موجودہ سولر صارفین اپنے معاہدے ختم ہونے تک پرانے نظام پر رہیں گے، لیکن نئے صارفین اور تجدید کرانے والوں پر نیا نظام لاگو ہو گا۔

نئے نظام کے تحت اگر کوئی صارف گرڈ کو دی گئی بجلی کے مقابلے میں کم بجلی استعمال کرے تو اضافی رقم یا تو اگلے بل میں شامل کر دی جائے گی یا ہر تین ماہ بعد ادا کی جائے گی۔

نیپرا نے سولر سسٹم کی زیادہ سے زیادہ حد ایک میگاواٹ مقرر کی ہے اور شرط رکھی ہے کہ سسٹم کی گنجائش صارف کے منظور شدہ لوڈ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔

انرجی شعبے کی ماہر عافیہ ملک کے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’نیٹ میٹرنگ کے نظام میں ایکسپورٹ اور امپورٹ یونٹ مائنس ہو جاتے تھے تاہم نیٹ بلنگ کے نظام میں ایسا کوئی آپشن نہیں ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’گرڈ سے بجلی لینے پر وہی قیمت ادا کرنی پڑے گی جو نان سولر صارفین کو ادا کرنی پڑتی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’نئے نظام کے مطابق بجلی کی کمپنیاں سولر صارفین سے اضافی بجلی قومی اوسط قیمت پر خریدیں گی، جو اس وقت تقریباً 11 روپے فی یونٹ ہے۔ دوسری طرف جب یہی صارفین گرڈ سے بجلی لیں گے تو انھیں 40 سے 50 روپے یا اس سے زیادہ فی یونٹ ادا کرنا پڑے گا۔‘

نیٹ بلنگ: نئے صارفین کے لیے کیا پالیسی ہو گی؟

سولر صارفین کے لیے نیٹ بلنگ کے نظام کے تحت جو پالیسی متعارف کرائی گئی ہے اس کے نئے قواعد کے مطابق، جب کسی صارف کا سولر سسٹم بجلی کے نظام سے جڑ جائے گا تو ہر بلنگ سائیکل کے آخر میں بجلی کی تقسیم کار کمپنی (ڈسکو) یہ حساب لگائے گی کہ صارف نے کتنی بجلی خود استعمال کی اور کتنی بجلی سولر سسٹم سے بنائی۔

توانائی شعبے کے ماہر زیان بابر نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ کہ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ صارف کی سولر سے بننے والی بجلی ڈسکو خرید لے گی، لیکن صارف کی اپنی بجلی کی کھپت کا بل مہنگے عام نرخ پر ہی بنایا جائے گا۔ البتہ صارف کی فراہم کردہ بجلی کی رقم بل سے منہا کر دی جائے گی۔‘

نیپرا کے مطابق اگر کسی مہینے صارف کی جانب سے گرڈ کو دی گئی بجلی کی رقم، ڈسکو سے لی گئی بجلی کے بل سے زیادہ ہو جائے تو یہ اضافی رقم یا تو اگلے بل میں ایڈجسٹ کی جائے گی یا پھر ہر تین ماہ بعد صارف کو ادا کی جائے گی۔

بابر نے بتایا کہ ’نئے قواعد کے تحت سولر صارفین کو اب اجازت نہیں ہو گی کہ وہ اپنی منظور شدہ بجلی کی حد سے زیادہ صلاحیت کا سولر سسٹم لگائیں جس کا مقصد یہ ہے کہ گھریلو صارفین ضرورت سے کہیں زیادہ بجلی بنا کر گرڈ کو فراہم نہ کریں۔‘

سولر سسٹم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عافیہ ملک کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ ’نئی پالیسی کے تحت نیٹ بلنگ کا نظام سولر صارفین کے لیے زیادہ پرکشش نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ اب صارفین نیٹ بلنگ کے نظام سے جڑنے کی بجائے سولر پینل کے ساتھ بیٹریاں استعمال کر کے اپنی ضرورت کی بجلی بچائیں گے کیونکہ نیا نیٹ بلنگ نظام ان کے لیے مالی طور پر زیادہ منافع بخش نہیں رہا۔‘

ماہرین کے مطابق حکومت نئے نظام کے تحت گرڈ سے بجلی کی کھپت کو بڑھانا چاہتی ہے کیونکہ اس کی کم کھپت سے نان سولر صارفین پر کیپسٹی پیمنٹ کا بوجھ پڑتا ہے۔

زیان بابر نے کہا کہ ’یہ کہنا اس وقت مشکل ہے کہ کیا واقعی یہ پالیسی گرڈ سے بجلی کی کھپت کو بڑھا پائے گی۔‘

اس سلسلے میں عافیہ ملک کا کہنا ہے کہ مہنگی بجلی کی وجہ سے اس بات کا امکان کم ہے کہ گرڈ سے بجلی کی کھپت بڑھ پائے گی کیونکہ لوگ اگر نیٹ بلنگ پر کم مراعات کی وجہ نہیں جائیں گے تو وہ متبادل کے طور پر سولر پینل کے ساتھ بیٹریاں لگا کر اپنی بجلی کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کریں گے۔

SOURCE : BBC