Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں 114 نئے رفال طیاروں کی خریداری کا معاہدہ: انڈیا فرانسیسی ساختہ لڑاکا...

114 نئے رفال طیاروں کی خریداری کا معاہدہ: انڈیا فرانسیسی ساختہ لڑاکا جہازوں پر ہی انحصار کیوں کر رہا ہے؟

9
0

SOURCE :- BBC NEWS

Indian Airforce

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈین حکومت نے حال ہی میں اپنی فوج کو مضبوط بنانے کے لیے تقریباً 40 ارب ڈالر کے فوجی ساز و سامان کی خریداری کی منظوری دی ہے۔ اس ساز و سامان میں 114 رفال طیارے بھی شامل ہیں۔

رفال طیاروں کے علاوہ انڈین حکومت نے بحریہ کے لیے P-8I نیپچون جاسوس طیاروں کی خریداری کی بھی منظوری دی ہے۔

پاکستان سمیت پڑوسی ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں انڈین فوج پر تیزی سے جدید فوجی ساز و سامان خریدنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔

اس کی عکاسی یکم فروری کو پیش کیے گئے بجٹ میں بھی ہوئی جس میں (دفاعی) اخراجات میں اضافے کا اعلان کیا گیا تھا۔ انڈیا نے اپنے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ کیا تھا جس کے بعد اب ملک کا وفاعی بجٹ مجموعی طور پر 85 ارب ڈالرز تک جا پہنچا ہے۔

حالیہ مہینوں میں انڈین فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے سکواڈرن کی تعداد بھی کم ہو کر 29 ہو گئی ہے۔ انڈین فضائیہ میں کئی دہائیوں تک شامل رہنے والے مگ 21 طیاروں کو گذشتہ برس ستمبر میں ریٹائر کر دیا گیا تھا۔ کچھ مگ 29 طیارے، فرانسیسی جیگوار طیارے اور ڈیسو ایوی ایشن کے میراج 20 طیارے بھی آنے والے برسوں میں انڈین فضائیہ سے ریٹائر ہو جائیں گے۔

انڈیا طویل عرصے سے اپنی مسلح افواج کے لیے مشینری اور ہتھیاروں کی درآمد پر انحصار کرتا رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں مقامی طور پر خود انحصاری یا ’میک اِن انڈیا‘ پر توجہ دی جا رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ 114 رفال طیاروں کی خریداری کے معاہدے کو بھی اس تناظر میں ایک اہم سودے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو انڈین فضائیہ کی لڑاکا طیاروں کی فوری ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔

Indian Air force

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ معاہدہ انڈیا کے لیے اہم کیوں ہے؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ انڈیا کی دفاعی صلاحیت کو بڑھائے گا اور یہ اس لیے بھی ضروری ہو گا کیونکہ انڈیا کی مغربی اور شمالی سرحدوں پر سکیورٹی چیلنجز مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

رفال طیاروں کی خریداری کی منظوری کے بعد انڈین سیکریٹری دفاع راجیش کمار نے کہا کہ ’یہ پہلی دفعہ ہو گا کہ رفال طیارے فرانس سے باہر تیار کیے جائیں گے۔ ہماری کوشش ہو گی کہ 40 سے 50 فیصد طیارے انڈیا میں ہی تیار کیے جائیں۔‘

سیکریٹری دفاع کا مزید کہنا تھا کہ ’میک اِن انڈیا‘ منصوبے کے تحت دونوں حکومتوں کے مابین ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں رفال طیارے انڈیا میں تیار کیے جائیں گے، اس میں کوئی مڈل مین نہیں ہو گا اور یہ سارا عمل بہت شفاف ہو گا۔

سیکریٹری دفاع کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے ان طیاروں کو جلد انڈین فضائی بیڑے میں شامل کیا جا سکے گا اور یہ کہ ان طیاروں کی فراہمی کا سلسلہ 2028 میں شروع ہو جائے گا۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

فرانس کے ساتھ طے پانے والے اس معاہدے کے بعد انڈیا کے پاس رفال طیاروں کی مجموعی تعداد 176 ہو جائے گی۔ 36 رفال طیارے پہلے ہی انڈین فضائیہ میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انڈین نیوی نے بھی 36 رفال میرین جیٹس کی خریداری کا آرڈر دے رکھا ہے۔

دفاعی تجزیہ کار راہول بیدی اس معاہدے کو مثبت قرار دیتے ہیں، لیکن ساتھ ہی اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس میں کچھ نیا نہیں ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سنہ 2008-2007 میں رفال طیارہ بنانے والی کمپنی ڈیسو کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔ اُس وقت اسے ایم ایم آر سی اے (٘MMRCA) یعنی میڈیم ملٹی رول کامبیٹ ایئر کرافٹ کہا جاتا تھا۔

اُن کے بقول اس معاہدے کے تحت 126 طیارے خریدے جانے تھے جن میں سے 18 فرانس سے آنے تھے جبکہ 108 کو انڈین ایرو ناٹکس لمیٹیڈ نے تیار کرنا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ اُس وقت چھ طرح کے طیاروں کی خریداری کا آپشن موجود تھا، جس میں سے رفال کا انتخاب کیا گیا۔ اُن کے بقول سنہ 2012-2011 میں طیارہ ساز کمپنیوں ہال اور ڈیسو کے ساتھ مذاکرات شروع ہوئے، لیکن کچھ سالوں بعد بی جے پی کی حکومت آ گئی اور اس نے یہ معاہدے منسوخ کر کے 36 رفال طیاروں کی براہ راست خریداری کا معاہدہ کر لیا۔

اُن کے بقول 114 رفال طیاروں کی خریداری کا معاہدہ پرانے معاہدے کی ہی توثیق ہے۔

Indian Air Force

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا رفال طیاروں پر ہی انحصار کیوں کر رہا ہے؟

رفال طیاروں کی خریداری کا نیا معاہدہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب فرانس کے صدر 17 سے 19 فروری تک انڈیا کا دورہ کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے اپریل میں انڈیا نے 26 رفال میرین ڈبل اور سنگل سیٹ طیاروں کی خریداری کا معاہدہ کیا تھا جنھیں آئی این ایس وکرانت اور آئی این ایس وکرمادیتیا میں تعینات کیا جانا ہے۔

گذشتہ برس انڈیا اور پاکستان کے مابین مئی میں ہونے والی لڑائی میں رفال طیارے شہ سرخیوں میں رہے تھے۔ پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایک سے زیادہ رفال طیارے مار گرائے تھے، لیکن انڈیا نے اسے تسلیم نہیں کیا تھا۔

یہ بھی کہا گیا کہ اس لڑائی میں پاکستان کے چینی ساختہ J-10 لڑاکا طیارے رفال سے برتر ثابت ہوئے۔ تاہم انڈیا نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا ہے کہ آیا اس کے طیارے کو اس تنازعے میں نقصان پہنچا یا نہیں۔

آرگنائزیشن ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفاعی ماہر منوج جوشی کا کہنا ہے کہ ’بہتر ہوتا کہ اگر ہم خود طیارہ تیار کرتے۔ لیکن اگر ایسا ممکن نہیں تو پھر رفال ٹھیک ہے۔ خبریں تھیں کہ امریکہ سے ایف-35 طیارے آ رہے ہیں۔ لیکن معاہدہ صرف رفال کا ہی ہوا ہے۔‘

اُن کے بقول ’اس معاہدے میں صرف جیٹ نہیں آتے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پرزہ جات، ٹیکنالوجی اور دیگر اشیا بھی شامل ہوتی ہیں۔ طیاروں کے سافٹ ویئر بھی اپڈیٹ ہوتے ہیں۔ اگر امریکہ کل کو یہ سب فراہم کرنے سے انکار کر دے یا کسی قسم کی پابندی لگا دے تو اس کا فائدہ نہیں۔ لہذا رفال ہی بہتر آپشن ہے۔‘

راہول بیدی بھی رفال طیاروں کی خریداری کا دفاع کرتے ہیں۔

India

،تصویر کا ذریعہ@SpokespersonMoD

اُن کے بقول پہلے رفال طیاروں کو دوسرے طیاروں کے مقابلے میں منتخب کیا گیا تھا۔ لیکن اس بار براہ راست رفال طیارے خریدے جا رہے ہیں۔ طیاروں کے ٹرائل پر کم سے کم ڈیڑھ سال لگ جاتا ہے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہو گا اور وقت بچ جائے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ انڈین فضائیہ کو جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ یہ ہے کہ اس پاس اس وقت 29 فائٹر سکواڈرن ہیں، جو 42 ہونے چاہییں۔

اُن کے بقول ان 29 میں سے آٹھ سے 10 ریٹائرمنٹ کے دہانے پر ہیں۔ جیگوار طیاروں کے چھ سکواڈرن ہیں، جنھیں 1970 کی دہائی میں شامل کیا گیا تھا۔ دُنیا میں صرف انڈین فضائیہ ہی ہے جو جیگوار طیارے استعمال کر رہی ہے۔

راہول بیدی کہتے ہیں کہ میراج طیاروں کو حال ہی میں اپ گریڈ کیا گیا، لیکن وہ بھی پانچ یا چھ سال سے زیادہ نہیں چل پائیں گے۔ جبکہ روس کے مگ-29 طیاروں کو بھی اپ گریڈ کیا گیا ہے اور ان کی آپریشنل لائف بھی پانچ سے سات سال مزید ہے۔

اُن کے بقول تیجس جیسے ہلکے لڑاکا طیاروں کے معاملے میں بھی تاخیر ہے۔ تیجس پروگرام سنہ 1981 سے چل رہا ہے اور اسے 45 برس ہو گئے ہیں۔ ابھی تک تیجس طیاروں کے صرف دو سکواڈرن ہیں۔ تیسرا تیاری کے مراحل میں ہے، جس کی انڈین فضائی بیڑے میں شمولیت میں وقت لگے گا۔

India

،تصویر کا ذریعہEPA

رفال طیاروں کو انڈین فضائیہ میں شامل کرنے کی تاریخ

سنہ 1999 میں کارگل جنگ کے بعد انڈین فضائیہ میں مزید جدید طیاروں کو شامل کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔

اُس وقت میراج-2000 طیارے انڈیا کے سب سے مستند طیاروں کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے۔ ان میں وہ اہم خوبیاں تھیں، جو اُس وقت کے لحاظ سے ضروری تھیں۔ مثال کے طور پر ہدف کو درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت اور ہر موسم میں اُڑنے کی صلاحیت۔

میراج طیارے بھی رفال بنانے والی کمپنی ڈیسو بناتی ہے۔

میراج-2000 طیارے اس لحاظ سے بھی منفرد تھے، کیونکہ یہ روسی ساختہ سو-20 کے مقابلے میں وزن میں ہلکا سمجھا جاتا تھا۔ ڈیسو نے اس موقع کو دیکھتے ہوئے انڈیا کو اس سے بھی جدید طیارے فراہم کرنے کی پیشکش کی۔

اُس وقت اٹل بہاری واجپائی کی حکومت نے میراج کے بجائے ایسے طیارے خریدنے کا منصوبہ بنایا جو مستقبل کے لیے موزوں تھے اور اُس وقت چھ رفال طیارے انڈین فضائیہ میں شامل کیے گئے۔

سنہ 2010 میں انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت میں حکومتی اتحاد نے فرانس سے لڑاکا طیاروں کی خریداری کا عمل شروع کیا۔ فریقین کے مابین بات چیت 2012 تک جاری ہے۔ سنہ 2014 میں مودی حکومت اقتدار میں آئی تو سنہ 2016 میں انڈین حکومت نے فرانس کے ساتھ 59 ہزار کروڑ روپے مالیت کے 36 رفال لڑاکا طیاروں کی خریداری کا معاہدہ کیا۔

SOURCE : BBC