Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں بنگلہ دیش میں نوجوان کا توہینِ پیغمبر کے الزام پر قتل: ’ہجوم...

بنگلہ دیش میں نوجوان کا توہینِ پیغمبر کے الزام پر قتل: ’ہجوم نے مارتے ہوئے باہر نکالا اور پھر قتل کر کے لاش جلا دی‘

9
0

SOURCE :- BBC NEWS

Dipu Chandra Das with his wife, Meghna and daughter Gitika pose for a family picture

،تصویر کا ذریعہAnahita Sachdev/BBC

انتباہ: کچھ قارئین کو اس خبر میں دی گئی تفصیلات پریشان کن لگ سکتی ہیں۔

اپنی موت سے ایک دن پہلے دیپو چندر داس صبح سویرے بنگلہ دیش کے شہر میمن سنگھ میں اپنے گھر سے باہر نکلے جو ڈھاکہ سے آنے والی ایک ہائی وے کے کنارے واقع تھا۔

28 سالہ دیپو نے اپنے والد کو جگایا، اپنی بیوی کو الوداع کہا اور جانے سے قبل اپنی 18 ماہ کی بیٹی کو گود میں لیا۔ پھر وہ بس میں سوار ہوئے اور 60 کلومیٹر کا سفر طے کر کے ملبوسات بنانے والے اس کارخانے میں پہنچے جہاں وہ جونیئر کوالٹی انسپکٹر کے طور پر کام کرتے تھے اور عالمی ہائی سٹریٹ برانڈز کے لیے بنائے جانے والے سویٹرز کا معائنہ کرتے تھے۔

اس دن کے بعد دیپو کا خاندان ان کی راہ ہی تکتا رہ گیا۔ 24 گھنٹے بعد 18 دسمبر کو دیپو داس، جو ہندو تھے، مار دیے گئے۔ انھیں توہینِ مذہب کے الزام میں ایک ہجوم نے مار مار کر قتل کر دیا اور لاش جلا دی۔

پیغمبرِ اسلام کی توہین کے الزام میں انھیں کارخانے سے گھسیٹ کر نکالا گیا، ایک کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک سڑک پر گھسیٹا گیا، ایک مصروف شاہراہ پر درخت سے باندھ دیا گیا اور سینکڑوں لوگوں کے سامنے آگ لگا دی گئی۔

اس قتل پر جہاں عالمی سطح پر غم و غصہ سامنے آیا وہیں سرحد پار، انڈیا میں، بنگلہ دیش میں اقلیتوں کی سلامتی کے بارے میں خدشات دوبارہ ظاہر کیے جانے لگے۔ بنگلہ دیش کی 17 کروڑ سے زیادہ آبادی میں سے تقریباً نو فیصد مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر ہندو ہیں جن کے مسلم اکثریت کے ساتھ تعلقات طویل عرصے سے وقتاً فوقتاً کشیدہ رہے ہیں۔

Meghna Das wife of Dipu Chandra Das, who was brutally murdered by a mob after being accused of insulting religion
Photo: Shahidul Alam/Drik/Majority World

،تصویر کا ذریعہShahidul Alam/Drik/Majority World

دیپو کی ہلاکت کے 50 دن بعد جہاں غصہ کم ہو چکا ہے وہیں دیپو داس کے گھر پر غم کے سائے بدستور منڈلا رہے ہیں۔ ایک تاریک کمرے پر مشتمل یہ مکان جس کا فرش مٹی کا اور چھت ٹین کی ہے تقریباً 15 سال سے دیپو کے خاندان کی آماجگاہ ہے۔

یہ ایک ایسا گھر ہے، جس میں بہت کم فرنیچر یا سامان ہے۔ یہاں ایک پلاسٹک کی میز اور کرسیاں، بستر، چاول کے تھیلے، ایک ٹیڈی بیئر، ایک کھونٹی پر لٹکے کپڑے، ایک فریج اور ایک چھوٹا ٹیلی ویژن ہے، جو دونوں دیپو نے قسطوں پر خریدے تھے، دیکھے جا سکتے ہیں۔

تعزیت کے لیے آنے والوں کو دیکھ کر دیپو کی والدہ شیفالی رانی داس اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتیں۔

وہ روتے ہوئے چیختی ہیں: ’دیپو، میرا دیپو کہاں ہے؟‘

دیپو ربی داس کے سب سے بڑے بیٹے تھے، جو خود ایک 54 سالہ مزدور ہیں جنھوں نے اپنی زندگی قریبی بازار میں چاول، گندم اور سبزیوں کی بوریاں ڈھوتے گزاری۔

سالوں کی محنت نے انھیں کمزور کر دیا تھا اور دیپو چاہتا تھا کہ وہ اب یہ کام چھوڑ دیں۔ وہ اکثر اپنے والد سے کہتے تھے ’اب میں کام کر رہا ہوں، تم آرام کرو۔‘

دیپو اپنی ساری تنخواہ گھر میں دیتے تھے، ایک مناسب گھر بنانے کی بات کرتے تھے، ایک ایسا گھر جو ان کے خاندان کو ہمیشہ کے لیے اس مٹی اور ٹین سے نکال سکے۔

ایک مخلوط ہندو-مسلم محلے میں پرورش پانے والا دیپو ہر لحاظ سے ایک اپنے آپ تک محدود رہنے والے انسان تھے، جن کے چند ہی دوست تھے۔ انھوں نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران تعلیم کا سلسلہ ترک کر دیا تھا کیونکہ لاک ڈاؤن نے خاندان کی مالی حالت کو تباہ کر دیا تھا۔

2024 تک وہ ایک سویٹر فیکٹری میں کام کر رہے تھے اور گھر پیسے بھیج رہے تھے۔ ان کی والدہ کے مطابق دیپو ان کے تین بیٹوں میں سب سے بڑے تھے اور ان کی خواہش یہ تھی کہ ان کے چھوٹے بھائی 22 سالہ اپو اور 16 سالہ ریتھک مالی طور پر مستحکم ہو سکیں۔

Shefali Rani Das with a picture of her son, Dipu, in a suit after he got his job

،تصویر کا ذریعہAnahita Sachdev/BBC

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

دیپو گذشتہ 14 ماہ سے پائنیئر نٹ ویئر فیکٹری میں کام کر رہے تھے۔ اس کارخانے میں تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار کارکن کام کرتے ہیں اور یہ اس گروپ کے نو کارخانوں میں سے ایک ہے جہاں 47 ہزار افراد ملازم ہیں۔

اس کمپنی کے سویٹرز امریکہ اور یورپ بھر کی دکانوں میں فروخت ہوتے ہیں۔ دیپو، جو ماہانہ 13,500 ٹکا کماتے تھے، جس شعبے میں کام کرتے تھے وہاں ان کا کام سویٹرز کے ٹانکے اور جوڑ کا معائنہ کرنا تھا۔ وہ وہاں موجود 868 ہندو مزدوروں میں سے ایک تھے۔

یہ احتیاط سے گزاری گئی ایک عام سی زندگی تھی۔ اس نوجوان کی زندگی جو اپنے خاندان کو غربت سے نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔

پھر دسمبر 2025 کی وہ شام آئی۔ ان کے کارخانے میں اور باہر ایک افواہ پھیل گئی کہ انھوں نے پیغمبرِ اسلام کے خلاف ’کٹکتی‘ (بنگالی زبان میں توہین آمیز جملہ) کہا ہے۔

اس کے بعد اس الزام لگنے سے ان کی موت کے درمیان چند گھنٹوں میں جو کچھ ہوا، وہ اب پولیس کی تفتیش کا موضوع بن چکا ہے۔

محمد عبداللہ المامون، جو میمن سنگھ کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ہیں، نے کم از کم تین گواہوں کے بیانات کے حوالے سے بتایا کہ اس شام کو تین خواتین کارکنوں کے درمیان اختتامِ ہفتہ کے منصوبوں پر گفتگو نے اس وقت ایک متنازع رخ اختیار کیا جب دیپو نے اس بات چیت میں شامل ہو کر مبینہ طور پر ایک ایسا تبصرہ کیا جو بعد میں پیغمبرِ اسلام کے لیے توہین آمیز قرار دیا گیا۔

The mob took out Dipu from the side gate (right) of the garment factory where he worked

،تصویر کا ذریعہANAHITA SACHDEV/BBC

کارخانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیپو کو اس گفتگو کے تقریباً 30 منٹ بعد کام ختم کرتے دیکھا گیا۔ بعد میں وہ دوبارہ وہاں آئے- دو گھنٹے بعد کی فوٹیج میں وہ علاقے میں گھومتے ہوئے نظر آئے، جیسا کہ سینیئر فیکٹری مینیجر ادے حسین نے بتایا۔

دیپو کارخانے سے کام ختم کر کے نکلنے کے بعد واپس کیوں گئے یہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔

اسی اثنا میں یہ خبر پھیلنے کے بعد کہ کارخانے کے ایک ملازم نے توہینِ پیغمبر کی ہے، باہر ایک ہجوم جمع ہونا شروع ہو گیا۔ (بنگلہ دیش میں توہین مذہب کا کوئی رسمی قانون نہیں ہے، لیکن یہ ایسے اعمال کو جرم قرار دیتا ہے جو مذہبی جذبات کو بھڑکانے کے لیے کیے گئے ہوں۔)

دن کے اختتام پر جب مزدور باہر نکلے تو افواہ اس مصروف علاقے میں تیزی سے پھیل گئی۔ تقریباً شام چھ بجے تک کارخانے کے اندر اور سڑک دونوں پر کشیدگی بڑھ گئی تھی۔

عبداللہ المامون نے کہا ’جو کچھ اس کے بعد ہوا وہ لاقانونیت تھی۔‘

ایک ہجوم جو کارخانے کے دروازوں پر چند سو افراد کی موجودگی سے بنا تھا اور دیپو کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا، جلد ہی ہزاروں مشتعل افراد کی شکل اختیار کر گیا، جس نے قریبی علاقوں سے بھی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا ہے کہ مرد دروازے توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان پر رسیاں پھینک کر اندر چڑھ رہے ہیں۔

ادے حسین کے مطابق مقامی وقت کے مطابق تقریباً رات آٹھ بج کر42 منٹ پر ہجوم نے بیلچے سے ایک چھوٹا سائیڈ گیٹ کھولا اور عمارت میں داخل ہو کر دیپو کو گھسیٹ کر لے گئے۔

ادے نے کہا کہ انتظامیہ نے کم از کم 45 منٹ پہلے پولیس کو اطلاع دی تھی۔ تاہم جب پولیس اور سادہ لباس میں افسران موقع پر پہنچے تو وہ اسے (دیپو کو) ہجوم سے نکالنے میں ناکام رہے۔،

This is the tree, on the main road at Square Masterbari, Bhaluka, Mymensingh, from which the corpse of Dipu Chandra Das was hung and then set on fire. 
Photo: Shahidul Alam/Drik/Majority World

،تصویر کا ذریعہShahidul Alam/Drik/Majority World

تاہم پولیس کا دیپو کے ہجوم کے قبضے میں پہنچنے کے بارے میں موقف کچھ مختلف ہے۔

المامون کے مطابق ہجوم نے دھمکی دی کہ اگر دیپو کو ان کے حوالے نہ کیا گیا تو وہ دروازے توڑ دیں گے۔ اس تنبیہ پر فیکٹری کے مزدوروں نے دروازہ کھولا اور انھیں باہر نکال دیا۔

تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ دیپو کو کارخانے کے باہر مار، مار کر قتل کیا گیا، اس کے بعد اس کی لاش کو قریبی ہائی وے پر گھسیٹا گیا، رسی سے درخت سے باندھا گیا اور آگ لگا دی گئی۔

مامون کے مطابق ’جب میں پہنچا تو وہ پہلے ہی مر چکے تھے۔‘

اب تک اس واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں 22 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے نصف دیپو کے ساتھ اس کارخانے میں کام کرنے والے ملازم تھے اور ان میں اس فلور کے دو مینیجرز بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ ایک مقامی مسجد کے امام کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

زیادہ تر مشتبہ افراد کی عمر 22 سے 30 سال کے درمیان ہے۔ پولیس کا اندازہ ہے کہ تقریباً 150 افراد براہ راست حملے میں ملوث تھے، جن میں سے کئی تماشائی کے طور پر موجود تھے جبکہ دیگر افراد کو پولیس اب بھی تلاش کر رہی ہے۔

مامون کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں سے چند لوگ ’خاص طور پر مذہبی‘ نظر آتے تھے۔ ’کچھ طلبہ ہیں، کچھ راہگیر ہیں، کچھ مقامی ہیں۔ سب لوگ دیپو کو مار رہے تھے تو انھوں نے بھی اسے مارا لیکن ہم اسے نفرت انگیز جرم کے طور پر لے رہے ہیں۔‘

Rithick, Dipu's youngest brother, cradles 18-month-old Meghna outside their home in Mymensingh

،تصویر کا ذریعہANAHITA SACHDEV/BBC

2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف طلبا کی تحریک کے بعد سے اقلیتوں خاص طور پر ہندوؤں پر حملوں کی نوعیت اور وسعت بنگلہ دیش میں شدید متنازعہ سوال بن چکی ہے۔

عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ جنوری سے دسمبر 2025 کے درمیان پولیس ریکارڈز میں اقلیتوں سے متعلق 645 واقعات رپورٹ کیے گیے ہیں، لیکن وہ مصر ہے کہ تقریباً نوے فیصد واقعات فرقہ وارانہ نوعیت کے نہیں تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مقدمات عام مجرمانہ سرگرمیوں سے متعلق تھے، جیسے کہ زمین کے تنازعات، چوری، بھتہ خوری یا ذاتی جھگڑے اور انھیں بعد میں مذہبی تشدد کے طور پر پیش کیا گیا۔

ان کے حساب سے صرف 71 واقعات میں واضح فرقہ وارانہ عنصر تھا، جن میں 38 مندروں کی توڑ پھوڑ کے واقعات، مندروں پر آٹھ حملے اور ایک قتل شامل ہیں۔

اس کے برعکس انسانی حقوق کی تنظیمیں ایک تاریک تصویر پیش کرتی ہیں۔

این او سلیش کندرا نے 2025 میں ہندوؤں کے خلاف تشدد کے 42 واقعات ریکارڈ کیے ہیں، جن میں گھروں پر درجنوں حملے اور آگ لگانا شامل ہے۔

ان میں ایک شخص ہلاک اور 15 زخمی ہوئے، یہ اعداد و شمار حکومت کے اعداد و شمار سے ملتے جلتے ہیں۔

سب سے بڑا فرق بنگلہ دیش ہندو بدھ مسیحی اتحاد کونسل کے اعدادوشمار سے ملتا ہے، جس کا کہنا ہے کہ اگست 2024 کے بعد تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا۔

گروپ کا کہنا ہے کہ اس نے اگست 2024 سے اب تک اقلیتوں پر 2711 حملوں کو دستاویزی شکل دی ہے، جن میں کم از کم 92 قتل، مندروں پر 133 حملے اور زمین پر قبضے کے 47 واقعات شامل ہیں۔

کونسل سے منسلک منندر کمار ناتھ نے بی بی سی کو بتایا ’بنگلہ دیش میں اقلیتوں کو نصف صدی سے زیادہ عرصے سے مذہبی انتہاپسندوں کے حملوں کا سامنا ہے۔ ہر قسم کی حکومتیں اس کی ذمہ دار رہی ہیں۔ ہماری تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے کیونکہ بہت سے لوگ فرار ہو چکے ہیں یا نقل مکانی کر چکے ہیں۔‘

دریں اثنا انڈین حکام کا کہنا ہے کہ آزاد ذرائع سے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے دور میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کے 2900 سے زائد واقعات دستاویزی شکل میں سامنے آئے ہیں، جن میں قتل، آتشزنی اور زمین پر قبضہ شامل ہے۔

Students of Dhaka University take part in a protest march in the Dhaka University area of Dhaka, Bangladesh, on December 21, 2025, demanding justice over alleged mob violence, including the killing of Dipu Chandra Das following false blasphemy accusations and the death of seven-year-old Ayesha in an arson attack on a BNP worker's house. (Photo by MD Abu Sufian Jewel/NurPhoto via Getty Images)

،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس کہتے رہے ہیں کہ ’کوئی ہندو مخالف تشدد نہیں ہے‘ اور انھوں نے انڈین میڈیا کی جانب سے ایسی خبروں کو ’فیک نیوز‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ حملے ’سیاسی تھے، مذہبی نہیں۔‘

پھر بھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔ دیپو کے قتل نے ڈھاکہ میں احتجاج کو جنم دیا، فیکٹری مالکان نے ان کے واجبات ادا کر دیے ہیں اور وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کے اہلخانہ کے لیے وہ مکان بنائیں گے جس کا دیپو نے خواب دیکھا تھا۔

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے نئے گھر کے لیے 35 ہزار امریکی ڈالر کے مساوی رقم اور خاندان کے لیے اضافی معاوضے کا وعدہ کیا ہے۔

منیجنگ ڈائریکٹر پائینیئر نٹ ویئر بادشاہ میاں کا کہنا ہے ’جو کچھ ہوا وہ وحشیانہ، قابل مذمت اور شرمناک تھا۔ ہم ذمہ داروں کے لیے سخت ترین سزا چاہتے ہیں۔ اگر یہ فیکٹری کے باہر ہو سکتا ہے، تو ہم میں سے کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔‘

یکجہتی کا یہ خیال ملک میں وسیع تر کشیدگیوں کے باوجود برقرار ہے۔

2024 میں شیخ حسینہ کے ملک چھوڑنے کے بعد، ہندو اقلیتوں کو، جنھیں اکثر عوامی لیگ کا حامی سمجھا جاتا ہے، حریفوں نے حملوں کا نشانہ بنایا لیکن اس دوران کچھ نوجوان مسلم گروہ ہندو گھروں اور مندروں کی حفاظت کے لیے سرگرم تھے۔

اور حال ہی میں ہونے والے انتخابات سے قبل، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے طارق رحمان نے وعدہ کیا کہ ’ہم ایک ایسا بنگلہ دیش بنانا چاہتے ہیں جو ایک ماں کا خواب ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters

دیپو کے گھر میں قتل کی رات کو ٹکڑوں میں یاد کیا جاتا ہے۔

تقریباً آٹھ بجے شام ایک فون کال، پولیس سٹیشن کا دورہ اور پھر ایک والد جو لڑکھڑاتے ہوئے گھر آ رہے تھے تاکہ وہ خبر دے سکیں جس نے ان کے گھر کو بکھیر دیا۔

یہ خبر سن کر دیپو کے والدین ہوش کھو بیٹھے تھے۔

پڑوسیوں کے مطابق وہ گھنٹوں تک بےہوش رہے اور پھر انھیں اس وقت دوا دے کر ہوش میں لایا گیا جب ان کا گھر غمگساروں سے بھر گیا۔

تقریباً دو ماہ گزرنے کے باوجود دیپو کی ماں اب بھی ہر روز ٹوٹ جاتی ہیں۔ ان کے والد ابھی تک کام پر واپس نہیں گئے۔ اس واقعے کے بعد ان کی نیند ہو یا بھوک یا پھر سکون سب غائب ہو گیا ہے۔

رابی داس کہتے ہیں کہ ’ہماری زندگی رک سی گئی ہے۔ کچھ بھی تو نہیں چل رہا۔‘

SOURCE : BBC