Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ایران امریکہ کشیدگی اور تیل: اگر آبنائے ہرمز بند ہو جائے تو...

ایران امریکہ کشیدگی اور تیل: اگر آبنائے ہرمز بند ہو جائے تو کیا ہو گا؟

12
0

SOURCE :- BBC NEWS

ہرمز

،تصویر کا ذریعہSpace Frontiers/Archive Photos/Hulton Archive/Getty Images

16 جون 2025

اپ ڈیٹ کی گئی 13 فروری 2026

مطالعے کا وقت: 10 منٹ

جب امریکہ خلیجِ فارس میں اپنی عسکری موجودگی بڑھا رہا ہے، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ چھڑ گئی تو آبنائے ہرمز، جو دنیا میں تیل کی ترسیل کا سب سے اہم راستہ ہے، بند کر دی جائے گی۔

ایران کی سٹریٹجک کونسل برائے خارجہ تعلقات کے سیکرٹری جلال دہغنی فیروزآبادی نے کہا کہ جنگ کی صورت میں ’توانائی کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی اور آبنائے ہرمز بند ہو جائیے گی۔‘

دنیا کے خام تیل کا تقریبا پانچواں حصہ اس تنگ راستے سے گزرتا ہے جو اپنے سب سے تنگ مقام پر صرف 40 کلومیٹر چوڑا ہے۔

امریکہ خلیجی خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے کیونکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، لیکن نو فروری 2026 کو امریکی محکمہ ٹرانسپورٹیشن کی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن نے ہدایت جاری کی ہے جس میں امریکی پرچم بردار تجارتی جہازوں کو ایران کے علاقائی پانیوں سے جتنا ممکن ہو دور رہنے کو کہا گیا۔

اس اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک فیصد سے زیادہ بڑھیں، لیکن اگلے دن ان میں معمولی کمی آئی۔

ماضی میں اس خطے میں کشیدگی میں اضافے کے وقت، برطانیہ کی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی سکس کے سابق سربراہ، سر ایلکس ینگر نے بی بی سی کو بتایا تھا، ’آبنائے ہرمز کو بند کرنا بلاشبہ ایک ناقابل یقین معاشی مسئلہ ہوگا کیونکہ اس کا تیل کی قیمت پر اثر پڑے گا۔‘

آبنائے ہرمز کہاں واقع ہے

خلیج فارس اور خلیج عمان کے بیچ واقع آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان ایک سمندری راستہ موجود ہے۔ اس میں داخلے اور اخراج کے مقامات تو تقریباً 50 کلومیٹر چوڑے ہیں لیکن درمیان میں سب سے تنگ مقام پر اس کی وسعت تقریباً 40 کلومیٹر رہ جاتی ہے۔

یہ سمندری راستہ اتنا ہی گہرا ہے کہ بڑے تجارتی جہاز اس کے وسط میں ہی سفر کر سکتے ہیں یعنی بڑے آئل ٹینکر تقریبا 10 کلومیٹر چوڑے چینل میں ہی سفر کر سکتے ہیں۔

1980 سے 1988 تک جاری رہنے والی ایران اور عراق کی جنگ کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی تیل کی رسد اور برآمدات کو متاثر کرنے کی کوشش کی تھی اور اس تنازع کو اسی وجہ سے تاریخ میں ’ٹینکر جنگ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

اور اسی لیے بحرین میں تعینات امریکی بحریہ کے فلیٹ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت کرے۔

ایران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آبنائے ہرمز سے کتنا تیل گزرتا ہے

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس راستے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں تیل کی مجموعی تیل کی رسد کا پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران جیسے ممالک سے تیل دیگر ممالک کو پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا میں سب سے زیادہ ایل این جی برآمد کرنے والا ملک قطر بھی اپنی برآمدات کے لیے اسی گزر گاہ پر انحصار کرتا ہے۔

فریٹ اینالیٹکس فرم وورٹیکسا کے اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ سال اوسطاً روزانہ اوسطا 20 ملین بیرل سے زائد خام تیل اور دیگر ایندھن اس راستے سے گزرے۔

یہ تقریباً سالانہ 600 ارب ڈالر کی توانائی کے ذرائع کی تجارت کے برابر ہے جو ہر سال سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے۔

ایران اور دیگر اوپیک رکن ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، اور عراق اپنے گاہکوں خصوصاً ایشیائی ممالک کو زیادہ تر خام تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہی برآمد کرتے ہیں۔

آبی راستے میں کسی بھی قسم کی خلل عالمی سطح پر تیل کی فراہمی میں نمایاں تاخیر کا باعث بن سکتی ہے، جس کا فوری اثر قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ تاہم، تجزیہ کاروں کو یہ بھی خدشہ ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازعے کے بڑھنے کا ممکنہ طور پر زیادہ سنگین نتیجہ ہو سکتا ہے۔

ایران آبنائے ہرمز کیسے بند کر سکتا ہے؟

امریکی کانگریس کی تحقیقاتی سروس کی 2012 کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران بتدریج بندش کا طریقہ اختیار کر سکتا ہے۔

وہ یہ بتائے بغیر کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے، آبنائے ہرمز میں نیویگیشن پر پابندی کا اعلان کر سکتا ہے۔ وہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کا معائنہ یا انھیں ضبط کیا جا سکتا ہے۔

ایرانی بحریہ تجارتی جہازوں کی جانب تنبیہی فائرنگ بھی کر سکتی ہے اور مخصوص جہازوں کو نشانہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ اس آبنائے اور خلیج فارس میں بحری بارودی سرنگیں بچھائی جا سکتی ہیں اور تجارتی اور فوجی جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے آبدوزوں اور میزائلوں کا استعمال بھی ممکن ہے۔

ماہرین پیش گوئی کرتے ہیں کہ ایران کے لیے ہر ماہ اس راستے پر سفر کرنے والے تقریبا تین ہزار بحری جہازوں کو روکنے کا سب سے مؤثر طریقہ تیز حملہ آور کشتیوں اور آبدوزوں کے ذریعے بارودی سرنگیں بچھانا ہی ہو گا۔

ایران کی باقاعدہ بحریہ اور پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ ممکنہ طور پر غیر ملکی جنگی جہازوں اور تجارتی جہازوں پر حملے کر سکتی ہے تاہم، بڑے فوجی جہاز بدلے میں اسرائیلی یا امریکی فضائی حملوں کے لیے آسان ہدف بن سکتے ہیں۔

ایران کی تیز رفتار کشتیاں اکثر جہاز شکن میزائلوں سے بھی لیس ہوتی ہیں۔ ایران-عراق جنگ میں بھی ایران نے تیل کے ٹینکروں پر سلک ورم میزائل داغے تھے اور خلیجی پانیوں میں بحری بارودی سرنگیں بچھائیں تھیں۔

ان میں سے ایک بارودی سرنگ کا نشانہ یو ایس ایس سیموئل بی رابرٹس بنا تھا، جس پر امریکہ نے جوابی فوجی کارروائی کی تھی۔

اس وقت ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے میں ناکام رہا، لیکن اس نے شپنگ انشورنس پریمیم میں نمایاں اضافہ کیا تھا۔

جس طرح بین الاقوامی برادری طویل عرصے سے ایران کی فوجی جوہری پروگرام کی مخالفت کرتی رہی ہے، بڑی طاقتوں نے بار بار کہا ہے کہ وہ تہران کو اپنی سٹریٹجک جغرافیائی حیثیت کو عالمی توانائی کی فراہمی کو روکنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گی۔

ماہرین اکثر پیش گوئی کرتے ہیں کہ ایران عارضی طور پر اس آبنائے کو بند کر سکتا ہے لیکن بہت سے لوگ اتنے ہی پراعتماد ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی فوجی ذرائع استعمال کر کے سمندری ٹریفک کے بہاؤ کو دوبارہ شروع کروا سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز بند ہونے سے کیا ہو گا؟

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو بند کر دے تو عالمی تیل کی 20 فیصد رسد متاثر ہو گی۔

اینالیٹکس فرم ورٹیکسا کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب روزانہ تقریبا چھ ملین بیرل خام تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے برآمد کرتا ہے، جو کسی بھی پڑوسی ملک سے زیادہ ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کا اندازہ ہے کہ 2024 میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی خام تیل اور کنڈینسیٹ کا 84 فیصد اور مائع قدرتی گیس کا 83 فیصد ایشیائی بازاروں میں گیا۔

اس کا کہنا ہے کہ چین، بھارت، جاپان، اور جنوبی کوریا خام تیل کے سب سے بڑے درآمد کنندگان میں شامل ہیں جو اس راستے سے گزرتا ہے۔

ای آئی اے کے مطابق، امریکہ نے 2024 میں اس راستے سے روزانہ تقریباً پانچ لاکھ بیرل خام تیل اور کنڈینسیٹس درآمد کیے جو اس کی کل تیل درآمدات کا تقریبا سات فیصد اور پیٹرولیم کی کھپت کا دو فیصد تھا۔

اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سال خلیجی ممالک سے امریکی خام تیل کی درآمدات تقریبا 40 سال میں سب سے کم سطح پر پہنچ گئیں کیونکہ کینیڈا سے ملکی پیداوار اور درآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔

آبنائے سے گزرنے والے یورپ کا مجموعی تیل کا حصہ روزانہ ایک ملین بیرل سے بھی کم معلوم ہوتا ہے۔

اس تناظر میں، ایسا لگتا ہے کہ وہ عرب اور ایشیائی ممالک آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے امریکہ یا یورپی طاقتوں کے مقابلے میں زیادہ نقصان اٹھائیں گے، جنھوں نے حالیہ تنازعے میں سیاسی طور پر اسرائیل کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔

چین آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کے سب سے بڑے صارفین میں سے ایک ہے۔ اس تیل کا ایک بڑا حصہ اسے ایران عالمی مارکیٹ کی قیمتوں سے کم قیمتوں پر فروخت کرتا ہے اور جو تہران کو امریکی پابندیوں سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے ایک اہم معاشی سہارا ہے۔

EIA کا اندازہ ہے کہ چین نے 2024 میں ایران کی برآمد کردہ تیل کا تقریبا 90 فیصد حصہ خریدا تھا۔

ایران کی سٹریٹجک کونسل برائے خارجہ تعلقات کے سیکرٹری فیروزآبادی کے مطابق، ’اگر یہ آبنائے بند ہو گئی تو سب سے پہلے نقصان اٹھانے والا ملک چین ہوگا، اس لیے مذاکرات چینیوں کے لیے بھی اہم ہیں۔‘

ایرانی تیل کے بڑے صارف کے طور پر، بیجنگ کے لیے تیل کی قیمتوں میں اضافے یا شپنگ راستوں میں خلل کا خیرمقدم کرنے کا امکان بہت کم ہے۔ چین سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی مکمل سفارتی طاقت استعمال کرے گا تاکہ اس اہم توانائی کے راستے کو بند کرنے سے روکا جا سکے۔

انرجی کنسلٹنسی آؤٹ لک ایڈوائزرز کے پارٹنر انس الحاجی نے سی این بی سی کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے سے ایران کے اتحادیوں کو دشمنوں سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔ ’وہ (ایرانی) پہلے کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتے جو خود کو نقصان پہنچائے۔‘

کیا کوئی متبادل راستہ یا طریقہ موجود ہے؟

آبنائے ہرمز کی بندش کے مسلسل خطرے نے برسوں سے خلیج کے تیل برآمد کرنے والے ممالک کو متبادل برآمدی راستے تیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔

2019 میں، سعودی عرب نے عارضی طور پر ایک قدرتی گیس پائپ لائن کو خام تیل لے جانے کے لیے دوبارہ استعمال کیا۔

متحدہ عرب امارات نے اپنے اندرونی تیل کے ذخائر کو خلیج عمان کے بندرگاہ فجیرہ سے ایک پائپ لائن کے ذریعے جوڑ دیا ہے جس کی یومیہ صلاحیت 15 لاکھ بیرل ہے۔

جولائی 2021 میں، ایران نے گورہ-جسک پائپ لائن کا افتتاح کیا، جس کا مقصد خلیج عمان میں خام تیل منتقل کرنا تھا۔یہ پائپ لائن اس وقت تقریباً ساڑھے تین لاکھ بیرل یومیہ ایندھن لے جا سکتی ہے تاہم اطلاعات کے مطابق ایران نے ابھی تک اسے استعمال نہیں کیا۔

ای آئی اے نے گذشتہ سال جون میں کہا تھا کہ موجودہ متحدہ عرب امارات اور سعودی پائپ لائنز سے تقریبا 26 لاکھ بیرل یومیہ کی غیراستعمال شدہ صلاحیت آبنائے ہرمز کو ’بائی پاس‘ کرنے کے لیے دستیاب ہو سکتی ہے۔

ماضی کے تنازعات

ایران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ماضی میں آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع رہا ہے۔ 1988 میں امریکی جنگی جہاز نے ایک ایرانی مسافر بردار طیارہ مار گرایا تھا جس میں 290 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکہ نے اس وقت کہا تھا کہ اس کے بحری بیڑے نے ’غلطی سے مسافر بردار طیارے کو ایک لڑاکا طیارہ سمجھ کر‘ نشانہ بنایا تھا تاہم ایران کے مطابق یہ ’سوچا سمجھا حملہ‘ تھا۔

امریکہ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس کے بحری جنگی جہاز خطے میں تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے موجود ہیں جنھیں ممکنہ طور پر ایرانی بحریہ نشانہ بنا سکتی ہے۔

سنہ 2008 میں امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی کشتیوں نے تین امریکی جنگی جہازوں کے قریب پہنچنے کی کوشش کی۔ اس کے جواب میں ایرانی پاسداران انقلاب کے اس وقت کے کمانڈر ان چیف محمد الجعفری نے کہا تھا کہ اگر ان کی کشتیوں پر حملہ کیا گیا تو امریکہ جہازوں پر قبضہ کر لیا جائے گا۔

2010 میں آبنائے ہرمز میں ایک جاپانی تیل بردار ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا جس کی ذمہ دای القاعدہ سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک گروہ نے قبول کی تھی۔

2012 میں تہران نے اس وقت آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی تھی جب امریکہ اور یورپ کی جانب سے پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ ایران کا دعویٰ تھا کہ یہ کوششیں اس کی تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ کو متاثر کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

سنہ 2018 میں جب امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل کی برآمدات کو صفر پر لانے کا اعلان کیا گیا تھا تو ایرانی صدر حسن روحانی نے عندیہ دیا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی رسد کو متاثر کر سکتا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک کمانڈر نے بھی دھمکی دی تھی کہ اگر ایرانی تیل کی برآمدات کو روکنے کی کوشش کی گئی تو وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کی رسد کو روک دیں گے۔

SOURCE : BBC