Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں طارق رحمان: 18 ماہ کی قید اور 17 سال جلاوطنی کاٹنے والے...

طارق رحمان: 18 ماہ کی قید اور 17 سال جلاوطنی کاٹنے والے بنگلہ دیش کے’ممکنہ وزیرِاعظم‘ کون ہیں؟

7
0

SOURCE :- BBC NEWS

طارق رحمان

،تصویر کا ذریعہX/@trahmanbnp

بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے بعد سامنے آنے والے نتائج کے بعد بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کو واضح برتری حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور جماعت کے اہم رہنما نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ حکومت سازی کے لیے پراعتماد ہیں۔

امیر خسرو محمود چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے اکثریت حاصل کر لی ہے اور جب مکمل نتائج سامنے آئیں گے تو ہماری کارکردگی زیادہ بہتر ہو گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’طارق رحمان ہمارے رہنما ہیں، ہمارے چیئرمین ہیں اور جب بی این پی حکومت بنائے گی تو وہ یقیناً بنگلہ دیش کے وزیراعظم ہوں گے۔‘

خیال رہے کہ طارق رحمان نے پہلی مرتبہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی انتخابی مہم کی قیادت کی ہے اور پہلی بار قومی پارلیمانی انتخابات میں حصہ بھی لیا ہے۔

انتخابات سے قبل اپنی والدہ کی وفات کے صرف ایک ماہ بعد انھیں پارٹی کا چیئرمین نامزد کیا گیا تھا اور انھوں نے بھرپور طریقے سے نہ صرف انتخابی مہم چلائی بلکہ تنظیمی سرگرمیوں کی قیادت بھی کی۔

ان کے حامی انھیں بنگلہ دیش کے ‘ممکنہ وزیرِاعظم’ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

بی این پی بھی انھیں جماعت کے ’اکلوتے رہنما‘ کے طور پر پیش کر رہی ہے، حالانکہ ان کے سیاسی مخالفین طارق رحمان کے ماضی کے کرپشن کے الزامات اور تعلیمی قابلیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

طارق رحمان اور ان کی جماعت نے ان کرپشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں سابقہ عوامی لیگ کی حکومت کا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

لندن میں تقریباً 17 سال سیاسی پناہ میں گزارنے کے بعد وہ گذشتہ دسمبر میں ڈھاکہ واپس آئے تھے اور ان کی جماعت نے ان کا شاندار استقبال کیا تھا۔

بی این پی کی دیرینہ حریف جماعت عوامی لیگ ان انتخابات میں حصہ نہیں لیا کیونکہ ان پر موجودہ انتظامیہ نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ایسے میں جماعت اسلامی ایک بڑی حریف جماعت بن کر اُبھری ہے۔

Tarique Rahman

،تصویر کا ذریعہGetty Images

طارق رحمان کی واپسی

طارق رحمان کو سنہ 2007 میں بنگلہ دیش کی فوجی حمایت یافتہ نگران حکومت کے دور میں کرپشن کے الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا۔ 18 ماہ جیل میں گزارنے کے بعد وہ ستمبر 2008 میں رہا ہوئے اور اپنے خاندان کے ساتھ لندن منتقل ہو گئے۔

تقریباً 17 سال بعد وہ 25 دسمبر کو ڈھاکہ واپس آئے۔ حالانکہ اپنی آمد سے چند دن پہلے طارق رحمان نے فیس بک پر ایک پوسٹ کے ذریعے اپنی واپسی کے بارے میں ایک غیر یقینی کی سی صورتحال پیدا کر دی تھی۔

ان کی اس پوسٹ نے نومبر کے آخر میں ایک بحث کا طوفان برپا کر دیا تھا۔ ان کی والدہ خالدہ ضیا بیمار تھیں اور ایسے میں انھوں نے لکھا تھا کہ ’ہر بچے کی طرح مجھے بھی اس مشکل وقت میں اپنی والدہ کی محبت اور لمس حاصل کرنے کی شدید خواہش ہے۔ لیکن میرے پاس فیصلہ سازی کی طاقت لامحدود نہیں ہے اور نہ ہی مکمل طور پر میرے قابو میں ہے۔ اس نازک مسئلے پر تفصیل سے بات کرنے کی گنجائش بھی محدود ہے۔ ہمارا خاندان پُرامید ہے کہ جیسے ہی یہ سیاسی حقیقت ہماری توقعات کی سطح تک پہنچے گی میرے وطن واپسی کے طویل انتظار کا خاتمہ ہو جائے گا۔‘

Bangladesh

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پھر 25 دسمبر کو واپسی کے چند دن اور 30 دسمبر کو خالدہ ضیا کی وفات کے دس دن بعد انھیں نو جنوری کو بی این پی کی نیشنل اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں باضابطہ طور پر پارٹی کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا۔

طارق رحمان سنہ 2018 میں خالدہ ضیا کو کرپشن کیس میں قید کی سزا سنائے جانے کے بعد لندن سے پارٹی کے قائم مقام چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

سنہ 2002 میں خالدہ ضیا نے انھیں پارٹی کے سینیئر جوائنٹ سیکریٹری جنرل کے طور پر نامزد کیا۔ بعد میں سنہ 2009 میں انھیں پارٹی کی پانچویں قومی کانفرنس میں سینیئر وائس چیئرمین کے طور پر نامزد کیا گیا۔

سیاسی تجزیہ کار محی الدین احمد نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا ’بی این پی کی قیادت کے لیے چیئرمین کی حیثیت سے طارق رحمان کا آنا تقریباً ناگزیر تھا۔‘

انہوں نے کہا ’2018 میں خالدہ ضیا کی گرفتاری کے بعد سے پارٹی طارق رحمان کی ہی قیادت میں چل رہی تھی۔ ان کے قیادت سنبھالنے کے بارے میں کبھی کوئی شک و شبہ نہیں تھا۔‘

ایک اور سیاسی تجزیہ کار اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے پروفیسر محمد مجیب الرحمان کہتے ہیں کہ طارق رحمان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ پارٹی کو متحد رکھنے اور اسے مشکل حالات میں بھی بیرونِ ملک سے ٹوٹنے سے بچانے میں کامیاب رہے۔

’ویسے بھی وہ ہمیشہ سیاسی عمل میں شامل رہے ہیں۔ انھوں نے ملک سے باہر رہتے ہوئے بھی پارٹی کو قائم رکھنے میں کامیابی دکھائی ہے۔ وطن واپسی کے بعد وہ پہلے سے کہیں زیادہ پختہ نظر آتے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ پختگی انتخابات کے بعد ان کے سیاسی فیصلوں میں کس حد تک جھلکتی ہے۔‘

بطور پارٹی چیئرمین طارق رحمان نے 22 جنوری کو سلہٹ میں پارٹی کی انتخابی مہم کا آغاز کیا تھا اور ان کی بیٹی اور اہلیہ بھی متعدد انتخابی تقاریب میں شریک نظر آئیں تھیں۔

طارق رحمان کا عروج

طارق رحمان بنگلہ دیش کے پہلے فوجی حکمران ضیا الرحمان اور سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا کے بڑے بیٹے ہیں۔ بی این پی کی ویب سائٹ کے مطابق وہ 20 نومبر 1965 کو پیدا ہوئے تھے۔

تاہم ان کے انتخابی حلف نامے میں درج ہے کہ ان کی پیدائش 20 نومبر 1968 کو ہوئی تھی۔

ان کی پارٹی کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ انھوں نے ابتدائی تعلیم ڈھاکہ کے بی اے ایف شاہین کالج میں مکمل کی اور پھر 1980 کی دہائی میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں داخلہ لیا۔

تاہم اس بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں کہ آیا انھوں نے وہاں اپنی تعلیم مکمل کی یا نہیں۔

اس بار الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے حلف نامے میں طارق رحمان کی تعلیمی قابلیت ‘اعلیٰ ثانوی’ درج کی گئی ہے۔

بی این پی کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ضیا الرحمان کا خاندان بھی آزادی کی جنگ کے دوران کئی دیگر فوجی افسران کے خاندانوں کے ساتھ قید میں رہا۔ اس وقت ان کے دونوں بیٹے طارق رحمان اور آنجہانی عرفات رحمان بھی قید میں تھے۔ ضیا الرحمان پاکستانی فوج میں افسر تھے جو بعد میں بغاوت کا حصہ بن گئے تھے۔

پارٹی کی ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق طارق رحمان نے فوجی حکمران حسین محمد ارشاد کے خلاف تحریک میں بھی حصہ لیا اور سنہ 1988 میں باضابطہ طور پر بی این پی میں اس وقت سرگرم ہوئے جب وہ بوگرا ضلع بی این پی کے گابٹولی اُپازِلا یونٹ کے رکن بنے۔

تاہم کچھ پارٹی رہنماؤں اور چیئرپرسن کی مشاورتی کونسل کے ارکان کا کہنا ہے کہ طارق رحمان کا پارٹی کی سیاست میں باضابطہ سفر سنہ 1991 کے پارلیمانی انتخابات سے شروع ہوا اور اس وقت وہ ان پانچ حلقوں کی نگرانی کر رہے تھے جہاں خالدہ ضیا نے کامیابی حاصل کی تھی۔

تاہم پارٹی سیاست پر ان کا زیادہ اثر 2001 کے پارلیمانی انتخابات کے دوران پڑنا شروع ہوا۔ ان انتخابات میں بی این پی کی قیادت میں چار جماعتی اتحاد نے دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی۔

بی این پی کے دورِ حکومت میں طارق رحمان اور ان کے قریبی ساتھیوں کے خلاف کرپشن کے الزامات بعد میں وسیع پیمانے پر بحث کا باعث بنے۔

کرپشن کے الزامات اور ساکھ کی بحالی

طارق رحمان دسمبر کے آخر میں ملک واپس آئے ہیں اور بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ ان کی جماعت بی این پی انھیں پارٹی کے واحد اہم رہنما کے طور پر پیش کرنے اور ان کی ایک ’مثبت ساکھ‘ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اب جب بی این پی کو اپنے پرانے اتحادی جماعتِ اسلامی کے خلاف انتخابی مقابلے کا سامنا ہے تو پارٹی کے پالیسی ساز چاہتے ہیں کہ عوام کے ذہنوں میں طارق رحمان کو ’آزادی کی جنگ اور معتدل جمہوریت‘ کے واحد رہنما کے طور پر پیش کیا جائے۔

بنگلہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مخالفین کی طرف سے تنقید کی جاتی ہے کہ سنہ 2001 میں بی این پی کے اقتدار میں آنے کے بعد اگرچہ خالدہ ضیا وزیرِاعظم بنیں لیکن طارق رحمان ’ہوا بھبن‘ (جماعت کا مرکزی دفتر) میں ایک متوازی طاقت کا مرکز بن گئے۔

طارق رحمان اور ان کے قریبی ساتھیوں پر کرپشن کے الزامات بھی لگائے گئے تھے۔ تاہم وہ اور ان کی جماعت بی این پی ہمیشہ ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

بی این پی کے دورِ حکومت میں عوامی لیگ نے سنہ 2004 میں ڈھاکہ میں اُس وقت کی اپوزیشن لیڈر شیخ حسینہ کے جلسے پر ہونے والے دستی بم حملے کا الزام طارق رحمان اور ’ہوا بھبن‘ پر عائد کیا تھا۔

بعد میں عوامی لیگ کے دورِ حکومت میں طارق رحمان کو اس سے متعلق ایک مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

طارق رحمان کو ان مقدمات سے عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بری کر دیا گیا تھا۔ بی این پی نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے۔

تجزیہ کار محی الدین احمد کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنی تحقیق کے دوران مختلف جماعتوں سے وابستہ افراد سے بات چیت کے ذریعے یہ معلوم کیا کہ دورانِ حراست طارق رحمان کو واقعی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کا مقصد ان کی والدہ خالدہ ضیا کو ملک چھوڑنے پر ’مجبور‘ کرنا تھا۔

بعد میں 11 ستمبر 2008 کو وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ڈھاکہ سے لندن روانہ ہو گئے تھے۔

یہ افواہ بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ طارق رحمان کو اُس وقت کی فوجی قیادت کے ساتھ کسی قسم کے سمجھوتے کے ذریعے رہا کیا گیا تھا، حالانکہ خالدہ ضیا نے ملک نہیں چھوڑا تھا۔

میڈیا میں یہ رپورٹس بھی سامنے آئیں کہ طارق رحمان نے ایک ضمانت نامہ دیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ وہ ملک چھوڑنے کے فوراً بعد دوبارہ سیاست میں شامل نہیں ہوں گے۔

محی الدین احمد کہتے ہیں، ’خالدہ ضیا نے خود کہا تھا کہ طارق اب سیاست میں شامل نہیں ہوں گے اور لندن میں تعلیم حاصل کریں گے۔‘

اگرچہ بی این پی طویل عرصے سے یہ کہتی رہی تھی کہ طارق رحمان لندن میں علاج کی غرض سے مقیم ہیں، لیکن بعد میں 24 اپریل 2018 کو بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے پہلی بار اعتراف کیا کہ طارق رحمان نے 2012 میں برطانیہ میں سیاسی پناہ کے لیے درخواست دی تھی اور ایک سال کے اندر یہ درخواست منظور کر لی گئی تھی۔

طارق رحمان کو سیاست سے دور رکھنے کی کوششیں

سنہ 2007 میں جب فوجی حمایت یافتہ نگران حکومت بنگلہ دیش میں اقتدار میں آئی تو عوامی لیگ کی صدر شیخ حسینہ کے بعد بی این پی کی رہنما خالدہ ضیا کو بھی گرفتار کیا گیا۔ ان کے آنجہانی بیٹے عرفات رحمان کو بھی اسی دن خالدہ ضیا کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔

بنگلہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بعد میں عرفات رحمان کو ایک انتظامی حکم کے ذریعے رہا کر دیا گیا اور وہ علاج کے لیے تھائی لینڈ گئے۔ اس کے بعد وہ ملیشیا چلے گئے، جہاں جنوری 2015 میں دل کا دورہ پڑنے سے ان کی وفات ہوگئی۔

سنہ 2018 میں جب خالدہ ضیا کو کرپشن کیس میں جیل جانا پڑا تو طارق رحمان نے لندن سے پارٹی کے قائم مقام چیئرمین کے طور پر جماعت کا انتظام چلانا شروع کیا۔

تاہم دستی بم حملے کے مقدمے میں سزا یافتہ ہونے کے علاوہ عوامی لیگ کے دورِ حکومت میں ان پر کئی دیگر مقدمات بھی درج تھے۔

ایک موقع پر جب عدالت نے ان کے بیانات پر پابندی لگا دی تو وہ سوشل میڈیا پر سرگرم ہو گئے اور ورچوئلی پارٹی کی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔

ان کے قریب رہنے والے افراد کہتے ہیں کہ تھوڑے ہی عرصے میں انھوں نے ایک طرف براہِ راست نچلی سطح کے کارکنوں سے رابطہ قائم کرنا شروع کیا اور دوسری طرف پارٹی کی پالیسی سازی کے کام کی قیادت بھی سنبھال لی۔

آخرکار اگست 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد طارق رحمان کو ملک واپس آنے کا موقع ملا اور وہ گذشتہ دسمبر میں ڈھاکہ واپس آئے اور براہِ راست پارٹی کی کمان سنبھال لی۔

محی الدین احمد نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا ’طارق رحمان نے سیاست کے تاریک گوشے دیکھے ہیں اور اس ملک میں ٹکراؤ اور انتقام کی سیاست کا بھی تجربہ کیا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا وہ اس سیاسی بصیرت کو استعمال کرتے ہوئے ایک جماعتی رہنما سے آگے بڑھ کر مستقبل میں ملک کے رہنما بن سکتے ہیں یا نہیں۔‘

SOURCE : BBC