Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں انڈین اداکار راجپال یادو جیل میں قید اور مدد کی اپیلیں: ’جب...

انڈین اداکار راجپال یادو جیل میں قید اور مدد کی اپیلیں: ’جب ہم مشکل میں تھے اس وقت ان کا گھر ہمارے لیے لنگر خانہ تھا‘

10
0

SOURCE :- BBC NEWS

Rajpal Yadav

،تصویر کا ذریعہGetty Images

3 گھنٹے قبل

مطالعے کا وقت: 6 منٹ

بالی وُڈ اداکار راجپال یادو نے گذشتہ ہفتے جمعرات کو چیک باؤنس ہونے سے متعلق ایک کیس میں دہلی کی تہاڑ جیل میں خود کو قانون کے حوالے کر دیا تھا۔

اس درمیان میڈیا پر ان کی مالی مشکلات سے متعلق خبریں نشر ہوئیں جن پر سوشل میڈیا پر بھی بحث شروع ہو گئی، جس کے بعد متعدد افراد بالی وڈ اداکار کی مدد کے لیے سامنے آ رہے ہیں۔

منگل کو اداکار سونو سود نے اعلان کیا کہ وہ اپنے مستقبل کے ایک پراجیکٹ میں کام کے لیے راجپال یادو کو پیشگی رقم ادا کر یں گے۔ اس کے علاوہ انڈین سیاستدان لالو پرساد یادو کے بیٹے تیج پرتاپ نے بھی جیل میں قید اداکار کی مالی مدد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے اس مقدمے میں دہلی ہائی کورٹ نے راجپال یادو کو خود کو جیل انتظامیہ کے حوالے کرنے کے لیے چار فروری تک کا وقت دیا تھا، لیکن وہ پانچ فروری کو تہاڑ جیل پہنچے تھے۔

دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ ’عدالت کی ہدایات کو نظرانداز کرنا قانون کے احترام کی کمی کو ظاہر کرتا ہے اور اداکار کو اُن کے پیشے یا فلمی صنعت سے وابستگی کی بنیاد پر کوئی خصوصی رعایت نہیں دی جا سکتی۔‘

میڈیا پر نشر ہونے والی خبروں کے مطابق راجپال یادو تہاڑ جیل میں داخل ہونے سے قبل ’جذباتی‘ ہو گئے تھے۔

اس کے بعد فلم انڈسٹری سے منسلک متعدد شخصیات نے راجپال یادو کی مدد کے لیے اپیلیں بھی کی تھیں۔

سونو سود اور تیج پرتاپ کا مدد کا اعلان

بالی وُڈ اداکار سونو سود نے راجپال یادو کو ’با صلاحیت اداکار‘ قرار دیا، جو برسوں سے فلم انڈسٹری کے لیے اچھا کام کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سونو سود نے لکھا کہ: ’کبھی کبھی حالات غلط سمت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ صلاحیتوں کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ وقت کی سختی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ وہ (راجپال یادو) میری فلم کا حصہ ہوں گے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ہم سب پروڈیوسرز، ڈائریکٹرز اور ساتھی اداکاروں کو اُن کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔‘

Sonu Sood

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے جیل میں قید اداکار کے لیے مستقبل کے ایک پراجیکٹ کی فیس کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک چھوٹی سی سائننگ رقم ہے جو مستقبل کے کام میں ایڈجسٹ کی جا سکتی ہے، یہ عطیہ نہیں بلکہ اعزاز ہے۔ جب ہم میں سے کوئی مشکل وقت سے گزر رہا ہو تو انڈسٹری کو یہ یاد دلانا چاہیے کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔‘

دوسری جانب سیاستدان تیج پرتاپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ’ہم نے معزز راجپال یادو کے خاندان کی تکلیف کے بارے میں سُنا ہے۔ یہ ایک مشکل وقت ہے، میں اور پوری جن شکتی جنتا دل پارٹی اس خاندان کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ اپنی سیاسی جماعت کی طرف سے راجپال یادو کو 11 لاکھ روپے فراہم کریں گے۔

اداکار گرمیت چودھری نے فلم انڈسٹری کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں: ’یہ دل توڑ دینے والی بات ہے کہ راجپال یادو جی جیسے ایک سینیئر اور نہایت باصلاحیت فنکار اتنے تکلیف دہ مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے ہمیں بے شمار مسکراہٹیں، قہقہے اور یادگار لمحات دیے ہیں۔ آج انہیں ہماری ضرورت ہے۔‘

یہ معاملہ کیا ہے؟

عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ راجپال یادو کے خلاف مقدمہ فلم ‘اتا پتا لپتا’ سے متعلق ہے۔ سنہ 2010 میں مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ نامی کمپنی نے اس فلم کے لیے تقریباً پانچ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تھی۔

عدالتی کارروائی کے مطابق یہ فلم باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکی اور مبینہ طور پر اداکار کو مالی نقصان پہنچا، جس کی وجہ سے وہ کمپنی کو رقم واپس کرنے میں ناکام رہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ راجپال یادو نے بار بار پیسوں کی واپسی کی یقین دہانی کروائی اور رحم کی اپیلیں بھی کیں لیکن اس کے باوجود وہ بار بار عدالتی احکامات کو فراموش کرتے رہے۔

راجپال یادو کی طرف سے کمپنی کو دیے گئے متعدد چیکس باؤنس ہوئے جس کے بعد ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ سنہ 2018 میں دہلی کی ایک کورٹ نے انھیں قصوروار ٹھہراتے ہوئے چھ مہینے قید کی سزا سنائی تھی۔

اس کے اگلے برس یہ مقدمہ دہلی ہائی کورٹ گیا، جہاں عدالت نے ان کی سزا پر حکم امتناع جاری کر دیا۔ عدالت نے کہا تھا کہ راجپال یادو کمپنی کو رقم کی ادائیگی کریں گے۔

اس کے بعد متعدد مرتبہ ان کی سزا پر حکم امتناع جاری کیا گیا لیکن راجپال یادو اس رقم کی ادائیگی نہ کر سکے اور عدالت نے انھیں جیل حکام کے سامنے سرینڈر کرنے کا حکم دے دیا۔

راجپال یادو کا مؤقف کیا ہے؟

سنہ 2018 میں سزا دہلی کی مقامی عدالت کی جانب سے چھ مہینے قید کی سزا سنائی جانے کے بعد راجپال یادو نے شاہجہاں پور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ انھیں ایک سازش کے تحت پھنسایا گیا ہے۔

Nawazuddin

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

دو برس قبل ایک انٹرویو میں انھوں نے انڈیا ٹوڈے کو بتایا تھا کہ انھوں نے ’کوئی فراڈ نہیں کیا ہے۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ ’کمپنی نے پانچ کروڑ روہے فلم اتا پتا لاپتا بنانے کے لیے دیے تھے اور وہ سرمایہ کاری تھی۔ میں فلم کا ڈائریکٹر نہیں تھا۔‘

فلم انڈسٹری میں راجپال یادو کے چاہنے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے، ان میں نوازالدین صدیقی بھی شامل ہیں۔

ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ ’جب راجپال یادو کام کر رہے تھے اس وقت بہت سارے لوگ ان کے گھر پر کھانا کھایا کرتے تھے اور انھوں نے کبھی اُف تک نہیں کیا۔‘

’جب ہم سب، متعدد اداکار مشکل وقت میں تھے تب راجپال کا گھر کسی لنگر خانے کی طرح تھا، وہاں کوئی بھی کھانا سکتا تھا۔‘

اسی انٹرویو میں نواز الدین صدیقی نے کہا تھا کہ راجپال یادیو انڈسٹری کے ’سب سے پڑھے لکھے ادارکاروں میں سے ایک‘ ہیں۔

راجپال یادو لکھنؤ کی بھارت اندو نتیا اکیڈمی کے طالب علم بھی رہ چکے ہین اور بعد میں انھوں نے دہلی کے نیشنل سکول آف ڈرامہ سے بھی تعلیم حاصل کی ہے۔

وہ اپنے کیریئر میں متعدد یادگار کردار ادا کر چکے ہیں اور فلم بھول بھلیا، پھر ہیرا پھیری، چھپ چھپ کے اور ہنگامہ میں ان کی مزاحیہ اداکاری کروڑوں لوگوں نے پسند کی ہے۔

SOURCE : BBC