Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں مشین گنز، خنجر اور سنائپر رائفلیں: وہ ہتھیار جو ایران میں احتجاجی...

مشین گنز، خنجر اور سنائپر رائفلیں: وہ ہتھیار جو ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد کے قتل میں استعمال ہوئے

16
0

SOURCE :- BBC NEWS

چند تصاویر کا مجموعہ۔ بائیں جانب ایک پک اپ ٹرک کے پچھلے حصے میں نصب مشین گن دکھائی گئی ہے۔ دائیں جانب بی بی سی نیوز فارسی کی جانب سے تصدیق شدہ ایک ویڈیو کا اسکرین گریب ہے۔ یہ ویڈیو 9 جنوری کو شمال مشرقی شہر مشہد کے احتجاج کے دوران ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس میں دو افراد سیاہ یونیفارم میں ہوٹل کی چھت پر نظر آتے ہیں۔ ان کے قریب سناپئر رائفل دیوار کے سہارے کھڑی ہے

،تصویر کا ذریعہMamlekate

انتباہ: اس خبر میں تشدد کی ہولناک تفصیلات شامل ہیں جو بعض قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

بی بی سی فارسی نے ایران میں حالیہ احتجاج کے دوران لی گئی سینکڑوں ویڈیوز اور تصاویر کا جائزہ لیا، جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز نے مشین گنز، سنائپر رائفلوں اور بندوقوں سمیت مختلف قسم کے ہتھیار استعمال کیے۔

جن 200 سے زیادہ شہروں میں احتجاج کیا گیا وہاں مظاہرین کو قتل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اگرچہ ہلاکتوں کی درست تعداد واضح نہیں لیکن تصاویر، عینی شاہدین کے بیانات اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا کی رپورٹس میں جس درجے کی سفاکیت اور مہلک ہتھیاروں کا استعمال نظر آتا ہے اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ملک بھر میں ہزاروں مظاہرین مار دیے گئے ہیں۔

یہ مظاہرے معاشی مسائل کی وجہ سے شروع ہوئے تھے لیکن بعد میں شدت اختیار کر گئے۔ ان مظاہروں کو کچلنے کے لیے جس سطح کا تشدد کیا گیا وہ جدید ایرانی تاریخ میں پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔

پیام اخوان ایرانی نژاد کینیڈین شہری ہیں اور ہیگ میں قائم بین الاقوامی کرمنل کورٹ میں اقوام متحدہ کے وکیل استغاثہ رہے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ’موجودہ زمانے کی ایرانی تاریخ میں یہ سب سے بڑی اجتماعی ہلاکتیں ہیں۔‘

ایرانی حکومت نے ان ہلاکتوں کا الزام ’فسادیوں اور دہشت گردوں‘ پر عائد کیا ہے۔

لیکن بی بی سی فارسی کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف مختلف قسم کے ہتھیار استعمال کیے۔ ان میں شامل ہیں:

  • مشین گنز
  • سنائپر رائفلیں
  • خود کار ہتھیار
  • بندوقیں (شاٹ گنز)
  • پستولیں
  • چَھروں والی بندوقیں
  • آنسو گیس
  • ٹوکے (خنجر سے مشابہت رکھنے والا بڑی جسامت کا تیز دھار ہتھیار)
  • چاقو
  • لاٹھیاں
  • ڈنڈے
  • نشانہ لگانے اور اندھا کرنے کے لیے سبز رنگ کی لیزر

مشین گنز

تصاویر کا مجموعہ۔ بائیں تصویر میں آٹھ جنوری کی رات صادقیہ چوک میں پک اپ ٹرک پر نصب مشین گن نظر آ رہی ہے۔ دائیں تصویر سنہ 2025 کی پریڈ کے دوران پاسداران انقلاب کی ایک بٹالین کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہVahid Online / Fars News Agency

تہران، اصفہان، یزدان شہر اور شہسوار جیسے شہروں کی ویڈیوز میں نظر آتا ہے کہ فوجی ٹرکوں پر بھاری اور درمیانی درجے کی مشین گنز نصب تھیں۔ بی بی سی فارسی نے ان ویڈیوز کی تصدیق کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ان مشین گنز کو ہجوم کا محاصرہ کرنے اور اس پر قابو پانے کے لیے استعمال کیا۔

واحد آن لائن ٹیلی گرام چینل نے آٹھ جنوری کی رات تہران کے صادقیہ چوک میں ایک سیاہ پک اپ ٹرک کی دو تصاویر شیئر کیں جس کے عقب میں مشین گن نصب تھیں۔

بی بی سی فارسی نے ان تصاویر کا موازنہ ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی فارس کی جانب سے شائع کردہ سنہ 2025 کی فوجی پریڈ کی تصاویر سے کیا۔ ان تصاویر میں نظر آنے والے پاسداران انقلاب کے پک اپ ٹرک اور ان پر نصب ہتھیار بھی ایسے ہی تھے۔

دفاعی انٹیلی جنس کمیٹی جینز سے تعلق رکھنے والے اسلحے کے ماہر امائل کوٹلارسکی نے اس ہتھیار کی شناخت ڈی ایس ایچ کے ایم ماڈل کے طور پر کی ہے، جو ایران میں لائسنس کے تحت تیار کیا جاتا ہے۔

ایران انٹرنیشنل ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی نشر کردہ ویڈیو کے دو اسکرین گریب دکھائے گئے ہیں۔ بائیں جانب نو جنوری کو اصفہان صوبے کے شہر یزدان‌ میں احتجاج کے دوران ایک پک اپ ٹرک کے پچھلے حصے پر نصب مشین گن نظر آتی ہے۔ دائیں جانب اسی ہتھیار سے فائرنگ کے وقت نکلنے والی چمک دکھائی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہIran International

ایران کے بین الاقوامی ٹیلی وژن نیٹ ورک نے نو جنوری کو یزدان شہر میں ہونے والے احتجاج کی ایک ویڈیو دکھائی۔ اس ویڈیو میں واضح نظر آتا ہے کہ مظاہرین پر مشین گن سے مسلسل فائرنگ کی جا رہی ہے۔ ویڈیو میں 46 ویں سیکنڈ پر بندوق کے دہانے سے نکلنے والی آگ نظر آتی ہے۔

تھیمز ویلی گنز ایک برطانوی کمپنی ہے جو عسکری اسلحے کا ماہرانہ تجزیہ کرتی ہے۔ اس کے نمائندے نے بھی بی بی سی فارسی کو بتایا کہ احتجاج کی ویڈیوز میں ڈی ایس ایچ کے مشین گنز سے لیس گاڑیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

تصدیق شدہ ویڈیو میں ایک شخص کلاشنکوف اے کے 47 کی گولیوں کے خول دکھاتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے یہ مظاہرین پر فائر کیے

،تصویر کا ذریعہMamlekate

تصدیق شدہ ایک ویڈیو میں ایک شخص کلاشنکوف سے چلائے گئے دو خالی کارتوس اور ایک بڑا خالی خول دکھاتے ہوئے بتا رہا ہے کہ انھیں سکیورٹی فورسز نے تہران کے بہشت چوک میں مظاہرین پر برسایا۔

تھیمز ویلی گنز نے تصدیق کی کہ بڑا سیاہ خول ایسے خود کار ہتھیار کا ہے جسے فوجی آلات کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے اور اس پر موجود نشانات تصدیق کرتے ہیں کہ اسے چلایا گیا تھا۔

نمائندے نے بتایا کہ اس قسم کا گولہ بارود ’عمارتوں، گاڑیوں اور بکتر بند گاڑیوں جیسے مضبوط اہداف‘ کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

نمائندے نے کہا: ’یہ انسانوں کے خلاف استعمال کے لیے نہیں بنایا گیا۔ اس سے کسی انسان پر حملہ کیا گیا تو نتیجہ تباہ کن ہو گا۔‘

سنائپر رائفلیں

مشہد کی ایک ویڈیو جس کی بی بی سی نیوز فارسی نے تصدیق کی ہے۔ اس میں پاسداران انقلاب کی طرز کی وردی پہنے افراد کو ایک عمارت کی چھت پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے پاس ایک ڈریگنوف اسنائپر رائفل موجود ہے

،تصویر کا ذریعہObtained by BBC News Persian

عینی شاہدین نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ جنوری کے احتجاج کے دوران سنائپر رائفلیں بڑے پیمانے پر استعمال کی گئیں اور تصدیق شدہ ویڈیوز سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے۔

بی بی سی فارسی نے شمال مشرقی شہر مشہد میں نو جنوری کو احتجاج کی ایک ویڈیو کی بھی تصدیق کی ہے۔ اس میں نظر آتا ہے کہ ہوٹل کی چھت پر دو افراد موجود ہیں۔ انھوں نے ویسا ہی سیاہ لباس پہن رکھا ہے جو پاسداران انقلاب سمیت دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکار بھی پہنتے ہیں۔

ایک شخص کے ساتھ ڈریگنوف سنائپر رائفل (ایس وی ڈی) دیوار کے سہارے رکھی ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فرانزک ماہر نے تصدیق کی کہ مظاہرین کو سنائپرز نے قتل کیا۔ مغربی صوبے کردستان کے علاقے سقنز سے تعلق رکھنے والے ابراہیم پوراحمدیان آٹھ جنوری کو تہران میں ایک عمارت کی نگہبانی کر رہے تھے۔ ان کے رشتہ دار نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ایک سنائپر نے ابراہیم کے سر میں گولی مار دی، وہ بھی ان کے بچے کے سامنے۔

بی بی سی فارسی نے ابراہیم کی لاش کی تصاویر حاصل کی ہیں۔ ان سے بھی تصدیق ہوتی ہے کہ پیشانی کے وسط میں گولی کا ایک ہی نشان تھا۔

تھمیز ویلی گنز کے نمائندے نے وضاحت کی کہ کسی اونچے مقام پر چھپا ہوا سنائپر گولی چلائے تو لوگوں پر کیا نفسیاتی اثرات ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’غیر تربیت یافتہ شہریوں پر اس کا شدید اثر ہوتا ہے۔ زیادہ تر کو تو سمجھ ہی نہیں آتی کہ دور موجود ایک خطرہ جو نظر بھی نہیں آ رہا، اس پر رد عمل دینا کیا ہے۔ یہی خوف ہجوم میں پڑے پیمانے پر گھبراہٹ کو جنم دیتا ہے۔‘

کلاشنکوف

بی بی سی نیوز فارسی کی جانب سے حاصل کردہ خصوصی تصاویر میں فائر شدہ گولیوں کے خول اور چھرے والی گولیاں دکھائی دیتی ہیں۔

کلاشنکوف ایسا ہتھیار ہے جو ایران میں تمام فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو جاری کیا جاتا ہے۔ بی بی سی فارسی نے کئی ویڈیوز کا تجزیہ کیا، جن میں پولیس اور پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کو اے کے 47 کلاشنکوف اور اس کا ایرانی ساختہ کے ایل ماڈل استعمال کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

شمالی شہر امول سے سامنے آنے والی نو جنوری کی ایک ویڈیو میں نظر آتا ہے کہ سکیورٹی افسر مظاہرین کی طرف کلاشنکوف تان کر گولیاں برسا رہا ہے۔ بی بی سی فارسی نے سڑکوں سے ملنے والے خولوں کی خصوصی تصاویر حاصل کیں اور ان کا تجزیہ کیا۔ کوٹلارسکی نے تصدیق کی کہ یہ وہی 7.62×39 ملی میٹر گولیاں تھیں جو کلاشنکوف طرز کی رائفلوں میں استعمال ہوتی ہیں۔

شاٹ گنز

سات جنوری کی ابادان کی تصدیق شدہ فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران پولیس اہلکار سڑکوں پر بندوقوں کے ساتھ تعینات تھے

،تصویر کا ذریعہVahid Online

بی بی سی فارسی کی تحقیقات سے شاٹ گنز کے وسیع پیمانے پر استعمال کی بھی تصدیق ہوتی ہے۔

مغربی شہروں لوردیگان اور ابادان سے یکم اور سات جنوری کی دو تصدیق شدہ ویڈیوز میں نظر آتا ہے کہ احتجاج کے دوران ہاتھوں میں شاٹ گنز لیے پولیس اہلکار سڑکوں پر تعینات ہیں۔ کوٹلارسکی نے ان ویڈیوز میں متعدد ماڈلز کی شناخت کی، جن میں ایرانی ساختہ شاٹ گن بھی شامل ہے۔

سی ٹی سکین تصویر میں مشہد میں مظاہرہ کرنے والے ایک شخص کی دائیں آنکھ کے اندر پیوست دھاتی چَھرا واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ یہ خصوصی تصویر بی بی سی نیوز فارسی نے حاصل کی

،تصویر کا ذریعہObtained by BBC News Persian

جنوری میں شاٹ گنز کے وسیع استعمال کے نتیجے میں متعدد مظاہرین ہلاک ہوئے اور ہزاروں نہیں تو سینکڑوں کی آنکھوں پر مستقل زخم آئے۔ سنہ 2022 میں ’عورت، زندگی، آزادی‘ کے عنوان سے ہوئے مظاہروں میں بھی یہی دیکھا گیا۔

آنکھوں کے ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر غاصم فخرائی نے ایرانی طلبہ کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی کو بتایا کہ نو اور 10 جنوری کے درمیان تقریباً ایک ہزار مظاہرین تو آنکھوں کے اسپتال میں لائے گئے، دھاتی چھروں سے ان کی آنکھیں پھٹ گئی تھیں اور انھیں فوری سرجری کی ضرورت تھی۔

بی بی سی نیوز فارسی نے مشہد کے زخمی مظاہرین کے سی ٹی سکینز اور طبی ریکارڈ حاصل کیے ہیں۔ ایک میں واضح طور پر دھاتی چھرا آنکھ کے ٹشو میں پیوست نظر آتا ہے۔

پستولیں

کرمان شاہ سے آٹھ جنوری کی دو ویڈیوز میں سادہ لباس سکیورٹی اہلکار دو قسم کے پستولیں تھامے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بریٹا کے ماڈل 50 یا سی زیڈ 75 سے مشابہت رکھتی ہیں۔

ٹوکے

آٹھ جنوری کی تہران کی سی سی ٹی وی فوٹیج۔ سادہ لباس سکیورٹی اہلکار مظاہرہ کرنے والی خاتون پر ٹوکے سے حملہ کر رہا ہے

،تصویر کا ذریعہVahid Online

متعدد مظاہرین نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ان پر چاقوؤں اور ٹوکوں (خنجر سے مشابہت رکھنے والا بڑی جسامت کا تیز دھار ہتھیار) سے حملہ کیا گیا۔ بی بی سی فارسی نے لاشوں کی جو تصاویر حاصل کیں ان میں بھی گولیوں کے ساتھ ساتھ ٹوکوں سے لگائے گئے زخم نظر آتے ہیں۔

تہران سے سامنے آنے والی ایک سی سی ٹی وی فوٹیج میں صاف نظر آتا ہے کہ سادہ لباس اہلکار رہائشی عمارت میں پناہ لینے والے افراد پر ٹوکوں سے حملہ کر رہے ہیں۔

دارالحکومت کی ایک اور ویڈیو آٹھ جنوری کی ہے۔ اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سادہ لباس پہنے اہلکار مظاہرہ کرنے والی ایک خاتون کے سر پر ٹوکے سے وار کر رہا ہے۔ اس دوران کئی سکیورٹی اہلکار فوجی وردیوں میں بھی نظر آتے ہیں۔

ڈنڈے

بی بی سی نیوز فارسی نے کریک ڈاؤن میں بچ جانے والوں کے انٹرویوز کیے اور ویڈیوز سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں کو ڈنڈوں سے مارا گیا۔

بی بی سی فارسی نے تصدیق کی ہے کہ مظاہرہ کرنے والے ایک شخص ساغر سیف الٰہی فارس ڈنڈوں کے وار سے ہلاک ہو ئے تھے۔

ایک اور شخص علی طاہر خانی کو پہلے گولی ماری گئی لیکن ان کی موت گولی کے زخم سے نہیں ہوئی بلکہ بعد میں ڈنڈوں اور بندوق کے بٹوں کی ضربوں سے ہلاک ہوئے۔

SOURCE : BBC