SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
-
- مصنف, عمیر علوی
- عہدہ, صحافی
-
ایک گھنٹہ قبل
آج کھیلے جانے والے پاکستان اور امریکہ کے میچ میں جہاں پاکستان کی جانب سے 11 کھلاڑی اتریں گے، وہیں امریکی اسکواڈ میں تین ایسے کھلاڑی ہیں جو پیدا تو پاکستان میں ہوئے لیکن نمائندگی امریکہ کی کر رہے ہیں۔
انڈیا اور سری لنکا میں کھیلے جانے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں دنیا کی بڑی ٹیموں اور ایشیائی ٹیموں کے علاوہ امریکہ، متحدہ عرب امارات، ہالینڈ کی ٹیمیں بھی حصہ لے رہی ہیں۔
اس میگا ایونٹ میں پاکستانی کھلاڑیوں یا پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کی تعداد گذشتہ ایونٹس کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہے۔ کم از کم آٹھ ٹیموں میں پاکستانی کھلاڑی یا ایسے کھلاڑی موجود ہیں جن کا بنیادی تعلق پاکستان سے ہے۔
پیر کے روز تو ایک میچ ایسا ہوا جس میں فیلڈ پر ایک ہی وقت میں آٹھ کھلاڑی ایسے موجود تھے جو یا تو پاکستان میں پیدا ہوئے تھے یا جن کے والدین کا تعلق پاکستان سے تھا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ دونوں ٹیموں میں سے ایک بھی پاکستان کی ٹیم نہیں تھی۔ زمبابوے کی جانب سے کپتان سکندر رضا فیلڈ پر تھے تو عمان کی ٹیم میں بھی سات پاکستانی یا پاکستانی نژاد کھلاڑی شامل تھے۔
ایسا نہیں کہ اس سے پہلے کسی ایک ملک کے کھلاڑیوں نے دوسرے ملک کی نمائندگی نہیں کی لیکن یہ خوش آئند بھی ہے اور تشویش ناک بھی۔
خوش آئند اس لیے کیوں کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ اتنا زیادہ ہے کہ ایک ٹیم میں سما نہیں پا رہا، جب کہ تشویش ناک اس لیے کیوں کہ ان کھلاڑیوں کے پاکستان چھوڑنے کے پیچھے مختلف وجوہات ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی کرکٹ ٹیم کے سکواڈ میں جو تین پاکستانی کھلاڑی شامل ہیں، اس میں سے ایک ہیں فاسٹ بالر علی خان جنھوں نے انڈین ان فارم بلے باز ابھیشک شرما کو گولڈن ڈک پر آؤٹ کیا،۔
دوسرے ہیں فاسٹ بالر محمد محسن، جنھوں نے چار اوورز میں صرف 16 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی، جبکہ تیسرے کھلاڑی شایان جہانگیربطور بلے باز موقع کے انتظار میں ہیں جو انھیں آج کے میچ میں مل سکتا ہے۔
اسی طرح سے ایسوسی ایٹ ٹیموں میں عمان، نیدرلینڈز،اٹلی، متحدہ عرب امارات اور کینڈا بھی پاکستانی ٹیلنٹ سے مستفید ہورہے ہیں۔
پاکستان کے خلاف میچ میں نیدرلینڈز نے اپنے واحد پاکستانی نژاد آل راؤنڈر ثاقب ذوالفقار کو تو موقع نہیں دیا لیکن کینیڈا نے جنوبی افریقہ کے خلاف لیفٹ آرم سپنر سعد بن ظفر اور لیفٹ آرم پیسر کلیم ثنا کو جبکہ اٹلی نے سکاٹ لینڈ کے خلاف فاسٹ بالر علی حسن کو موقع دیا۔
متحدہ عرب امارات کے سکواڈ میں شامل کم از کم نو کھلاڑیوں کا تعلق پاکستان سے ہے جس میں کپتان محمد وسیم قابل ذکر ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سب سے قابل ذکر نام اس فہرست میں زمبابوے کے کپتان سکندر رضا کا ہے جن کا شمار دنیا کے ٹاپ آل راؤنڈرز میں ہوتا ہے۔ وہ متعدد بار انٹرویوز میں کہہ چکے ہیں کہ جب تک وہ پاکستان میں رہتے تھے انھیں کرکٹر بننے کا کوئی شوق نہیں تھا۔
بقول ان کے زمبابوے منتقل ہونے کے بعد اورانگلینڈ میں پڑھائی کرنے کی وجہ سے انھیں کرکٹ کا شوق ہوا جس کے بعد انھوں نے زمبابوے میں کھیلنا شروع کیا۔ اس بار وہ میگا ایونٹ میں ٹیم کی قیادت بھی کررہے ہیں۔
انگلینڈ کی ٹیم کے لیگ سپن بولنگ ڈپارٹمنٹ کو جو دو کھلاڑی سنبھالے ہوئے ہیں وہ بھی پاکستانی نژاد ہیں۔ ایک ہیں عادل رشید اور دوسرے ریحان احمد۔
پیدائش تو دونوں کی انگلینڈ میں ہوئی لیکن ان کے والدین کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے میرپور سے ہے۔
پہلے میچ میں تو ریحان احمد کو کھیلنے کا موقع نہیں ملا، البتہ عادل رشید کی نیپال کے خلاف تین اوورز میں 42 رنز کی مایوس کن کارکردگی کے بعد انھیں اگلے میچ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی کھلاڑی دوسرے ممالک کی نمائندگی کرنے کو ترجیح کیوں دیتے ہیں؟
سنہ 1996 کا کرکٹ ورلڈ کپ جہاں تین ممالک میں کھیلا جانے والا پہلا میگا ایونٹ تھا وہیں اس میں نیدرلینڈز، متحدہ عرب امارات اور کینیا جیسے ممالک کو پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کھیلنے کا موقع ملا اور تب جاکر دنیا کو پتہ چلا کہ پاکستانی، سری لنکن، ویسٹ انڈین اور انڈین کھلاڑی صرف اپنے ہی ممالک کی نمائندگی نہیں کر رہے۔
جن کھلاڑیوں کو اپنے ملک میں چانس نہیں مل پاتا وہ ایسوسی ایٹ ممالک کی طرف سے کرکٹ کھیل کر اپنا خواب پورا کرلیتے ہیں۔
ان کھلاڑیوں میں متحدہ عرب امارات کی نمائندگی کرنے والے شوکت دوکان والا تھے جو انڈیا میں پیدا ہوئے جب کہ پاکستانی ارشد لئیق، اظہر سعید، امتیاز عباسی، مظہر حسین، محمد اسلم، محمد اسحق، سلیم رضا اور شہزاد الطاف بھی اس سکواڈ کا حصہ تھے۔
یہ کھلاڑی نہ تو پروفیشنل کرکٹرز تھے اور نہ ہی کرکٹ کی وجہ سے انھیں متحدہ عرب امارات میں نوکری ملی تھی، تاہم ان کی دوسرے ممالک کی ٹیم میں شمولیت سے اتنا ضرور اندازہ ہوگیا کہ اگر کوئی کھلاڑی پاکستان میں سلیکٹ نہیں ہوا، تو اس کے پاس دوسرے ملک جاکر کرکٹ کھیلنے کا چانس باقی ہوگا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سابق ٹیسٹ کرکٹر عتیق الزمان بھی ایسے ہی ایک کرکٹر تھے جو اس وقت انٹرنیشنل لیول پر یورپ میں کوچنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔
ایک ٹیسٹ اور تین ون ڈے میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے وکٹ کیپر بلے باز نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’پاکستان سے کھلاڑیوں کے انخلا کے پیچھے پاکستان کرکٹ بورڈ کا ہاتھ ہے، اگر کرکٹ کے فیصلے میرٹ پر ہوں تو کوئی کھلاڑی دوسرے ملک جانے کا نہیں سوچے۔‘
عتیق الزمان کہتے ہیں کہ ’پاکستان چھوڑ کر جانے کی سب سے بڑی وجہ یہاں کرکٹ کو بطور کرئیر ایک محفوظ چوائس نہیں سمجھا جاتا، جب تک ڈپارٹمنٹل کرکٹ چل رہی تھی، کھلاڑیوں کے پاس نوکریاں بھی تھیں، وہ مصروف بھی تھے اور ڈپارٹمنٹس کی ٹیمیں بھی مضبوط تھیں،‘
وہ کہتے ہیں ’جب سے ڈپارٹمنٹل کرکٹ ختم ہوئی، کھلاڑیوں کو کرکٹ میں مستقبل نظر آنا بند ہو گیا۔ جو اچھے کرکٹرز تھے وہ کسی ایسے ملک چلے گئے جہاں کرکٹ بھی کھیل سکیں اور انٹرنیشنل لیول پر ملک کی نمائندگی کا خواب بھی پورا کرسکیں۔‘
انھوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان ٹیم میں سلیکشن کے لیے کھلاڑی کا کسی لابی اور گینگ کا حصہ ہونا ضروری ہے کیوں کہ پاکستان میں اکیڈمی ڈائریکٹر سے لے کے نیشنل سیلیکٹر اور بورڈ کے چیئرمین تک، سب کی خوشامد ہی آپ کو آگے لے جاتی ہے۔‘
ان کا الزام ہے کہ ’اگر میں پاکستان میں رہتا تو لیول ٹو کوچ ہوتا اور لیول تھری بھی نہیں کرنے دیتے، کیوں کہ پاکستان میں موجودہ سیٹ اپ سے جڑے لوگ ڈرتے ہیں کہ اگر اچھے پڑھے لکھے لوگ آگے آ گئے تو ان کے لیے مسئلہ ہو جائے گا۔‘
عتیق الزمان کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں اگر کرکٹ کا سسٹم منصفانہ ہو جائے تو معاملات ٹھیک ہو جائیں گے لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا اور اسی وجہ سے پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ سے سیکھنے والے کئی کھلاڑی آپ کو پاکستان کے علاوہ دوسری ٹیموں میں نظر آرہے ہیں جہاں سفارش کے بجائے میرٹ کو ترجیح دی جاتی ہے۔‘
’پاکستان کرکٹ بورڈ کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں‘: سابق سلیکٹرز کی رائے
پاکستان کی انٹرنیشنل لیول پر نمائندگی کرنے والے کھلاڑی ہارون رشید اور صلاح الدین صلو کئی سال تک سلیکشن کے معاملات بھی دیکھتے رہے ہیں۔ بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے دونوں نے اس الزام کو رد کیا کہ دوسرے ممالک جا کر کھیلنے کی وجہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور اس کا نظام ہے۔
سلیکشن کے ساتھ ساتھ کوچنگ اور ٹیم مینیجمنٹ کا حصہ رہنے والے ہارون رشید سمجھتے ہیں کہ ’باصلاحیت کھلاڑیوں کو پاکستان کی نمائندگی کا ہمیشہ موقع ملتا ہے۔‘
احسان عادل، حماد اعظم اور سمیع اسلم کی مثالیں دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہ تینوں کھلاڑی امریکہ منتقل ہو گئے لیکن صرف اس وقت جب وہ پاکستان کی جانب سے کھیل کر کچھ خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکے، اس کے لیے بورڈ کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں۔‘
انھوں نے پاکستان سے کھلاڑیوں کے انخلا پر تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب جب آئی سی سی کسی ملک میں کرکٹ کو فروغ دینے کے لیے جاتی ہے، تو وہاں کے لوکل لوگ کرکٹ سے ناآشنا ہونے کی وجہ سے اس میں دلچسپی نہیں لیتے، اسی وجہ سے وہاں کے کرکٹ حکام ایکسپیٹس یعنی پاکستان، انڈیا، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز جیسے ممالک سے آنے والے افراد کا سہارا لیتے ہیں، اور انھیں کرکٹ کھیلنے اور سکھانے کے بدلے مراعات دیتے ہیں جیسے ملک کی شہریت اور انٹرنیشنل ٹیم کی نمائندگی کرنے کا موقع، لیکن آئی سی سی کی ریکوائرمنٹ پوری ہونے کے بعد۔‘
ان کے مطابق ’اسی وجہ سے گذشتہ کئی سال میں پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ ویسٹ انڈین، انڈین اور سری لنکن کرکٹرز کی بڑی تعداد نے ان ممالک کی نمائندگی کی جن کے پاس ٹیسٹ سٹیٹس نہیں، کیوں کہ انھیں کرکٹ کھیلنا بھی آتی اور سکھانا بھی۔ ‘
امریکہ کی مثال دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’وہاں جب سے کرکٹ لیگ آرگنائز ہونا شروع ہوئی ہے، کئی موجودہ اور کئی ریٹائرڈ کھلاڑیوں نے وہاں کا رخ کیا جس سے ان کی کرکٹ کو فائدہ ہوا۔‘
کچھ اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا سابق چیف سلیکٹر صلاح الدین صلو نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان یا پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کا دوسرے ممالک کی نمائندگی کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا ڈومیسٹک سٹرکچر کھلاڑیوں کو ایک اچھے لیول پر تیار کرتا ہے اور جب یہ کھلاڑی بیرون ملک جا کر کرکٹ کھیلتے ہیں تو ان کے معیا رپر پورا اترتے ہیں، جو کسی اعزاز سے کم نہیں۔‘
’ٹیلنٹ پول زیادہ ہونے کی وجہ سے کئی کھلاڑیوں کو نقل مکانی کرنا پڑی‘
پاکستان میں کھیلوں سے متعلق صحافت کرنے والے وحید خان کے خیال میں پاکستان سے کھلاڑیوں کے انخلا کی بڑی وجہ ملک میں کرکٹ کی بے پناہ مقبولیت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’دیگر کھیلوں کے مقابلے میں پاکستان میں کرکٹ سب سے زیادہ کھیلی جاتی ہے، ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ پاکستان کی کسی نہ کسی لیول پر نمائندگی کرے، لیکن نیشنل ٹیم میں کم سے کم 11 اور زیادہ سے زیادہ 18 کھلاڑی ہی سیلیکٹ ہو سکتے ہیں، جس کی وجہ سے کئی اچھے کرکٹر دلبرداشتہ ہوکر بیرون ملک چلے جاتے ہیں اور اپنا انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کا خواب وہاں پورا کر لیتے ہیں۔‘
سیلیکشن کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ضروری نہیں کہ نان سلیکشن ہی کسی کھلاڑی کے بیرون ملک جانے کی وجہ بنے، ہمیشہ نیشنل ٹیم کے لیے نئے کھلاڑی کے بجائے ایسے پلئیر کو موقع دیا جاتا ہے جو انٹرنیشنل لیول پر کھیل چکا ہو، جس کی وجہ سے کئی مرتبہ تو باصلاحیت کھلاڑیوں کو صرف اس وجہ سے ٹیم میں جگہ نہیں مل پاتی کیوں کہ ان سے کئی گنا بہتر کھلاڑی ٹیم میں موجود ہوتے ہیں۔‘
وحید خان نے آف سپنر حارث خان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’نوے کی دہائی میں وہ (حارث خان) پاکستان کے ٹاپ آف سپنر تھے لیکن ثقلین مشتاق کی انٹرنیشنل لیول پر کامیابی کی وجہ سے وہ پاکستان کی نمائندگی سے محروم رہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب پاکستان ٹیم کی بیٹنگ جاوید میانداد اور سلیم ملک کے گرد گھومتی تھی یا بعد میں انضمام الحق، یونس خان اور محمد یوسف جب اس کا حصہ تھے، تو اس وقت بھی کئی باصلاحیت بلے باز ٹیم میں جگہ بنانے میں ناکام رہے۔‘
جنوبی افریقہ کے سٹار لیگ سپنر عمران طاہر کی بھی بات کرتے ہوئے کہا وحید خان کا کہنا تھا کہ ’جس وقت عمران طاہر پاکستان کے ڈومیسٹک سرکٹ کا حصہ تھے تو پاکستان کی نیشنل ٹیم میں مشتاق احمد اور بعد میں دانش کنیریا کی وجہ سے انھیں موقع نہیں مل سکا، جس کے بعد وہ پاکستان چھوڑ کر چلے گئے، چونکہ ان کی اہلیہ جنوبی افریقہ کی نیشنل تھیں، اس لیے انھیں وہاں سے کھیلنے کا موقع ملا اور سب نے دیکھا کہ وہ کتنے اچھے بولر تھے۔‘
وحید خان کے بقول پاکستان کے کئی کھلاڑی جو اس وقت ہانگ کانگ، یو اے ای، عمان، امریکہ اور دیگر ٹیموں کا حصہ ہیں، انھیں مقامی کھلاڑیوں کے مقابلے میں بہتر کرکٹ آنے کی وجہ سے وہاں کی ٹیموں میں جگہ ملی۔
’ضروری نہیں کہ وہ پاکستان میں اگر ہوتے تو نیشنل ٹیم میں ہوتے لیکن اچھے کرکٹر ہونے کی وجہ سے اس وقت ورلڈ کپ کا حصہ ہیں۔‘
SOURCE : BBC



