Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’صوبے کا وزیرِ اعلیٰ ہڑتال میں شرکت کرتا کیا اچھا لگے گا‘:...

’صوبے کا وزیرِ اعلیٰ ہڑتال میں شرکت کرتا کیا اچھا لگے گا‘: آٹھ فروری کو پی ٹی آئی اور اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج کتنا کامیاب رہا؟

8
0

SOURCE :- BBC NEWS

Imran Khan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اُردو، پشاور
  • 4 گھنٹے قبل

پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور عمران خان کی رہائی کے لیے آٹھ فروری کے احتجاج کے حوالے سے ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج زیادہ کامیاب نہیں رہا، تاہم کچھ مبصرین اور تحریک انصاف کے رہنما یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ احتجاج کامیاب رہا ہے۔

خیبر پختونخوا کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا گڑھ سمھجا جاتا ہے اور پشاور ایک اہم مرکز ہے لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے آٹھ فروری کو ’بند مطلب بند‘ والی صورتحال کہیں نظر نہیں آئی۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور بیشتر شہروں میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال رہی ہے جہاں کارکنوں کی گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے آٹھ فروری کو ملک بھر میں احتجاج اور پہیہ جام ہڑتال کی کال دی تھی۔

اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ پاکستان میں آٹھ فروری 2024 کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی تھی اور فارم 45 کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے بیشتر نشستیں حاصل کی تھیں۔ لیکن فارم 47 کے تحت ان سے ان کا مینڈیٹ چھینا گیا ہے۔

بی بی سی نے پاکستان کے مختلف شہروں میں عام شہریوں سے رابطہ کیا جن کے مطابق کچھ مقامات پر دکانیں اور کاروباری مرکز بند رہے جبکہ دیگر افراد کا کہنا تھا کہ سب کچھ اتوار کے دن کی مناسبت کے مطابق تھا یعنی کہیں دکانیں بند اور کہیں کھلی تھیں۔ بلوچستان کے بیشتر شہروں میں دکانیں، کاوباری مراکز بند رہے اور پہیہ جام ہڑتال بھی کی گئی۔

اس بارے میں تفصیل سے بات کریں گے لیکن پہلے ذکر کرتے ہیں خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کا جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے مگر شہر کی پولیس نے حکمران جماعت کے کارکنوں کو روڈ بلاک کرنے کی اجازت نہیں دی۔

Imran Khan

کوہاٹ میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کو سڑک بلاک کرنے سے روکنے کا معاملہ

پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹر خرم زیشان، شہریار آفریدی، شفیع جان کا تعلق ضلع کوہاٹ سے ہے جہاں گذشتہ روز پی ٹی آئی کی ریلی کے دوران پولیس نے کارکنوں کو روڈ بلاک کرنے سے روک دیا تھا۔

سوشل میڈیا پر خرم زیشان کے احتجاج کے دوران آنکھوں میں آنسو، کارکنوں کی پولیس اہلکار کے ساتھ بحث اور وزیرِ اعلی کے مشیر شفیع جان کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے۔

کوہاٹ سے مقامی صحافی علیم زیدی نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج کی کال پر بیشتر دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پولیس کے ساتھ کارکنوں کی تلخ کلامی کی وجہ بنیادی طور پر پی ٹی آئی کی ریلی کے روٹ میں تبدیلی بتائی گئی ہے۔‘

انھوں کہا کہ کارکن روڈ کی طرف جانا چاہتے تھے جبکہ انھیں احتجاجی ریلی کے لیے جس روٹ کی اجازت دی گئی تھی وہ اس طرف نہیں جا رہے تھے۔

اس بارے میں سینیٹر خرم زیشان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’کارکنوں کے جذبات ایسے تھے کہ ان کو روکنا مشکل تھا۔ کارکن عمران خان کی رہائی کے لیے مشتعل ہو رہے تھے جس وجہ سے پولیس کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی ہے۔‘

Pakistan PTI

سینیٹر خرم زیشان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر ان کا احتجاج کامیاب رہا ہے کہیں کچھ جگہوں پر کاروبار کھلا رہا ہے لیکن چونکہ ہدایات یہ تھیں کہ کسی کو زبردستی دکانیں بند کرنے کا نہیں کہنا تو اس وجہ سے شاید کہیں دکانیں اور کاروبار جاری رہا ہو۔‘

’بند مطلب بند‘ ہے کہ متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’یہ تھوڑی سی غلط فہمی ہوئی ہے یا واضح طور پر نہیں بتایا گیا تھا کہ کیا کرنا ہے اس لیے کارکنوں کے ذہن میں شاید یہ آیا ہو کہ راستے اور سب کچھ بند کرنا ہے۔‘

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ کوہاٹ میں کارکن خیبر پختونخوا کو پنجاب سے ملانے والی شاہراہ کو خوشحال گڑھ کے قریب بند کرنا چاہتے تھے جس پر پولیس نے کارکنوں کو روکا ہے۔

اس بارے میں کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے وزیرِ اعلی کے مشیر شفیع جان کا ایک ویڈیو کلپ بھی سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’یہ کی بورڈ واریئرز ہیں اور یہ کمبل میں بیٹھ کر ٹویٹ کرکے ہمیں نہ سکھائیں، ہمیں معلوم ہے کہ کیا کرنا ہے اور یہ بند کرکے یہ کیا کر لیں گے اگر اس روڈ کے بند کرنے سے عمران خان رہا ہوتے ہیں تو وہ خود سب سے پہلے یہاں ہوں گے۔‘

شفیع جان نے اس معاملے پر خود پر ہونے والی تنقید پر کہا کہ ان کے کلپ کا ایک حصہ لیک کیا گیا اور سوشل میڈیا پر جو تاثر دیا جا رہا ہے وہ درست نہیں ہے۔

ماضی اور اب کی پی ٹی آئی میں کیا فرق ہے؟

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اتوار کے روز پشاور میں زندگی معمول کے مطابق تھی، کہیں کہیں دکانیں کم کھلی تھیں لیکن مجموعی طور پر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا تاثر نہیں مل رہا تھا۔

اس احتجاج کے لیے پی ٹی آئی کے دوسرے اور تیسرے درجے کے قائدین پشاور میں تاجروں اور ٹرانسپورٹرز سے ملاقاتیں کرتے نظر آئے اور یہ تاثر دیا گیا کہ مکمل ہڑتال ہو گی۔

پشاور کے یونیورسٹی روڈ پر کہیں دکانیں کھلی اور کہیں بند رہیں اور یہ معمول ہر اتوار کو ہوتا ہے۔ البتہ پشاور کی کارخانو مارکیٹ بند رہی اور اس مارکیٹ میں زیادہ کاروبار بھی اتوار کے دن ہوتا ہے کیونکہ دیگر شہروں سے لوگ اکثر اتوار کے دن ہی آتے ہیں۔

اس ہڑتال سے پہلے مرکزی اور صوبائی سطح پر جس انداز سے رابطے کیے جا رہے تھے اس سے ایسا تاثر مل رہا تھا کہ یہ ایک بڑی ہڑتال ہو گی جس میں ہو سکتا ہے کہ خیبر پختونخوا کے پنجاب کی جانب جانے والے راستے بند کیے جائیں لیکن ایسا کچھ نظر نہیں آیا۔

پشاور کی ریلی بھی صرف دو فرلانگ تک محدو کر دی گئی تھی جو ہشتنگری چوک سے شروع ہوئی اور چوک یادگار پر جلسہ منعقد کیا گیا اس میں بھی ماضی کی ریلیوں کے مقابلے میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ شریک نہیں تھے۔

پشاور ریلی میں شریک پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم یہ نہیں کہتے کہ ہڑتال 100 فیصد کامیاب رہی ہے لیکن یہ بڑی حد تک کامیاب رہی ہے اور لوگ اس میں بڑی تعداد میں شریک ہیں۔‘

PTI Imran Khan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جب شیر علی ارباب سے پوچھا کہ اس میں تو وزیر اعلی سہیل آفریدی شریک ہی نہیں ہوئے تو ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اس صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں اور کیا ایک چیف ایگزیکٹو ہڑتال میں شرکت کرتا اچھا لگے گا؟‘

اس سوال کے جواب میں کہ ماضی میں تو وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور نہ صرف احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوتے تھے بلکہ اسلام آباد بھی بڑی تعداد میں لوگوں کے ساتھ پہنچے تھے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ماضی اب نہیں رہا ماضی ختم ہو گیا، اب کی بات کریں۔‘

شیر علی ارباب نے الزام عائد کیا کہ ’ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا تھا۔ ہم نے تاجروں کو درخواست ضرورت کی تھی لیکن یہ شٹر ڈاؤن رضاکارانہ طور پر تاجروں نے کی ہے اور 80 فیصد دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے حکومت بھی کرنی ہے اور اس کو متوازن بھی رکھنا ہے۔ ہمارے جوش اور جذبے میں کوئی کمی نہیں آئی۔‘

سینئر صحافی اور تجزیہ کار لحاظ علی کا دعویٰ ہے اس احتجاج میں پی ٹی آئی کو بری طرح ناکامی کا سامنا رہا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’80 اور نوے کی دہائی میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتالیں کامیاب ہوتی تھیں، کیونکہ اُس وقت ٹریڈ یونینز بہت مضبوط ہوا کرتی تھیں۔ سنہ 2026 میں اس نوعیت کے احتجاج کی کال کامیاب نہیں ہوتی۔‘

اُن کے بقول ’جہاں جہاں پی ٹی آئی کے لوگوں نے تاجروں سے بات کی تو انھیں بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت ان کے مسائل حل نہیں کرتی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پشاور کی سطح پر اگر دیکھیں 20 فیصد دکانیں بند تھیں اور ان میں بھی بیشتر اتوار کی وجہ سے بند رہی ہیں۔

BBC

بلوچستان میں ہڑتال کیسی رہی؟

اس احتجاج کے لیے گذشتہ دو ماہ سے تیاریاں جاری تھیں اور یہ کہا جا رہا تھا کہ یہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کا کال ہے اور دیکھنے میں بھی یہی آیا ہے کہ یہ محمود خان کا احتجاج تھا۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم نے بتایا کہ بلوچستان کے بیشتر شمالی علاقے یا ایسا کہیں کہ پشتون علاقوں میں یہ ہڑتال کامیاب رہی ہے جبکہ جنوبی علاقے یا بلوچ اکثریتی علاقوں میں چونکہ ان دنوں حالات کشیدہ ہیں اس لیے وہاں اس ہڑتال کا اثر زیادہ نظر نہیں آیا۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کی کال پر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی جبکہ ٹریفک معمول سے انتہائی کم تھی۔ خیال رہے کہ پاکستان کے دوسرے شہروں میں اتوار کو چھٹی کے باعث کاروباری مراکز بند ہوتے ہیں لیکن کوئٹہ اور بلوچستان کے دوسرے علاقوں میں اکثر تاجر جمعے کے روز اپنا کاروبار بند کرتے ہیں۔

ہڑتال کی کال کے باعث کوئٹہ شہر میں تمام اہم تجارتی مراکز بند رہے۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل جماعتوں کے کارکنوں نے کوئٹہ شہر کے اندر اہم شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے علاوہ کوئٹہ کو دوسرے شہروں سے ملانے والی اہم شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کی تھیں اس صورتحال کے باعث شہر میں ٹریفک بھی معمول سے کم تھی۔ شہر کے بعض علاقوں میں جماعت کے کارکنوں کو منتشر کرنے کے علاوہ گرفتاریاں بھی کی گئیں۔

ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ آصف خان نے بتایا کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر ان جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 200 کے لگ بھگ افراد کو گرفتار کیا گیا۔

ہڑتال اور شہر کے بعض علاقوں میں آنسو گیس کی شیلنگ کی وجہ سے معلومات زندگی متاثر رہے۔

تجزیہ کار لحاظ علی کے مطابق ’بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ احتجاج پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ محمود خان اچکزئی کا احتجاج تھا اور وہ کوئٹہ اور قریبی علاقے میں کامیاب بھی ہوا۔ لیکن ملک کے دیگر علاقوں میں اس کے لیے کہیں کوئی کوششیں نظر نہیں آئیں۔‘

PTI protest

کیا پی ٹی آئی قیادت خوف کا شکار ہے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف کی مرکزی قیادت اس احتجاج کے دوران کہیں کوئی زیادہ متحرک نظرنہیں آئی۔ ایسی اطلاعات تھیں کہ یہ احتجاج بڑے پیمانے پر ہو گا لیکن اس احتجاج کو اضلاع کی سطح پر محدود کر دیا گیا۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار افتخار شیرازی کا کہنا تھا کہ ’اس ہڑتال کی ناکامی کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ایک تو جماعت کے قائدین کھل کر سامنے نہیں آئے اور نہ ہی انھوں نے کوئی کوشش کی جبکہ راولپنڈی اسلام آباد میں ریاست کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو متحرک کر دیا گیا تھا جس پر عام شہری اور پارٹی کے کارکن بھی باہر نہیں نکلے جس وجہ سے جڑواں شہروں میں کاروبار چلتا رہا ہے۔‘

صوبہ سندھ اور پنجاب میں اس ہڑتال کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔ اس بارے میں شیر علی ارباب نے الزام عائد کیا کہ ’ان کے قائدین پر سیون اے ٹی اے کے اتنے کیسز ہیں جتنے ٹی ٹی پی والوں پر نہیں ہیں۔‘

اُن کے بقول ’ہم سیاسی جدوجہد کر رہے ہیں، ہم پر قدغنیں ہیں۔ ایسے حالات میں ہمارے لیے مشکلات زیادہ ہیں، پنجاب میں حالات اس لیے خراب ہیں کہ وہاں اگر چار بندے اکٹھے ہوتے ہیں تو انھیں اٹھا لیا جاتا ہے۔‘

لحاظ علی کہتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی کی قیادت یہ سمجھ چکی ہے کہ ان کی اب یہ طاقت نہیں رہی کہ وہ اسلام آباد کی جانب مارچ کر سکیں۔‘

اُن کے بقول ’26 نومبر 2024 کو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اگر دوبارہ اسلام آباد کی طرف مارچ کیا گیا تو ردِعمل اس سے بھی زیادہ سخت ہو گا۔‘

SOURCE : BBC