Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’پوائنٹ بلینک شاٹ‘: وزیر اعلیٰ آسام کی وائرل اے آئی ویڈیو پر...

’پوائنٹ بلینک شاٹ‘: وزیر اعلیٰ آسام کی وائرل اے آئی ویڈیو پر تنقید، ’جیل جانے کو تیار ہوں مگر ہمیشہ بنگلہ دیشی دراندازوں کے خلاف رہوں گا‘

11
0

SOURCE :- BBC NEWS

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
  • 2 گھنٹے قبل

انڈیا کی ریاست آسام میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ایک ایسی متنازع اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے بنائی گئی ویڈیو پوسٹ کیے جانے پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے جس میں ریاست کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا شرما کو ایک بندوق کی مدد سے دو ایسے افراد کا نشانہ لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے جنھوں نے سروں پر ٹوپیاں پہن رکھی ہیں جبکہ ایک شخص کی داڑھی ہے۔

آسام بی جے پی کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی اس اے آئی ویڈیو کا عنوان ’پوائنٹ بلینک شاٹ‘ تھا اور اس پر انگریزی میں لکھا گیا تھا کہ ’کوئی رحم نہیں کیا جائے گا۔‘

سوشل میڈیا پر اس اے آئی ویڈیو کے خلاف سامنے آنے والے شدید ردعمل کے پیش نظر بی جے پی آسام نے معذرت یا کوئی جواز دیے بغیر اسے اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے ڈیلیٹ کر دیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ ہیمنٹ بسوا شرما نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وضاحت دی ہے کہ انھوں نے نہ تو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ اس ویڈیو کو دیکھا اور نہ ہی اس ویڈیو کو ان کے کسی سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شیئر کیا گیا۔

تاہم اس وضاحت کے باوجود مجلس اتحاد المسلیمن کے صدر اسد الدین اویسی نے حیدرآباد میں وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کے خلاف درخواست جمع کروائی گئی ہے۔

اس درخواست پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ شرما نے کہا ہے کہ ’میں جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔ اور میں کیا کر سکتا ہوں؟ مجھے کسی ویڈیو کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔ اگر انھوں (پولیس) نے میرے خلاف مقدمہ درج کیا ہے تو مجھے گرفتار کر لیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن میں اپنے الفاظ پر قائم ہوں، میں بنگلہ دیشی دراندازوں کے خلاف ہوں اور ہمیشہ اُن کے خلاف رہوں گا۔‘

یاد رہے کہ آسام میں اپریل 2026 کے اوائل میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور اسی تناظر میں بی جے پی آسام کے آفیشل اکاؤنٹ سے یہ اے آئی ویڈیو شیئر کیے جانے کا معاملہ کافی توجہ حاصل کر رہا ہے۔

اپوزیشن پارٹی کانگریس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے ’یہ (اے آئی) ویڈیو اقلیتوں کے پوائنٹ بلینک قتل کے لیے اکسا رہی ہے۔ یہ انتہائی پریشان کن اور نفرت انگیز ہے اور اسے محض نفرت کا ایک پیغام نہیں سمجھا جانا چاہیے۔‘

آسام کی علاقائی جماعت ترنمول کانگریس نے بھی اس کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ’یہ (اے آئی) ویڈیو قتل عام کے لیے کھلا سگنل ہے۔ الیکشن کمیشن کو خاموش تماشائی نہیں بنا رہنا چاہیے۔ اسے ایک مخصوص (مسلم) برادری کے خلاف اس کھلے نفرت انگیز اشتہار کا نوٹس لینا چاہیے۔‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس ویڈیو کے خلاف ایک سابق پولیس افسر ڈاکٹر اجے کمار نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ عدالت عظمیٰ کو اس سنگین واقعے کا از خود نوٹس لینا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ ویڈیو بذات خود غیر قانونی سرگرمیوں کے قانون کے تحت واضح طور پر ایک جرم ہے۔ اس لیے آسام کے وزیر اعلی اور بی جے پی آسام کے ایکس اکاؤنٹ کو چلانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔‘

دوسری جانب مجلس اتحاد المسلیمن کے صدر اسد الدین اویسی نے حیدرآباد میں آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا شرما کے خلاف ایف آئی درج کروائی ہے اور اُن کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’میں نے ہیمنت بسوا کی پرتشدد ویڈیو جس میں وہ مسلمانوں کو گولی مارتے ہوئے دکھائے گئے ہیں، کے خلاف مجرمانہ دفعات کی شکایت درج کرائی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ قتل اور تشدد کے لیے بھڑکانے والی نفرت انگیز تقریریں اور ویڈیوز اب روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں۔‘

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انڈیا میں سوشل میڈیا پر بھی حکمراں جماعت کے ایکس ہینڈل سے اس نوعیت کی اے ائی ویڈیو شیئر کیے جانے پر تنقید کی جا رہی ہے۔ ایک صارف روچیرا شرما نے لکھا ہے کہ ’بی جے پی (آسام) نے شدید ردعمل کے بعد یہ ویڈیو تو اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے ڈیلیٹ تو کر دی ہے، لیکن یہ کافی نہیں ہے۔‘

یاد رہے کہ ریاست آسام میں بی جے پی کے وزیر اعلیٰ شرما ریاست میں بسنے والے بنگالی مسلمانوں کے خلاف متنازع بیانات دیتے آئے ہیں۔ ایک موقع پر انھوں نے کہا تھا کہ وہ بنگلہ دیش سے مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر آسام آ کر بسنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں، تاہم اس کا مقصد انڈین مسلمانوں کو نشانہ بنانا نہیں۔

تاہم اپوزیشن کا الزام ہے کہ وزیر اعلیٰ شرما بنگلہ دیش کا نام لے کر دراصل آسام کے لاکھوں بنگالی مسلمانوں کو ہدف بناتے ہیں۔ آسام میں کانگریس رہنما پون کھیڑا کا کہنا ہے کہ ’جیسے ہی ریاست میں الیکشن آتا ہے، ہیمنت بسوا مسلمانوں اور پاکستان کی بات کرنے لگتے ہیں۔‘

کچھ دنوں پہلے ہیمنت بسوا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک متنازع اور نفرت پر مبنی بیان دیا تھا اور کہا تھا کہ ’اگر کوئی میاں ( بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے لیے آسام میں استعمال ہونے والا ہتک آمیز نام) آٹو ڈرائیور منزل پر پہنچ کر پانچ روپے مانگے تو اسے چار ہی روپے دو، تاکہ اُس کا نقصان ہو۔‘

انھوں نے اسی طرح کے ایک اور بیان میں کہا تھا کہ ’بنگالی مسلمان یہاں کیوں ووٹ دیں گے، وہ بنگلہ دیش میں جا کر ووٹ دیں۔‘ تاہم بعدازاں انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی مراد غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن سے ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آسام کے وزیر اعلیٰ کے اس نوعیت کے متنازع بیانات وقت کے ساتھ شدت اختیار کر رہے ہیں اور ’نفرت اور تشدد کو ہوا دینے‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔

تاہم اپوزیشن کی جانب سے دی گئی متعدد درخواستوں کے باوجود ابھی تک اُن کے خلاف کسی نوعیت کی کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے جبکہ بی جے پی کی مرکزی قیادت بھی اس نوعیت کے تنازعات اور بیانات پر خاموش نظر آتی ہے۔

ایسے ہی ایک متنازع بیان میں وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے اپوزیشن کانگریس کے رہنما اور اپنے سیاسی حریف گورو گوگئی اور اُن کی برطانوی نژاد اہلیہ کو ’پاکستان کا ایجنٹ‘ قرار دیا تھا۔ وزیر اعلی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ انھوں نے وزارت داخلہ سے کہا ہے کہ وہ ان دونوں کی جانچ پڑتال کرے۔

اس کے جواب میں کانگریس اُن کے خلاف شدید نوعیت کی بدعنوانی کا الزام لگاتی رہی ہے۔

گورو گوگئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یاد رہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے بعد آسام میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ آسام میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 34 فیصد ہے، جن میں اکثریت بنگالی بولنے والے مسلمانوں کی ہے۔

آسام میں تقسیم برصغیر سے قبل ہی سے متحدہ بنگال بشمول موجودہ بنگلہ دیش کے مختلف علاقوں سے بنگالی مسلمان اور ہندو آسام میں آباد ہوتے رہے ہیں۔ بیشتر مسلمان کھیتی باڑی یا چھوٹی موٹی مزدوری کرتے ہیں۔ آسام کے مسلمان تعلیم میں دوسری برادریوں کی نسبت کافی پیچھے ہیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ آسام میں بسنے والے مسلمانوں نے یہاں کی زبان اور ثقافت کو بہت حد تک اپنا لیا ہے اور رفتہ رفتہ اب وہ تعلیم کی طرف بھی راغب ہو رہے ہیں۔

بی جے پی اور دائیں بازو کی ہندو نواز جماعتیں اور دانشور نصف صدی سے یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ آسام میں لاکھوں بنگلہ دیشی مسلمان غیر قانونی طور پر آباد ہیں۔

آسام میں مسلمانوں کی مبینہ طور پر بڑھتی ہوئی آبادی بھی بحث کا موضوع رہتی ہے۔

دائیں بازو کی جماعتیں یہاں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو ’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘ بھی قرار دیتی ہیں اور یہ ایک ایسا بیانیہ ہے جو گذشتہ نصف صدی سے آسام کی سیاست کا محور رہا ہے۔

یاد رہے کہ آسام میں بسنے والوں کی شہریت کے حتمی تعین کے لیے سپریم کورٹ کی نگرانی میں ریاست کے تمام تین کروڑ 30 لاکھ باشندوں سے دستاویزی ثبوت مانگے گئے تھے۔

سبھی دستاویزات کی جانچ کے بعد اگست 2019 میں شہریوں کی حتمی فہرست جاری کی گئی جس کے مطابق تقریباً 19 لاکھ باشندے ایسے تھے جن کے کاغذات میں کچھ کمی رہ گئی تھی اور انھیں اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے مزید دستاویزات جمع کروانے کی ہدایات کی گئی تھیں۔

تاہم آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا شرما نے اس حتمی رپورٹ کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے۔

ریاست میں بنگالی مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز واقعات کا پیش آنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس نوعیت کے ایک بڑے واقعے میں فروری 1983 میں ریاست کے ضلع ناگاؤں میں نیلی کے مقام پر مقامی قبائلیوں کی جانب سے کیے گئے حملوں میں تقریباً دو سے تین ہزار بنگالی مسلمان قتل کیے گئے تھے۔

آسام محتلف قبائل اور درجنوں نسلی گروہوں کی آبادیوں پر مشتمل ریاست ہے۔ ریاست کے کئی سماجی اور سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جیسے جیسے بنگالی مسلمان آسام میں ایک بڑی آبادی کے طور پر ابھرنے لگے ویسے ویسے قبائلیوں اور چھوٹے نسلی گروہوں میں عدم تحفظ اور اپنی تہذیب اور تقافت، رسم ورواج خطرے میں آنے کا احساس بڑھنے لگا اور سیاسی جماعتوں نے انھی معاملات کو مزید ہوا دی۔

SOURCE : BBC