Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ایرانی حکومت کی گذشتہ ماہ مظاہروں میں 100 طلبا کی ہلاکت کی...

ایرانی حکومت کی گذشتہ ماہ مظاہروں میں 100 طلبا کی ہلاکت کی تصدیق

4
0

SOURCE :- BBC NEWS

تہران احتجاج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایران کے نائب وزیر
صحت کا کہنا ہے کہ جنوری میں ایران میں ہونے والے مظاہروں اور بدامنی کے دوران ہلاک
ہونے والوں میں تقریباً 100 طلبا بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب ایرانی میڈیکل سسٹم آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ جنوری میں مظاہروں میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت 25 ہزار افراد زخمی ہوئے تھے۔

بی بی سی فارسی کے
مطابق، مسعود حبیبی نے ایرانی خبر رساں ادارے آئی ایس این اے (ایسنا) کو بتایا ہے کہ
مرنے والوں میں مشہد یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز اور تہران یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز
کے ایک، ایک طالب علم بھی شامل ہیں۔ تاہم انھوں نے دیگر ہلاک ہونے والوں کے بارے میں
مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

مسعود حبیبی کا
کہنا ہے کہ میڈیکل یونیورسٹیز کے ’تقریباً 8 سے 9 طلبا‘ اس وقت حراست میں ہیں۔

دوسری جانب ٹیچرز یونینز
کی رابطہ کونسل نے 200 طلبا کے ناموں کی فہرست شائع کی ہے جن کے متعلق ان کا دعویٰ ہے
کہ وہ مظاہروں کے دوران مارے گئے ہیں۔

رواں سال کے آغاز
میں ایران میں ہونے والے ملک گیر مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے
تھے۔ تاہم ایرانی حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار انسانی حقوق کے
گروپوں کی رپورٹ کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔

ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ
نیوز ایجنسی نے یکم فروری تک 6,961 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

لیکن ایرانی حکومت کا
اصرار ہے کہ ان مظاہروں میں کل 3,117 افراد مارے گئے جن کے ناموں کی فہرست انھوں
نے شائع کی ہے۔

ایران میں انٹرنیٹ پر
پابندیوں اور معلومات تک براہ راست رسائی کی وجہ سے انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار
کیا ہے کہ ہلاکتوں کی حتمی تعداد حکومتی اعدادوشمار سے کئی گنا زیادہ ہو سکتے ہیں۔

ایران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایرانی میڈیکل سسٹم
آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ جنوری میں مظاہروں میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت 25 ہزار
افراد زخمی ہوئے تھے۔

ایرانی میڈیکل سسٹم
آرگنائزیشن کے سربراہ محمد رضا زادہ نے اعتماد اخبار کو بتایا کہ جنوری میں زخمی
ہونے والوں کی مختلف نوعیت کی 13 ہزار سرجرییاں کی گئیں۔

ان کے مطابق، لوگوں
کو سب سے زیادہ آنکھوں میں زخم آئے تھے۔ اس کے علاوہ آرتھوپیڈک، جنرل اور ویسکولر نوعیت
کی سرجریاں بھی کی گئی تھیں۔

یہ پہلا موقع ہے جب
کسی حکومتی عہدیدار نے احتجاج میں زخمی ہونے والوں کی تعداد پر تبصرہ کیا ہے۔

SOURCE : BBC