SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہPCB
-
- مصنف, میتھیو ہنری
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار
-
2 گھنٹے قبل
کیا پاکستان اور انڈیا کے درمیان 15 فروری کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا میچ ہو سکتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا انتظار پاکستان سمیت پوری دنیا کے کرکٹ شائقین کو ہے اور اس کی وجہ آئی سی سی اور بنگلہ دیش کے کرکٹ بورڈ کے وفود کی پاکستان آمد ہے۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کی اتوار کو لاہور میں ملاقات ہوئی جس میں پاکستان کی جانب سے انڈیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچ کے بائیکاٹ پر بات چیت ہوئی تاہم اس کا نتیجہ اب تک واضح نہیں۔
آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ اور ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن مبشر عثمانی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی سے ملاقات کی اور اس اجلاس میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بھی موجود تھے۔
اس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ کے ذریعے بتایا کہ پی سی بی کے عہدیدار سلمان نصیر نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سربراہ امین الاسلام کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔ بعد میں پی سی بی نے ملاقات کی تصاویر بھی شائع کیں۔
بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا سے جب اس بارے میں اتوار کو سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ ’میں ان چیزوں پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا اور نہ ہی بی سی سی آئی کی طرف سے اس پر کوئی تبصرہ آیا ہے۔ سب کچھ آئی سی سی پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ آئی سی سی جو بھی فیصلہ کرے گا، ہم اسے قبول کریں گے۔‘
واضح رہے کہ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب بنگلہ دیش نے اپنی ٹیم کی سیکیورٹی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے میچز انڈیا سے باہر منتقل کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم ان کی درخواست کو آئی سی سی نے مسترد کر دیا تھا۔ جس کے بعد حکومت پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ ان کی ٹیم 15 فروری کو انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرے گی۔
،تصویر کا ذریعہPCB
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بعد میں کہا تھا کہ یہ فیصلہ بنگلہ دیش کی حمایت میں لیا گیا۔
اب تنازع کیا ہے؟
اگر پاکستانی ٹیم انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرتی ہے تو اسے اپنے پوائنٹس سے محروم ہونا پڑے گا۔
دوسری جانب یہ صورت حال آئی سی سی کے موجودہ ٹی وی حقوق کے معاہدوں پر تنازع کا باعث بن سکتی ہے اور مسلسل غیر یقینی صورتحال مستقبل کے معاہدوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، کیونکہ موجودہ ٹی وی معاہدے 2027 ورلڈ کپ کے بعد ختم ہونے والے ہیں۔
آئی سی سی (انٹرنیشنل کرکٹ کونسل) نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں انڈیا کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر خبردار کیا تھا۔
آئی سی سی نے کہا تھا کہ وہ ’پی سی بی سے توقع کرتا ہے کہ وہ باہمی طور پر متفقہ حل تلاش کرے جو تمام متعلقہ فریقوں کے مفادات کا تحفظ کرے۔‘
آئی سی سی نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان کے اس فیصلے کے ’دور رس نتائج‘ ہوں گے۔
انڈیا اور سری لنکا میں 7 فروری کو شروع ہونے والا آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 8 مارچ تک جاری رہے گا۔ شیڈول کے مطابق انڈیا اور پاکستان کے درمیان میچ 15 فروری کو شیڈول ہے۔
تاہم یکم فروری کو پاکستان حکومت نے ایکس پر ایک بیان جاری کیا، جس میں بتایا گیا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم 15 فروری کو انڈیا کے خلاف میدان میں نہیں اترے گی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان نے بنگلہ دیش کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر کوئی ملک سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کسی بھی ملک میں کھیلنے سے انکار کرتا ہے تو بنگلہ دیش کو بھی یہ حق ملنا چاہیے۔‘
اس کا حوالہ گزشتہ سال پاکستان میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی کا تھا جہاں انڈین کرکٹ ٹیم نے کھیلنے سے انکار کر دیا تھا اور پھر انڈیا کے میچ دبئی میں کرائے گئے تھے۔
آئی سی سی نے کیا کہا؟

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
حکومت پاکستان کی جانب سے بیان دیے جانے کے چند گھنٹے بعد ہی آئی سی سی نے ایک تفصیلی بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ اسے ابھی تک پی سی بی کی جانب سے کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے اور یہ کہ پاکستان کے فیصلے سے عالمی کرکٹ ڈھانچہ متاثر ہو سکتا ہے۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ ’آئی سی سی نے حکومت پاکستان کی جانب سے اپنی قومی ٹیم کو آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں منتخب طور پر شرکت کرنے کی ہدایت کرنے کے فیصلے کے حوالے سے دیے گئے بیان کا نوٹس لیا ہے۔‘
اس میں مزید کہا گیا کہ آئی سی سی کو ابھی تک پی سی بی کی طرف سے کوئی باضابطہ بیان نہیں ملا ہے۔ ’انتخابی شرکت کا یہ نقطہ نظر کھیلوں کے عالمی ایونٹ کی روح سے مطابقت نہیں رکھتا، جہاں تمام کوالیفائنگ ٹیموں سے ایک مقررہ شیڈول کے اندر برابری کی بنیاد پر کھیلنے کی توقع کی جاتی ہے۔‘
’آئی سی سی ٹورنامنٹس کھیلوں کی سالمیت، مسابقت، مستقل مزاجی اور انصاف پر مبنی ہوتے ہیں۔ منتخب شرکت ان ٹورنامنٹس کی روح اور ساکھ کو مجروح کرتی ہے۔‘
’جب کہ آئی سی سی قومی پالیسی کے معاملات میں حکومتوں کے کردار کا احترام کرتی ہے، لیکن یہ فیصلہ عالمی کرکٹ یا پاکستان کے لاکھوں شائقین سمیت دنیا بھر کے شائقین کے بہترین مفاد میں نہیں ہے۔‘
بیان میں متنبہ کیا گیا کہ ’آئی سی سی پی سی بی سے اس فیصلے کے سنگین اور طویل مدتی مضمرات پر غور کرنے کی توقع رکھتا ہے، کیونکہ اس سے عالمی کرکٹ ڈھانچہ متاثر ہو سکتا ہے جس کا پی سی بی ممبر اور فائدہ اٹھانے والا ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوشل میڈیا پر بحث
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں تاہم حتمی فیصلہ کیا ہو گا، سب کو اس کا انتظار ہے۔
سابق کرکٹر عبدالروف نے لکھا کہ ’پی سی بی اور آئی سی سی کے درمیان معاملات طے پا چکے ہیں، اسی لیے عمران خواجہ اور بنگلہ دیش کے کرکٹ بورڈ کے چیئرمین لاہور پہنچے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’سنگاپور کرکٹ بورڈ کے چیئرمین عمران خواجہ ایک وکیل بھی ہیں اور شروع سے ہی پی سی بی اور آئی سی سی کے درمیان اس تنازع کو حل کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ وہ حتمی بیان بھی جاری کریں گے۔‘
انڈین صحافی وکرانت گپتا نے بھی اس امید کا اظہار کیا کہ ان ملاقاتوں کے بعد فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔
انس نامی سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ ’ایسا لگ رہا ہے کہ ہم فیصلے کے قریب ہیں۔ آئی سی سی، پی سی بی اور بنگلہ دیش کے درمیان بات چیت میں کمپرومائز کرنا ہو گا لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ٹھوس نتیجہ بھی نکلے گا یا یہ تناو کچھ اور چلے گا؟‘
ایک صارف نے لکھا کہ ’اگر پاکستان انڈیا سے میچ کھیلنے پر راضی ہو جاتا ہے تو یہ کس کی جیت ہو گی؟‘
SOURCE : BBC



