Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں 39 نام، 136 کروڑ روپے سے زیادہ کی انعامی رقم اور بیرون...

39 نام، 136 کروڑ روپے سے زیادہ کی انعامی رقم اور بیرون ملک موجود شخصیات: حکومتِ بلوچستان کو مطلوب افراد کی فہرست جس میں ایک اہم نام شامل نہیں

12
0

SOURCE :- BBC NEWS

Baloch leaders

،تصویر کا ذریعہX, Hakkal and BBC

57 منٹ قبل

مطالعے کا وقت: 12 منٹ

پاکستان کے صوبے بلوچستان کی حکومت نے ملک کے متعدد اخبارات میں ایسے افراد کی فہرست جاری کی ہے جو اس کے مطابق شدت پسندی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

بدھ کو صبح اخبارات میں شائع ہونے والی فہرست میں 39 افراد کے نام اور ان کی سر پر رکھے گئے مجوعی طور پر 136 کروڑ روپے سے زیادہ کی انعامی رقوم کی تفصیلات درج تھیں۔ ان افراد میں بیرونِ ملک مقیم قوم پرست رہنما نوابزادہ براہمداغ بگٹی اور نوابزادہ حربیار مری بھی شامل ہیں۔

سرکاری حکام کا یہ الزام ہے کہ بیرون ملک مقیم یہ رہنما بھی سنگین بد امنی کے واقعات میں ملوث ہیں، تاہم یہ شخصیات ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتی رہی ہیں۔

کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے سربراہ بشیر زیب اور کپتان رحمان گل کے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں اور حکومت نے ان کے سر کی قیمت 25، 25 کروڑ روپے رکھی ہے۔

خیال رہے اخبارات میں یہ اشتہار ایک ایسے وقت میں شائع کیا گیا ہے جب 31 جنوری کو کالعدم بی ایل اے نے بلوچستان کے 12 شہروں پر حملے کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

حکومتی حکام کے مطابق ان حملوں میں 30 سے زیادہ عام شہری اور 20 سے زیادہ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

دوسری جانب حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان کے آپریشنز میں 200 سے زیادہ شدت پسند بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

سرکاری حکام کے مطابق یہ فہرست بلوچستان حکومت کی ہدایت پر شائع کی گئی ہے، جبکہ ان میں شامل بیرون ملک مقیم شخصیات کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔

اس تحریر میں ان شخصیات کا ذکر کیا جا رہا ہے، جن کا نام حکومتی حلقوں کی جانب سے برسوں سے بلوچستان میں شدت پسندی کے حوالے سے لیا جا رہا ہے۔

نوابزادہ براہمدغ بگٹی

نوابزادہ براہمدغ بگٹی نواب محمد اکبر خان بگٹی کے پوتے اور نوابزادہ ریحان اکبر بگٹی کے صاحبزادے ہیں۔

نوابزادہ ریحان اکبر بگٹی کی وفات کے بعد نواب محمد اکبر خان بگٹی نے اپنی نگرانی میں براہمدغ کی پرورش کروائی تھی، جس کی وجہ سے دیگر پوتوں کے مقابلے میں وہ نواب بگٹی کے زیادہ قریب تھے۔

Local Newspaper

،تصویر کا ذریعہScreenshot of a Local Newspaper

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اکبر بگٹی تیراکی اور کرکٹ کے کھلاڑی رہے تھے۔ جب وہ اپنی وزارت اعلیٰ کے دور میں کرکٹ کھیلنے سٹیڈیم جاتے تھے تو براہمدغ بگٹی بھی ان کے ساتھ کرکٹ کھیلتے دکھائی دیتے تھے۔

نواب اکبر بگٹی سے قریب رہنے والے صحافیوں کے مطابق وہ براہمدغ کو اپنے جانشین کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے، لیکن سابق آمر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے اس کا موقع نہیں دیا۔

حالات کی خرابی کے بعد نوابزادہ براہمدغ نہ صرف ڈیرہ بگٹی میں نواب اکبر بگٹی کے ساتھ رہے بلکہ انھوں نے پہاڑوں کا رخ کیا تو تب بھی وہ ان کے ساتھ تھے۔

ان صحافیوں کے مطابق جب نواب اکبر بگٹی نے اپنے گرد بڑھتے ہوئے خطرات دیکھے تو انھوں نے براہمدغ کو افغانستان جانے کی ہدایت کی۔

26 اگست 2006 کو نواب بگٹی کی سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاکت سے قبل براہمدغ بگٹی افغانستان گئے تھے۔

کچھ اطلاعات کے مطابق براہمدغ بگٹی چند سال تک کابل میں مقیم رہے اور وہاں انھوں نے بلوچستان رپبلیکن پارٹی کے نام سے اپنی سیاسی جماعت بنائی۔

ان کے پارٹی کے ترجمان شیرمحمد بگٹی کے مطابق جب ان پر پاکستان اداروں کی جانب سے مبینہ حملوں کے خدشات بڑھنے لگے تو وہ وہاں سے سنہ 2010 میں سیاسی پناہ کے لیے سوئٹزرلینڈ منتقل ہوگئے اور وہ اس وقت سے وہاں مقیم ہیں۔

مطلوب افراد کے حوالے سے شائع ہونے والے اشتہار میں ان کے سر کی قیمت 10 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔

نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ جب صوبے کے وزیر اعلیٰ تھے تو وہ ان سے بات چیت کرنے کے لیے سوئٹزر لینڈ گئے تھے۔

ڈاکٹر مالک بلوچ اپنے متعدد انٹرویوز میں یہ کہتے رہے ہیں کہ نوابزدہ براہمدغ بگٹی حکومت سے بات چیت کے لیے تیار تھے، لیکن ان کے بقول مقتدرہ قوتوں کی رضامندی نہ ہونے کی وجہ سے اس سلسلے پیش رفت نہیں ہوسکی۔

تاہم سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور نوابزادہ براہمدغ بگٹی کا اس حوالے سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔

گذشتہ کئی برسوں سے براہمدغ بگٹی کے آبائی ضلع ڈیرہ بگٹی میں بدامنی کے سنگین واقعات کے رپورٹ ہونے کی شرح نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے، حالانکہ سنہ 2005 کے بعد دس، پندرہ سال تک ڈیرہ بگٹی اور اس کے متصل بعض اضلاع کے سرحدی علاقوں کا شمار شورش سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں ہوتا تھا۔

بیرون ملک مقیم ہونے کی وجہ سے براہمدغ بگٹی سے رابطہ نہیں ہوسکا، تاہم ماضی میں شدت پسندی کے حوالے سے وہ حکومتی الزامات کو سختی سے مسترد کرتے رہے ہیں۔

نوابزادہ حیربیار مری

نوابزادہ حیربیار مری بلوچستان کے قوم پرست رہنما نواب خیربخش مری کے بیٹے ہیں۔

ان کا تعلق بلوچستان کے ضلع کوہلو کے علاقے کاہان سے ہے۔

ان کی پیدائش کوئٹہ میں ہوئی، تاہم ان کے والد نواب خیر بخش مری نے جلاوطنی کا فیصلہ کیا تو وہ اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ افغانستان میں مقیم رہے۔ انھوں نے اعلیٰ تعلیم روس سے حاصل کی ہے۔

Balochistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

افغانستان میں ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کے خاتمے اور وہاں جنرل رشید دوستم کے قبضے کے بعد جب نواب خیربخش مری نے 1992 میں جلاوطنی کے خاتمے کا فیصلہ کیا تو حیربیار مری بھی واپس آگئے۔

نوابزادہ حیربیار مری 1997 میں ہونے والے عام انتخابات میں اپنے آبائی ضلع کوہلو سے رکن بلوچستان اسمبلی منتخب ہوئے۔

رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد جب انھوں نے اسمبلی میں رکنیت کا حلف اٹھایا تو انھوں نے پاکستان کا نام نہیں لیا تھا۔ سپیکر کے بار بار اصرار پر انھوں نے پاکستان کہنے کے بجائے ’وطن‘ کہہ دیا تھا۔

وہ سردار اخترمینگل کی قیادت میں بننے والی مخلوط حکومت میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے وزیر بھی رہے ہیں۔ وہ بعد میں برطانیہ گئے اور پھر وہاں سے واپس نہیں آئے۔

حکومت نے نوابزادہ حیربیار مری پر سنگین بدامنی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرنے کے علاوہ ان کو کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کا سربراہ قرار دیا ہے۔ تاہم حیربیار مری ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں اور ان کا یہ کہنا ہے کہ وہ سیاسی طور پر جدوجہد کررہے ہیں۔

حکومت پاکستان کی جانب سے ماضی میں حیربیار مری کی حوالگی کے لیے کوشش کی گئی تھی لیکن حیر بیار مری کے بقول برطانوی عدلیہ کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔ اشتہار میں ان کے بارے میں معلومات کی قیمت دس لاکھ روپے مقرر کی گئی۔

بشیر زیب

صحافی کیا بلوچ کے مطابق بشیر زیب کا تعلق بلوچستان کے ضلع نوشکی کے علاقے احمدوال کے ایک متوسط خاندان سے ہے۔

محمد حسنی قبیلے سے تعلق رکھنے والے بشیر زیب کی ابتدائی تعلیم نوشکی سے جبکہ ہائر سیکنڈری تعلیم ڈگری کالج کوئٹہ سریاب روڈ سے مکمل ہوئی۔

کیا بلوچ کا کہنا ہے کہ بشیر زیب نے پولی ٹیکنیک کالج کوئٹہ سے مکینیکل انجینئرنگ میں ڈپلومہ بھی حاصل کیا اور بعد میں بلوچستان یونیورسٹی میں بلوچ ادب میں ماسٹرز میں داخلہ لیا۔

بشیر زیب کی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز پولی ٹیکنیک کالج کوئٹہ سے ہوا۔ انہیں کالعدم بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او آزاد) کا 2006 سے 2012 تک چیئرمین منتخب کیا گیا تھا۔

مارچ 2013 میں حکومت پاکستان نے بی ایس او آزاد پر پابندی عائد کر دی تھی۔

صحافی کیّا بلوچ کے مطابق سکیورٹی اداروں کی جانب سے بشیر زیب کی گرفتاری کے لیے یونیورسٹی پر کئی بار چھاپے بھی مارے گئے جو ناکام رہے۔

سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ قندہار میں بی ایل اے کے سابق سربراہ محمد اسلم بلوچ کے مارے جانے کے بعد بشیر زیب کو تنظیم کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

Balochistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کالعدم بی ایل اے کی جانب سے 31 جنوری کو ان کی ایک ویڈیو بھی جاتی کی گئی تھی جس میں وہ دیگر افراد کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار نظر آئے تھے۔

سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ بشیر زیب بیرون ملک مقیم ہیں اور ویڈیو کے ذریعے یہ تاثر دیا ہے کہ وہ بلوچستان کے کسی حصے میں موجود ہیں۔

یکم جنوری کو کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا تھا کہ کالعدم تنظیم کی جانب سے ’یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ بلوچستان میں ہے، لیکن بشیر زیب یہاں نہیں بلکہ افغانستان میں ہیں۔‘

تاہم افغان حکام کی جانب سے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

حالیہ حملوں کے بعد نوشکی کے مقامی لوگوں کے مطابق احمد وال میں سرکاری حکام نے بشیر زیب کے طویل عرصے سے خالی خاندانی گھر کو گرا دیا ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور تصاویر بھی گردش کر رہی ہیں، تاہم سرکاری حکام نے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔

رحمان گل

رحمان گل

،تصویر کا ذریعہGOVERNMENT OF BALOCHISTAN

سنگین بدامنی کے واقعات میں مطلوب افراد کے حوالے سے اشتہار میں رحمان گل کا نام بھی شامل ہے، جو کہ سرکاری حلقوں کے مطابق کالعدم عسکریت پسند تنظیم بی ایل اے کے سیکنڈ ان کمانڈ ہیں۔ تاہم کالعدم تنظیم کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

رحمان گل کے لیے مشہور ہے کہ وہ ایک شاعر بھی ہیں۔

رحمان گل کا تعلق نوشکی کے مینگل قبیلے سے ہے۔ ان کے متعدد رشتہ داروں کی وابستگی قوم پرستی کی تحریکوں سے رہی ہے۔

میر لونگ خان مینگل بھی ان کے قریبی رشتہ دار تھے جو کہ 1970 کی دہائی میں بلوچستان میں ہونے والے فوجی آپریشن میں قلات کے علاقے میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارے گئے تھے، جبکہ بلوچی زبان کے معروف شاعر میر گل خان نصیر بھی ان کے قریبی رشتہ دار تھے۔

سرکاری حکام کے مطابق رحمان گل بھی بیرون ملک مقیم ہیں اور ان کے سر کی قیمت بھی 25 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔

میر سفیر احمد

بشیر زیب اور رحمان گل کے بعد تیسرے نمبر پر جس مطلوب فرد کی سر کی قیمت سب سے زیادہ ہے وہ میر سفیر احمد ہیں۔

اشتہار میں ان کی عرفیت جیئند بیان کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ بشیر زیب کی سربراہی میں بی ایل اے کے بیان یا عسکری کارروائیوں کی جو تفصیل میڈیا کو جاری کی جاتی ہیں وہ جیئند بلوچ کے نام جاری ہوتی ہے۔

تاہم آزادانہ طور پر بی بی سی اس بات کی تصدیق نہیں کرسکا کہ بی ایل اے کے ترجمان یہی جیئند بلوچ ہیں یا نہیں۔

میر سفیر احمد بلوچ کا تعلق بلوچوں کے قبیلے سرپرہ سے ہے اور ان کا بنیادی تعلق ضلع مستونگ کے علاقے کردگاپ سے ہے۔

وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور قوم پرست طلبا تنظیم بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مختلف عہدوں پر فائز رہے ہیں۔

سرکاری اشتہار میں ان کے حوالے سے بھی یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ بیرون ملک مقیم ہیں۔

شیر محمد بگٹی

مطلوب افراد کے فہرست میں میر شیر محمد بگٹی کا نام بھی شامل ہے، جن کا تعلق بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی سے ہے۔ ان کا شمار نواب محمد اکبر خان کے قریبی لوگوں میں ہوتا تھا۔

ڈیرہ بگٹی میں حالات کی خرابی کے بعد سے جو لوگ بیرون ملک گئے ان میں شیر محمد بگٹی بھی شامل تھے۔

وہ پہلے افغانستان گئے، جہاں سے وہ نوابزادہ براہمدغ کے ساتھ سوئٹزرلینڈ منتقل ہوگئے۔

وہ بلوچ رپبلیکن پارٹی کے ترجمان ہیں اور برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ میں بلوچستان میں مبینہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے منعقدہ سیمیناروں اور کانفرنسوں میں شرکت کرتے رہے ہیں۔

Sher Muhammad Bugti

،تصویر کا ذریعہSher Muhammad Bugti/X

اشتہار میں ان کے سر کی قیمت 25 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔

بی بی سی نے ان پر سنگین بد امنی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات پر ان کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے ان سے فون پر رابطے کی کوشش کی، لیکن ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ تاہم ماضی میں وہ ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

مطلوب افراد کی فہرست میں شامل دیگر شخصیات

محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری فہرست میں باقی 33 افراد میں ضلع کچھی کے محمد فاروق عرف کامریڈ کے سر کی قیمت 10 کروڑ روپے، ضلع سبی کے سانگان کے علاقے سے تعلق رکھنے والے جعفر خان کی سر کی قیمت 10 کروڑ روپے، ضلع خضدار کے علاقے توتک کے رہائشی محمد صدیق عرف خالد شریف اور زہری کے مجیب الرحمان عرف کمانڈر آکاش کے سروں کی قیمت پانچ، پانچ کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

ڈیرہ بگٹی سے تعلق رکھنے والے ثنا اللہ کے سر کی قیمت 2 کروڑ، نوشکی سے تعلق رکھنے والے مشتاق مینگل عرف کوہی کے سر کی قیمت پانچ کروڑ، ضلع ہرنائی سے تعلق رکھنے والے ہیبتان کے سر کی قیمت دو کروڑ روپے اور ڈیرہ بگٹی سے تعلق رکھنے والے صمند خان بگٹی کے سر کی قیمت 50لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔

CM Balochistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس کے علاوہ اس فہرست میں شامل ریاض گل بگٹی کے سر کی قیمت 25لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔

باقی افراد کے سروں کی قیمت پانچ لاکھ سے دس لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔

حکومت کا کیا کہنا ہے؟

سرکاری حکام نے 2015 میں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے بارے میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایک آپریشن میں مارے گئے ہیں لیکن کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے اس دعوے کو مسترد کیا تھا۔

ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ ایک ’دوسری فہرست آئندہ چند دنوں میں شائع ہوگی اور اس میں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ سمیت دیگر مطلوب افراد کے نام میں شامل ہوں گے۔‘

اس سوال پر کہ اس وقت اس فہرست کی اشاعت کی ضرورت کیوں پیش آئی تو ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں صورتحال کی بہتری کے لیے ان افراد کی نشاندہی ضروری ہے تاکہ لوگ ان کے بارے میں معلومات شیئر کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ انعام کے بدلے میں لوگوں نے معلومات کی فراہمی کے لیے سی ٹی ڈی سے رابطے کیے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ یہ فہرست وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر جاری کی گئی ہے۔

اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے مزید کہا کہ بیرون ملک مطلوب افراد کی گرفتاری اور ان کو واپس پاکستان لانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں عدالتوں سے قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ان کی فہرست انٹرپول کے حوالے کردی جائے گی۔

SOURCE : BBC