Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں 25 مارچ کی ’تاریک رات‘ اور ’آپریشن سرچ لائٹ‘: بنگلہ دیشی وزیر...

25 مارچ کی ’تاریک رات‘ اور ’آپریشن سرچ لائٹ‘: بنگلہ دیشی وزیر اعظم کا پیغام پاکستان میں بھی زیرِ بحث

10
0

SOURCE :- BBC NEWS

طارق رحمان

،تصویر کا ذریعہElke Scholiers/Getty Images

7 گھنٹے قبل

مطالعے کا وقت: 7 منٹ

بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان کی سوشل میڈیا پوسٹ بحث کا موضوع بن گئی ہے۔

انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ میں 25 مارچ 1971 کو پیش آنے والے ایک سانحے کا حوالہ دیا ہے اور پاکستانی فوج کے لیے سخت الفاظ استعمال کیے ہیں۔

اس پوسٹ پر بہت سے تبصرے سامنے آ رہے ہیں کیوںکہ تاریخی طور پر طارق رحمان کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) پاکستان کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرتی رہی ہے۔

طارق رحمان کے وزیر اعظم بننے سے پہلے، محمد یونس کی عبوری حکومت کے دور میں بھی پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان خاصی قربت دیکھنے میں آئی تھی۔

شہباز، یونس

،تصویر کا ذریعہ@ChiefAdviserGoB

بنگلہ دیشی وزیر اعظم نے پاکستانی فوج کے بارے میں کیا کہا؟

بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا: ’25 مارچ 1971 کو نسل کشی کے دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔‘

طارق رحمان نے لکھا کہ بنگہ دیش کی تاریخ میں 25 مارچ 1971 کا شمار ’سب سے شرمناک اور سفاک‘ دنوں میں ہوتا ہے۔

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے وزیر اعظم نے 55 سال پہلے پیش آنے والے واقعہ کا حوالہ دیا۔

ان کے مطابق ’اس تاریک رات کو پاکستان کی قابض فوج نے ’آپریشن سرچ لائٹ‘ کے نام پر بنگلہ دیش کے نہتے لوگوں کے خلاف تاریخ کی بد ترین نسل کشی میں سے ایک کا ارتکاب کیا۔‘

اپنی ایکس پوسٹ میں طارق رحمان لکھتے ہیں ڈھاکہ یونیورسٹی، پلخانہ اور راجرباغ پولیس لائنز سمیت کئی مقامات پر اساتذہ، دانشوروں اور بے گناہ شہریوں پر اندھا دھند گولیاں برسا کر انھیں قتل کیا گیا۔

انھہوں نے لکھا کہ 25 مارچ 1971 کی نسل کشی ایک سوچا سمجھا قتل عام تھا۔

طارق رحمان مزید لکھتے ہیں کہ اسی رات چٹوگرام میں آٹھویں مشرقی بنگال ریجمنٹ نے باضابطہ مسلح مزاحمت کا آغاز کیا جس کے بعد ’آزادی کے لیے نو ماہ طویل مسلح جنگ شروع ہوئی۔‘

بنگلہ دیشی وزیر اعظم کے مطابق موجودہ اور آنے والی نسلوں کو آزادی کی قدر و قیمت سمجھانے کے لیے ضروری ہے کہ انھیں 25 مارچ 1971 کی ’نسل کشی‘ سے آگاہ کیا جائے۔

خالدہ ضیا

،تصویر کا ذریعہKhurshad Alam Rinku/Anadolu Agency/Getty Images

طارق رحمان کی پوسٹ پر بحث

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اپنی پوسٹ میں بنگلہ دیش کے وزیر اعظم نے 25 مارچ 1971 کو کیے گئے آپریشن سرچ لائٹ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کو نسل کشی اور قتل عام قرار دیتے ہوئے اس کا الزام پاکستان کی فوج پر لگایا ہے۔

بنگلہ دیش کی تاریخ میں، طارق رحمان کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو شیخ حسینہ کی پارٹی عوامی لیگ کے مقابلے میں پاکستان کے زیادہ قریب سمجھا جاتا ہے۔

بی این پی سنہ 1991 سے 1996 اور پھر 2001 سے 2006 تک اقتدار میں رہی۔ اور وزارت عظمیٰ کا منصب طارق رحمان کی والدہ خالدہ ضیا کے پاس رہا۔

سنہ 2001 سے 2006 کے درمیان تو انڈیا اور بنگلہ دیش کے تعلقات خاصے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے۔

جب خالدہ ضیا کی مخالف شیخ حسینہ نے اپنے دور میں سنہ 1971 کے تشدد کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمات چلانا شروع کیے تو بی این پی نے اسے سیاسی مقاصد کے تحت کیے جانے والا اقدام قرار دیا تھا۔

اس کے علاوہ شیخ حسینہ کئی بار سنہ 1971 میں تشدد اور قتل عام کا الزام پاکستان پر لگا کر معافی کا مطالبہ کر چکی ہیں۔

ان تمام وجوہات کی بنا پر، طارق رحمان کے پاکستان کے خلاف سخت الفاظ نے توجہ حاصل کی ہے۔

بنگلہ دیشی وزیر اعظم کی پوسٹ کے جواب میں پاکستان کے سابق سفیر عبد الباسط نے لکھا کہ انڈیا کے لوگ (طارق رحمان کی ایسی پوسٹ پر) خوش ہو رہے ہیں لیکن بنگلہ دیش اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے وسیع پیمانے پر نیک خواہشات رکھتے ہیں اور یہ عمل بلا رکاوٹ جاری رہے گا۔

بنگلہ دیش الزام لگاتا ہے کہ پاکستانی فوج کے اہلکار سنہ 1971 کی جنگ کے دوران اس وقت کے مشرقی پاکستان میں جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تجزیہ کار عائشہ صدیقہ نے لکھا کہ اسلام آباد فی الحال مصروف ہے لیکن کسی کو نوٹ کرنا چاہیے کہ اس کا سٹریٹیجک شراکت دار کیا کہہ رہا ہے۔

سوہاسنی حیدر نے اسے بنگلہ دیشی وزیر اعظم کی طرف سے ’یاد دہانی‘ قرار دیا جبکہ بہت سے پاکستانیوں نے اس پوسٹ کے نیچے بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ یکجہتی ظاہر کی۔

خیال رہے کہ اگست 2025 کے دوران پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دورۂ بنگلہ دیش کے موقع پر کہا تھا کہ پاکستان اور بنگہ دیش کے درمیان سنہ 1971 کے معاملات ’دو مرتبہ‘ تحریری اور زبانی طور پر حل ہو چکے ہیں۔ انھوں نے دونوں ملکوں کو آگے بڑھنے کی تلقین کی تھی اور کہا تھا کہ ’ہمارا مستقبل روشن ہے۔‘

جبکہ بنگلہ دیش کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ڈھاکہ آمد پر دونوں ملکوں کے درمیان سنہ 1971 کے ‘غیر حل شدہ تاریخی مسائل’ پر بات چیت ہوئی ہے۔

ایک بیان میں بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار سے ملاقات کے دوران ‘سنہ 1971 میں پاکستان کی طرف سے کی جانے والی نسل کشی پر باقاعدہ معافی، اثاثوں کی تقسیم، 1970 میں سمندری طوفان کے متاثرین کے لیے مختص غیر ملکی امداد کی منتقلی’ کے معاملات بھی زیرِ بحث آئے ہیں۔

اس میں کہا گیا ہے کہ ‘بنگلہ دیش ان معاملات کے فوری حل کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ مستقبل کے باہمی تعلقات کے لیے مضبوط بنیاد قائم کی جا سکے۔’

25 مارچ کو کیا ہوا تھا؟

25 اور 26 مارچ 1971 کی درمیانی شب پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں آپریشن سرچ لائٹ شروع کیا تھا۔ اس وقت بنگلہ دیش کی علیحدگی کی جنگ صحیح معنوں میں شروع ہوئی اور نو ماہ تک جاری رہنے کے بعد بنگلہ دیش کی آزادی پر ختم ہوئی۔

بنگلہ دیش 25 مارچ سے 16 دسمبر 1971 کے درمیان پاکستانی فوج کی جانب سے کی گئی کارروائی کو ’نسل کشی‘ قرار دیتا ہے۔

بنگلہ دیش کے علیحدگی پسندوں کے گروہوں کی مدد کرنے کے لیے انڈیا کی فوج بھی تین دسمبر کو پاکستان کے خلاف جنگ میں شامل ہو گئی اور مشرقی پاکستان کے مختلف شہروں میں ان کے فوجی دستوں میں پیش قدمی شروع کی اور انڈین فضائیہ نے ہوائی حملوں کا بھی آغاز کر دیا۔

تجزیہ کار ماجد نظامی نے 25 مارچ 1971 کے آپریش سرچ لائٹ پر بریگیڈیئر صدیق سالک کی کتاب ’میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا‘ کا حوالہ دیا۔

ماجد نظامی کے مطابق کتاب میں صدیق سالک لکھتے ہیں: ’وائرلیس پر فوجی افسر نے کہا کہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں مزاحمت ہو رہی ہے۔ اعلیٰ فوجی افسر نے جواباً کہا کہ کیا مزاحمت مزاحمت لگا رہی ہے، اپنے ہتھیار استعمال کرو اور دو گھنٹے میں ٹارگٹ پر قبضہ کرو۔ کچھ گھنٹے میں یونیورسٹی پر قبضہ تو ہو چکا تھا لیکن نظریے کو مسخر کرنا ٹینکوں اور توپوں کے بس کی بات نہیں۔‘

علی عثمان قاسمی

،تصویر کا ذریعہx

پاکستانی مؤرخ علی عثمان قاسمی کہتے ہیں کہ 25 مارچ 1971 کی نسل کشی کو بنگلہ دیش کے عوام بھلا نہیں سکتے۔ ’یہ ان کے لیے ایک مقدس یاد ہے۔‘

علی عثمان کے مطابق اگرچہ علاقائی سطح پر انڈیا کے دھونس جمانے اور بالا دستی کے عزائم رکھنے کی وجہ سے بنگلہ دیش کے عوام کو انڈیا پر غصہ ہے اور حالیہ دنوں میں بنگلہ دیش کا جھکاؤ پاکستان کی طرف ہے، اس کے باوجود ’1971 میں لگنے والے زخم پاکستان کے ساتھ ان کے تعلقات کو متاثر کرتے رہیں گے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کے عوام صرف تب اطمینان حاصل کرسکیں گے اگر ’پاکستان ایک باضابطہ، مخلص اور غیر مشروط معافی مانگے۔‘

SOURCE : BBC